تلخ جام چھلکانے والا چلا گیا
تحریر: سلمان آصف
ان ہواؤں میں یہ سسکی کی صدا کیسی ہے
بین کرتا ہے کوئی درد پرانا اپنا
آخری بار جب میں ساقی فاروقی سے ملا تو انہوں نے مجھے دلار سے بدمعاش کہہ کر پکارنے کی بجائے بڑے پر تکلف انداز میں سلمان صاحب کہہ کر مخاطب کیا، جس پر مجھے حیرت سے پوچھنا پڑا، “آپ خیریت سے تو ہیں”۔ ان کی گفتگو نہ صرف پرتکلف بلکہ کچھ اکھڑی اکھڑی بھی تھی۔ بولے “یار تم میری شاعری پر ایک مضمون اور لکھو۔ میں تمہیں اپنے تازہ خیالات سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ تو پھر ہم کب مل رہے ہیں سلمان صاحب؟”
انہوں نے کچھ اس انداز سے کہا جیسے ان پر اعصابی دورہ پڑنے والا ہو۔ اس گفتگو کے بعد ہماری ملاقات کبھی نہ ہو سکی جس میں قصور میرا ہی تھا کیونکہ میں مسلسل سفر میں رہتا تھا۔ میرے لیے ان کی وہی یاد دل نشیں ہے جس میں وہ مجھے شرارتاً بدمعاش کے نام سے پکار رہے ہیں۔
یہ خطاب مجھے 1997 میں اس وقت دیا گیا جب لندن کے نیوز انٹرنیشنل میں ساقی پر میری ایک تند و تیز تحریر شائع ہوئی۔ عنوان تھا، “تلخ جام چھلکانے والا”۔ یادش بخیر یہ ان کی اس وقت شائع ہونے والی کتاب “ہدایت نامہ شاعر” پر میرا ایک جلا بھنا تبصرہ تھا اور خیال تھا کہ میری حد سے بڑھی ہوئی شوخیوں نے انہیں بہت برہم کیا ہو گا۔ لیکن وہ تو میری طنز و تشنیع پر گویا جھوم ہی اٹھے۔ کہنے لگے، “بھئی تمہارے مضمون کا عنوان میری بیوی گنڈی کو بھی بہت پسند آیا”۔
واضح رہے کہ ساقی بڑے بڑوں کو خاطر میں نہ لاتے تھے اور عمائدین کے بارے میں گستاخانہ لہجہ اپنا کر بڑا فخر محسوس کرتے تھے۔
ساقی کو ایک طرف اگر ان کے تیزابی کاٹ والے جملوں، ردیف قافیہ، اوزان و بحور اور صنائع بدائع نیز اردو اصوات کے زیر و بم کی مکمل رمز شناسی کے باعث یاد رکھا جائے گا تو دوسری جانب ان کے بصیرت افروز جذباتی وفور اور زبان و بیان کے لگے بندھے پیرائیوں سے باغیانہ انحراف کے باعث بھی ان کا نام شعر و ادب کی دنیا میں زندہ رہے گا۔
وہ شعری محاس کی مروجہ روایت کے قائل تو تھے لیکن ان محاسن کو وہ نت نئے شعری سانچوں کی کسوٹی پر پرکھتے رہتے تھے۔ جب تنقید کرنے پر آتے تو کسی کو نہ بخشتے اور ساتھی شاعروں کے کلام میں عجز بیان اور کوتاہئ اظہار کے ایسے ایسے نکتے تلاش کر لیتے کہ سب انگشت بدنداں رہ جاتے لیکن خود اپنی شاعری میں وہ پراگندہ خوابوں کے ریزے ہی چنتے رہے۔
ساقی خوشامد کے لوبھی تھے اور اسے سچی داد و تحسین سمجھ کر قبول کرتے تھے، البتہ جب ان پر تنقید کی جاتی تو وہ فوراً اسے حسد کے زمرے میں ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے۔
وہ یاروں کے یار تھے اور لندن میں ان کے شاندار گھر کے دروازے دوستوں پر ہمیشہ کھلے رہتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میزبانی میں وہ فراخ دلی کی تمام حدیں پار کر جاتے تھے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور کی کوئی ادبی شخصیت ساقی جیسی دیدہ دلیری سے اپنے ہم عصر شاعروں کا مذاق نہیں اڑا سکی۔ کہنے کو وہ فیض سے بڑا پیار کرتے تھے لیکن جب فیض کی شاعری پہ کچھ لکھتے تو ان کا قلم اہانت آمیز رنگ اختیار کر لیتا۔
ن م راشد کی ویسے تو بہت عزت کرتے تھے لیکن ان کی نظموں پہ بات کرتے ہوئے مبہم پیرایہ اختیار کر لیتے اور کبھی کھل کر بات نہ کرتے۔ باقی شعرا کو وہ خود سے بہت ہی کم درجے کا خیال کرتے تھے اور جب جی چاہتا اپنی تنقید کا اسلحہ لے کر ان پر چڑھ دوڑتے اور دھجیاں اڑا کے رکھ دیتے۔
ساقی کی خواہش تھی کہ اردو شاعری کی تحریر و تفہیم میں ایک انقلابی تبدیلی لائی جائے۔ ایک ایسی تبدیلی جس کے بعد خود ساقی کی شاعری کو اس کی تمام تر بے باکی کے ساتھ قبول کر لیا جائے۔ ان کی دلی تمنا تھی کہ لوگ ایک سچے باغی شاعر کی حیثیت سے انہیں تسلیم کریں، لیکن ان کی پذیرائی ایک ایسے بھٹکے ہوئے شاعر کے طور پر ہوئی جسے لوگ دل سے تو پیار نہیں کرتے تھے مگر اس خوف سے بولتے بھی نہیں تھے کہ کہیں یہ ہماری عزت اتار کے نہ رکھ دے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں سے ساقی داد و تحسین کی امید لگائے بیٹھے تھے انہی لوگوں نے ساقی کے کام ہر سب سے زیادہ طعنہ زنی کی۔ انہوں نے ساقی کو ایک ایسا بچہ قرار دیا جو محض بڑوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے الٹی سیدھی حرکتیں کرتا رہتا ہے۔ ایک ذہین، لیکن انتہائی بگڑا ہوا بچہ!
ساقی نے اپنی تحریروں میں شاعر کو عہد حاضر کا نجات دہندہ قرار دینے کی بہت کوشش کی لیکن یاروں نے ایسے بیانات کو اس کی رعونت اور خود ستائی پر محمول کیا۔
ساقی چلا گیا ہے۔ وہ ساری عمر سادھوؤں سنتوں اور پیروں فقیروں کا شدید مخالف اور بت شکنی کا زبردست حامی رہا، لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ اب خود اسے اردو ادب میں بغاوت کی ایک عظیم مثال قرار دے کر اس کا بت تراشا جا رہا ہے۔
(انگریزی سے ترجمہ: عارف وقار)


