کیا مرنے والے انسان کو اپنی موت کا اندازہ پہلے سے ہو جاتا ہے؟ نوٹنگھم یونیورسٹی کی تحقیق


تحقیق کے دوران قریب المرگ افراد سے رائے لی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ موت ایسی بری بھی نہیں جس سے دور بھاگا جائے، بلکہ کسی ہسپتال میں قید ہوجانا زیادہ بدترین ہوتا ہے۔

لوگوں کو اپنی موت کا علم پہلے سے ہوجاتا ہے اور وہ ان لمحات میں تنہا رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

نوٹنگھم یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جب لوگوں کا انتقال ہونے لگتا ہے تو وہ اس کے لیے کسی حد تک تیار ہوتے ہیں جبکہ کچھ افراد اس وقت تک انتظار کرتے ہیں جب ان کے پیارے ارگرد موجود نہ ہوں۔

تحقیق کے مطابق بیشتر افراد طبیعت کی خرابی پر اپنے ارگرد شور و غل پسند نہیں کرتے اور بستر مرگ پر بھی یہی احساس مریض کے اندر موجود ہوتا ہے۔

اس سے قبل نیویارک یونیورسٹی کی گزشتہ سال کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ لوگ اپنی موت کے وقت سے آگاہ ہوتے ہیں اور ان کا شعور موت کے کچھ دیر بعد تک کام کرتا رہتا ہے۔

اس نئی تحقیق کے مطابق ویسے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی بھی شخص تنہا مرنا پسند نہیں کرتا مگر اکثر اموات اس وقت ہوتی ہیں جب مریض تنہا ہوتا ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ کسی ہسپتال میں جب کوئی مریض بستر مرگ پر ہوتا ہے طبی عملہ خاندان کے افراد کو اکھٹا کرلیتا ہے، ان لمحات میں مریض کے لیے روزمرہ کی زندگی بے معنی ہوچکی ہوتی ہے اور وہ جذباتی طور پر منتشر ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اکثر اوقات کسی فرد کا انتقال اس وقت ہوجاتا ہے جب اس کا پیارا فون کرنے یا کچھ کھانے پینے جاتا ہے، جس کے بعد پسماندگان میں پچھتاوے کا احساس رہ جاتا ہے کہ وہ اپنے پیارے کی موت کے وقت اس کے ساتھ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے شواہد ملتے ہیں کہ کچھ افراد اپنی زندگی کے اختتامی لمحات میں تنہا رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیشتر ایسے کیسز سامنے آئے ہیں جب کسی فرد کی موت اس وقت ہوئی جب اس کا کوئی رشتہ دار اس کے سرہانے سے اٹھ کر کہیں اور گیا۔

تحقیق کے دوران قریب المرگ افراد سے رائے لی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ موت ایسی بری بھی نہیں جس سے دور بھاگا جائے، بلکہ کسی ہسپتال میں قید ہوجانا زیادہ بدترین ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS