کراچی کے شیراز کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گنجان آباد شہروں میں جب طوفان آیا کرتے ہیں تو ہر انسان کو اپنی جان کی حفاظت کی پڑی ہوتی ہے۔ کوئی اپنے اثاثے بچانے کی تگ و دو میں لگتا ہے تو کوئی اہل و عیال کے بارے میں فکر مند ہوتا ہے۔ طوفان کے بعد جب ایک سناٹا چھا جاتا ہے تو انسان نقصان کا تجزیہ کرتے ہیں کہ اس گھما گھمی میں کیا کچھ ان کے پاس تھا جو کھو گیا۔

ایک ایسا ہی طوفان کراچی آپریشن ہے جو آیا اور متوسط طبقے کی آبادیوں پر نازل ہوا اور ناجانے کتنے نایاب گوہر و اثاثے اپنے ساتھ لیتا چلا۔ کراچی والوں نے طوفان کے بعد جو سانس لی تو معلوم چلا کہ کسی کا بھائی نہ رہا، کسی کے سر سے باپ کا سایہ غائب ہوچکا تھا اور کوئی اپنی حاملہ بیوی کو روتا چھوڑ گیا تھا۔

ایسا ہی ایک نایاب گوھر ہے شیراز حیدر جس کے بچّے نے 16 نومبر 2016 کی طوفانی رات کے بعد اپنے بابا کی شکل آج تک نہیں دیکھی۔ ایک سال سے زائد عرصہ میں کئی عیدیں آئیں، رمضان گزرا، محرم آیا لیکن بس شیراز حیدر واپس نہ آیا۔

جعفریہ گولیمار کے علاقے میں رہنے والا یہ نوجوان اپنی محنت کی وجہ سے محلے میں خاصا مشہور ہے۔ محرم آتے ہی شیراز پر ذمہ داریاں بڑھ جاتی تھیں اور علاقے کے امام باڑے میں عزاداری کا انعقاد کرنے میں دل و جان سے لگ جاتا تھا۔ اس کا محلے کو دوستوں سے وفا کا حال یہ تھا کہ اس رات طوفان صرف اس کو نہیں بلکہ اسکے کئی دوستوں کو بہا لے گیا۔

شیراز کے بھائی علی احمد جعفری کے مطابق غائب ہوجانے سے پہلے وہ اس قدر محنت کررہا تھا کہ اس کو سونے کا وقت بھی مشکل سے مل پارہا تھا۔ سوئی سدرن گیس کمپنی میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ وہ ایم بی اے کی کلاسز بھی لے رہا تھا تاکہ تنخواہ بڑھ جائے اور نوکری بھی پکی ہوجائے۔

مگر اب تو اس گمشدگی کے باعث شاید سوئی گیس کی نوکری بھی نہ رہے گی۔

سولہ نومبر کی رات 3 بجے ڈھاٹے پہنے ہوئے کچھ لوگ شیراز کے گھر داخل ہوئے۔ طوفان اپنے عروج پر تھا۔  شدید بوٹوں کی یلغار تھی، گھر میں موجود بچّے سہم کر اپنی ماؤں سے لپٹ گئے تھے۔ گھر کے مردوں کو تلقین کی گئی کہ دیوار کی طرف رخ کرکے چپ چاپ کھڑے رہیں۔

تھوڑی دیر بعد جب یہ طوفان گھر سے باہر نکلا تو شیراز کے گھر والوں نے دیکھا کہ ان کا بھائی گھر سے جاچکا ہے۔ بچّے اب اپنی ماؤں کو کمرے میں اندھیرا نہیں کرنے دیتے، گھر پر اکیلے رہنے پر آمادہ نہیں ہوتے، نیند میں ڈر کے مارے ایک دم اٹھ بیٹھتے ہیں اور ہر وقت شیراز کے بارے میں پوچھا کرتے ہیں۔

شیراز کا بیٹا اس وقت تین سال کا تھا جب یہ سانحہ پیش آیا اور اب ایک سال سے زائد گزر جانے کے بعد اور بھی بولنے لگا ہے۔ اب اس کے ذہن میں اور طرح کے سوال پیدا ہوتے ہیں۔ باپ کی غیر موجودگی میں شاید یہ معصوم جان جلدی بڑا ہو رہا ہے۔

علی احمد صاحب نے ہر ادارے کا دروازہ کھٹکھٹایا، عدالتوں کے چکر لگائے، پولیس کے ہاتھ جوڑے، لیکن امید جیسے ان کےگھر سے ہمیشہ کے لئے ناراض ہوگئی ہو۔

وہ کہتے ہیں کہ: “اب تو بس دعا ہی کرسکتے ہیں۔۔”

شدید مایوسی کےعالم میں علی احمد صاحب اکثر سوچا کرتے ہیں کہ انکے والدِ بزرگوار انیس بہرسری جنہوں مرثیہ نگاری میں اپنا نام پیدا کیا اگر آج زندہ ہوتے تو کیا سوچتے کہ اردو ادب کے لئے اتنی خدمات کے باوجود ان کو یہ صلہ ملا۔

علی احمد کہتے ہیں: “کاش ظالموں نے میرے باپ کی اردو ادب کے لئے خدمات کا ہی لحاظ رکھ لیا ہوتا۔”

وہ مزید کہتے ہیں کہ ان کا دل یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ شیراز کسی بھی طرح کی مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہوسکتا ہے۔ اور دماغ اسی بات پر بضد ہے کہ شیراز کو جب ایک گھنٹے کی بھی فرصت نہ تھی تو وہ کیسے کسی تنظیم کا حصہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق شیراز بالکل بے قصور ہے جو صرف محرم میں جعفریہ امام بارگاہ میں عزاداری کو فروغ دینے کے لئے کام کرتا تھا لیکن اس کے علاوہ اس کی کوئی سیاسی وابستگی نہیں تھی۔

اب علی احمد صاحب کا کام یہ ہے کہ کورٹ کے چکر لگائیں، تاریخ پر تاریخ ملتی رہے اور وہ بس ہاتھ مل کر اپنے چھوٹے بھائی کو یاد کریں۔

شیراز و دیگر نوجوانوں کی جبری گمشدگی کے باعث ایک ایس ایچ او بھی معطل ہوگیا ہے۔ ایسا تب ہوا جب بطورِ ثبوت علاقہ مکینوں نے وہ سی سی ٹی وی فوٹیج کورٹ کو فراہم کی جس میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ لاتعداد گاڑیاں جعفریہ کے علاقے میں داخل ہوئیں اور پولیس، رینجرز اور سادہ لباس اہلکاروں نے چند افراد کو زیرِ حراست لیا۔ لیکن اب ادارے یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ شیراز ان کی تحویل میں ہے۔

طوفانوں کا بھی شاید کوئی اصول نہیں ہوتا، ہوا جس سمت چلتی ہے، سب تباہ و برباد کردیتی ہے۔ وہ کسی کو جواب دہ بھی نہیں۔

گھر والے فریاد کرتے ہیں کہ “ہمیں بس یہ بتادو کہ شیراز کہاں ہے اور اس نے کیا جرم کیا ہے۔”

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •