نواز شریف کا مقدمہ پاکستان کا مقدمہ کیسے بن گیا؟


مسلم لیگ (ن) کی لیڈر مریم نواز نے آج سرگودھا میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نواز شریف کا مقدمہ لے کر عوام کے پاس نہیں آئی ہیں بلکہ پاکستان کا مقدمہ لے کر آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ سے ملک کی سب سے بڑی پارٹی کو باہر کرکے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آج ملک کے سوچنے سمجھنے والے طبقہ کی واضح اکثریت کیوں نواز شریف کے مقدمہ کو پاکستان کا مقدمہ سمجھ رہی ہے۔ کیوں یہ کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف کے خلاف آنے والے عدالتی فیصلے دراصل اس ملک میں جمہوریت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہیں ۔ کیوں یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ملک کے چیف جسٹس کے فیصلے نہیں بلکہ ان کی باتیں متنازع ہیں۔ کبھی وہ بابا رحمتا بن کر عوام کو انصاف فراہم کرنا چاہتے ہیں، کبھی ہپستالوں میں جا کر مریضوں کو حاصل سہولتوں کے بارے میں ہدایات دیتے ہیں۔ جس ملک کی عدالتوں میں ہزاروں مقدمے سال ہا سال سے کسی منصف کی نظر کرم کے محتاج ہوں ، اس کی سپریم کورٹ کے سربراہ کو ان سب کاموں کے لئے وقت کیسے مل جاتا ہے جو دراصل اس کے کرنے کے نہیں ہیں۔ کیا چیف جسٹس کے سب اقدام اس لئے درست اور صحیح ہیں کہ وہ اس وقت ملک کے قاضی القضات ہیں اور جو جی میں آئے کہہ اور کر سکتے ہیں ۔ وزیر اعظم کی طرف سے پارلیمان کے حق قانون سازی کو لاحق خطرات کا اظہار کرنے کے دو روز بعد ہی عجلت میں اعلان کردہ ایک فیصلہ میں سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کا ایک قانون مسترد کرتے ہوئے نواز شریف کو مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے علیحدہ کردیا۔ اس کے علاوہ یہ بھی طے کردیا گیا کہ 28 جولائی کے بعد سے انہوں نے پارٹی سربراہ کے طور پر جو فیصلے کئے ہیں وہ بھی کالعدم ہوں گے۔ ملک کی عدالتی تاریخ میں اس قسم کے یک طرفہ اور عاقبت نااندیشامہ فیصلہ کی مثال نہیں ملتی۔

اس فیصلہ کے نتیجہ میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کی ’روح‘ کو سمجھتے ہوئے نہ تو مسلم لیگ (ن) کو اپنے امید واروں کو نئے ٹکٹ جاری کرنے کا حق دیا اور نہ انتخابات کو ملتوی کرکے ملک کی سب سے بڑی پارٹی کو مساوی بنیادوں پر سینیٹ انتخاب میں حصہ لینے کا موقع فراہم کیا گیا بلکہ جابرانہ طریقہ سے یہ اعلان کیا یہ یہ لوگ آزاد امیدواروں کے طور پر انتخاب میں حصہ لے سکتے ہیں۔ لیکن انہیں پارٹی کا نشان اور نام استعمال کرنے کا حق نہیں ہوگا۔ یہ توقع کی جارہی ہے کہ یہ سب امید وار مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کے ووٹ لے کر منتخب ہوں گے لیکن بعد میں اپنی آزاد حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یا تو اپنی منہ مانگی قیمت وصول کریں گے یا ان حلقوں کے اشاروں پر اپنی وفاداریاں وقف کریں گے جو اس ملک میں سیاست اور طاقت کا کھیل اپنی مرضی سے کھیلنے کے عادی ہیں۔ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن اس کھیل میں نام نہاد اسٹیبلشمنٹ اور دراصل فوج کو یہ حق دینے کے بعد کہ وہ ملک میں سیاسی ہراس اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کرسکے، جس انصاف کا بول بالا کرنے کا اعلان کررہے ہیں ، اس سے صرف ان کی نیت اور ارادوں کے بارے میں شبہات مضبوط ہو رہے ہیں۔

کل تک نواز شریف ، مریم نواز اور ان کے چند نمائیندے یہ کہتے تھے کہ عدالتیں خفیہ ایجنڈے کے مطابق فیصلے کررہی ہیں اور ایک منتخب وزیر اعظم کو برطرف کرنے کا فیصلہ دراصل ایک ایسی سازش کا نتیجہ ہے جو ملک کی اسٹیبلشمنٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے ذریعے مل کر تیار کیا ہے اور ججوں کی انصاف پسندی اور قانون پرستی کے نام پر اب اس پر عمل کیا جارہا ہے۔ کل تک لوگ ان باتوں کو نااہلی کے بعد نواز شریف کی بدحواسی سمجھ کر مسکراتے تھے لیکن آج ملک کے سب سے بڑے اور معتبر انگریزی اخبار ’ڈان‘ نے ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے بغیر سینیٹ کے انتخابات منعقد کروانے کو ڈھونگ قرار دیا ہے۔ آج صرف ان لوگوں کے علاوہ جن کا مؤقف ذاتی محبت یا نفرت کی بنیاد پر طے ہو تا ہے، باقی پورا ملک اور اس کے سوچنے سمجھنے والے لوگ یہ کہنے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ نواز شریف اس وقت اس ملک میں جمہوریت کے تسلسل کی علامت بن چکا ہے۔ اب یہ نعرہ اور یہ تفہیم صرف نواز لیگ کے حامیوں کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ ایسے لوگ بھی آئیندہ انتخابات میں نواز شریف کو ووٹ دینے کا اعلان کررہے ہیں جنہوں نے ساری زندگی نواز شریف کی سیاست اور طریقہ حکومت سے اختلاف کیا ہے۔ یہ اختلاف اب بھی موجود ہے لیکن سیاسی افق پر نواز شریف کا ہی راستہ ان طاقتوں کو للکارنے کا راستہ دکھائی دیتا ہے جنہوں نے روز اول سے اس ملک کے لوگوں کے حق حکمرانی کو ماننے سے انکار کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ سے ملک میں جو ماحول بنایا ہے ، اس کے بعد یہ تقسیم بہت واضح ہو گئی ہے کہ جمہوریت کا مستقبل کس طرح محفوظ رہ سکتا ہے۔ ان سیاست دانوں کی کمی نہیں ہے جو نواز شریف کی ضد کو بوکھلاہٹ کا نام دے رہے ہیں۔ جو ان کی طرف سے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر تنقید کو، نظام کو گرانے کی سازش سمجھتے ہیں اور جو یہ کہتے ہیں کہ انہیں عملی طور پر اداروں کا احترام کرنا چاہئے۔ تمام فیصلوں کو مان لینا چاہئے۔ یہ باتیں بڑی سہانی لگتی ہیں، یہ امن اور بھائی چارے کی باتیں ہیں۔ یہ ایک ایسے بدعنوان سیاست دان کو عقل کے ناخن لینے کا مناسب مشورہ محسوس ہوتی ہیں جس کے بارے میں سپریم کورٹ قرا ر دے چکی ہے کہ وہ ’صادق اور امین ‘ نہیں ہے۔ سوال تو صرف یہ ہے کہ کیا یہ باتیں کوئی سن بھی رہا ہے۔ کیا ان باتوں کو ان کرداروں کے ماضی سے علیحدہ کرکے اور ان کی سیاسی امنگوں سے جوڑے بغیر اصول پرستی کی بات سمجھتے ہوئے تسلیم کیا جارہا ہے۔

کیا یہ معاملہ اتنا سادہ ہے کہ اس ملک میں سرزد ہونے والے سارے گناہوں کا بوجھ نواز شریف کے پلڑے میں ڈال کر پوری قوم سکھ کا سانس لے رہی ہے کہ اب راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو شاید ان سیاسی ابن الوقتوں کو ایک ایسے موقع پر جب ملک کی سب سے بڑی پارٹی کو ملک کے ایوان بالا کی 52 نشستوں کے انتخاب میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے، نظام کو بچانے اور عوام کے منتخب نمائیندوں کے حق انتخاب کی حفاظت کی زیادہ فکر ہوتی۔ تب اداروں میں تصادم کا راگ چھیڑنے کی بجائے یہ تکرار سننے میں آتی کہ وہ انتخاب ناقابل قبول ہوں گے جس میں ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کو مقابلہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ جب ملک کا کلیان کرنے کی دعویدار سیاسی پارٹیاں یہ بنیادی اور اصولی مؤقف اختیار کرنے میں ناکام رہی ہیں تو انہیں مسترد کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ یہ سارے لیڈر اگر اس نقار خانے میں اپنی ہی آوازوں کی گونج سننے کی کوشش کرتے تو انہیں خبر ہوتی کہ ان کی باتیں دیواروں سے ٹکرا کر واپس آرہی ہیں ۔ وہ کان بہرے ہوگئے جو ان کے دلائل کو قابل اعتنا سمجھتے۔

