سوتیلا آدمی – اردو کے شاہکار افسانے
یہ میرے ایک ملنے والے تھے۔ گوکل چند رستوگی۔ لکھنو یونیورسٹی میں ایم اے کے طالب علم تھے۔ مزاج میں رکھ رکھاؤ اور سلیقہ تھا۔ شعر و شاعری سے خاصا شغف تھا۔ موسیقی کا نیا نیا شوق ہوا تھا۔ وہ اس وقت بے حد بدحواس نظر آرہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ استاد شیدی سارنگی بجانے کا گز لیے دروازے سے نکلے۔ گو کل نے جو انہیں دیکھا تو اپنی چپل چھوڑ کر سڑک پر ننگے پاؤں بھد بھد کر کے بھاگنا شروع کر دیا اور استاد گالیاں دیتے ہوئے پیچھے دوڑے۔
کوئی سو، سوا سو گز تک دونوں دوڑتے رہے۔ سارے راہ گیر ٹھٹک کر رہ گئے۔ دکان دار دکانیں چھوڑ کر باہر آگئے اور حیرت سے دیکھنے لگے کہ ماجرا کیا ہے؟ استاد واپس لوٹے تو سانس پھولی ہوئی تھی، منہ سے کف جاری تھا اور برابر بڑبڑاتے جا رہے تھے۔ ان کی انہی حرکتوں کا نتیجہ تھا کہ اکثر شاگرد چند ہی روز میں بھاگ کھڑے ہوتے۔ اپنی اس بدمزاجی تھی۔ ان دنوں وہ چوک کی مشہور طوائف دلربا کی لڑکی کو تعلیم دیا کرتے تھے۔ ایک تو رنڈی کی لڑکی اور پھر وہ بھی بلا کی شوخ۔
بات بات پر اٹکھیلیاں کرنا اس کی گھٹی میں پڑا تھا۔ ایک روز بار بار منع کرنے پر بھی وہ برابر غلط بول نکالتی رہی۔ استاد نے ایک دفعہ جل کر کہا ”اب کی یہاں انتر ا لگایا تو سالی کا منہ توڑ کے رکھ دوں گا۔ “ مگر اس نے پھر وہیں انترا لگایا اور غضب یہ کیا کہ کھی کھی کر کے ہنس پڑی۔ استاد شیدی کچھ اس قدر بھنائے کہ پاس رکھا ہوا شیشے کا گلاس کھنچ مارا۔ بھوں پھٹ گئی۔ وہ گلا پھاڑ کر چیخی۔ ”ہائے اماں میں مر گئی۔ “ چاروں طرف سے رنڈیاں اور بھڑوے دوڑ پڑے۔
لڑکی کی پیشانی سے خون ابل رہا تھا۔ دل ربا نے اس کی یہ حالت دیکھی تو سر پیٹ لیا لیکن ڈیرے دار طوائف تھی۔ ہر وقت رئیسوں سے سابقہ تھا۔ مزاج میں بڑا رکھ رکھاؤ پیدا ہو گیا تھا۔ ہاتھ جوڑ کر استاد سے صرف اس قدر کہا۔ ”استادہم تو باز آئے اس تعلیم سے۔ خدانخواستہ بچی کی آنکھ جاتی رہتی تو سمجھ لو اس کی تو ہمیشہ کے لیے قسمت پھوٹ گئی تھی۔ “ استاد شیدی تیوری پر بل ڈال کر بولے۔ ”مجھ سے تعلیم دلوانا ہے تو یہی ہو گا ورنہ کسی اور کو ڈھونڈ لو۔
شہر میں بہت سے گویے پڑے ہیں۔ ”اتنا کہہ کر انہوں نے سارنگی پر غلاف چڑھایا اور اسے بغل میں دبا کر بالا خانے سے اتر کر نیچے آگئے۔ دوبارہ بھول کر بھی اس طرف کا رخ نہ کیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ دل ربا خود منانے آئی تھی مگر استاد کچھ اس قدر برہم تھے کہ اس روز یہ عہد کر لیا کہ اب کسی رنڈی کو تعلیم نہیں دیں گے۔ ہوا بھی یہی کہ وہ پھر کبھی بغل میں سارنگی دبا کر شام کے وقت چوک کی جانب جاتے نظر نہیں آئے۔ استاد شیدی کی بدمزاجی صرف شاگردوں ہی کے لیے نہیں تھی۔
