کیا سگریٹ نوشی مردوں کو بھی شہرت دلوا سکتی ہے؟


گزشتہ دو تین روز سے سوشل میڈیا پر پاکستانی مشہور اداکارہ ماہرہ خان ٹاپ ٹرینڈ ہیں۔  آپ سوشل میڈیا پر لاگ ان ہوں۔  آپ کو ہر دوسری پوسٹ میں ماہرہ خان بھارتی اداکار رنبیر کپور کے ساتھ سگریٹ پیتے ہوئے نظر آئیں گی۔ لوگ برسوں محنت کرتے ہیں پھر بھی سوشل میڈیا پر ان کے فالوورز کی تعداد ڈیڑھ سو سے اوپر نہیں جاتی اور دوسری طرف ماہرہ ہیں جنہیں ایک معمولی سی سگریٹ نے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے

ماہرہ نے شائد محنت میں عظمت کو سچ سمجھ لیا تھا ۔ ملک کی صفِ اول کی اداکارہ بننے کے لئے انہوں نے دن رات محنت کی۔ ان کی محنت بارڈر پاس بھی تسلیم کی گئی اور رواں سال ان کی بالی ووڈ کے بادشاہ شاح رُخ خان کے ساتھ فلم ریلیز ہوئی جس میں ماہرہ کی کارکردگی کو خوب سراہا گیا۔ ماہرہ بھی کتنی بے وقوف نکلیں۔ ایک ذرا سی شہرت کے لئے اتنی زیادہ محنت کی کیا ضرورت تھی؟ صرف ایک سگریٹ انہیں وہ مقام با آسانی دلوا سکتی تھی جس کے لئے وہ برسوں سے محنت کر رہی تھیں۔ پس ثابت ہوا کہ ایک سگریٹ کا کش آپ کو شہرت کی بلندیوں پر لے جا سکتا ہے۔ اس لئے محنت چھوڑیں اور سگریٹ پئیں۔

اس بات کو سچ سمجھتے ہوئے ملک کے ایک اور مشہور و معروف اداکار عثمان خالد بٹ نے بھی سگریٹ پینے کی کوشش کی لیکن انہیں وہ شہرت نصیب نہ ہوئی جو ماہرہ کے حصے میں آئی۔ لوگوں نے ان کی تصویر دیکھی، قہقہےلگائے اور آگے بڑھ گئے۔ عثمان روتے ہی رہ گئے کہ کوئی تو لائک کر دو، کوئی تو شئیر کر دو، کوئی تو میرے نام کا بھی ہیش ٹیگ بنا دو۔ مگر لوگوں نے ان کی ایک نہ سنی۔

اسی بارے میں: ۔  تاریخ دہرانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا

مشہور کامیڈین جنید اکرم بھی ٹویٹر پر یہی رونا روتے نظر آئے۔ محترم سترہ سال سے سگریٹ پی رہے ہاں، جی ہاں سترہ سال سے مگر ان کو بھی صرف سگریٹ پینے کی وجہ سےکبھی اتنی توجہ نہیں ملی ۔ ملکِ عزیز میں ہزارہا مرد سگریٹ نوشی کرتے ہیں ۔ سب کے سب بے نا م ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہ شہرت صرف خواتین کے لئے مخصوص ہے۔ مرد حضرات ایسی شہرت سے دور رہیں۔

یہ مردوں کے ساتھ زیادتی نہیں تو اور کیا ہے؟ ہمارے مردوں نے گلی میں کھڑے ہو کر سگریٹ پی، گاڑی کا شیشہ کھول کر کش پہ کش لگائے، کھچا کھچ بھری بس میں عورتوں کے منہ پر سگریٹ کا دھواں بھی چھوڑا مگر ان کے بارے میں کبھی کسی نے ایک سطر تک نہ لکھی۔ یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟ ہمارے مرد جو ایک کام برسوں سے کرتے چلے آ رہے ہیں اسے ایک دم سے کیسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے؟ دوسری طرف ایک ذرا سی ایکٹریس نے نیویارک کی سڑک پر سگریٹ پی لی تو پوری دنیا مچلے جا رہی ہے۔ کیوں جی؟ ایک سگریٹ ہی تو ہے۔ مرد کے لبوں سے لگے تو جی کوئی بات نہیں جہاں عورت کی انگلیوں میں پہنچی وہاں آفت ہی آ گئی؟

ہم اب ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ ہمارے مردوں کو بھی وہ سب حقوق ملنے چاہئیے جو اس معاشرے نے عورتوں کو دئیے ہیں۔ ہمارے مرد بھی چاہتے ہیں کہ جب وہ سخت گرمیوں میں دھوتی پہن کر محلے کی گلی میں سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے چہل قدمی کریں تو محلے کی عورتیں اپنی بالکنیوں میں کھڑی ہو کر انہیں دیکھیں۔ پاس سے گزرتی ہوئی موٹر سائیکل سوار عورت ان پر کوئی جملہ کس کر جائے جسے سن کر ان کے گال گلابی ہو جائیں اور دو چار دن تک محلے کے شریف مردوں کی بیٹھک میں ان کے بارے میں ہا ۔۔۔۔ ہائے کی جائے۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ مرد کچھ بھی کر لیں انہیں وہ شہرت نصیب نہیں ہوتی جو ایک لڑکی کو صرف سگریٹ پینے پر مل جاتی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ’عورت بیوی، بہن، بیٹی سے الگ ایک مکمل انسان بھی ہے`

میری آپ سب سے بس اتنی سی گزارش ہے کہ مردوں کے نازک دل کا خیال رکھیں اور ان کے بارے میں بھی نجی محفلوں میں گفتگو کریں۔ سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں بھی لکھیں۔ ان کے نام کے بھی ہیش ٹیگ بنائیں۔ ان کے ایمان پر بھی انگلیاں اٹھائیں۔ مگر آہ یہ ظالم معاشرہ۔ یہ مردوں کے حقوق ہمیشہ سلب کرتا رہے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