شاید یہ تاریخ کا المیہ ہو کہ نواز شریف کی صلاحیت اور پس منظر کا لیڈر اس وقت ملک میں جمہوری احیا کی واحد امید کے طور پر سامنے آیا ہے۔ لیکن جب اندھیرا چھایا ہو اور انصاف کی مسند پر براجمان لوگوں کو اپنے کردار پر نظر ڈالنے کی فرصت نہ مل رہی ہو، جہاں چیف جسٹس وکیلوں کو اپنے فوجی اور ایک نامعلوم شہری کے خط کو اپنا منشور قرار دینے پر اصرار کررہے ہوں تو کوئی عقل کا اندھا ہی اسے انصاف اور سپریم کورٹ کا استحقاق سمجھے گا۔ تو کیا عجب ہے کہ نواز شریف کی بیٹی جب بد عنوانی کے مقدمے بھگتنے والے باپ کے معاملہ کو پاکستان کا مقدمہ کہہ کرپیش کرتی ہے تو صرف ان کے حامی ہی نہیں، ان صفوں سے باہر بیٹھے لوگ بھی اس کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اور مسلم لیگ (ن) کے لیڈر سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس کی وجہ سے نواز شریف اور ان کی پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ معاملہ یوں پاکستان کا مقدمہ بن گیا کہ عدالتیں حکمرانی اور سیاست کرنے کی دھن میں یہ بھول چکی ہیں کہ دنیا میں ملک کو کن مشکلات کا سامنا ہے۔ پیرس میں فنانشل ٹاسک فورس نے پاکستان کو 90 دن کی مہلت دی ہے کہ وہ اپنا چال چلن درست کرلے۔ امریکہ پاکستان کو مسلسل جھوٹا قرار دے کر یہ مطالبہ کررہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کو پناہ دینا بند کی جائے۔ ملک میں دوسرے شعبوں سے قطع نظر سی پیک کے حوالے سے آنے والی سرمایہ کاری بھی محدود ہو رہی ہے۔ قومی خسارہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ شاید دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی نوبت آجائے۔ لیکن اگر اس سال کے دوران حسب پروگرام انتخابات منعقد ہوگئے تو ووٹر نواز شریف اور ان کے ساتھ مل کر پانچ برس حکومت کرنے والوں سے یہ نہیں پوچھیں گے کہ وہ ملک کو اس حال میں پہنچانے کے بعد کس منہ سے ووٹ لینے ان کے پاس آئے ہیں۔ اب نواز شریف کے ہاتھ میں سپریم کورٹ کے فیصلے ہیں اور ان کے سیاسی گناہوں پر پردہ ڈالنے کے لئے یہ کہہ دینا کافی ہوگا کہ ملک میں عوامی حکمرانی کو ناکام بنانے کے لئے انہیں نشانہ بنایا گیا ہے۔

سپریم کورٹ یا نواز شریف کے سیاسی مخالفین کے پاس ان باتوں کا کوئی جواب نہیں ہوگا۔ اب نواز شریف کے خلاف جائز یا ناجائز جتنے فیصلے آئیں گے ، وہ ان کی مظلومیت میں اضافہ کریں گے۔ سپریم کورٹ جسے جھوٹا اور خائن کہتی ہے عوام کی بہت بڑی تعداد اسی کے نام کی پرچی پر ووٹ دے گی۔ یہ نہ انصاف کی جیت ہوگی اور نہ جمہوری نظام کی لیکن یہ اس بات کا اعلان ضرور ہوگا کہ اب لوگ اس اسٹیبلشمنٹ کے فیصلوں کو ماننے سے انکار کرتے ہیں جس نے قومی مفاد کے نام پر فیصلے کرنے کا سارا اختیار اپنے نام پر محفوظ کروا رکھا ہے۔ عوام اس اختیار کو مسترد کرتے ہیں۔ اسی لئے نواز شریف کا مقدمہ پاکستان کا مقدمہ بن رہا ہے۔ اب اس مقدمے کو نواز شریف تک محدود کرنے کے لئے انتخاب کا راستہ روکنا ضروری ہو گیا ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali