دو ملاقاتیں: یہ دو رویے ہیں


وہ صاحب ثروت ہیں، خوش شکل ہیں، اچھے بلاگر ہیں۔ میں اب بھی ان کی تحریریں پڑھتا ہوں۔ چند ماہ پہلے میں ان کے ملک گیا تو ان سے رابطہ کیا کہ دو چار دن بعد میں آپ کے شہر میں ہوں گا۔ انہوں نے مجھے وقت دیا کہ آپ اتنے بجے ملاقات کے لیے آ جائیے گا۔
میں پہنچا تو آفس سیکریٹری نے کہا کہ بیٹھیے، میں پوچھ کر بتاتی ہوں کہ وہ ان کے پاس وقت ہے یا نہیں؟
پھر کہا کہ آپ انتظار کریں، صاحب فارغ ہو کر آپ کو بلا لیں گے۔ میرے ساتھ میرے ایک دوست بھی تھے۔ دس، پندرہ منٹ بعد انہوں نے ہمیں اندر بلا لیا۔ سیٹ پر بیٹھے بیٹھے انہوں نے ہاتھ ملایا اور گپ شپ شروع ہو گئی۔ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ کام کی وجہ سے میں بھول ہی گیا تھا کہ آپ باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔
ٹیبل صاف ستھری تھی، کام نام کی دور دور تک کوئی چیز نہیں تھی۔
مجھے محسوس ہوا کہ صاحب جی مجھ پر شاید اپنے رتبے، اسٹیٹس یا کامیابی کا رعب ڈالنا چاہتے ہیں اور یہ ساری مصروفیت اس وجہ سے ہے۔ یہ میری بدگمانی بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن میں خود بھی صحافت سے وابستہ ہوں، ہماری میٹنگز بھی ہوتی ہیں لیکن آج تک ایسا نہیں ہوا کہ مجھے یہ بھول جائے کہ کوئی دوست دوسرے ملک سے ملنے آیا ہے اور باہر بیٹھا انتظار کر رہا ہے۔ یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی لیکن اسی ملاقات میں ان سے دوبارہ ملاقات کی خواہش سرے سے ہی دم توڑ چکی تھی۔
میں اس مرتبہ پاکستان گیا تو مجھے ایک دوسرے صحافی اور بلاگر سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ ان سے بھی پہلی ملاقات تھی۔ یہ پہلے والے صحافی سے بھی اچھا اور معیاری لکھتے ہیں اور ان سے زیادہ کامیاب بھی ہیں۔ اب ان کا اٹیچیوڈ ان سے بھی زیادہ ہونا چاہیے تھا۔ لیکن ان کا رویہ ایک سو نوے ڈگری مختلف تھا۔ انہوں نے راستے میں ہی مجھے میسیج کرنا شروع کر دیے۔ گیٹ کے چوکیدار کو پہلے ہی معلوم تھا۔ ہمیں فوری طور پر ان کے کمرے میں پہنچا دیا گیا اور وہ انتہائی تپاک سے ملے۔ چند منٹ گپ شپ ہوئی اور پھر گیٹ تک چھوڑنے آئے۔ ان کا رویہ دیکھ کر میرے دل میں فورا یہ بات آئی کہ ان سے دوبارہ ملاقات ہو نی چاہیے۔
میں چند روز پہلے ان دونوں ملاقاتوں کے بارے میں سوچ رہا تھا تو خیال آیا کہ ہم سب عزت نفس کے مارے ہوئے لوگ ہیں۔ انسان کو روپے ، پیسے کی اتنی ضرورت نہیں ہے، جتنی احترام، عزت نفس یا توقیر وغیرہ کی ہوتی ہے۔ ان دو ملاقاتوں کے بعد مجھے بھی اپنے رویے میں بہتری لانے کا موقع ملا۔
اگر آپ اپنے دشمن کو محبت دیں گے، اس کو انسان سمجھیں گے، اسے عزت دیں گے تو وہ بھی آپ کا گرویدہ ہو جائے گا۔ اور اگر دوست کو بھی ایٹیچیوڈ دکھائیں گے، اس کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچاتے رہیں گے تو وہ بھی آپ سے دور بھاگ جائے گا۔ آپ کسی کو مناسب طریقے سے اسی وقت نہیں ملتے جب اسے خود سے کمتر سمجھ رہے ہوتے ہیں کیونکہ “اہم شخصیات” اپنے سے “بڑے”، امیر ، افسر یا اپنے باس کے ساتھ ہمارا رویہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔ آپ یورپی معاشرے میں دیکھیں تو یہاں پر کسی حد تک انسان کی بطور انسان جو واجب یا ڈیو ریسپیکٹ ہے وہ اسے فراہم کی جا رہی ہے جبکہ پاکستان میں یہی عزت لوگ پیسے سے، شاندار کوٹھیاں بنانے، بندوقوں والے باڈی گارڈز رکھنےاور بڑی بڑی لینڈ کروزروں سے خریدنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پچھلے دنوں فیس بک پر ہی چند ایک ایسی ویڈیوز نظر سے گزریں، جہاں بیچارے گلیوں اور سڑکوں پر بیمار کتے، بلیوں کا اٹھایا جاتا ہے اور پھر ان کا علاج معالجہ یا مناسب دیکھ بھال کی جاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ٹھیک، تندرست اور دوبارہ خوبصورت ہونا شروع ہو جاتے ہیں، ان میں زندگی کی رونق لوٹنا شروع ہو جاتی ہے۔
اصل میں یہ جانور ٹھکرائے ہوئے جانور تھے اور جونہی انہیں عزت نفس ملی تو ٹھیک ہونا شروع ہو گئے۔ انسان کا بھی یہی حال ہے۔
ہمارے ایک زمیندار گھرانے کے دوست ہیں۔ وہ ایک دن اپنے ایک گھوڑے کے بارے میں بتا رہے تھے کہ ایک دن ان کے ملازم نے گھوڑے کو گالیاں دیں اور ساتھ کچھ چھانٹے بھی مارے تو گھوڑے نے اس ملازم کے ہاتھوں چارہ کھانا بند کر دیا۔
مجھے خیال آتا ہے کہ وہ تو جانور تھا لیکن پھر محبت اور عزت نفس کی زبان سمجھتا تھا اب بھلا انسان پر اس کا اثر کیوں نہیں ہو گا؟
جب میں اور آپ انسانوں کو ٹھکراتے ہیں، ان کی عزت نفس کا خیال نہیں رکھتے، ان کو خود سے کمتر سمجھتے ہیں تو وہ بھی ہم سے دور بھاگنا شروع کر دیتے ہیں۔
کسی کو دروازے تک لینے جانا، مہمان کو گلی یا گاڑی تک چھوڑنے جانا، اسے مسکراتے ہوئے چہرے اور ہاتھ ہلاتے ہوئے رخصت کرنے میں بھلا کیا خرچ آتا ہے؟

Facebook Comments HS