خواتین کا رمضان

دو سال قبل ’خواتین کا اسلام‘ نامی رسالہ میری نظروں سے گزرا۔ رسالے کا مقصد خواتین کو گھر کی چار دیواری میں محدود کرنا اور مردوں کو دیکھ کر فٹ سے بے ہوش ہونا سکھانا تھا۔ ایک طویل عرصہ باقاعدگی سے پڑھتی رہی، اثر نہ ہوا۔ وہی ادارہ ایک اور رسالہ ’بچوں کا اسلام‘ کے نام سے بھی شائع کیا کرتا تھا۔ دو چار بار پڑھا پھر چھوڑ دیا۔ ویسے بھی جس عمر میں وہ رسالہ پڑھنا شروع کیا تھا، اس میں اپنے آپ کو بچہ سمجھنا ایک بے وقوفی تھی۔

سوچا ’مردوں کا اسلام‘ پڑھا جائے۔ معلوم ہوا کہ ادارہ ایسا کوئی رسالہ شائع ہی نہیں کرتا۔ شدید دکھ ہوا۔ مرد بے چاروں کے ساتھ ہر پلیٹ فارم پر زیادتی ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے مردوں کو اسلام سکھانے یا ان کے اخلاقی قد میں اضافہ کرنے کے لیے کسی اور نام سے رسالہ شائع کیا جاتا ہو لیکن اس سیریز کو خواتین اور بچوں تک ہی محدود رکھنا، میرے نزدیک مردوں کے ساتھ نا انصافی ہے۔ مدیر کو اس بارے کچھ سوچنا چاہیے۔

Read more

زینب، اسماء، عصمت، فرشتہ اور میں

اب باہر جاتے ہوئے بڑا سا دوپٹہ پھیلا کر لینے کی عادت ہو گئی ہے۔ جانتی ہوں کہ یہ میرے جسم کا نہیں بلکہ اس کے دماغ کا فتور ہے مگر اسی معاشرے کا حصہ ہوں۔ چاہتے نہ چاہتے بھی لاشعوری طور پر خود کو الزام دیتی ہوں۔ سڑک پر چلتے ہوئے بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں کہ کوئی موٹر سائیکل سوار چپکے سے پیچھے نہ آ رہا ہو۔ یہاں سڑکوں پر ہر لڑکی اسی خوف کے ساتھ چلتی ہے۔ اوبر اور کریم نے زندگی بہت آسان کر دی ہے لیکن پھر بھی دھڑکا لگا رہتا ہے۔ یہ سڑکیں ہماری ہو کر بھی ہماری نہیں ہیں۔ سڑکیں چھوڑو، ہمارے تو گھر بھی ہمارے نہیں ہیں۔ شاید اسی لیے جب کوئی لڑکی موٹر سائیکل چلاتی نظر آتی ہے تو ہم دل ہی دل میں فخر محسوس کرتے ہیں کہ کوئی تو ہے جو اس خوف سے لڑ رہی ہے اور ان سڑکوں پر اپنا حق جتا رہی ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ اس جرات کی بہت بھاری قیمت چکا رہی ہوگی۔ محلے دار اوررشتے دار طرح طرح کی باتیں بانتے ہوں گے لیکن کوئی ایک ہوگا جو اس کی ہمت ہوگا۔ ہم اسی ہمت کے سہارے آگے بڑھ رہے ہیں۔

Read more

آپ قمر زمان کائرہ کو ان کے بیٹے کے کار حادثے کی خبر کس طرح دیتے؟

تصویر کے دو رُخ ہوتے ہیں۔ دیکھنے والے کی مرضی ہے کہ وہ کون سا رُخ دیکھتا ہے اور پھر اس سے کیا نتیجہ اخذ کرتا ہے۔ دو روز قبل قمر زمان کائرہ کا نوجوان بیٹا ایک کارحادثے میں ہلاک ہو گیا۔ کائرہ صاحب کو یہ اطلاع ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک رپورٹر کے…

Read more

کیا ہمارے روزے، روزے ہیں؟

"اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے کے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیز گار ہوجاؤ۔" سورۃ البقرہ، آیت 183۔ قرآن کریم کی یہ آیت کب اتری، یہ تو عالمِ دین مجھ سے بہتر بیان کر سکتے ہیں مگر میں اتنا بتا سکتی ہوں…

Read more

کم عمری کی شادی کی مخالفت کب تک؟

2019 کے پہلے چار ماہ ختم ہو چکے ہیں۔ اگلے آٹھ ماہ بھی دو عیدوں، شادی سیزن اور وزیرِ اعظم عمران خان کی ’سلپ آف ٹنگ‘ دیکھتے دیکھتے گزر جائیں گے۔ 2020 آ جائے گا تب بھی ہمارے ہاں کم عمری کی شادی پر بحث ہو رہی ہوگی۔ تاریخ لکھنے والے بھی پریشان ہوں گے…

Read more

کیا آپ نے اب تک لال کبوتر نہیں دیکھی؟

جب سے بھارتی فلموں کی پاکستان میں نمائش پر پابندی لگی تھی، میرے سنیما کے چکر تقریباً ختم ہو گئے تھے۔ بظاہر ٹریلر میں متاثر کن لگنے والی پاکستانی فلمیں سنیما میں چربہ ہی ثابت ہوتی ہیں جبکہ انگریزی فلمیں نیٹ فلیکس پر با آسانی دیکھی جا سکتی ہوں۔ اس کے باوجود سال میں ایک…

Read more

خدا حافظ نشویٰ

کل نو ماہ کی نشویٰ اس دنیا میں اپنا آخری سانس لے کر واپس وہیں چلی گئی جہاں سے آئی تھی۔ سوچتی ہوں وہ وہاں کے باسیوں کو اس دنیا کے بارے میں کیا بتا رہی ہو گی۔ قصے ہی کتنے ہوں گے اس کے پاس؟ گھر، اسپتال، نرس، انجیکشن اور پھر موت۔ ان پانچ…

Read more

ہزارہ حملہ: بوریا بستر لپیٹو اور نیوزی لینڈ چلو

جمعے کا دن مسلمانوں میں بہت مبارک تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم اب یہ بس خوف کی علامت ہے۔ جمعہ اور اجتماع لازم و ملزوم ہیں اور ملکِ عزیز میں اجتماع ہو اور دنگا فساد نہ ہو یہ اب نا ممکن سا لگتا ہے۔اس جمعہ ہزارہ برادری کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ ان پر پہلا حملہ نہیں تھا۔ ماضی میں بھی ہزارہ برادری کو بے دردی سے قتل کیا جاتا رہا ہے۔ کچھ سال پہلے بھی ہزارہ اپنے پیاروں کی لاشیں رکھے احتجاج کر رہے تھے اور آج بھی یہ سڑک بند کیے حکومتِ وقت کو پکار رہے ہیں۔

Read more

میں ڈِک پکس کیوں نہ بھیجوں؟

چین میں میرا ایک سینئیر بیجنگ کی دیواروں پر تحقیق کر رہا تھا۔ اس تحقیق کے لیے وہ پورے شہر میں گھومتا تھا اور دیواروں پر لکھے الفاظوں اور تصاویر کو نوٹ کرتا تھا۔ ان الفاظوں اور تصاویر پر مبنی اس کا مقالہ بہت دلچسپ تھا۔ جبر باغیوں کو جنم دیتا ہے۔ بیجنگ کی دیواروں پر انہی باغیوں کی سوچ موجود تھی۔ اس سوچ کو بار بار مٹایا جاتا تھا۔ یہ باغی پھر بھی کسی نہ کسی طریقے سے بیجنگ کی دیواروں پر اپنی سوچ کے نشان چھوڑ جاتے تھے۔ جب اس نے اپنا مقالہ مجھے پڑھایا تو میں نے بھی لاہور سے متعلق ایسی ہی تحقیق کرنے کا سوچا جو فوراً ہی رَد کر دیا۔

دنیا بھر میں انسان کی عزت اس کے دماغ کی بنیاد پر کی جاتی ہے، ہمارا اس معاملے میں اپنا ہی معیار ہے۔ خواتین کے ساتھ یہاں بھی امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ خواتین اپنا جسم لمبی سی چادر سے چھپا کر رکھیں جبکہ مرد فخریہ اپنے عضو خاص کی نمائش کر سکتے ہیں۔ جو زیادہ نمائش کرے وہ اتنا ہی دبنگ اور کسی خاتون کا دوپٹہ ہی سرک جائے تو وہ آوارہ اور بد چلن۔

Read more

میں آوارہ میں بد چلن

عورت مارچ تو کب کا ختم ہو گیا لیکن اس کا شور اب تک سنا جا سکتا ہے اور یہی اس مارچ کا مقصد تھا۔سوشل میڈیا پر تو ایک کہرام سا مچا ہے۔

پچھلے دو روز سے مجھے سوشل میڈیا پر نجانے کن کن پوسٹس پر ٹیگ کیا جا چکا ہے۔ ایک دوست نے تو وقار ذکا کی ویڈیو پوسٹ پر بھی ٹیگ کر دیا۔ میں نے معافی مانگ لی کہ میری آنکھیں اور کان اس ویڈیو کو برداشت نہیں کر سکتیں۔ ہلکا سا اصرار ہوا جو میں نے اگنور کر دیا۔8

مارچ کو پاکستان کے کئی شہروں میں خواتین نے اپنے حقوق کے لیے ریلیاں نکالیں جنہیں عورت مارچ کا نام دیا گیا۔ اس مارچ میں شامل خواتین نے مختلف پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا مسئلہ لکھا ہوا تھا۔ ان خواتین۔ کی زبان پر بس ایک ہی نعرہ تھا۔ آزادی۔ آزادی۔ آزادی

Read more