ہیلووووووو۔ میری آواز آرہی ہے؟ جی بھائی جی بھائی آرہی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک کا ایک پڑھا لکھا طبقہ ایسا ہے جو گزشتہ 15 مہینوں سے رلتا پھر رہا ہے۔ یہ طبقہ متحدہ قومی موومنٹ ک کارکن، ہمدرد، اور ووٹروں پر مشتمل طبقہ ہے جو بانی ایم کیو ایم کی بائیس اگست کی متنازع تقریر کے بعد جماعت کے بٹے ہوے دھڑوں میں شامل ہوگئے۔

ہمدرد ہوں یا کارکن یہ سب ہی بانی کے ترانوں پر سیاسی دھمال ڈالتے تھے اور نعرے لگاتے لگاتے ایک وجد کی سی کیفیت کا شکار ہوجاتے۔
آج کی متحدہ جس میں اختلاف راے ڈھکا چھپا نہیں ہے اپنی پوری کوشش کرتی آئی ہے ک کارکن ہو یا ہمدرد کوئی بھی بانی تحریک الطاف حسین کا نام نہ لے۔ مگر کبھی غلطی سے بھی کسی جلسے میں معروف ترانہ ’ساتھی‘ چل جاتا تو تمام ک تمام کارکنان جھوم اٹھتے، ان کے چہرے خوشی سے کھِل جاتے۔ 15 مہینوں میں آج تک کارکنان کو آج تک اس غلطی کا انتظار رہتا کہ کبھی تو کوئی بانی تحریک کا ترانہ بجے گا۔

نعروں کی گونج جن میں زندہ ہے مہاجر زندہ ہے، ہر کارکن کے لب الطاف حسسین کے نعرے لگانے کے لئے جنبش کرنے ہی والے ہوتے ہیں ک دل پہ ایک پتھر سا رکھ کر روک جاتے ہیں۔

یہ تجزیہ میں حقیقت میں ایک صحافی ہونے ک ساتھ ساتھ کراچی کا شہری ہوتے ہوے بھی لکھ رہا ہوں۔ ا یم کیو ایم کا بانی تحریک و لندن سے علیحدگی کا تک کا سفر میں بظاہر شہری و صحافی گواہ ہوں۔

ان پندرہ مہینوں میں پارٹی نے جتنے بھی نشیب و فراز دیکھے ان میں  پارٹی اور اس کے رہنماؤں  کی خوب ترجمانی کی گی مگر بیچارے کارکن آنکھ بند کر کے  پیچھے چلتے رہے ۔ پارٹی نے مصطفیٰ کمال و انیس کائم خانی کی قائم کردہ پاک سر زمین پارٹی ک ساتھ اتحاد کرنے کا اعلان کیا تو بغیر چوں چرا کے کارکنوں نے پہلے تو لبیک کہا۔ دونوں  جماعتوں  کی مشترکہ پریس کونفرنس میں موجود خواتین کارکن سے جب میں نے ان کی رضا دریافت کی تو جو انہوں نے زبان سے کہا وھ کچھ اور تھا اور جو ان کی آنکھیں کہ رہی تھی اس میں  کافی فرق تھا اور اگلے ہی دن یہ غیر فطری اتحاد ٹوٹ سا گیا۔

یہ جماعت ایک جذباتی جماعت ہے جس کی غیر فطری سیاست نے اس کے رنگ پھیکے کر دیے اور کارکنوں کو فاروق ستار کی اس جذباتی پریس کانفرنس اور سیاسی انجینرنگ کو مسترد کرنے سے ایم کیوں ایم پاکستان کے  کارکنوں میں ہلکی سی جان تو آگئی  تھی مگر یہ پارٹی پھر ٹھنڈی پر گی۔

اب مرحلہ آ پہنچا سینیٹ ک الیکشن کا۔ افسوس کے ساتھ پارٹی ایک سربراہ کے  نیچے نہ سنبھل سکی اور اب کی بار گروپ بندی میڈیا ک سامنے آگئی  دوسری جانب ایک دوسرے ک خلاف کھل کر شعلہ بیانی کی گئی۔

دو سال پہلے تک جس پارٹی کا ڈسپلن کسی فوج کا سا ہو، وہ آج ہلڑ بازی کا شکار ہے۔ ایک وقت تھا جب مائک آن ہوتا تھا، لاؤڈ سپیکر سے : ہیلووو۔ کیا میری آواز آرہی ہے؟ اور زمین پے بیٹھے کارکن فورن کہتے تھے : جی بھائی آرہی ہے جی۔ ‘

ایم کیو ایم کو چلانے والے یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں ک یہ کارکن ان کی محبت میں نہیں آتے بلکہ اس پینتیس سالہ سیاسی رومانس کا مزا چکھنے، اپنی جماعت کا نام اور اس کا لال، ہرا اور سفید جھنڈا انہیں آج بھی اپنی طرف کھینچ لاتا ہے۔ یہ کارکن، ہمدرد و ووٹر، اگر ان کو اسی طرح نظر انداز کیا گیا تو 2018 ک الیکشن میں ایسا نہ ہو ایم کیو ایم عزیز آباد و لالو کھیت جیسے علاقوں سے بھہ بمشکل ہی جیت پائے۔

یہ ووٹر ہوں یا کارکن یا چاہے کوئی زندہ لاش ہی سمجھ لے، اگر روٹھ گئے تو پھر 2013 ک الیکشن کی تاریخ دہرائی جائے گی، تب بھی پیپلز پارٹی سے قربت کی وجہ سے کارکن ناراض تھے اور اب بھی ایسا نہ ہو ک کوئی براے نام قومی جماعت اس شہر سے 10 لاکھ ووٹ لے۔

آج پی آئی بی و بہادرآباد میں موجود کارکنوں کو نہ عامر خان سے کچھ لینا دینا ہے نہ فاروق ستار سے۔ وہ یقیناً یہی سوچ رہے ہیں ک ایم کیو ایم کی ہر مشکل ہر دور میں وکالت اور دفاع کرتے رہنما آج اسی ایم کیو ایم کو اپنے ہاتھوں دفن کرنے تک کیوں پہنچ گئے؟

35 سال ملک کے باہر فرد واحد کے حکم پر چلنے والی ایم کیو ایم چند ہی مہینوں میں ملک میں موجود موجودہ سربراہ کے ہاتھوں سے کیوں نکلتی جا رہی ہے؟
ان کے چہرے بولتے ہیں ک وہ تو گزرے وقت کی رونق آج کی بٹی بِکھری ایم کیو ایم میں ڈھونڈتے ہیں۔ ان کے دل آج بھی بلدیاتی انتخابات کے بعد منائے جانے والے جشن کو یاد کرتے ہیں۔

نعرے تو لگتے ہیں مگر ان کے پھیکے سے جواب کارکنان کے ٹوٹے ہوے دلوں کا حال بتا رہے ہیں۔ نعرے لگاتے کارکنوں کی شکل بتاتی ہے ک جو نعرہ وہ لگانا وہ اصل میں لگانا چاہ رہے ہیں اس کی تو اجازت ہی نہیں۔ ان کی بجھی ہوئی آنکھیں بتا رہی ہیں ک وہ آج پارٹی ک دفتر و تقریبات میں آرہے ہیں تو صرف اس سیاسی عزیز آباد والی افیم کا نشہ اتارنے ک لئے کیوں کہ چالیس سال پہلے شروع کیا جانے والا نشہ ایسے تو نا چھوٹیگا۔

ان تمام کارکنان کے کان آج بھی اس طویل لہجے والے ہیلووو۔ ک منتظر ہیں اور دل ہی دل میں جانتے ہیں ک ایک بار ہیلووو کی آواز آجائے سارے مسلے خود ہی حل ہوجائیں گے۔ چاہے مسئلہ ایم کیو ایم کا ہو یا کراچی کی ترقی و پائیدار امن کا۔ یہ مسئلہ حل ہوگا تو ایم کیو ایم قائد ک ہاتھوں ہی ورنہ معاملات بگڑتے چلیں جائیں گے۔
تقاضا  صرف ایک ہیلوووو کا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شہریار علی کی دیگر تحریریں