بچے یا ریس کے گھوڑے

تین سال کے بچے کا اسکول میں داخلہ کروانا اسے جلدی اٹھانا اور ایک بھاری بیگ دے کر اسکول روانہ کر دینا کہاں کی انسانیت ہے۔ روز رات اسی پریشانی میں سونا ہوتا کہ کل پھر سے اسکول جانا ہے۔ گھر میں جو وقت گزرتا زیادہ اسکول کا کام کرنے میں گزر جاتا اور پھر امتحان کی پریشانی الگ جان نکال دیتی تھی۔ گڑ یا سے کھیلنا، دوست، بارش کے پانی میں کشتیاں چلانا سب ایک خواب بن گیا۔ ایک دو کو چھوڑ کر استاد بھی ایسے جلاد نما پاے گئے جنہوں نے کبھی محبت اور شفقت سے پڑھانے کی کوشش نہی کی۔ اسکول کے دور میں کبھی مار پیٹ کا سامنا نہی ہوا لیکن ساتھی بچوں کے ساتھ ایسا سلوک دیکھ کے ہی حالت غیر ہو جاتی۔ مجھے آج بھی یہ لگتا ہے کہ اسکول معصوم بچوں کے بچپن کو کھا جاتا ہے۔
آج کے دور میں حالات کسی حد تک بہتر ضرور ہویے ہیں میرا بچہ اس اسکول میں جاتا ہے جہاں اس پے زیادہ بوجھ نہی ڈالا جاتا لیکن آج بھی بہت سے بچے اسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں جس کا ہم نے کیا تھا۔ ترقی یافتہ ملکوں کی تقلید میں بچے کو 3 سال کی عمر میں اسکول تو بھیج دیا جا تا ہے لیکن ہمارے بچوں کو کوئی بھی ایسی سہولت میسر نہی ہوتی جو ان کو میسر ہوتی ہیں۔ بچوں کو سات بجے اسکول کے لے روانہ کر دیا جاتا ہے جو تین بجے گھر پہنچتا ہے۔ کھانے کے نام پے ایک ٹھنڈا لنچ باکس دے دیا جاتا ہے جو وہ کھائے یا نہ، استاد کی کوئی ذمہ داری نہی ہوتی۔ استاد کا کام صرف بچے کو پڑھانا ہے نا کہ اس کے نفسیاتی مسائل سمجھ کر اسے ایک اچھا طالب علم بنانا اور اس کیکردار سازی کرنا۔ اس کیبنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں استاد وہی بنتا ہے جو کچھ اور بن نہی پاتا۔
استاد تو ایک طرف والدین بھی بچوں کے ساتھ انتہائی غیر مناسب سلوک کرتے ہیں بچوں کے اوپر توقعات کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے اور بچہ ساری عمر گدھے کی مانند وہ بوجھ اٹھانے پہ مجبور ہوتا ہے۔ چا ر سال کا بچہ جو آٹھ گھنٹے اسکول کو بھگت کے آتا ہے پھر قاری کے سپرد کر دیا جاتا ہے اور پھر باری آتی ہے ٹیوشن کی۔ اس کے بعد بھی والدین موقعہ کی تلاش میں ہوتے ہیں کہ اسے کچھ پڑھا سکیں۔ بچوں کی مصومیت، ان کا بچپن، ان کی صحت سب داؤ پہ لگ جاتے ہیں۔ میری آپ سب سے درخواست ہے بچوں کو بچہ رہنے دیں ریس کا گھوڑا مت بنایں۔ تا کہ اس کے پاس اپنے بچپن کی کوئی حسین یاد باقی رہے۔

