خدا کیا کہے گا
لوگ کیا کہیں گے! لوگ کیا سوچیں گے!
ان جملوں کو سن کر ہم بہت سے کام ترک کر دیتے ہیں۔ حتٰی کہ وہ کام ہر لحاظ سے جائز ہی کیوں نہ ہو ہم لوگوں کے ڈر سے ترک کر دیتے ہیں۔ وہ کام کرنے سے باز آ جاتے ہیں۔
جیسے کہ اگر ہماری بیٹی نوکری کرنا چاہتی ہے پڑھنا چاہتی ہے تو لوگ کیا کہیں گے کہہ کر ہم اسے گھر بیٹھا دیتے ہیں۔ بیٹا یہ کام نہ کرو لوگ کیا کہیں گے۔
حتٰی کہ ہمارے ہاں ہر عام سے خاص کام کو کرنے سے پہلے یہ جملہ ضرور بولا جاتا ہے کہ اگر یہ کام کریں گے تو لوگ پتہ نہیں کیا سوچیں گے، لوگ کیا کہیں گے۔
اپنی روز مرہ کی زندگی میں ہم سے انجانے انجانے میں بہت سے غلط کام ہو جاتے ہیں۔ جو ہم بعد میں کر کے پچھتاتے بھی ہیں۔ اس پچھتاوے اور پریشانی میں بھی ہم یہی کہہ رہے ہوتے ہیں کہ لوگوں کو پتہ چلے گا تو پتہ نہیں کیا سوچیں گے، کیا کہیں گے۔
ناجائز کام انسان چھپ کر بڑی راز داری کے ساتھ کرتا ہے کہ کوئی دیکھ نہ لے کسی کو پتہ نہ چل جائے۔ ناجائز، برے اور غیر اخلاقی کام کرنے کے لئے انسان کسی ایسی جگہ کا انتخاب کرتا ہے جہاں کوئی نہ ہو کوئی اسے دیکھ نہ رہا ہو۔ اپنا کام کر کے بڑا خوش اور مطمئن ہوتا ہے کہ اسے کسی نے دیکھا نہیں۔ حقیقت میں اسے ایک ذات جو پہاڑوں کی چوٹیوں، غاروں کے اندر، کھدائی کی ہوئی زمین کے اندر اور اس کائنات کے کسی بھی کونے میں کون انسان کیا کر رہا ہے وہ سب کو دیکھ رہی ہے اور وہ ذات ہے اس کائنات کے خالق کی ذات جو ہر جگہ موجود ہے میرے رب کی ذات۔
وہ رب جو انسان کو پیدا کرنے والا ہے اس دنیا میں انسان کو بھیجتا ہے اور اس کے رزق کا بندوبست کرتا ہے۔ کائنات کی ہر شے اس کی محتاج ہے۔
چرند پرند، انسان و حیوان سب اسی کے محتاج ہیں۔
ہم لوگوں کے ڈر سے جائز کام کرنے سے بھی باز آ جاتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے لوگ کیا سوچیں گے۔ لیکن تنہائی میں چھپ کر ہم ہر جائز و نا جائز کام کرتے ہیں جو لوگوں کو پسند نہیں ہوتا۔
رشوت دینے والا چھپ کر رشوت دیتا ہے رشوت لینے والا چھپ کر رشوت لیتا ہے کہ کہی کسی تیسرے کو پتہ نہ چل جائے۔ حالانکہ جس کو پتہ چلنے کا ڈر ہونا چاہیے اس کو تو پتہ چل چکا ہوتا ہے۔ اور اس نے ہی سزا اور جزا دینی ہوتی ہے۔ لوگوں میں کس کو عزت اور ذلت دینی ہے اس کا فیصلہ بھی وہی کرنے والا ہے۔
ہر اچھائی اور برائی کا بدلہ رب کائنات نے دینا ہے نہ کے لوگوں نے۔ ہم ہمیشہ پریشان رہتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں یہ سوچ کر ہم ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں۔ ہر اچھا کام چاہے اس کے بارے میں لوگ کیا ہی سوچیں کبھی بھی پریشان نہ ہو اگر وہ جائز کام ہے تو اسے کریں اس بات کو پس پشت ڈال کر کے لوگ کیا کہیں گے۔ اور ہر برا کام کرنے سے پہلے سوچیں کے رب کیا کہے گا جو سب دیکھ رہا ہے جو مجھے اس کام کا بدلہ دے گا۔ برے سے برا کام کر کے بھی ہم اچھے کی توقع کرتے ہیں جو کہ بالکل احمقانہ ہے۔
اچھائی اور برائی کا بدلہ اللہ کی ذات دینے والی ہے۔ انسان کو لوگوں کا نہیں رب کا خوف ہونا چاہیے۔
برا اور ناجائز کام کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لے کے جس رب نے تمہیں اس دنیا میں بھیجا ہے وہی تمہارے لیے رزق کا بندوبست کرنے والا اور عزتوں سے نوازنے والا ہے۔ اور وہ ایک لمحے کے لئے بھی اس دنیا سے غافل نہیں ہے۔ وہ ہر لمحہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ برائی پر سزا اور نیکی پر جزا دینے والی صرف خالق کائنات (اللہ) کی ہی ذات ہے۔
کبھی بھی لوگوں کے خوف سے اچھائی کو نہ چھوڑنا اور لوگوں کے خوف سے برائی کا ساتھ نہ دینا۔
بس کوئی بھی برا کام کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیا کریں کے وہ رب مجھے دیکھ رہا ہے جس کے قبضہ قدرت میں سب کچھ ہے اور اس سے کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ اسی کے اختیار میں ہے سب کچھ عزتوں اور ذلتوں کے فیصلے کرنے والا وہی ہے۔
المختصر ”لوگ کیا کہیں گے“ کے ڈر سے برائی کو چھپ کر کرنے کی بجائے ”رب کیا کہے گا“ سوچ کر دیکھیے جو تنہائی اور ہجوم میں ہر وقت ہم پر نظر رکھے ہوئے ہے اور کوئی کام، چیز اس کی نظروں سے اوجھل نہیں ہے۔ پھر ہم تنہائی اور ہجوم دونوں میں برائی سے دور رہیں گے۔ سکون، دولت، عزت اور شہرت رب ہی دینے اولا ہے پھر انسان کو چاہیے اس رب کے سامنے اچھا بننے کی کوشش کریں۔
اور جب ذرا سا ڈگمگانے، گمراہ ہونے لگے تو ذرا یہ سوچ لے کہ ”رب کیا کہے گا“ جیسے وہ ہر بات پر کہتا ہے ”لوگ کیا کہیں گے“ بس تب انسان یہ کہہ اور سوچ لے کے ”رب کیا کہے گا“ ”رب کیا کہے گا“


