پختونخوا میں ”تشددِ نسواں“ کا جماعت اسلامی بل تیار ہو گیا


چند ماہ پہلے پنجاب نے ”تحفظ نسواں بل“ نامی ایک گمراہ کن قانون تشکیل دیا تھا۔ مقصد اس کا یہ بیان کیا گیا تھا کہ خواتین کو نام نہاد گھریلو تشدد سے بچایا جائے۔ اس پر اسلامی نظریاتی کونسل نے بروقت گرفت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تشدد تو نہایت ضروری ہے کیونکہ مرد کی حیثیت گھر میں وہی ہے جو حلقے میں تھانیدار کی ہوتی ہے۔ اگر تشدد کے بغیر تھانہ نہیں چل سکتا تو گھر کیسے چل سکتا ہے؟ اسلامی نظریاتی کونسل کی نظر میں ہلکا پھلکا تشدد گھر میں ایک خوشگوار ماحول قائم کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے، بس احتیاط صرف یہ کرنی چاہیے کہ ہڈی نہ ٹوٹے۔ پنجاب کی حکومت نے تو خیر اسلامی نظریاتی کونسل کو زیادہ لفٹ نہیں کرائی مگر خیبر پختونخوا میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی حکومت نے خواتین کی زندگی خوشگوار بنانے میں بھرپور دلچسپی دکھائی اور اب ”تشدد نسواں بل“ تیار کر کے اسمبلی میں پیش کر دیا ہے۔

آپ نے یہ بھی نوٹ کیا ہو گا کہ اچھے بھلے بسے بسائے گھر میں اگر نظم برقرار رکھنے کی خاطر شوہر ہلکا پھلا تشدد کر دیا کرے تو عورت کے میکے والے شوہر کے جائز حقوق کے خلاف ویسے ہی آواز اٹھانے لگتے ہیں جیسے موم بتی مافیا والی خواتین کرتی ہیں۔ ”تشدد نسواں بل“ میں شوہر کے اپنی بیوی کو گیدڑ کٹ لگانے کے حق کا بھرپور تحفظ کیا گیا ہے اور اصلاح کی غرض سے نہ صرف یہ کہ بیوی بلکہ اس کے اہل خانہ کے خلاف ”اقدامات“ کی اجازت بھی دی گئی ہے تاکہ گھر کا ماحول خوشگوار رہے۔ اس بل کو تیار کرنے میں جماعت اسلامی کی خواتین ممبران کا اہم کردار ہے اس لئے یہ دعوی نہیں کیا جا سکتا ہے کہ خواتین تشدد کو ناپسند کرتی ہیں۔ بلکہ ہر صاحب دل شخص اس بات کی گواہی دے گا کہ تشدد کی یہ پسندیدگی جماعت اسلامی کی خواتین تک ہی محدود نہیں ہے۔

لیکن اس بل میں ایک پہلو ایسا ہے جس پر ہمیں نہایت شدید اعتراض ہے۔ اس بل میں بلوغت کی عمر 18 سال سے کم کر کے صرف 15 سال کی گئی ہے۔ ہمیں حیرت ہے کہ جماعت اسلامی کے علما اور تحریک انصاف کے دوسرے قریبی علما نے اس معاملے پر درست راہنمائی کیوں نہیں کی ہے؟ بچہ اسی وقت بالغ تصور کیا جاتا ہے جس وقت اس میں بلوغت کی علامات ظاہر ہو جائیں۔ اس لحاظ سے لڑکی کی بلوغت کی عمر آٹھ دس سال اور لڑکے کی بارہ تیرہ سال مقرر کی جانی چاہیے تھی نہ کہ 15 سال۔

ہمیں علم ہے کہ اس پر موم بتی مافیا دوبارہ اعتراض کرے گی کہ جدید میڈیکل سائنس کی رو سے کم عمری میں بچہ پیدا کرنے سے بچی کو ناقابل تلافی طبی نقصان پہنچ سکتا ہے، اس کا تو خود بچپن ہوتا ہے وہ بچے کیسے سنبھالے گی، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ اعتراضات مسترد کرنا ہی بہتر ہے۔ عظیم لیڈر جناب عمران خان صاحب نے ہمیشہ ”لیڈنگ فرام دی فرنٹ“ کی پالیسی کی وکالت کی ہے، کہ ٹیم کا لیڈر جو اپنی ٹیم کو کرنے کو کہتا ہے، پہلے وہ خود کر کے دکھائے اور دوسروں کے لئے نمونہ بنے۔ اسمبلی کے حلقے کے لوگوں کا لیڈر تو ان کا نمائندہ ہوتا ہے۔ بل کی مخالفت کرنے والی موم بتی مافیا سے تو ہمیں ہرگز بھی کوئی اچھی امید نہیں ہے مگر ہم بل کی حمایت کرنے والے جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے ممبران اسمبلی اور لیڈروں سے بجا طور پر یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ لیڈنگ فرام دی فرنٹ کی پالیسی اپناتے ہوئے خود اس معاملے میں ایک قابل تقلید نمونہ بنیں گے اور کم عمری کی شادی کی شروعات سب سے پہلے اپنے گھروں سے کر کے موم بتی مافیا کو منہ توڑ جواب دیں گے۔ جیسے ہی بچے بچی میں بلوغت کے آثار پیدا ہوں، یہ لیڈر ان کی شادی کر ڈالیں گے تو موم بتی مافیا شرمندگی سے منہ چھپاتی پھرے گی۔

اس بل میں ایک اور شے کی کمی ہے اور وہ خواتین کے زیراستعمال حساس مواد کی حوصلہ شکنی نہ کرنا ہے۔ خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں چودہ امریکی ایجنٹ دکاندار بآواز بلند اعلان کرتے ہوئے عورتوں کو زیر جامے اور دیگر حساس مواد فروخت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ بونیر کے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر زاہد عثمان کاکاخیل صاحب نے ایک غیر متعلقہ سی فوجداری دفعہ کو استعمال کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا کیونکہ مقامی حکام کے مطابق فحاشی پھیلانا قابل دست اندازی سرگرمی ہے۔ مگر کیا ہی بہتر ہوتا کہ ”تشدد نسواں“ بل میں ایسی حرکت کے سدباب کے لئے کوئی سخت سزا تجویز کر دی جاتی۔ صوبے کہ ہر اسسٹنٹ کمشنر اور ہیڈ کانسٹیبل کو یہ اختیار دیا جانا چاہیے کہ وہ زیر جامے اور دیگر حساس مواد استعمال کرنے والی خواتین کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھے کے تحت غداری کا مقدمہ درج کر سکیں۔ بلکہ شوہروں کو ایسی بیویوں پر بھی تشدد کی اجازت دی جانی چاہیے جو زیرجامے اور دیگر حساس مواد استعمال کرتی ہوں۔

لیکن جہاں خیبر پختونخوا حکومت ”تشدد نسواں“ کے لئے اتنا زیادہ کام کر رہی ہے، تو اسے موم بتی مافیا کے علاوہ بھی کچھ رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے دوسرے دور حکومت میں صوبہ خیبر پختونخوا میں گھریلو تشدد اور زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کے لیے چار کرائسز سینٹر بنائے تھے۔ نتیجہ یہ کہ کسی خاتون پر اس کا شوہر تشدد کرے تو وہ وہاں پناہ لے لے لیتی تھی۔ اس سے خواتین میں خود پر تشدد نہ کروانے کے برے رجحان کی حوصلہ افزائی ہونے لگی تھی۔ عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت آئی تو اس نے صوبے میں قائم کیے گئے چاروں ویمن کرائسز سینٹرز کو فنڈز کی کمی کو بنیاد بنا کر بند کر دیا۔

یہ سینٹر بند کرنا ایک نہایت اچھا قدم تھا جس کی خیبر پختونخوا کی موجودہ حکومت نے بھی بھرپور تائید کی۔ موم بتی مافیا نے ہائیکورٹ میں کیس کر دیا کہ خواتین کو تشدد سے بچانے والے یہ سینٹر کھولے جائیں۔ صوبائی حکومت کیس ہار گئی۔ سپریم کورٹ میں کیس گیا اور حکومت دوبارہ ہار گئی۔ سپریم کورٹ نے چاروں ویمن کرائسز سینٹرز کھولنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے جو خواتین کے حقوق کی بات کرتی ہے لیکن یہی جماعت اپنے صوبے میں خواتین کو ان کے حقوق سے محروم رکھ رہی ہے، جبکہ وہ خواتین کو ترقی دینے اور اُنھیں بااختیار بنانے کے لیے کروڑوں ڈالرز وصول کرتی ہے اس لیے صوبائی حکومت خواتین کو غلام بنانے کی بجائے بااختیار بنانے کے لیے اقدامات کرے۔

سپریم کورٹ نے یہ غور نہیں کیا کہ اگر صوبائی حکومت کے پاس چار عمارتیں چلانے کے فنڈز نہیں ہیں تو وہ کیا کرے؟ طالبان کے گاڈ فادر مولانا سمیع الحق صاحب کے دارالعلوم حقانیہ کو تیس کروڑ روپے دینے کے بعد حکومت کے پاس کتنے پیسے بچے ہوں گے کہ ان مفسد عورتوں کو پناہ دے جو اپنے شوہروں کے ”تشدد نسواں“ کے قانونی حق کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں؟ صوبائی حکومت نے اس کی بجائے خواتین پر تشدد کرنے کو قانونی تحفظ فراہم کر دیا جس سے نہ صرف حکومت کا خرچہ بچتا ہے بلکہ گھریلو ماحول بھی خوشگوار رہتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ کرائسس سینٹر بند کرنے سے یہ خواتین دربدر ہو جائیں گی۔ صوبائی حکومت نہ سہی ان کو ایدھی سینٹر یا موم بتی مافیا کا کوئی ادارہ پناہ دے دے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 988 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar