پولیو مہم : بچوں کی حفاظت مگر عورتوں کا استحصال

کچھ روز قبل صبح کے وقت ہونے والی دستک پر گھر کا دروازہ کھولا تو سامنے دو پولیو ورکر کھڑی تھیں۔ تسلسل سے گھروں کا دورہ کرنے والی یہ پولیو ورکر عموماً بچے کے اسکول اور گھر واپسی کے اوقات سے باخبر ہوتی ہیں۔ اسی لیے میں نے انہیں بے وقت دروازے پر کھڑا دیکھ…

Read more

پاکستان میں کورٹ میرج کا مکروہ دھندا

گیارہ سال کی عمر میں فیس بک پر اپنی ہم عمر لڑکی سے دوستی ہوئی۔ اس دوستی نے محبت کا چولا اوڑھنے میں کچھ زیادہ ہی سرعت دکھائی اور محبت کے جذبے سے مغلوب یہ کم عمر جوڑا گھر سے بھاگ کر حیدرآباد پہنچ گیا۔ عشق کا سودا ایسا سر میں سمایا کہ یہاں کی…

Read more

روایتوں کی چتا پر ستی ہونے والی پاکستانی عورتیں

لوگ خود کشی کی طرف کیوں مائل ہوتے ہیں اور کیوں وہ اپنی جان کے آپ ہی درپے ہوجاتے ہیں، یہ موضوع ہمیشہ سے ہی ماہرینِِ نفسیات کی خصوصی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ معاشرے سے جڑے ان گنت مسائل فرد کو خودکشی پر اکساتے ہیں، درست راہنمائی نہ ملنے کے باعث لوگوں کو اپنے…

Read more

اسمِ بامسمٰی کشمیری خاتون پروینہ آہن گر

پروینہ آہن گر کون ہے؟ اس کو بی بی سی نے گزشتہ ماہ سو متاثر کن خواتین کی فہرست میں بھلا کیوں شامل کیا ہے؟ اس کی جدوجہد کا جائزہ لینے کے لیے آئیے انتیس سال پیچھے چلتے ہیں۔ یہ 1990 کے وہ دن تھے جب بھارتی فوج اور حریت پسندوں کے درمیان تصادم اپنے…

Read more

کاش دنیا گول نہ ہوتی

کتنے اچھے دن تھے وہ جب برسوں بعد کوئی پرانا شناسا راہ چلتے ملتا، دونوں تپاک سے گلے ملتے، پرانی یادیں تازہ ہوتیں، دوبارہ رابطے میں رہنے کا عہد باندھا جاتا اور اس تشنہ ملاقات میں ایک جملے سے ضرور رنگ بھرا جاتا کہ ”یار! یقین آہی گیا کہ دنیا گول ہے، بچھڑنے والے واقعی…

Read more

کیا ”حضور بخش مینٹیلیٹی“ سے نجات ممکن ہے؟

حضور بخش کی چار بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے یہ ڈرائیور ہیں۔ چالیس کے پیٹے میں چل رہے ہیں۔ کل ان کی بارہ سالہ بیٹی اسکول میں داخلے کے لیے میرے پاس آئی۔ بچی بلا کی ذہین اور خوب صورت تھی۔ گھبرائی اور شرمائی میرے سامنے بیٹھی خواہش کا اظہار کر رہی تھی کہ وہ پڑھنا چاہتی ہے۔ میں نے اس کے حوصلے کی داد دی اور اس سے داخلے کے لیے چند ضروری کاغذات مانگے، جن میں اس کی پیدائش کا سرٹیفیکیٹ اور تصویریں شامل تھیں۔

میرا مطالبہ کچھ ایسا بڑا تو نہ تھا لیکن جانے کیوں مایوسی کے بڑے بڑے سائے اس کے معصوم چہرے پر لہرانے لگے۔ پوچھنے پر بتایا کہ اس کے گھر میں بیٹیوں کی پیدائش کا سرٹیفیکیٹ نہیں بنوایا جاتا۔

Read more

فیملی فرینڈلی دفاتر وقت کی اشد ضرورت ہیں

ایک عورت کے لیے ماں ہونا دیگر تمام رشتوں سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ابھی کچھ دہائیوں پہلے کے وہ مناظر بھی نظروں میں تازہ ہیں جب معاشی مسائل اس قدر بے قابو نہ ہوئے تھے اور ایک مرد کی کمائی سے پورا خاندان عزت سے گزارا کر لیتا تھا، یوں مائیں اپنے دن کا زیادہ تر حصہ اولاد کی پیدائش اور پرورش کے تمام معاملات نبیڑنے میں بتا دیا کرتی تھیں۔ وقت ایک سا نہیں رہتا۔ وہ وقت گزر گیا۔ ان آنکھوں نے پھر وہ دہائی بھی دیکھی جب معاش کا حصول آسان نہ رہا، مسابقت کی دوڑ، اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور پھر تیزی سے تبدیل ہونے والے طرزِزندگی نے ایک پہیے پر مزید انحصار کرنے سے انکار کردیا۔

Read more

ہم سے عید پر بھی کوئی گلے نہیں ملتا

چہرہ رعونت سے اور لہجہ اس خاص قسم کے گھمنڈ سے عاری تھا جو ہمارے وطن میں پولیس والوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔ ابھی ابھی ایک اے ایس آئی میرے سامنے سے اٹھ کر گیا ہے۔ آدھے گھنٹے اس کے ساتھ ہونے والی گفتگو نے اگر ایک طرف اس ملک کے استحصالی نظام کا گھناؤنا اور پوشیدہ چہرہ بے نقاب کیا تو دوسری طرف ایک عام پولیس اہل کار کے لیے دل میں موجود وہ مکروہ جذبات بھی کم کرنے پر اکسایا، جو بدقسمتی سے تقریباً ہر پاکستانی شہری کے دل میں پولیس والوں کے لیے لازمی طور پر موجود ہیں۔

Read more

اپنا ٹائم آتا نہیں لانا پڑتا ہے

یہ گبول گوٹھ کی پیچیدہ اور ٹیڑھی میڑھی گلیاں ہیں۔ اس گوٹھ کی حالت بھی کم و بیش وہی ہے جو کراچی کے دیگرگوٹھوں کی ہے۔ وہی ابلتے گٹر، جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، ڈھابوں پر فارغ مَردوں کا جھمگھٹا، شدید ابتر معاشی حالت سے بے خبر حلق سے ابلتے قہقہوں کی آوازیں، ہر دکان پر اونچی آواز میں بجتے گانے اور ان پر جھومتے جوان اور بوڑھے سر۔ اب تک کی زندگی میں بے شمار گوٹھ دیکھے، ان سب میں ایک بات مجھے مشترک لگتی ہے اور وہ ہے شہر کا حصہ ہونے کے باوجود شہری طرزِزندگی کا ان سے روٹھے رہنا۔

Read more

بھکاری مافیا کے ہاتھوں کابل سے اغوا ہو کر کراچی پہنچنے والی دو بچیاں

کابل کی گلیوں میں بے فکری سے کھیلنے اور ماں باپ کی آغوش میں چین سے سونے والی بارہ سالہ مستورہ اور آٹھ سالہ فاطمہ کو کب پتا تھا کہ ان پر ایسا برا وقت بھی آئے گا جب ان سے کراچی کی سڑکوں پر بھیک منگوائی جائے گی۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل سے تعلق رکھنے والے چالیس سالہ محمد حسن کی دونوں بیٹیاں بین الاقوامی بھکاری مافیا کے ہتھے چڑھ گئیں، راتوں رات جعلی کاغذات بنا کر انہیں پاکستان اسمگل کردیا گیا۔ رمضان کی حالیہ گزرنے والی با برکت ساعتوں میں ان بچیوں سے کراچی میں نہ صرف بھیک منگوائی گئی، بلکہ انہیں خوف زدہ کرنے کے لیے بے تحاشا تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

Read more