ماہرہ نے صرف سگریٹ ہی نہیں سلگائی ہے


اداکارہ ماہرہ خان کی چند تصاویر وائرل ہو رہی ہیں جن میں وہ نہایت بے شرمی سے سگریٹ پی رہی ہے۔ یعنی اندازہ کریں، ایک تو سگریٹ، اور دو آتشہ یہ کہ وہ یہ سگریٹ پی بھی رنبیر کپور کی موجودگی میں رہی ہے۔ اسے ذرا خوف نہیں ہے کہ وہ کیا ظلم کر رہی ہے۔ ماہرہ نے نامحرم کے ساتھ صرف سگریٹ ہی نہیں سلگائی بلکہ ہماری قومی غیرت بھی سلگا دی ہے۔

چند افراد مصر ہیں کہ ماہرہ خان کو شک کا ویسے ہی فائدہ دیا جائے جیسے مبلغ نعمان علی خان کو دیا جا رہا ہے۔ ماہرہ کے معاملے میں ہم بہت ہی زیادہ حسن ظن رکھیں تو پھر بھی یہی کہہ سکتے ہیں کہ اس نے چرس یا ہیروئن کی سگریٹ سلگائی ہو گی اور اسی وجہ سے اس نے ہوش و حواس سے بیگانہ ہو کر پاپارازی فوٹوگرافر کے ہاتھوں ایسی تصویر کھنچوا لی۔

سونے پر سہاگہ اس کا لباس ہے۔ بخدا جب بھی قومی غیرت سے لبریز کسی باحمیت شخص کے سامنے یہ تصویر آئے گی تو دس منٹ تک ٹکٹکی باندھ کر اسے گھورنے کے باوجود وہ یہ فیصلہ کرنے میں دشواری محسوس کرے گا کہ اسے زیادہ غصہ سگریٹ پر ہے یا لباس پر۔

اب جب ماہرہ یا دوسری بھولی بھالی پاکستانی حسینائیں ادھر بمبئی کی فلم نگری میں جاتی ہیں تو ہمیں یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ ادھر بہت بری دنیا ہے۔ ہمارا گمان تو یہ تھا کہ چلو بھارت غیر مسلم اکثریتی ملک سہی، مگر ہے تو مشرقی ملک۔ ادھر ہیروئنیں شٹل کاک برقع نہ سہی، نقاب والی چادر تو اوڑھتی ہوں گی۔ ہمیں کیا خبر تھی کہ ادھر اتنا مختصر لباس پہنا جاتا ہے۔ مزید غضب یہ کہ ہمیں یہ بھی علم ہوا ہے کہ ادھر ہندوستان کی فلموں میں زندہ ناچ گانا ہوتا ہے۔ مختصر لباس میں ملبوس یہ مشرقی لڑکیاں مغربی سازوں کی دھنوں پر ہیجان انگیز انداز میں تھرکتی ہیں۔ بلکہ تھرکتی کہاں، باقاعدہ دھمالیں ڈالتی ہیں جسے دیکھ دیکھ کر ہی ان کے بدن سے زیادہ تو قومی غیرت مندوں کا دل ان کے سینوں میں اچھلتا ہے۔

ایسا لباس پہن کر ماہرہ کو شرم سے پانی پانی ہو جانا چاہیے تھا۔ اسے اپنا نہیں تو اپنی قوم کا خیال کرنا چاہیے جس کے جذبات نہایت ہی زیادہ نازک ہیں۔ اب وہ پاکستان میں پیدا ہو گئی ہے تو اسے اپنی قوم کے مردوں کے ارمانوں کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے۔ لیکن پھر خیال آتا ہے کہ اس نے ایسا کیا تو وہ مشکل ہی زندہ بچے گی۔ بہتر ہے کہ وہ اپنی قوم کے مردوں کے ارمانوں کے مطابق زندگی گزارنے کی بجائے ان کے طاق نسیاں میں رکھے کتابی اصولوں کے تحت زندگی گزارے۔ اگر کوئی بھی پاکستانی مرد یا عورت کسی دوسرے ملک میں سیٹل ہو جائے تو اسے چاہیے کہ وہ پاکستانی معاشرے کی اقدار کے مطابق ہی اپنا رہن سہن رکھے۔ خواہ ان کے اجداد تین نسلوں پہلے ہی دیار غیر میں جا کر بسے ہوں اور ان کا جو بھی مذہب ہو، انہیں ہماری مرضی سے زندگی گزارنی پڑے گی ورنہ وہ ہمیں بدنام کر دیں گے۔ یہ کوئی دلیل نہیں ہے کہ وہ اس غیر ملک کے معاشرے کے اصولوں کی پرواہ کرے۔ تین نسلیں گزر گئیں تو کیا ہوا اس کی حرکتوں سے بدنامی تو ہماری ہی ہو گی۔

چند شرپسند لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ ایسے لباس تو وطن عزیز میں بھی پوش علاقوں میں عام دکھائی دیتے ہیں اور ایسی پری تمثال حسیناؤں کو کوئی نظر بھر کر بھی نہیں دیکھتا ہے۔ ہمارے باحمیت نوجوانوں کا بس چلے تو ان پوش علاقوں میں جا کر بھی اس برائی کو ہاتھ سے روک دیں۔ ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ نوجوانوں کے ہاتھ برائی روکنے تک ہی محدود رہیں گے، کسی برے مقصد کی آبیاری کے لئے ان حسیناؤں کے بدن سے مس نہیں ہوں گے۔

ایک جگہ ہم نے یہ تاویل سنی کہ پاکستانی قوم ویسے ہی اپنے گریبان میں جھانکنے کی بجائے دوسروں کے گریبان میں جھانکنے کی شوقین ہے۔ مثال کے طور پر وہ اداکارہ میرا کی اس مبینہ وائرل ویڈیو کو پیش کرتے ہیں جو اس کے مبینہ بیڈروم سے نکل کر مبینہ غیرت مند قوم کے ہر موبائل فون میں پہنچ گئی تھی۔ ان معترضین پر ہمیں حیرت ہے جو یہ سادہ سی بات جاننے سے قاصر ہیں کہ پاکستانی نوجوان اور بوڑھے صرف یہ تحقیق کرنے کے خواہاں تھے کہ اداکارہ میرا نے مبینہ طور پر قومی غیرت کو کس حد تک نقصان پہنچایا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے نازک معاملے میں عینی شہادت ضروری ہے۔

ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ماہرہ خان پر فحاشی کا مقدمہ قائم کیا جائے۔ اس کے علاوہ رنبیر کپور اور سگریٹ پر بھی یہی مقدمہ قائم کیا جائے۔ یہ احمقانہ دلیل ہے کہ پاکستانی قانون کا دائرہ کار صرف پاکستانی ریاست کی حدود کے اندر تک ہی ہے کیونکہ ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں اور ساری دنیا میں ہمارا قانون چلنا چاہیے۔ بھارت کو کھلے لفظوں میں بتا دیا جائے کہ اگر اس نے بالی ووڈ کی فلمیں پاکستانی سینسر بورڈ سے پاس نہیں کروائیں تو ہم اپنی بات سمجھانے کے لئے زائد حامد یا سگار سے مسلح شیخ رشید کو بھیجنے پر مجبور ہو جائیں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 696 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar