سوتیلا آدمی – اردو کے شاہکار افسانے
اس کا اندازہ مجھے استاد کی آنکھوں کے جلال سے ہوا۔ انھوں نے تیوری پر بل ڈال کر مجھے قہر آلود نگاہوں سے کچھ اس طرح دیکھا کہ اگر کوئی شاگرد ہوتا تو منہ پر وہ جھانپڑ پڑتا کہ دن میں تارے نظر آجاتے۔ میرے دوست سے کہنے لگے۔ ”جناب مجھ کو پرنس مرزا شیدا علی گورگانی کہتے ہیں۔ میوزک کالج میں پروفیسر ضرور ہوں مگر میرا یہ خاندانی پیشہ نہیں ہے۔ “ اس کے بعد استاد نے جو اپنا شجرہ نسب بتانا شروع کیا تو سلاطینِ مغلیہ سے اپنا رشتہ ملا دیا۔
اس وقت انہوں نے موسیقی کے متعلق ایک لفظ نہیں کہا۔ میں حیرت زدہ رہ گیا کہ یہ اچانک ان پر مغل شہزادہ ہونے کا نکشاف کیسے ہوا؟ تحقیقات سے پتہ چلا کہ دور کی یہ کوڑی ان کے صاحبزادے منصور علی لائے تھے جو خیر سے اب ٹیوشن پڑھانے لگے تھے اور ان دنوں کسی کی عوضی پر میوزک کالج میں گانے کی تعلیم بھی دے رہے تھے۔ استاد نے نہ صرف صاحبزادے کی تجویز قبول کرلی بلکہ باقاعدہ اس کی تبلیغ بھی شرع کر دی۔ ان کے مکان کی تختی بھی بدل گئی البتہّ کشمیری بھانڈوں میں اس تبدیلی پر چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔
استاد کے خلاف ایک محاذ قائم ہو گیا۔ جن دنوں یہ کشمکش زوروں پر تھی میں لکھنّو چھوڑ کر کراچی آگیا اور یہاں آکر ایسا پھنسا کہ لکھنّو جانا نصیب نہ ہوا۔ چند سال قبل میں ایک عزیز سے ملنے ملیر گیا۔ واپسی پر بس اسٹینڈ پر کھڑا تھا کہ کسی نے قریب آکر بڑے لکھنوی انداز میں جھک کر سلام کیا۔ جھٹپٹے کا وقت تھا۔ میں اس شخص کا چہرہ نہ دیکھ سکا البتہ اتنا ضرور خیال آیا کہ اسے کہیں دیکھا ہے۔ کہاں دیکھا ہے؟ یہ بات یاد نہ آئی تو اس نے خود ہی کہا۔
” نہیں پہچانا؟ ہاں بھئی غریبوں کو کون پہچانتا ہے؟ “ میں فوراً پہچان لیا، استاد شیدی ہیں۔ ابھی خیرو عافیت پوچھنے کا سلسلہ جاری تھا کہ اس اثنا میں میری بس آ گئی اور میں اس پر سوار ہو کر چلا گیا۔ اس وقت بڑی عجلت میں تھا۔ یہ بھی پوچھنے کا موقع نہ ملا کہ ان کا قیام کہاں ہے؟ اور کب تک یہاں ٹھیریں گے؟ عارضی طور پر آئے ہیں یا مستقل ہجرت کر کے پاکستان چلے آئے ہیں۔ لیکن یہ میں نے اندازہ ضرور لگایا کہ ان کی حالت کچھ پتلی تھی۔
ا±س روز وہ شیروانی بھی میلی کچیلی پہنے ہوئے تھے اور ان کی آواز میں پہلا سا کرکرا پن نہیں تھا۔ کوئی ہفتے بھر بعد استاد شیدی سے پھر مڈ بھیڑ ہوگئی۔ اس روز خاصی تفصیلی ملاقات رہی۔ باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ انہیں کراچی آئے ہوئے آٹھ ماہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔ دونوں بڑی لڑکیوں کی شادی انہوں نے لکھنّو ہی میں کر دی تھی۔ میوزک کالج کی ملازمت مہا سبھائی پرنسپل کے ہاتھوں جاتی رہی۔ بات صرف اتنی تھی کہ ہولی کے تہوار پر پرنسپل نے کالج کا تمام اساتذہ کو اپنے گھر پر مدعو کیا تھا۔
ہولی منانے کا پروگرام تھا۔ استاد شیدی صوم و صلوة کے پابند مسلمان تھے۔ پرنسپل کے منہ پر صاف صاف کہ دیا کہ ”میں رنگ کھیل کر خود کو جہنمی نہیں بنانا چاہتا۔ مجھ کو اس شیطانی چرخے سے باز ہی رکھا جائے۔ “ پرنسپل نے ان کے مذہبی جذبات کا احترام کرنے کی بجائے کاٹ پیچ شروع کر دی۔ ایک دن ایسا بھی آیا کہ استاد شیدی کو کالج ہمیشہ کے لیے چھوڑنا پڑا۔ ملازمت سے علیحدہ ہونے کے بعد بھی وہ مزے میں تھے، گھر پر اچھے خاصے شاگرد آ جاتے تھے۔
انہی دنوں منصور علی پاکستان چلا آیا۔ اسی کی تحریک پر وہ بھی چلے آئے۔ میں نے پوچھا۔ ”منصور علی کہاں ہے؟ “ کہنے لگے۔ ”ا±س نے قوالوں کی چوکی بنائی ہے اور آج کل خیر پور میں ہے۔ “ میں نے حیرت زدہ ہو کر کہا قوالوں کی چوکی؟ ”وہ مسکرا کر بولے۔ “ آخر کچھ نہ کچھ تو پیٹ کا دھندہ کرتا۔ یہاں گانے بجانے کی کون قدر کرتا ہے؟ ”“ اور آپ؟ ”غیر ارادی طور پر میں پوچھ بیٹھا۔ یکبارگی پرانے استاد جاگ اٹھے۔ انہوں نے ایک سڑی ہوئی گالی دی اور غصّے میں بولے۔
”جی قوالی بھی کوئی راگ ہے؟ لاحول ولا قوة۔ منصور میرے سر بہت ہوا۔ میں نے کہا ابے بیدھا ہوا ہے، اب میں قوالی گاو¿ں گا؟ ذرا غور تو کیجیے۔ زندگی بھر کا ریاض چند ٹکوں کی خاطر قربان کردوں واہ صاحب واہ۔ یہ بھی ایک ہی رہی۔ “ وہ دیر تک اسی قسم کی باتیں کرتے رہے مگر ان کی حالت بڑی ابتر تھی۔ اچکن بے حد بوسیدہ ہوگئی تھی۔ پائجامے پر گھٹنے کے پاس بڑا سا پیوند لگا تھا۔ چہرہ اور بھی بد شکل ہو گیا تھا۔ آخر دوبارہ ملنے کا وعدہ کر کے استاد شیدی رخصت ہو گئے۔
چند ہی روز بعد وہ میرے دفتر آئے۔ تھوڑی دیر اِدھر ا±دھر کی باتیں کرنے کے بعد بولے۔ ”ریڈیو کے صاحب سے آپ کی کچھ ملاقات ہے؟ “ میں نے انکار کیا تو ان کا چہرہ اتر گیا۔ نہ جانے وہ میرے پاس کیا توقعات لے کر آئے تھے۔ بڑے پژمردہ لہجے میں بولے۔ ”میں نے سوچا تھا کہ شاید آپ کے توسط سے ان تک رسائی ہو جائے۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ بغیر سفارش یہاں کوئی کام نہیں بنتا۔ “ میں نے غور کیا کہ استاد شیدی کو زندگی برتنے کا گر ابھی تک نہیں آیا۔
