افغان جنگ کے خاتمہ کا واحد راستہ مذاکرات ہیں
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں یکے بعد دیگرے دہشت گرد حملوں کے بعد اعلان کیا ہے کہ امریکہ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جب طالبان ایک طرف معصوم لوگوں کو قتل کررہے ہیں تو دوسری طرف ان سے بات چیت ممکن نہیں ہے۔ آج کابل کے قریب ایک فوجی اڈے پر حملہ میں 11 فوجیوں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا گیا تھا۔ اس سے پہلے گزشتہ ہفتہ کے دوران کابل کے انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل پر حملہ میں 25 افراد کو ہلاک کیا گیا۔ جبکہ ہفتہ کے روز کابل کے مرکزی علاقے میں بارود سے بھری ایک ایمبولنس کو دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا ۔ اس حملہ میں 102 افراد ہلاک جبکہ دو سو سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ ان سانحات کے بعد زود رنج امریکی صدر ٹرمپ کا رد عمل قابل فہم ہے لیکن یہ رویہ افغانستان کے زمینی حقائق اور گزشتہ سترہ برس کی افغان جنگ سے حاصل ہونے والے تجربات کی روشنی میں درست فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ اس لئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ دعویٰ حقیقت پسندانہ نہیں ہے کہ امریکہ طویل عرصہ تک طالبان سے مذاکرات کرنے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔ اس دوران روس کی طرف سے افغانستان میں مذاکرات کی حوصلہ افزائی کے اشارے موصول ہوئے ہیں جبکہ چین بھی بہر صورت افغانستان میں امن کا خواہاں ہے۔ افغانستان میں مذاکرات شروع نہ ہونے کی زیادہ ذمہ داری گو کہ طالبان کے باہمی تنازعات اور گروہ بندی پر عائد ہوتی ہے۔ اس صورت حال میں طالبان قیادت بات چیت پر راضی ہو کر اپنی صفوں میں مزید انتشار پیدا کرنے کا خطرہ مول لینے کے لئے تیار نہیں ہو سکتی۔ لیکن یہ صورت حال پیدا کرنے میں امریکہ کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دی جاسکتا۔
افغانستان میں گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران ہونے والے حملوں سے بھی یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ افغانستان میں عسکری جد و جہد میں ملوث گروہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور اپنی مقبولیت میں اضافہ کرنے کے لئے بھی ان حملوں میں ملوث ہو رہے ہیں۔ داعش نے گزشتہ کچھ عرصہ میں قوت پکڑی ہے۔ اس گروہ کو ان عناصر کی حمایت حاصل ہے جو طالبان قیادت سے کسی نہ کسی وجہ سے ناراض ہیں اور زیادہ شدت سے امریکی فوج کا مقابلہ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ تاہم بد قسمتی سے ان عناصر کا نشانہ یا تو عام شہری بنتے ہیں یا افغان فورسز کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے جو ابھی تک اس قابل نہیں ہیں کہ اپنے طور پر طالبان کا مقابلہ کرسکیں یا ملک مین امن و امان بحال کرسکیں۔ اگرچہ افغانستان میں دو دہائیوں تک جنگ کرنے اور ملک کی تباہی کا سبب بننے والے ممالک سے یہ جواب دریافت کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ وہ ایک طرف طالبان کو شکست دینے میں ناکام رہے تو دوسری طرف افغان فورسز کو تربیت کو اس معیار پر نہیں لاسکے کہ وہ دہشت گرد اور عسکری پسند عناصر کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوتیں۔ اس صورت حال کی ذمہ داری امریکہ اور ایساف میں اس کے حلیف ممالک پر یکساں طور سے عائد ہوتی ہے۔
طالبان کے خلاف جنگ میں اتحادی افواج کی ناکامی کو عام طور سے موضوع بحث بنایا جاتا ہے اور اس کی متعدد وجوہ بھی تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن امریکہ بطور خاص اور دیگر حلیف ممالک عام طور سے پاکستان پر الزام تراشی کے ذریعے اپنی ناکامیوں کا عذر پیش کرنے کی کو شش کرتے رہے ہیں۔ تاہم اس بات پر بھی سوال اٹھانا اور جواب طلب کرنا چاہئے کہ اگر دلیل کے طور پر اس الزام کو مان بھی لیا جائے کہ پاکستان کی مدد اور پاکستانی سرزمین کی دستیابی کی وجہ سے افغان طالبان کو شکست نہیں دی جا سکی تو پھر اس بات کا ذمہ دار کون ہے کہ افغان فوج کو دہشت گردوں کے مقابلہ کے لئے مستحکم نہیں کیا جاسکا۔ موجودہ افغان فوج کی تشکیل اور تربیت کی تمام تر ذمہ داری امریکہ سمیت اس کے حلیف ملکوں نے قبول کی تھی۔ اس مقصد کے لئے کثیر وسائل بھی فراہم کئے گئے لیکن اس کے باوجود افغان فوج کسی مرحلے پر بھی اس قابل نہیں ہو سکی کہ وہ خود مختاری سے اپنے ملک کی حفاظت اور شر پسند عناصر کا خاتمہ کر سکتی۔ چونکہ افغان فوج عام افغان شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے اور امن و امان بحال کرنے میں ناکام رہی ہے ، اس لئے ان علاقوں میں جہاں طالبان یا دیگر عسکری گروہوں کا اثر و رسوخ ہے، عام لوگ بھی انہیں عناصر کا ساتھ دیتے ہیں۔
پاکستانی ذرائع کے مطابق افغانستان کا چالیس فیصد سے زیادہ علاقہ اس وقت طالبان یا دیگر عسکری گروہوں کے قبضہ میں ہے۔ پاکستان کی دلیل ہے کہ جب طالبان کو اپنے ہی ملک میں وسیع رقبہ پر دسترس حاصل ہے تو انہیں پاکستان سے مدد لینے یا اس کے علاقوں میں روپوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان کو یہ شکایت بھی ہے کہ افغانستان کے سرحدی علاقوں میں پاکستان سے فرار ہونے والے دہشت گردوں نے قبضہ جمایا ہؤا ہے اور امریکہ یا افغان فورسز انہیں ختم کرنے یا وہاں سے فرار ہونے پر مجبور کرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ اسی وجہ سے بھارت کی خفیہ ایجنسیاں ان تخریبی عناصر کو پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے لئے استعمال کرتی رہی ہیں۔ امریکہ البتہ پاکستان کی طرف سے حقانی نیٹ ورک کی سرپرستی کے الزام کی آڑ میں بعض دوسرے زمینی حقائق پر بات کرنے یا ان پر غور کرنے پر تیا رنہیں ہوتا۔ انہی معاملات میں اہم ترین سوال البتہ یہ بھی ہے کہ افغان فوج کو اس قابل کیوں نہیں بنایا جا سکا کہ وہ اپنے ملک میں امن و مان بحال کرنے کے قابل ہو سکتیں۔ امریکہ اور اس کے حلیف ممالک اگر اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داری پوری کرتے تو اسے اس بات کا شکوہ کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی کہ افغانستان میں پاکستان کی وجہ سے انتشار اور بدامنی پھیل رہی ہے۔ بلکہ امریکہ کی اس دلیل میں کوئی وزن ہے بھی تو بھی مضبوط افغان فوج کے ہوتے ہوئے، پاکستان کو تخریبی عناصر کی سرپرستی کرنے کا حوصلہ نہ ہوتا۔
اس وقت افغان فوج کی تعداد تین لاکھ کے لگ بھگ ہے اور افغان فوجیوں کو دنیا کی سپر پاور کے ماہرین عسکری تربیت دیتے ہیں اور اعلیٰ ترین اسلحہ فراہم کرتے ہیں۔ لیکن یہ کثیر فوج افغانستان کے ساڑھے تین کروڑ لوگوں کی حفاظت کرنے میں کامیاب نہیں ہے۔ حالانکہ یہ بہت بڑی فوج ہے اور بہتر تربیت کی صورت میں وہ اس سے کئی گنا زیادہ بڑی آبادی کے ملک کی حفاظت کرنے کے قابل ہو سکتی تھی۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کی افواج کی تعداد چھ لاکھ کے قریب ہے اور وہ ایک طرف دہشت گردوں کے خلاف کامیاب جنگ لڑ رہی ہے تو دوسری طرف اکیس کروڑ آبادی کے ملک کی حفاظت کی ذمہ داری بھی سنبھالے ہوئے ہے۔ پاکستانی فوج کو ان بڑے چیلنجز کے علاوہ ہر وقت بھارت کے ساتھ جنگ کا اندیشہ بھی رہتا ہے۔ بھارتی فوج تسلسل سے لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی کے ذریعے علاقے کے امن کے لئے مستقل خطرہ کی صورت پیدا کئے ہوئے ہے۔ اس تناظر میں افغان فوج کی کمزوری واضح ہے۔ افغانستان میں امن قائم کرنے اور طالبان کو ختم کرنے کے دعوے کرنے والے صدر ٹرمپ اور ان کی حکومت کو اس حوالے سے اپنے ملک کی ناقص حکمت عملی اور ناکامی پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست میں افغانستان کے بارے میں اپنی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان پر الزام عائد کرنے پر زیادہ زور دیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ سلسلہ تسلسل سے جاری ہے۔ بعد میں سامنے آنے والی معلومات سے یہ واضح ہؤا ہے کہ امریکہ دراصل پاک فوج کو زیادہ قوت سے افغان جنگ میں ملوث کرنا چاہتا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ امریکی فوج ناپسندیدہ عناصر کو پاکستان کی طرف دھکیل دے اور پاک فوج قبائیلی علاقوں میں ان کا باقاعدہ مقابلہ کرے۔ پاکستا ن اس صورت حال کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ افغان جنگ کو اپنی سرزمین پر لڑنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ تاہم امریکہ کی طرف سے مسلسل اسی آپشن پر زور دیا جارہا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ کے پاس افغانستان میں حالات کو بہتر بنانے کے لئے کوئی حل ہی موجود نہیں ہے۔ حالانکہ اگر وہ تین لاکھ نفوس پر مبنی افغان فورسز کو پروفیشنل فوج بنانے کی طرف توجہ دیں تو چند برس میں افغانستان میں امن بحال کرنے کے لئے پاکستان سے تعاون مانگنے کی ضرورت ختم ہو سکتی ہے۔
تاہم اس مقصد کے لئے امریکہ کو افغانستان میں کی گئی غلطیوں کا ازالہ کرنا ہوگا۔ پاکستان کے ’دوہرے کردار‘ یا افغان حکومت کی کرپشن جیسے سطحی اور کمزور دلائل سے امریکی عوام کی تسلی کروانے کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔ امریکہ نے افغانستان میں پاؤں جمائے رکھنے اور کابل میں اپنی پسندیدہ حکومت کو مستحکم رکھنے کے لئے افغانستان کے ہر قسم کے عناصر سے مختلف ادوار میں مختلف نوعیت کا تعاون کیا ہے۔ جن عناصر کو بدقماش قرار دے کر نظم حکومت سے دور رکھنے کی ضرورت تھی، انہیں اپنی صفوں میں جگہ دی گئی اور جب ان سے فائدہ کی بجائے نقصان کا اندیشہ ہؤا تو اسی قسم کے دوسرے متحارب گروہوں کو قریب کرلیا گیا۔ اس پالیسی کی وجہ سے نو تشکیل شدہ افغان فوج میں نہ تو ڈسپلن پیدا کیا جاسکا اور نہ وہ کسی ایک مقصد کے حصول کے لئے متحد و مشترک ہو کر کام کرنے کے قابل ہوسکیں۔ اب امریکہ کو سوچنا چاہئے کہ اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے۔ جس فوج میں یکسوئی اور وفاداری کی کمی ہو ، وہ کیوں کر ملک میں خانہ جنگی کی صورت حال پر قابو پاسکتی ہے۔
امریکہ افغانستان میں جنگ لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ افغان فوج اس قابل نہیں ہے۔ پاکستان اس بارے میں فوجی تعاون کرنے سے انکار کرچکا ہے۔ ان حالات میں طالبان کے ساتھ مذاکرات سے انکار افغانستان کو طویل عرصہ تک انتشار، بد امنی اور خانہ جنگی کا گڑھ بنانے کے مترادف ہوگا۔ یہ حالات افغان عوام کے علاوہ ہمسایہ ملکوں کے لئے بھی مشکلات کا سبب بنے رہیں گے اور امریکہ بھی اس علاقے میں اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکے گا۔ اس لئے صدر ٹرمپ کو نعرے بازی کے زور پر پالیسیاں نافذ کرنے کا طریقہ ترک کرکے یہ جاننا ہوگا کہ موجودہ حالات میں امریکہ اور دنیا کے لئے افغانستان میں جنگ کے حالات ختم کرنا ہی واحد اور بہتریں آپشن ہے۔ اس مقصد کے لئے فی الوقت طالبان سے مذاکرات کو ممکن بنانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔


