پاکستان کے جرمنی کو قرضہ دینے کی کہانی تاریخ کی روشنی میں


آپ کو اکثر پاکستانی نیوز ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر یہ خبر پڑھنے کو ملتی ہے کہ ایک وقت تھا جب پاکستان نے جرمنی کو مالی امداد فراہم کی تھی اور اب پاکستان اس ملک سے امداد حاصل کرتا ہے۔

پاکستان میں معتبر انگریزی اخبار دا نیوز نے نومبر دو ہزار چودہ میں اس حوالے سے ایک آرٹیکل شائع کیا تھا۔ اس کے بعد دو ہزار پندرہ میں یہی دعویٰ پاکستان کے مشہور صحافی جاوید چودھری نے اپنے ایک ٹاک شو میں کیا تھا۔ پاکستان کے مشہور تحقیقی صحافی عمر چیمہ نے بھی اپنی ٹوئٹ میں یہی دعویٰ کر چکے ہیں۔ دو دن پہلے جاوید چودھری صاحب کے ٹاک شو کا مواد ہی کسی نے چوری کر کے اپنے نام سے اے آر وائے کے ایک بلاگ میں شائع کیا ہوا تھا۔ اب پاکستان کے پارلیمان سے لے کر سیاسی ٹاک شوز تک میں یہ تاریخی حوالہ دیا جاتا ہے کہ پاکستان نے جرمنی کو مالی امداد فراہم کی تھی۔ چند ہفتے پہلے ایک پاکستان کے سفارت کار سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بھی یہی دعویٰ کیا تھا۔آج سے چند ماہ پہلے ہمارے عزیز صحافی دوست سبوخ سید نے ایک پیغام ارسال کیا کہ اس دعوے میں کتنی حقیقت ہے کہ پاکستان نے انیس سو تریسٹھ میں جرمنی کو مالی امداد فراہم کی تھی؟
اس کے بعد مجھے بھی اس حوالے سے تجسس ہوا اور میں نے جرمن وزارت خارجہ کے ساتھ ساتھ جرمنی کی وفاقی وزارت برائے اقتصادیات و توانائی سے خط و کتابت کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ان دعوؤں پر جرمن حکام بھی حیران تھے اور میں نے بھی ارادہ کیا کہ اس حوالے سے جرمن زبان میں ایک آرٹیکل لکھوں گا کہ پاکستان نے کس طرح مشکل حالات میں جرمنی کا ساتھ دیا تھا۔
اس کے بعد چھان بین کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔ جرمنی کی وزارت خارجہ اور وفاقی وزارت برائے اقتصادیات و توانائی کی آرکائیو کے مطابق حقائق کچھ یوں ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  پیمرا کا مجوزہ ضابطہ اخلاق اور اینکرز کا ناکام انقلاب

1959ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا تنازعہ بین الاقوامی سطح پر پہنچ چکا تھا۔ اس حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء میں دریائے سندھ اور دیگر دریاؤں کا پانی منصفانہ طور تقسیم کرنے کے لیے ’سندھ طاس‘ معاہدہ طے پایا تھا۔

اس معاہدے کے ضامنوں میں عالمی بینک بھی شامل ہے۔ دونوں ملکوں میں پانی کی تقسیم اور تعمیرات کے لیے 19.2 ارب ڈی ایم (ڈوئچے مارک، اس وقت کی جرمن کرنسی) کی امداد کی ضرورت تھی۔ جرمنی نے اس وقت اس مجموعی رقم کا 15.4 فیصد یعنی 1455 ملین ڈوئچے مارک مالی امداد فراہم کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

پانی کی تقسیم اور تعمیراتی معاملات چلانے کے لیے پاکستان کو اپنے پانچ سالہ منصوبے کی تکمیل کے لیے مجموعی طور پر آٹھ ارب ڈی ایم یا ڈوئچے مارک کی مالی امداد کی ضرورت تھی۔ پاکستان کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے عالمی بینک کی مدد سے ’’ایڈ پاکستان کنسورشیم‘‘ قائم کیا گیا، جس میں جرمنی کے ساتھ ساتھ کئی دیگر مغربی ممالک نے بھی امداد دینے کا وعدہ کیا۔
پاکستان میں اس منصوبے کا آغاز 1960/61 میں ہوا اور اسے 1965/66 تک مکمل کیا جانا تھا۔ جرمنی نے مجموعی طور پر پاکستان کو قسط وار کئی ملین ڈی ایم ادا کرنے تھے۔

دا نیوز اور دیگر صحافیوں کی طرف سے کیے جانے والے دعوؤں کے برعکس سن 1963ء میں جرمن چانسلر نے نہیں بلکہ پاکستانی صدر ایوب خان نے جرمن چانسلر کو ایک خط لکھا تھا، جس میں سالانہ 125 ملین ڈی ایم کے ساتھ ساتھ 85 ملین امداد اضافی طور پر طلب کی گئی تھی اور جرمن حکام نے اضافی امداد دینے پر رضا مندی ظاہر کر دی تھی۔

جرمن آرکائیوز میں محفوظ دستاویزات کے مطابق اس حوالے سے مارچ 1963ء میں جرمن حکام کا ایک خصوصی اجلاس طلب کیا گیا اور پاکستان میں جاری منصوبے کے چوتھے اور پانچویں سال کے لیے مالی امداد کی منظوری دی گئی۔ اس میں پاکستان کو یہ یقین دہانی کروائی گئی کہ ماضی کی طرح چوتھے اور پانچویں سال میں بھی اس کی سالانہ امداد میں کمی نہیں کی جائے گی۔

اسی بارے میں: ۔  سارا قصور مریم کا ہے

یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے لیے جرمن امداد ایک ہی دن منظور کی گئی تھی۔ 1962ء میں بھارت اور چین کے درمیان ہمالیہ میں تنازعہ چل رہا تھا، جس وجہ سے بھارت نے بھی 1963ء میں کہا تھا کہ اخراجات میں اضافے کی وجہ سے اس کے پاس فنڈز کی کمی ہو گئی ہے اور اسے راؤرکیلا اسٹیل مل کے لیے اضافی مالی امداد درکار ہے۔

بعد ازاں تیس جون 1964ء کو بھی جرمنی نے پاکستان کے لیے 152 ملین ڈی ایم کی امداد منظور کی۔ پاکستان کو مزید امداد کی فراہمی کے لیے ایک اجلاس دس جولائی 1665ء کو ہونا تھا لیکن عالمی بینک کی درخواست پر یہ 23 ستمبر 1965ء تک ملتوی کر دیا گیا۔

اگست میں پاکستان اور بھارت کے مابین دوسری جنگ کے آغاز پر جرمنی نے دونوں ملکوں کی مالی امداد ملتوی کر دی تھی۔ اس وقت تک جرمنی قسط وار پاکستان کو 782 ملین ڈی ایم کی امداد فراہم کر چکا تھا۔ بعد ازاں جنگ بندی کی یقین دہانی پر بھارت اور پاکستان کی مالی امداد کا ایک مرتبہ پھر سلسلہ شروع کر دیا گیا۔

اس حوالے سے پاکستان کے ساتھ نیا معاہدہ 26 جنوری 1966 کو ہوا۔ اسی دن جرمنی کی وفاقی وزارت برائے اقتصادیات و توانائی کی طرف سے جاری ہونے والی پریس ریلیز نمبر 3324 کے مطابق پاکستان کو مزید 152.2 ملین ڈی ایم کی مالی امداد ادا کرنے کا معاہدہ ہوا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