ہزارہ حملہ: بوریا بستر لپیٹو اور نیوزی لینڈ چلو

جمعے کا دن مسلمانوں میں بہت مبارک تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم اب یہ بس خوف کی علامت ہے۔ جمعہ اور اجتماع لازم و ملزوم ہیں اور ملکِ عزیز میں اجتماع ہو اور دنگا فساد نہ ہو یہ اب نا ممکن سا لگتا ہے۔اس جمعہ ہزارہ برادری کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ ان پر پہلا حملہ نہیں تھا۔ ماضی میں بھی ہزارہ برادری کو بے دردی سے قتل کیا جاتا رہا ہے۔ کچھ سال پہلے بھی ہزارہ اپنے پیاروں کی لاشیں رکھے احتجاج کر رہے تھے اور آج بھی یہ سڑک بند کیے حکومتِ وقت کو پکار رہے ہیں۔

Read more

میں ڈِک پکس کیوں نہ بھیجوں؟

چین میں میرا ایک سینئیر بیجنگ کی دیواروں پر تحقیق کر رہا تھا۔ اس تحقیق کے لیے وہ پورے شہر میں گھومتا تھا اور دیواروں پر لکھے الفاظوں اور تصاویر کو نوٹ کرتا تھا۔ ان الفاظوں اور تصاویر پر مبنی اس کا مقالہ بہت دلچسپ تھا۔ جبر باغیوں کو جنم دیتا ہے۔ بیجنگ کی دیواروں پر انہی باغیوں کی سوچ موجود تھی۔ اس سوچ کو بار بار مٹایا جاتا تھا۔ یہ باغی پھر بھی کسی نہ کسی طریقے سے بیجنگ کی دیواروں پر اپنی سوچ کے نشان چھوڑ جاتے تھے۔ جب اس نے اپنا مقالہ مجھے پڑھایا تو میں نے بھی لاہور سے متعلق ایسی ہی تحقیق کرنے کا سوچا جو فوراً ہی رَد کر دیا۔

دنیا بھر میں انسان کی عزت اس کے دماغ کی بنیاد پر کی جاتی ہے، ہمارا اس معاملے میں اپنا ہی معیار ہے۔ خواتین کے ساتھ یہاں بھی امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ خواتین اپنا جسم لمبی سی چادر سے چھپا کر رکھیں جبکہ مرد فخریہ اپنے عضو خاص کی نمائش کر سکتے ہیں۔ جو زیادہ نمائش کرے وہ اتنا ہی دبنگ اور کسی خاتون کا دوپٹہ ہی سرک جائے تو وہ آوارہ اور بد چلن۔

Read more

میں آوارہ میں بد چلن

عورت مارچ تو کب کا ختم ہو گیا لیکن اس کا شور اب تک سنا جا سکتا ہے اور یہی اس مارچ کا مقصد تھا۔سوشل میڈیا پر تو ایک کہرام سا مچا ہے۔

پچھلے دو روز سے مجھے سوشل میڈیا پر نجانے کن کن پوسٹس پر ٹیگ کیا جا چکا ہے۔ ایک دوست نے تو وقار ذکا کی ویڈیو پوسٹ پر بھی ٹیگ کر دیا۔ میں نے معافی مانگ لی کہ میری آنکھیں اور کان اس ویڈیو کو برداشت نہیں کر سکتیں۔ ہلکا سا اصرار ہوا جو میں نے اگنور کر دیا۔8

مارچ کو پاکستان کے کئی شہروں میں خواتین نے اپنے حقوق کے لیے ریلیاں نکالیں جنہیں عورت مارچ کا نام دیا گیا۔ اس مارچ میں شامل خواتین نے مختلف پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا مسئلہ لکھا ہوا تھا۔ ان خواتین۔ کی زبان پر بس ایک ہی نعرہ تھا۔ آزادی۔ آزادی۔ آزادی

Read more

ٹیکس بھرو، وزیرِ اعظم کے ساتھ ڈنر کرو

ایک انگریزی اخبار میں خبر چھپی ہے کہ سال 2018ء میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے پہلے پچاس افراد وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ کھانا کھانے کا شرف حاصل کریں گے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ کسی کی تیمارداری کو پھل لے کر جائیں اور وہ آپ کا لایا گیا…

Read more

میں ایک چلغوزہ ہوں

مجھ سے ملئے۔ میں ایک چلغوزہ ہوں۔ اللہ نے تو مجھے ایک عورت بنایا تھا لیکن آج مجھے کبھی کیلا سمجھا جاتا ہے تو کبھی بچوں کے کھانے والی لالی پاپ اور حال ہی میں ایک صاحب نے تومجھے لالی پاپ سے اپ گریڈ کر کے چلغوزہ بنا دیا ہے اور وجہ یہ دی کہ اگر میں اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھوں گی تو میرے خریداروں کو پتہ ہوگا کہ یہ اندر سے بالکل تازہ اور لذیذ ہے۔ اگرمیں اپنے آپ کو ایک چھلکے میں نہیں چھپاﺅ ںگی تو میرے خریدار بھی کم ہو جائیں گے کیونکہ خراب چلغوزہ کون خریدتا ہے؟

وہ حضرات جو چلغوزے سے ناواقف ہیں انہیں بتاتی چلوں کہ چلغوزہ ایک بہت مہنگا ڈرائی فروٹ ہوتا ہے۔ یہ ایک چھلکے کے اندر محفوظ ہوتا ہے۔اسے کھانے کے لئے چھلکے کو توڑ کر پھینک دیا جاتا ہے اور اندر سے نکلنے والی گری کو کھایا جاتا ہے۔

Read more

سسٹرز ڈے منانے کے فوائد

گزشتہ برس محکمہ زراعت بعض ناقابلِ اشاعت وجوہات کی بناء پر خاصا مقبول رہا۔ اس سال یہ مقبولیت ہماری یونیورسٹیز کے حصے میں آتی معلوم ہو رہی ہے۔ روزانہ ہی کسی نہ کسی یونیورسٹی سے ایسی خبر آتی ہے جو سننے والوں کے چودہ طبق روشن کر دیتی ہے۔ بحریہ یونیورسٹی اس معاملے میں پہلی پوزیشن پر ہے لیکن قوی امید ہے کہ یہ مقام جلد ہی یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے نام ہو جائے گا۔

یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر اقبال رندھاوا نے اعلان کیا ہے کہ اس سال یونیورسٹی ویلنٹائنز ڈے کی جگہ سسٹرز ڈے منائے گی۔ اس دن طالبات میں یونیورسٹی کے نام والے سکارف، شال اور برقع بانٹ کر انہیں ان کے ساتھی لڑکوں کی بہنیں بنایا جائے گا۔

سوشل میڈیا پر وائس چانسلر صاحب کے اس اعلان کا خوب مذاق اڑایا جا رہا ہے جس کی ہمیں بالکل پرواہ نہیں۔ سوشل میڈیا پر 5 سال برباد کرنے کے بعد ہمیں اتنا تو اندازہ ہو ہی گیا ہے کہ یہاں کوئی دانشور نہیں بیٹھا ہوا۔ یہاں صرف وہ لوگ بیٹھے ہیں جن کے پاس حقیقی زندگی میں کرنے کو کوئی کام نہیں ہوتا اور یہ بس کی بورڈ سنبھالے ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالتے رہتے ہیں۔

ان ٹرولز کو سمجھ لینا چاہیے کہ وائس چانسلر صاحب کا یہ فیصلہ ملک و قوم کے وسیع ترین مفاد میں ہے۔ ویلنٹائنز ڈے کو سسٹرز ڈے کے طور پر منا کر زرعی یونیورسٹی پاکستان کی پہلی ایسی یونیورسٹی بن جائے گی جہاں فحاشی کا نشان ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا۔ دنیا بھر میں موجود ایسے والدین جو تعلیمی اداروں میں ہونے والی بے راہ روی سے پریشان ہیں، اپنے بچوں کو پڑھنے کے لیے یہاں بھیجا کریں گے۔

Read more

عورت،  مسجد کا تقدس اور پاکستانی مولوی

بھارت کی ایک ریاست کیرالہ کے مشہور زمانہ سبریملا آئیپّا مندر میں پچاس سال سے کم عمر کی خواتین کو مندر کے اندر جانےکی اجازت نہیں تھی۔ اس پابندی کے خلاف سپریم کورٹ کا در کھٹکھٹایا گیا جہاں سے تین ماہ قبل ہر عمر کی خاتون کو مندر میں جانے کی اجازت ملی۔ مندر کمیٹی…

Read more

جہیز خوری بند کرو یا عورت کو عزت دو؟

شادی یوں تو ایک کٹھن کام ہے لیکن اس کا سب سے مشکل عنصر لڑکی کا جہیز بنانا ہے۔ مڈل کلاس گھرانوں میں یہ کام لڑکی کی پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے۔ یہ طبقہ بیٹی کے پیمپرز کا پیکٹ لینے جائے تو ساتھ ہی ایک ٹی سیٹ، بیڈ کور یا کچھ اور…

Read more

ورلڈ اکنامک فارم کی پاکستان میں خواتین کے استحصال کی رپورٹ صحیح یا غلط؟

ورلڈ اکنامک فارم کی اس سال کی گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ میں صنفی تفریق کے اعتبار سے 149 ممالک کی درجہ بندی میں پاکستان کو 148 پوزیشن دی گئی۔ اس رپورٹ میں پاکستان صرف یمن سے بہتر کارکردگی دکھا سکا جو خود ایک اسلامی ملک ہے۔ پاکستان سے اوپر بھی جن ممالک کے نام ہیں ان میں اکثریت اسلامی ممالک کی ہے مثلاً ایران، عراق اور سعودی عرب۔ اسلامی ممالک جو عورت کو اعلیٰ ترین حقوق دینے کا دعویٰ کرتے ہیں ایسی تمام رپورٹس اور سروے میں عموماً بدترین ہی ثابت ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے، اس پر ریسرچ ہونی چاہیے۔

ورلڈ اکنامک فارم کی یہ گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ سنہ 2006 سے ہر سال شائع کی جاتی ہے۔ اس رپورٹ میں کسی بھی ملک میں صنفی تفریق کا جائزہ لینے کے لیے چار شعبوں میں کارکردگی دیکھی جاتی ہے۔ ان چار شعبوں میں خواتین کے لیے اقتصادی مواقعوں کی فراہمی، ان کی تعلیمی کارکردگی، صحت اور ان کو سیاسی اختیارات کی فراہمی شامل ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق اقتصادی مواقعوں کی فراہمی کے لحاظ سے پاکستان کا نمبر 146، تعلیمی کارکردگی کے لحاظ سے 139، صحت کے لحاظ سے 145 اور سیاسی اختیارات کی فراہمی کے لحاظ سے 97 ہے۔

Read more

غیر شادی شدہ بھتیجی اور بھانجی سے پیار کرنے والی آنٹی کے نام

پیاری   آنٹی! امید ہے کہ آپ اپنی شادی شدہ زندگی سے بھر پور لطف اٹھا رہی ہوگی اور اپنے گھرمیں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ خوش و خرم رہ رہی ہوں گی۔ مجھے  ایک  سنگین مسئلہ درپیش ہے جس کی وجہ سے آج میں آپ کو یہ خط  لکھ رہی ہوں ۔وہ مسئلہ آپ…

Read more