میری سفید پوشی سے مرعوب ہو گئے اور سمجھے کہ میں یہاں آکر بڑی توپ بن گیا ہوں۔ مجھے خاموش دیکھ کر استاد نے بات کا رخ پلٹ دیا۔ کہنے لگے کہ منصور کا خط آیا ہے وہ بھی آج کل بہت پریشان ہے۔ لکھا ہے کہ اس کا گلا خراب ہو گیا ہے۔ کسی نے سیندور کھلا دیا۔ لمحے بھر توقف سے بولے۔ ”اجی! سیندور کسی نے کیا کھلایا ہو گا؟ سالے نے قوالیاں گا گا کر اپنی آواز کا ستیا ناس کردیا۔ “ اس روز بھی اپنی پریشانیوں کا ذکر کرتے رہے۔
چلتے وقت بہت جھجکتے ہوئے انہوں نے کہا۔ ”کچھ روپے ہوں گے آپ کے پاس؟ بخدا د دو روز سے گھر میں فاقہ پڑا ہے۔ “ یہ کہ کر وہ اس طرح سہم کر کھڑے ہو گئے جیسے چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے ہوں۔ میرے پاس اسوقت ایک روپیہ تھا دو روپے دفتر میں ایک صاحب سے لے کر انہیں تین روپے دیے اور گھر کا پتہ بتا دیا کہ وہاں آجائیں تو کچھ اور بندوبست کردیا جائے گا۔ واقعہ یہ ہے ان کا حال سن کر کلیجہ دھک سے ہوگیاتھا۔ دوسرے ہی دن وہ گھر آئے میں نے دس روپے اور دیے۔
انہوں نے کپکپاتے ہوئے ہاتھوں سے نوٹ پکڑا۔ لمحے بھر تک بت بن کر کھڑے رہے اوپھر دونوں ہاتھوں سے منہ چھپا کر دھاڑیں مار مار کر رو دیے جیسے کوئی اپنے رشتے دار کی میّت کے سرہانے کھڑے ہو کر روتا ہے۔ اس کے بعد وہ ایک عرصے کے لیے نہیں ملے۔ ایک روز آئے تو ان کی حالت اور بھی خستہ تھی۔ اچکن جگہ جگہ سے مسک گئی تھی۔ ان کی موٹی سی ناک پچک کر رہ گئی تھی اور جنگلی کبوتر کی سی س±رخ آنکھیں اندر دھنس گئی تھیں۔ ا±س روز وہ صرف اس غرض سے آئے تھے کہ انہیں کہیں چپڑاسی کی ملازمت دلوا دوں۔
اس دفعہ بھی میں نے انہیں کچھ رقم دی اور وعدہ کیا کہ کہیں نوکری دلوا دوں گا۔ اس کے بعد وہ برابر آتے رہے۔ ہر بار وعدہ کرتا اور وہ ہر بار اس یقین پر چلے جاتے۔ آخر میں ان سے ا کتا گیا۔ اِ س کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ میں ہر بار ان کے مالی امداد کرنے سے معذور تھا۔ ایک دن وہ آئے تو میں نے کہلو ا دیا کہ ”کہ وہ گھر پر نہیں ہیں۔ “ نہ جانے کیا بات تھی کہ واپس جانے کی بجائے وہ دروازے پر ر±ک گئے اور ٹہل ٹہل کر میرا انتظا کرتے رہے۔
عجیب مصیبت تھی کہ میں گھر کے اندر قید تھا اور وہ دروازے پر گویا پہرا دے رہے تھے۔ شاید 9 بجے دن کے وہ آئے تھے، سہ پہر تک اسی طرح ٹہلتے رہے۔ مجھے ان کی حالت پر ترس بھی آیا۔ خدا معلوم وہ کس عالم میں میرے پاس آئے تھے اور صبح کے بھوکے پیاسے بے چینی سے میرا انتظار کر رہے تھے۔ مشکل یہ تھی کہ گھر کا ایک ہی دروازہ تھا جس پر وہ موجود تھے۔ ورنہ میں کسی نہ کسی طرح ان کے پاس چلا آتا۔ جب تک وہ موجود رہے۔ بڑا ذہنی کرب رہا۔
جھٹپٹا ہونے سے کچھ دیر قبل وہ چلے گئے۔ اس کے بعد وہ دوبارہ میرے گھر نہیں آئے۔ چند ماہ بعد کا واقعہ ہے، مجھے جوتوں کے کارخانے میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں مجھے ایک شخص میں استاد شیدی کی شباہت معلوم ہوئی۔ وہ فرش پر بیٹھا رامپی سے بڑی محویت کے عالم میں چمڑا کاٹ رہا تھا۔ گرمی کا موسم تھا۔ اس کے بدن پر ایک گندا سا نیکر تھا۔ ایک ایک ہڈی نظر آرہی تھی۔ اس نے گردن اٹھا کر دیکھا تو میں ششدر رہ گیا۔ استاد شیدی تھے۔
میں نے دل ہی دل میں کہا کہ استاد مجھے یہاں دیکھ لیا تو بڑے ہی خفیف ہوں گے لہذا مجھے فوراً اٹھ جانا چاہیے مگر انہوں نے مجھے دیکھ لیا تھا اور خلافِ توقع بڑی گرم جوشی سے بولے۔ ”ارے آپ ہیں؟ کہیے خیریت تو ہے؟ “ اس کے بعد انہوں نے فوراً باہر والے کو آواز دے کر بلایا اور دو چائے کا آرڈر دے دیا۔ میں نے اظہار ہمدردی کے طور پر کہا۔ ”مرزا صاحب، یہ آپ نے کیاحالت بنا رکھی ہے؟ “۔ ہنس کر بولے۔ ”بھائی دونوں وقت پیٹ بھر کر روٹی مل جاتی ہے۔
اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے ”میں نے کہا۔ “ تو گویا موسیقی آپ نے بالکل ترک کردی؟ ”بڑی شانِ استغنا کے ساتھ بولے۔ “ اجی لعنت بھیجئے! ”اس کے بعد انہوں نے موسیقی کے فن کو بڑی گندی گندی گالیاں دیں اور پھر خاموش ہو کر بڑے اطمینان سے گردن نیچی کرکے رامپی سے چمڑا کاٹنے لگے پہلی بار مجھے اس حقیقت کا اندازہ ہوا کہ استاد شیدی کو میں جس قدر سادہ لوح سمجھتا تھا۔ وہ ایسے نہ تھے۔ کم از کم اس دفعہ انہوں نے دانش مندی کا ثبوت دیا تھا۔ ایسا فن سیکھا جس کی ضرورت امر مسلمہّ تھی۔ آدمی جوتے کے بغیر تو نہیں رہ سکتا البتہ اتنا ضرور ہے کہ جن انگلیوں سے وہ نغموں کا جادو جگاتے تھے، آج ان سے جوتیاں گانٹھ رہے تھے۔


What a beautiful piece
Who is the writer
Shaukat Siddiqui
بھئی شوکت صدیقی ، کیا خوبصورت انداز تحریر ہے، آپ کے نام کی نسبت سے شوکت تھانوی یاد آ گئے ۔
شوخیٔ تحریر، جملوں ساخت اور اِن میں سمٹا ہوا مزاح اور کرداروں کے کردار و گفتار کی عکس بندی اور بیانیہ، آپ کی زبانی ، بھئی’’ہمارا آج کا دن بن گیا ‘‘ ۔
اسی طرح لکھتے رہیں۔ خوش رہیں۔
جناب نصر ملک صاحب ـ میں شوکت صدیقی مرحوم(1923 تا 2006)کی جانب سے آپ کی اسقدر حوصلہ افزائی کا تہہ دل سے مشکور ہوں ـکیا کہنے آپ کے تحسین و آفرین کے ان ڈونگروں کے ـ
بہت عمدہ اور خوبصورت