مچھلی باتیں کیسے کرتی ہے؛ سائنسی تجربے کی آڈیو ریکارڈنگ


آپ نے طوطوں کو تو اکثر کچھ الفاظ بولتے دیکھا ہوگا مگر کیا کبھی کسی مچھلی کو ایسا کرتے دیکھا؟

اگر نہیں تو ایسی وہیل کے بارے میں جان کر حیران رہ جائیں گے ہیلو اور بائی بائی جیسے الفاظ بولنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اپنی ٹرینر ایمی کا نام بھی پکار سکتی ہے۔

ویسے وہیلیوں کو متاثر کن کمیونیکشن کی صلاحیت کی بناءپر جانا جاتا ہے جو پیچیدہ کلکس اور آوازوں سے سو میل دور موجود ساتھیوں سے رابطہ کرلیتی ہیں۔

مگر ایک سائنسی تجربے میں ثابت ہوا کہ یہ مچھلیاں انسانی آوازوں کی نقل کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں جو اس سے پہلے ڈولفن اور طوطوں وغیرہ تک محدود سمجھی جاتی تھی۔

جس مچھلی پر یہ تجربہ کیا گیا، اس کی عمر چودہ سال ہے اور وہ فرانس کے میرین لینڈ کی رہائشی ہے۔

یہ پیشرفت اس حوالے سے بھی حیران کن ہے کیونکہ وہیل کی آواز نکالنے کی صلاحیت انسانوں جیسی نہیں ہوتی اور وہ اپنے گلے سے آوازیں ہوا کے زور سے نیسل پیسج سے پیدا کرتی ہیں۔

اس حوالے سے میڈرڈ یونیورسٹی کے محققین نے تجربات کے بعد بتایا کہ گلے سے آواز نکالنے کی صلاحیت انسانوں کا طرہ امتیاز ہے جس کے ساتھ دیگر دماغی افعال نے ہمیں بولنے کے قابل بنایا۔

مگر تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ وہیل انسانی آوازوں کی نقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں بلکہ بہت جلد سیکھ لیتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق وہیل کی آواز کا آہنگ مختلف ہوتا ہے یا یوں کہہ لیں ہر وہیل کی اپنی بولی ہوتی ہے اور یہ چیز انہیں منفرد بناتی ہے۔

اس تجربے کے دوران وکائی نامی مچھلی نے انسانی آوازوں کے سگنل کو سمجھا اور پھر اسے گیارہ بالکل نئی آوازوں میں دہرایا، جس میں الفاظ بھی شامل تھے جبکہ کچھ آوازیں جیسے ہاتھی کی پکار، بھیڑیے کی آواز وغیرہ ۔

محققین کا کہنا تھا کہ تجربے میں مچھلی نے حیران کن صلاحیت کا اظہار کیا اور درست انداز سے انسانی آوازوں کی نقل اتاری۔

Facebook Comments HS