برطانیہ کی پارلیمینٹ میں فری میسنز کے لیے دو خفیہ کمرے؛ گارجین اخبار کی رپورٹ
فری میسنز نامی تنظیم کے بارے میں آپ نے بہت سن رکھا ہو گا لیکن اب ان کی برطانوی پارلیمنٹ میں موجودگی کا انکشاف منظرعام پر آ گیا ہے۔ دی گارڈین کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ میں فری میسنز کے لیے دو خصوصی کمرے موجود ہیں جو اس قدر پراسرار اور خفیہ رکھے گئے ہیں کہ اراکین پارلیمنٹ اور صحافیوں کو بھی ان تک جانے کی اجازت نہیں۔
دی گارڈین کو حاصل ہونے والے فری میسنز کے ریکارڈ کے مطابق ان میں سے ایک کمرے کا نام ’نیو ویلکم لاج‘ ہے جہاں اراکین پارلیمنٹ، پارلیمانی سٹاف اور دیگر لوگوں کو ریکروٹ کیا جاتا ہے۔ دوسرا کمرا گیلری لاج ہے جو پولیٹیکل پریس کور کے اراکین کے لیے بنایا گیا ہے۔ ایک تیسرا کمرا بھی ہے جس کا نام الفریڈ روبنز لاج ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان تینوں لاجز کے اراکین کی شناخت کوئی نہیں جانتا۔ ان لوگوں کی حقیقت صرف فری میسنز ہی کو معلوم ہوتی ہے۔نیو ویلکم لاج کے ایک نئے رکن نے دی گارڈین کو بتایا کہ ”ان لاجز میں وہی لوگ جاتے ہیں جو فری میسنز سے منسلک ہوتے ہیں۔ ان میں صحافی، اراکین پارلیمنٹ، پولیس آفیسر، وکلاءو دیگر شعبہ ہائے زندگی کے لوگ ہیں لیکن تنظیم کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کہ ان اراکین میں کون کون شامل ہے۔
انگلینڈ اینڈ ویلز میں فری میسنز کی گورننگ باڈی ’یونائیٹڈ گرانڈ لاج آف انگلینڈ‘ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ سٹیپلز کا کہنا تھا کہ ”صحافت کی پریکٹس اور فری مینسنری کی رکنیت میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ عام تاثر کے برعکس فری میسنز کا رکن بننا اراکین کے ذاتی فائدے میں بھی ہوتا ہے اور اجتماعی طور پر معاشرے کے لیے بھی اس کے اراکین مفید ثابت ہوتے ہیں کیونکہ وہ رکنیت حاصل کرنے کے بعد زیادہ بہتر انداز میں معاشرے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔“


