بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور معاشرہ


ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ایک دلخراش واقعے کی گونج ابھی ختم بھی نہیں ہو چکی ہوتی کہ اگلا اس سے بھی زیادہ ہولناکی کے ساتھ رونما ہوتا ہے۔ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جو پکڑ میں ہی نہیں آرہیں اور ملک ریپسٹ کا گڑھ بنتا چلا جا رہا ہے۔ اور روزانہ کئی پھول مسلے جاتے ہیں۔ ان میں بھی جانے کتنے بدنصیب بچے وہ ہیں جن کی آواز اور ان کے ماں باپ کی فریاد ہونٹوں میں دبی رہ جاتی ہے۔
ایک ماں ہونے کے ناطے میں یہ سمجھتی ہوں کہ یہ ہم والدین کی اولین ذمہ داری ہے کہ اپنی اولاد کی حفاظت خود کریں۔ آج کے اس دور میں جہاں ہمارے بچے اپنے قریبی رشتہ داروں کی ہوسِ نگاہ میں ہیں وہاں یہ کیسے فرض کیا جاسکتا ہے کہ کوئی بھی رشتےدار یا قریبی عزیز ہفتوں تک ہمارے بچے کی حفاظت کرے گا۔ یا پھر ہم نے ”بچے کی حفاظت“ سے صرف یہی مراد لیا ہے کہ اسے وقت پر کھلایا پلایا جائے اور کپڑے بدلوائے جائیں اور بچہ محفوظ! جب کہ کسی کے بچے کو اپنے پاس رکھنے اور اس کا خیال رکھنے کی ذمہ داری لینے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ صرف اس کی ظاہری دیکھ ریکھ کی جائے۔ اصل ذمے داری اس کی جذباتی اور نفسیاتی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے بچے کو مطمئن رکھنا ہے۔

قصور میں سات سالہ زینب کے ساتھ رچائی گئی ہوس و بربریت کی لرزہ خیز داستان کی کڑیاں بھی ہماری اسی سوچ سے ملتی ہیں جو والدین اور سرپرستوں کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ آج وہ دور نہیں رہا کہ ہم اپنی اولاد کے معاملے میں دوسروں پر اعتماد کرنے کی غلطی کر بیٹھیں۔ اب زمانہ جبکہ بدل چکا ہے تو ہمارے معاشرتی اقدار بھی وہ پہلے سے نہیں رہے۔ جہاں ایک محلے یا ایک گاؤں کے دکھ سکھ سب کے سانجھی ہوتے تھے۔ فی زمانہ اگر مجھ سمیت کوئی بھی والدین اپنی اولاد کے لیے اپنے آپ سے بڑھ کر کسی کو ذمہ دار سمجھتے ہیں تو یہ ایک انتہائی نامناسب اور غیر ذمہ دارانہ فعل ہے۔ والدین ہونے کے ناطے یہ ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے کہ اپنی اولاد کی حفاظت کو خود یقینی بنائیں کیونکہ ماں باپ سے بڑھ کر اپنے بچوں کی خیر خواہی کسی بھی تیسرے شخص کو عزیز نہیں ہو سکتی۔

دوسری اہم بات جو معصوم زینب والے واقعے میں میڈیا پر دکھائی جانے والی ویڈیو کلپس سے ظاہر ہورہی ہے۔ وہ یہی ہے کہ بچی بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس شخص کی انگلی پکڑے جا رہی ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مجرم جو بھی ہے وہ بچی کے لیے ایک مانوس چہرہ ہے۔ جبھی تو وہ اس کی انگلی تھامے اعتماد سے چل رہی ہے۔ جب ہم اپنے گھروں سے بچوں کو کسی بھی کام سے باہر نکلنے کی اجازت دیتے ہیں تو اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ بچہ اکیلے نہ نکلے نہ ہی کسی اجنبی سے بے تکلف ہونے پائے۔ بعض دفعہ یہی شکاری گھات لگائے بیٹھے ہوتے ہیں کہ کب انہیں موقع ملے اور وہ اپنے شکار کو جھپٹ لیں۔ ضروری نہیں کہ ہر دفعہ کوئی اجنبی ہی ایسی حرکت کرے۔ بدقسمتی سے ہم اپنے خاندانوں میں موجود ایسے موزی درندوں کو بھی پہچاننے سے قاصر ہوتے ہیں۔

