فرسودہ رسموں سے جان چھڑائیے…. کورٹ میرج کیجیے


مجھے تو حیرت بس اس بات پر ہوتی ہے کہ ہر طرف ڈھنڈورا کیوں پیٹا جاتا ہے کہ تعلیم عام کرو۔ شعور بیدار ہو گا تو تبدیلی آئے گی۔ اگر شعور تعلیم سے ہی آتا ہے تو پہلے کے مقابلے میں، اب تعلیم کا رواج کافی بڑھ چکا ہے، ہر گھر سے بچے اسکول، کالج اور یونی ورسٹیوں تک پہنچ رہے ہیں، لیکن بیداری کی لہر تو کہیں نظر نہیں آتی، شعور کے سارے روزن اور دریچے بند ہیں۔ تعلیم حاصل کرکے بھی اگر اسی دھارے میں بہنا ہے، تو پھر تعلیم کے نام پر وسائل کے ضیاع کا سبب سمجھ سے بالا تر ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ جن گھروں میں ٹماٹر کی فی کلو قیمت دو سو روپے ہو جانے کا سُن کر حیرت سے آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں انہی گھرانوں میں شادیوں کا کم سے کم تخمینہ لاکھوں میں لگانے کو عین حق سمجھا جاتا ہے۔

اسی بارے میں کہیں گفتگو ہو ئی تو ایک نوجوان نے کہا ”گھر والوں کو ان معاملات پر سمجھا سمجھا کر تھک جاتے ہیں لیکن ان کا یہی کہنا ہوتا ہے کہ اپنی تعلیم پر دھیان دو۔ گھر کے اور خاندان کے معاملات کا تم لوگوں کو کچھ نہیں پتا۔”اس نے مزید کہا،”ہم ان روایتوں کے خلاف بات کرنا بھی چاہیں تو گھر کے بزرگ ہمیں روک دیتے ہیں، زیادہ بحث کرو تو یہی طعنہ ملتا ہے کہ اس لیے نہیں پڑھایا کہ بڑے چھوٹے کی تمیز بھول جاؤ۔”

نوجوان اس معاشرے کی آخری امید ہیں۔ میری سب نوجوانوں سے گزارش ہے کہ اگر آپ نکاح کے نام پر ہونے والی خرافات اور روایتوں کو معاشرتی اقدار کے لیے ناسور سمجھتے ہیں تو سامنے راستہ کھلا ہے، ڈٹ جائیے۔ اپنی خوشیاں پوری کرنے کے لیے کبھی ضرورت سے زیادہ ہلکان نہ ہوں۔ شادی کے نام پر اپنی محنت کی کمائی خاندان والوں کی رضا کے حصول میں لگاکر بے وقوفی کا ثبوت نہ دیجیے، نہ ہی اپنی نکاح کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کسی دوسرے کو مقروض کیجیے، جس سے نکاح کرنا ہو اس کا ہاتھ پکڑ کر قاضی وقت کے سامنے لے جائیے اور کورٹ میرج کیجیے۔

اس سے آپ کے گھر والوں کو وقتی دھچکا تو شاید لگے لیکن اندر سے وہ بہت اطمینان محسوس کریں گے کہ آپ کے جرأت مندانہ قدم نے سب کو کتنے ہی خرچوں اور جھمیلوں سے بچالیا۔ اور ہو سکتا ہے بعد میں وہ آپ کے شکر گزار بھی ہوں کہ آپ کی وجہ سے وہ کتنی ہی رسموں کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2