بریسٹ کینسر کی شکار دو با ہمت خواتین کی داستان

بریسٹ کینسر سے پوری دنیا میں ہر سال تقریباً 5 لاکھ خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ پاکستان کی بات کریں تو یہاں ہر سال 40 ہزار خواتین بریسٹ کینسر کی وجہ سے وفات پا جاتی ہیں۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ ان میں سے نصف کی وفات مناسب علاج معالجہ نہ ملنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔

اس آرٹیکل کے لیے میں نے دو ایسی خواتین کا انٹرویو کیا جو بریسٹ کینسر جیسے موذی مرض سے اپنی زندگی کی جنگ جیت چکی ہیں۔ فوزیہ اور مہرین دونوں پاکستانی خواتین ہیں لیکن بریسٹ کینسر کے حوالے سے دونوں کے تجربات بہت مختلف رہے۔ فوزیہ کے کینسر کی تشخیص اور علاج پاکستان میں ہوا جبکہ مہرین کے کینسر کا علاج لندن میں ہوا۔

2010 ء میں فوزیہ کے ہاں ان کے چوتھے بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ کچھ ہی دن بعد اپنے بیٹے کو دودھ پلاتے ہوئے فوزیہ کو اپنی چھاتی میں درد محسوس ہوا۔ انہوں نے اس درد کو زیادہ اہمیت نہیں دی لیکن جب دوبارہ بچے کو دودھ پلانے بیٹھیں تو درد پھر سے ہونے لگا۔ اس سے پہلے اپنے تینوں بیٹوں کی دفعہ انہیں ایسا کچھ محسوس نہیں ہوا تھا۔ کچھ تو غلط تھا۔ اگلے ہی دن وہ معائنہ کروانے اسپتال پہنچ گئیں۔ ڈاکٹر نے ان کا معائنہ کیا اور ”سب اچھا ہے“ کی نوید سنا کر گھر واپس بھیج دیا۔

Read more

بھولا ریکارڈ، قندیل بلوچ اور ہماری منافقت

فیس بک پر ایک پیج بھولا ریکارڈ کے نام سے موجود ہے۔ اس کے تقریباَ اڑھائی لاکھ فالورز ہیں۔ یہ پیج گجرات کا ایک سنار چلا رہا  ہے جس کا اصل نام نبیل اکرم ہے ۔یہ صاحب ایک عام سے سنار تھے مگر اپریل  دو ہزار سترہ نے انہیں خاص بنا دیا۔  کیسے؟

اس مہینے میں سوشل میڈیا پر دو ہیش ٹیگز وائرل ہو گئے تھے۔ ایک تھا پانچ ہزار درہم اور دوسرا تھا جائداداں ویچ چھڈیاں نے۔ ان دونوں ہیش ٹیگز کے پیچھےبھولا صاحب کی ایک وائرل ویڈیو تھی جس میں وہ دبئی کے ایک ہوٹل کے کمرے میں ایک مراکشی  لڑکی کے ساتھ نظر آ رہے تھے۔ یہ ویڈیو بھولا نے اپنے دوستوں کے لئے بنائی تھی۔ اس میں وہ یہ جملے بولتے ہیں کہ انہوں نے اس لڑ کی کو ان کے ساتھ ایک رات گزارنے کے لئے پانچ ہزار درہم ادا کئے ہیں۔  یہ ویڈیو ان کے کسی دوست نے  شرارتاَانٹرنیٹ پر ڈال دی  اور وہاں سے یہ وائرل ہوگئی۔

Read more

فادرز ڈے اور سالگرہ

بچپن میں ہی ہمیں بتا دیا گیا تھا کہ مغربی تہذیب کے کبھی پاس سے بھی نہ گزرنا۔ الحمدللہ ہم گوروں اور ان کی تہذیب کو اپنی ثقافت اور روایات کا دشمن سمجھتے ہیں۔ ہم گوروں کی کسی بھی قسم کی نقالی کو اپنے اوپر حرام سمجھتے ہیں۔

گوروں نے مختلف رشتوں، بیماریوں اور سماجی مقاصد کے لیے سال بھر میں ایک ایک دن منانا شروع کیا۔ ہم نے اس کا بائیکاٹ کیا۔ ہمیں کسی رشتے کو منانے کے لیے ایک مخصوص دن کی کیا ضرورت۔ مسئلہ تو تب ہوا جب انہوں نے محبت کے نام پر ایک دن بنا دیا۔ محبت سے تو ہمارا ازلی بیر ہے۔ محبت کی شادی کرنے والوں کا انجام ہم روز اخبارات میں پڑھتے اور ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔

Read more

خواتین کا رمضان

دو سال قبل ’خواتین کا اسلام‘ نامی رسالہ میری نظروں سے گزرا۔ رسالے کا مقصد خواتین کو گھر کی چار دیواری میں محدود کرنا اور مردوں کو دیکھ کر فٹ سے بے ہوش ہونا سکھانا تھا۔ ایک طویل عرصہ باقاعدگی سے پڑھتی رہی، اثر نہ ہوا۔ وہی ادارہ ایک اور رسالہ ’بچوں کا اسلام‘ کے نام سے بھی شائع کیا کرتا تھا۔ دو چار بار پڑھا پھر چھوڑ دیا۔ ویسے بھی جس عمر میں وہ رسالہ پڑھنا شروع کیا تھا، اس میں اپنے آپ کو بچہ سمجھنا ایک بے وقوفی تھی۔

سوچا ’مردوں کا اسلام‘ پڑھا جائے۔ معلوم ہوا کہ ادارہ ایسا کوئی رسالہ شائع ہی نہیں کرتا۔ شدید دکھ ہوا۔ مرد بے چاروں کے ساتھ ہر پلیٹ فارم پر زیادتی ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے مردوں کو اسلام سکھانے یا ان کے اخلاقی قد میں اضافہ کرنے کے لیے کسی اور نام سے رسالہ شائع کیا جاتا ہو لیکن اس سیریز کو خواتین اور بچوں تک ہی محدود رکھنا، میرے نزدیک مردوں کے ساتھ نا انصافی ہے۔ مدیر کو اس بارے کچھ سوچنا چاہیے۔

Read more

زینب، اسماء، عصمت، فرشتہ اور میں

اب باہر جاتے ہوئے بڑا سا دوپٹہ پھیلا کر لینے کی عادت ہو گئی ہے۔ جانتی ہوں کہ یہ میرے جسم کا نہیں بلکہ اس کے دماغ کا فتور ہے مگر اسی معاشرے کا حصہ ہوں۔ چاہتے نہ چاہتے بھی لاشعوری طور پر خود کو الزام دیتی ہوں۔ سڑک پر چلتے ہوئے بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں کہ کوئی موٹر سائیکل سوار چپکے سے پیچھے نہ آ رہا ہو۔ یہاں سڑکوں پر ہر لڑکی اسی خوف کے ساتھ چلتی ہے۔ اوبر اور کریم نے زندگی بہت آسان کر دی ہے لیکن پھر بھی دھڑکا لگا رہتا ہے۔ یہ سڑکیں ہماری ہو کر بھی ہماری نہیں ہیں۔ سڑکیں چھوڑو، ہمارے تو گھر بھی ہمارے نہیں ہیں۔ شاید اسی لیے جب کوئی لڑکی موٹر سائیکل چلاتی نظر آتی ہے تو ہم دل ہی دل میں فخر محسوس کرتے ہیں کہ کوئی تو ہے جو اس خوف سے لڑ رہی ہے اور ان سڑکوں پر اپنا حق جتا رہی ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ اس جرات کی بہت بھاری قیمت چکا رہی ہوگی۔ محلے دار اوررشتے دار طرح طرح کی باتیں بانتے ہوں گے لیکن کوئی ایک ہوگا جو اس کی ہمت ہوگا۔ ہم اسی ہمت کے سہارے آگے بڑھ رہے ہیں۔

Read more

آپ قمر زمان کائرہ کو ان کے بیٹے کے کار حادثے کی خبر کس طرح دیتے؟

تصویر کے دو رُخ ہوتے ہیں۔ دیکھنے والے کی مرضی ہے کہ وہ کون سا رُخ دیکھتا ہے اور پھر اس سے کیا نتیجہ اخذ کرتا ہے۔ دو روز قبل قمر زمان کائرہ کا نوجوان بیٹا ایک کارحادثے میں ہلاک ہو گیا۔ کائرہ صاحب کو یہ اطلاع ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک رپورٹر کے…

Read more

کیا ہمارے روزے، روزے ہیں؟

"اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے کے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیز گار ہوجاؤ۔" سورۃ البقرہ، آیت 183۔ قرآن کریم کی یہ آیت کب اتری، یہ تو عالمِ دین مجھ سے بہتر بیان کر سکتے ہیں مگر میں اتنا بتا سکتی ہوں…

Read more

کم عمری کی شادی کی مخالفت کب تک؟

2019 کے پہلے چار ماہ ختم ہو چکے ہیں۔ اگلے آٹھ ماہ بھی دو عیدوں، شادی سیزن اور وزیرِ اعظم عمران خان کی ’سلپ آف ٹنگ‘ دیکھتے دیکھتے گزر جائیں گے۔ 2020 آ جائے گا تب بھی ہمارے ہاں کم عمری کی شادی پر بحث ہو رہی ہوگی۔ تاریخ لکھنے والے بھی پریشان ہوں گے…

Read more

کیا آپ نے اب تک لال کبوتر نہیں دیکھی؟

جب سے بھارتی فلموں کی پاکستان میں نمائش پر پابندی لگی تھی، میرے سنیما کے چکر تقریباً ختم ہو گئے تھے۔ بظاہر ٹریلر میں متاثر کن لگنے والی پاکستانی فلمیں سنیما میں چربہ ہی ثابت ہوتی ہیں جبکہ انگریزی فلمیں نیٹ فلیکس پر با آسانی دیکھی جا سکتی ہوں۔ اس کے باوجود سال میں ایک…

Read more

خدا حافظ نشویٰ

کل نو ماہ کی نشویٰ اس دنیا میں اپنا آخری سانس لے کر واپس وہیں چلی گئی جہاں سے آئی تھی۔ سوچتی ہوں وہ وہاں کے باسیوں کو اس دنیا کے بارے میں کیا بتا رہی ہو گی۔ قصے ہی کتنے ہوں گے اس کے پاس؟ گھر، اسپتال، نرس، انجیکشن اور پھر موت۔ ان پانچ…

Read more