ہمارے خاندانوں میں یہ روایت بھی عام ہے کہ رشتے داروں سے بچوں کو بے دھڑک ملنے دیا جاتا ہےجس میں ایسا کچھ غلط بھی نہیں۔ مگر ساتھ ہی ہم یہ سوچنا تک گناہ تصور کرتے ہیں کہ ہم سے جڑے رشتے ہمارے بچوں کے لیے کسی بھی طرح سے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ حالآنکہ عام طور پر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بچوں کا جنسی استحصال انہی رشتے داروں کے ہاتھوں ہی زیادہ ہوتا ہے۔ بلاوجہ بچوں کو گود میں اٹھانا، انہیں چمکارنا، ان کے ہاتھ میں پیسے دینا یا انہیں بازار کی اشیا دلا کر انہیں اپنی طرف راغب کرنا وہ چند مشکوک حرکات ہیں جو کسی بھی شخص کی بچے میں غیر ضروری دلچسپی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین اس شخص کی طرف سے چوکنا رہنے کے ساتھ ساتھ اپنے بچے کو اعتماد میں لے کر رسانی سے سمجھائیں کہ وہ لوگوں کو یا دوستوں کو کس حد تک اپنے قریب آنے دیں۔ ہمیں بچوں کو اچھے اور برے لمس کا فرق سمجھانا ہے تاکہ وہ جان سکیں کہ وہ کون سی حدود ہیں جہاں سے آگے کسی کو بھی اس کے قریب ہونے کی نہ اجازت ہے اور نہ جرات ہونی چاہیے۔

تیسری بات جو کہ بچے کی تربیت کے حوالے سے والدین اور سرپرستوں کے لیے ایک اہم چیلنج بھی ہے وہ یہ کہ جب ہم بچوں کو سیکس ایجوکیشن دینے کی بات کرتے ہیں تو یہی معاشرہ ہمارے خلاف اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ بچوں کو وقت سے پہلے شاید ہم بستری کے اصول سمجھا نے کی کوئی سازش ہورہی ہے۔ حالانکہ جنسی تعلیم کے بنیادی اصول ہی یہی ہیں کہ بچہ اچھے اور برے لمس سے نہ صرف آگاہ ہو سکے بلکہ خود کو محفوظ بھی رکھ سکے۔ سیکس ایجوکیشن ہی کے ذریعے مناسب طریقوں سے اور بچے کی ذہنی و جسمانی نشوونما کو مدنظر رکھ کر جنسی ہراسانی جیسے تکلیف دہ صورت حال کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ والدین کو اس بات کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو جنسی استحصال کی اذیت آمیز تجربات سے کیسے محفوظ رکھیں۔ یہ بہت اہم ہے کہ والدین اور سرپرست بچوں کو وہ اعتماد شروع سے دیں کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو نہ صرف بیان کریں بلکہ اس شخص کی بھی نشاندہی کریں۔ اس کے لیے ظاہر ہے کہ بچے کو پہلے دن سے ہی تیار کرنا ہوگا۔ ہمیں تحمل سے نہ صرف انہیں سننا ہوگا بلکہ ضرورت پڑنے پر مناسب اقدامات بھی اٹھانے پڑیں گے چاہے وہ قانونی چارہ جوئی کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔

مزید برآں جب تک حکومتی سطح پر ایسے سنگین جرائم کے خلاف اقدامات نہیںکیے جائیں گے ایسے حادثات رونما ہوتے رہیں گے۔ قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے سے لے کر مجرم کو دلائی جانے والی عبرتناک سزا تک حکومت ہی کی ذمے داری ہے۔ اور اس سے بھی اہم ہمیں اپنے معاشرے سے اس زہریلی سوچ کا خاتمہ کرنا ہے جس کے تحت صرف اپنے گھر کی ہی عورت قابلِ احترام ہے۔ اور دیگر عورتیں نمائش کی کوئی شے ہیں۔

نصاب کی کتب اٹھا کر دیکھ لیجیے ماں، بہن اور بیوی کے محرم ہونے پر جتنا ذور دیا جاتا ہے اس کا ایک فیصدی حصہ بھی عورت برائے تکریم کے فلسفے کو چھو کر بھی نہیں گزرا۔ اب وقت ہے کہ حکومت صدیوں سے رائج فرسودہ نصابِ تعلیم پر آج کے معاشرتی مسائل کی روشنی میں نظر ثانی کرے اور کوئی ایسا نصاب مرتب کرے جو واقعی ہر بچے کو آج کے مسائل کو سمجھنے، پرکھنے اور ان سے نمٹنے کے لیے تیار کرے۔ اکثر ہمارے مشاہدے میں آتا ہے ک ہم رہتے تو درندوں اور ہوس کے پجاریوں کے بیچ ہیں مگر نظامِ زندگی کو جانچنے کا ہمارا چلن بالکل ویسے ہی ہے گویا ہم کسی آئیڈیل معاشرے کا حصہ ہیں۔ اب بھی اگر ہم نے اپنے رویے اور تربیت کے انداز نہیں بدلے تو پھر ہمیں اس بات کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے کہ آج قصور کی زینب سمیت سینکڑوں پھولوں کو مسلا گیا ہے لیکن آنے والے وقت میں شاید ہم میں سے کسی کی بیٹی یا بیٹے کی باری ہوگی تو ہی ہم اپنے رویے بدلیں۔

Facebook Comments HS