گھر والے اور بھی زیادہ مورد عتاب تھے۔ ان کی تین لڑکیاں ایک لڑکا تھا۔ لڑکے کے نام منصور علی تھا۔ اولاد میں سب سے بڑا وہی تھا۔ اچھا خاصا چل نکلا تھا۔ استاد کا حال یہ تھا کہ جہاں فرصت ملی، سارنگی اٹھائی اور لڑکے کو تعلیم دینا شروع کر دی۔ ذرا چوکا اور استاد نے گالی دی۔ زیادہ جھنجلائے تو ہاتھ چھوڑ بیٹھے۔ استاد شیدی کی ماں کا انتقال ان کی کم سنی میں ہو گیا تھا اور ماموں نے انہیں پالا پوسا تھا۔ اس لیے وہ ان کا بے حد احترام کرتے تھے۔
بڑے میاں آتے تو گھر والوں کی جان چھوٹتی۔ استاد ماموں کی آواز سنتے ہی رفو چکر ہو جاتے۔ واپسی پر مٹھائی کا دونا ان کے ہاتھ میں دبا ہوتا۔ آتے ہی ایک ایک بچے کو اپنے ہاتھ سے مٹھائی کھلاتے۔ ان کے کردار میں ایسے ہی نہ جانے کتنے تضاد تھے۔ استاد نے طوائفوں کو تعلیم دینا بند کیا تو گھر پر تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا۔ اب انہوں نے اپنا نام استاد شیدی کے بجائے مرزا شیدا علی بیگ رکھ لیا تھا۔
پہلے ان کے شاگرد انہیں استاد کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ اب وہ انہیں مرزا صاحب کہنے لگے۔ اگر بھولے سے کوئی استاد کہہ کر بلاتا تو وہ بھڑک کر گالیاں بکنا شروع کر دیتے۔ ان دنوں ان کا بیشتر وقت گھر ہی پر گزرتا تھا۔ سویرے تڑکے ہی سارنگی لے کر بیٹھ جاتے اور شام تک راگنیوں کا سلسلہ جاری رہتا۔ اب ان میں ایک نیا مرض یہ پیدا ہو گیا تھا کہ موسیقی پر لیکچر بازی کرنے لگے تھے۔ ان کی اس نئی عادت کا سب سے بڑا نشانہ بیوی تھی۔
استاد بے چاری سیدھی سادی گھریلو عورت سے موسیقی کے بارہ ٹھاٹھوں پر بات کرتے کرتے سیاست پر بحث شروع کر دیتے۔ یہ محض اتفاق تھا کہ یہ لیکچر بازی انہیں راس آگئی اور وہ میوزک کالج میں باقاعدہ لیکچرر ہو گئے۔ اس تبدیلی سے استاد کی وضع داری میں تو کوئی فرق پیدا نہیں ہوا البتہ یہ انقلاب ضرور رونما ہوا کہ ان کے دروازے پر ایک بڑی سی تختی لٹکنے لگی جس پر انگریزی کے موٹے موٹے حروف میں لکھا تھا۔ پروفیسر شیدا علی بیگ۔
حالانکہ استاد انگریزی سے قطعی نا آشنا تھے مگر اب وہ پروفیسر کہلانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ دو چار دفعہ کی ڈانٹ ڈپٹ کے بعد گھر پر آنے والے شاگرد ں نے انہیں پروفیسر صاحب کہنا شروع کر دیا۔ آمدنی معقول تھی۔ مزے سے گزر بسر ہو رہی تھی۔ اب وہ اور بھی وزنی گالیاں بکنے لگے تھے۔ شاگردوں کو بات بات پر کتوں کی طرح دھتکارتے تھے۔ شاگرد بھی دم سادھے بیٹھے رہتے۔ ان میں بعض سے میرے مراسم تھے۔ پوچھا بھائی یہ استاد شیدی میں کیا سرخاب کا پر لگا ہے کہ دھڑا دھڑ گالیاں کھایا کرتے ہو کسی اور سے کیوں نہیں سیکھتے؟
”مگر سب کی متفقہ رائے تھی کہ جس طرح سارنگی کی بجانے میں دور دور تک استاد شیدی کا جواب نہیں، اسی طرح وہ راگ داری کے رگ و ریشے سے بھی واقف ہیں۔ اس قدر مہارت تھی کہ بتانے پر آتے تو یہ تک بتا جاتے کہ فلاں راگ کا موجد کون تھا؟ اور اب تک اس میں کیا کیا تبدیلیاں پیدا ہوئیں؟ انہی دنوں کا ذکر ہے کہ راجہ بانکی پور کے ہاں ایک تقریب تھی۔ رقص موسیقی کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ استاد شیدی کو بھی بلایا گیا۔ وہ اب مجروں میں بہت کم جاتے تھے۔
مگر منصور علی کے اصرار پر چلے گئے۔ راجہ صاحب نے بڑی دھوم دھام سے جشن کا بندوبست کیا تھا۔ شہر کے سارے کلاکاروں کو انہوں نے اکٹھا کیا تھا۔ رات بھر راگ رنگ کی محفل گرم رہی۔ البتہ استاد کے ساتھ ایک حادثہ ہو گیا۔ ہوا یہ کہ رات کے کوئی گیارہ بجے برق بانو نے ایک ٹھمری گائی۔ یہ برقی بانو کے عروج کازمانہ تھا۔ قبول صورت طوائف تھی۔ کھلتا ہوا چمپئی رنگ، تیکھے نقش و نگار، نکلتا ہوا چھریرا بدن۔ اس نے ٹھمری چھیڑی تو محفل میں آگ لگ گئی۔
بول تھے ”اندھیریا ہے رات سجن رہیو کہ جیو۔ “ اودھ کے تعلقہ داروں کی محفل، برق بانونے نرت کے ساتھ ٹھمری کے بول ادا کیے تو ہر طرف سے واہ واہ ہونے لگی۔ روپوں کی بارش شروع ہو گئی۔ محفل میں راجہ صاحب اجے گڑھ بھی موجود تھے۔ انہوں نے دونوں ہاتھوں سے روپیہ نچھاور کیا۔ غرضیکہ ایک ہنگامہ ہاؤ ہو برپا ہو گیا۔ بر ق بانو کا مجرا ختم ہوا تو محفل کا رنگ بدل چکا تھا۔ اس کے فوراً بعد استاد شیدی کا پروگرام تھا۔ وہ حسب معمول ڈھیلی ڈھالی اچکن پر دوپلی ٹوپی لگائے ہوئے تھے۔
ان کی وضع قطع دیکھ کر کچھ منچلے مسکرا کر رہ گئے۔ انہوں نے ایمن راگ چھیڑا اور دھیرے دھیرے استھائی میں چلے۔ محفل کا مطالبہ کچھ اور تھا مگر استاد کو اس کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔ وہ طبلے کی سنگت کے ساتھ مدھم سروں میں سارنگی بجاتے رہے۔ ذرا دیر تک خاموشی رہی۔ اس کے بعد سننے والوں کی دلچسپی بھٹکنے لگی اور محفل پر ایک اکتاہٹ سی طاری ہو گئی۔ محفل میں سر جوالا پرشاد سری واستو بھی شریک تھے، ان سے ضبط ہو سکا۔
مسکرا کر بولے۔ ”استاد جی، یہ آپ نے کیاروں روں لگا رکھی ہے؟ ذرا کچھ اچھے ہاتھ دکھائیے۔ “ سرجے پی سری واستو کا یہ جملہ سنتے ہی استاد شیدی کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ فوراً ہاتھ روک لیا۔ پلٹ کر طبلچی کی طرف دیکھا اور ڈانٹ کر کہنے لگے۔ ”روک بے ہاتھ! “ طبلچی نے گھبرا کر ہاتھ کھینچ لیا۔ استاد نے خاموشی کے ساتھ قریب رکھا ہوا سارنگی کا غلاف اٹھایا اور سارنگی اس میں لپیٹنے لگے۔ سرجوالا پرشاد کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا، مسکرا کر بولے۔
” استاد جی معلوم ہوتا ہے کہ آپ میری بات کا برا مان گئے۔ میں نے تو آپ سے ایک درخواست کی تھی۔ آپ کو کچھ سنا کر جانا پڑے گا۔ “ راجہ بانکی پور نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی۔ استاد نے جل کر کہا ”جی سنانے والے کی تو۔ “ انہوں نے ایک گندی گالی دی اور بدستور سارنگی غلاف میں لپیٹتے رہے۔ ”آپ نے مجھے میراثی سمجھا ہے۔ برسوں خون پانی ایک کر کے ریاض کیا ہے، رنڈیوں کی چلمیں نہیں بھریں۔ واہ صاحب واہ، کیا قدر دانی کی ہے؟
مجھے کیا معلوم تھا کہ سالے ایسے بیوقوفوں سے پالا پڑے گا۔ ”یہ کہتے ہوئے وہ اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ محفل پر سناٹا طاری ہو گیا۔ سر جوالا پرشاد وائسرائے کی کونسل کے ہوم مبر تھے۔ لوگوں نے سوچا کہ اگر استاد اس وقت جوتے مار کر نہ نکالے گئے تو انہیں کم از کم جیل کی ہوا تو ضرور کھانا پڑے گی۔ انہوں نے سر محفل ہوم ممبر کی بے عزتی کی تھی لیکن استاد بڑی بے نیازی کے ساتھ محفل سے اٹھ کر چلے گئے۔ سنا ہے کہ سرجوالا پرشاد خود استاد کو منا کر پھر محفل میں لائے۔
اس کے بعد استاد شیدی نے بہار کا خیال چھیڑا اور کئی گھنٹے تک سارنگی پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ استاد کا عالم یہ تھا کہ کہ آنکھیں بند تھیں۔ جسم پتھر کی طرح ایک جگہ جم کر رہ گیا تھا۔ صرف ہاتھ چل رہا تھا اور سارنگی سے سنگیت کی بارش ہو رہی تھی۔ یہ پھاگن کی رات تھی۔ بہار کی آمد آمد تھی۔ کچھ تو موسم کا اثر اور کچھ استاد چوٹ کھا کے اپنا کمال دکھا رہے تھے۔ سماں بندھ گیا۔ استاد شیدی نے ٹھمری کی تندی ٹھرے کے نشے کی طرح اتار کر رکھ دی۔
وہ رنگ باندھا کہ بہار کی کیفیت طاری ہو گئی۔ رات ڈھلتی گئی اور استاد کا ہاتھ سارنگی پر چلتا رہا۔ محفل پر سناٹا چھا گیا۔ ہر شخص مبہوت تھا۔ جب انہوں نے ہاتھ روکا تو وہ اکڑ کر رہ گیا۔ واللہ اعلم، یہ بات کہاں تک درست ہے۔ البتہ اتنا ضرور دیکھا کہ استاد شیدی نے شاگردوں کو کچھ عرصے کے لیے تعلیم دینا بند کردی تھی اور ان کا ہاتھ سفید پٹی میں جھولتا رہتا تھا جس پر روزانہ سویرے سویرے ایک مالشیا آکر گھنٹوں مالش کیا کرتا تھا۔
اس بات کو زمانہ ہو گیا۔ زندگی میں بہت سے تغیرات رونما ہوئے استاد شیدی میں بھی بہت بڑا تغّیر ہوا۔ اس کا انکشاف مجھ پر اچانک ہوا۔ ایک روز ایسا ہوا کہ وہ اپنا ایک ٹیلی گرام پڑھوانے میرے پاس آئے۔ میرے ایک دوست بھی کمرے میں موجود تھے میں نے استاد کا ان سے تعارف کرایا۔ ”آپ سے ملیے، آپ استاد شیدی ہیں، میوزک کالج میں پروفیسر ہیں۔ سارنگی بجانے میں اپنا جواب نہیں رکھتے“۔ میں نے تعارف کروانے میں حتی الوسع یہ کوشش کی تھی کہ کہیں منہ سے ایسی بات نہ نکل جائے کہ استاد کی طبع نازک پر بار گزرے مگر غلطی سر زد ہو گئی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


What a beautiful piece
Who is the writer
Shaukat Siddiqui
بھئی شوکت صدیقی ، کیا خوبصورت انداز تحریر ہے، آپ کے نام کی نسبت سے شوکت تھانوی یاد آ گئے ۔
شوخیٔ تحریر، جملوں ساخت اور اِن میں سمٹا ہوا مزاح اور کرداروں کے کردار و گفتار کی عکس بندی اور بیانیہ، آپ کی زبانی ، بھئی’’ہمارا آج کا دن بن گیا ‘‘ ۔
اسی طرح لکھتے رہیں۔ خوش رہیں۔
جناب نصر ملک صاحب ـ میں شوکت صدیقی مرحوم(1923 تا 2006)کی جانب سے آپ کی اسقدر حوصلہ افزائی کا تہہ دل سے مشکور ہوں ـکیا کہنے آپ کے تحسین و آفرین کے ان ڈونگروں کے ـ
بہت عمدہ اور خوبصورت