ویلینٹائنز ڈے کی کہانی ایک گدھے کی زبانی


میں اچھا خاصا سمجھدار اور معصوم قسم کا جانور ہوا کرتا تھا۔ لوگ ہر دوسری بات میں میری شرافت کی قسمیں اٹھایا کرتے تھے۔ میری گاڑی بھی ضدی نہیں تھی، میں جہاں جاتا کھینچ کر اسے بھی ساتھ لے جاتا۔ میرا اور میری گاڑی کا چولی دامن کا ساتھ تھا۔ چولی دامن اور دو قالب و یک جان کا محاورہ ہمیں دیکھ کر ہی وجود میں آیا تھا۔

پہلے وقتوں میں میں دل سے اپنی گاڑی کی قدر کیا کرتا تھا۔ کچھ جاہل لوگ ہمیں گدھا گاڑی کہا کرتے تھے لیکن پھر بھی ہماری وفا پر انگلی اٹھانے کی کسی کو جرات تک نہ تھی۔ یہ ہماری وفا ہی تھی کہ ہمارے نام کی کہانیاں کتابوں میں لکھی جانے لگیں، ڈیروں پرمحفلیں جمیں، حقے کے ساتھ ساتھ لے میں ہیر پڑھی جانے لگی اور دیہاتوں کی خاموش راتوں میں لوگ ہمارے بارے میں چہ مگوئیاں کرنے لگے۔

لوگ مجھے گدھا کہتے تھے، اس کی تو مجھے کوئی پرواہ نہیں تھی لیکن میری ہمسفر کو گاڑی کا نام سے پکارتے تھے، یہ مجھے پسند نہیں تھا۔ وہ تو میرے لیے محبت اور آسانیوں کا دوسرا نام تھی۔ میں کھیتوں میں جاتا تو کھانا اس کے ذریعے مجھ تک پہنچتا، چوری کا مزہ بھی اسی نے مجھے چکھایا تھا۔ میں تھک جاتا تو میرا بوجھ بھی وہ یہ اپنی کمر پر اٹھا لیتی لیکن میں نے آج تک اس کے منہ سے اف تک کا لفظ تک نہیں سنا تھا۔ قربانی، ایثار، وفا اور محبت ایسے لفظ اس کے سامنے سر نگوں رہتے تھے۔

یہ وہی زمانہ تھا جب لوگوں نے اسے ہیر، سسی، صاحبہ اور جیولیٹ کہنا شروع کر دیا تھا۔ بارش ہو یا طوفان، سڑکیں کچی ہو یا پکی، راستے پر خطر ہوں یا پتھریلے، کیچڑ ہو یا بہتی ہوئی ندیاں، یہ ہر رکاوٹ عبور کرتے ہوئے اپنی منزل پر پہنچ جایا کرتی تھی۔

یہ اس کی قربانیاں ہی تھیں کہ ہمارے درمیان جنم جنم کے رشتے قائم ہوئے۔ یہ اس کی وفا ہی تھی کے ہمارے قصے گلی گلی، نگر نگر اور گاؤں گاؤں ہوتے ہوئے شہروں تک جا پہنچے۔ یہ اس کا انتھک سفر ہی تھا کہ جس کے بعد پنجاب، جالندھر، لکھنو اور دہلی کے عاشقوں نے خون سے خط لکھنے شروع کر دیے تھے۔

وقت گزرتا گیا، کچے پکے راستے آتے رہے، ٹھوکریں لگتی رہیں، چھوٹی موٹی ٹوٹ پھوٹ ہوتی رہی، جون جولائی کی گرمی اور سردیوں کا کہرا بھی ہمارا تعلق کمزور نہ کر پایا۔ کبھی کبھار کوئی ٹائر خراب ہو بھی گیا تو اس کو تیل لگا کر رواں کر دیا جاتا اور کبھی کوئی پھٹی ٹوٹتی تو دوبارہ مرمت کر کے اس پر پٹ سن کی بوری ڈال دی جاتی اور یہ اسی میں خوش ہو جاتی کہ نئے کپڑے ملے ہیں۔ اسے کبھی گھر کے صحن میں کھڑا کر دیا جاتا اور کبھی باڑے میں لیکن اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ہی رہی، نہ کبھی شکوہ نہ شکایت۔ یہ گاڑی مجھ سے خوش تھی اور میں گدھا اس کی قربانیوں کو معترف تھا۔

بھلا زمانہ ایک سا کہاں رہتا ہے۔ اللہ نے دنیا میں ذہین لوگ بھی پیدا کر رکھے ہیں۔ اللہ کی کرنی یہ ہوئی کہ انہیں میں سے کسی نے میک اپ ایجاد کر دیا۔ شیشہ پہلے ہی ایجاد ہو چکا تھا۔ میری گاڑی نے بھی ایک دن ولایتی میک کیا اور اپنا نام بی ایم ڈبلیو رکھ لیا۔ میں بھی اس کے نئے حسن کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا۔ اب مجھے بھی اپنا نام تبدیل کرنا پڑا۔ آخر اسٹیٹس کو کا معاملہ تھا۔ بی ایم ڈبلیو نے کہا کہ ڈرائیور نام رکھ لو، یہ اچھا لگتا ہے۔

لیکن اب معاملہ صرف نام کا ہی نہیں تھا، اس کی ضروریات بھی تبدیل ہو چکی تھیں۔ پہلے یہ میرے لیے قربانیاں دیتی تھی اب مانگ رہی تھی۔ اگر مسلسل پٹرول نہ ڈالو تو چلنے سے انکار کر دیتی تھی۔ گرمیوں کے الگ ٹائر اور سردیوں کے الگ، کبھی گیراج کا مطالبہ تو کبھی ٹیوننگ کا مسئلہ۔ اب گدھا سوری ڈرائیور اتنا کچھ بھلا کیسے کرے۔
پہلے اس کا دل کھیتوں میں لگا کرتا تھا اب یہ میکڈونلڈ جانے کی ضد کرنے لگی تھی۔ بات لسی اور ساگ سے بڑھ کر کوک اور پیزا تک جا پہنچی تھی۔

ہماری لڑائی نہیں ہونی تھی لیکن آج میں دفتر جانے کے لیے اسے اسٹارٹ کرنے ہی لگا تھا کہ اس نے چلنے سے ہی انکار کر دیا۔ کہنے لگی کہ آج ویلینٹائنز ڈے ہے مجھے ریڈ کلر کے نئے ٹائر ڈلوا کر دو۔ میں نے اسے بڑا سمجھایا کہ میں پہلے ہی میک اپ کے خرچوں سے بہت تنگ آیا ہوا ہوں، بوجھ میری کمر پر بھی کافی ہے، میرے مالکوں نے ابھی تنخواہ نہیں دی، جس دن ملی تو تمہاری یہ خواہش بھی پوری کر دوں گا۔

اس نے دھمکی دی ہے کہ وہ میری اس بنیاد پرستی کے خلاف اپنی ولایتی سہیلیوں مرسڈیز اور فراری کے ساتھ مل کر احتجاج کرے گی۔ میں نے بھی گدھوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیرملکی تنظیمیوں کا خط لکھ بھیجا ہے۔ میں نے اسے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ بس اب بہت ہو چکی۔ سفر کرنے کے اب اور بھی بہت طریقے آ چکے ہیں۔ چار روپے کی ٹرین ٹکٹ میں میں دفتر پہنچ جاؤں گا، تم جاؤ بھاڑ میں، اگر ٹرین بھی نہ ملی تو پیدل ہی سہی، گدھا آخر گدھا ہی ہوتا ہے۔

اس نے بھی کہا ہے کہ اب ترقی کا دور ہے، میں بھی اب خود کار طریقے سے ڈرائیو کر سکتی ہوں۔ تم جاؤ بھاڑ میں۔
میں ابھی گھر سے نکلا ہی تھا کہ مجھے سامنے والی دیوار پر بلا سود نئی کار خریدیے کا اشتہار نظر آیا، میں سوچ رہا ہوں کہ اب اس کو بھی کوئی نیا گدھا مل ہی جائے گا، بھائی آخر ترقی کا دور ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں