میرے وطن میں غریب کی قیمت سوا تین روپے فی درجن

کچھ دن قبل مجھے ایک خاتون ملیں۔ وہ کچھ عرصے سے شدید مالی مسائل کا شکار اور اپنے لیے گھر بیٹھے کسی کام کی تلاش میں تھیں۔ میرے پوچھنے پر بتایا کہ انہیں کام مل گیا ہے۔ نیو کراچی میں چلنے والے ایسے ہی ایک کارخانے کے سیٹھ نے انہیں لڑکیوں کی کڑھائی والی قمیصوں پر موتی لگانے کا کام دیا ہے۔ وہ مجھے قمیص اور موتی دکھاتے ہوئے طریقہ بتانے لگیں، میں حیرت سے ان کے ہاتھوں کو چلتا ہوا دیکھنے لگی۔

Read more

چوٹ لگتی ہے ماں! مت مارو

ننھے منے تین سال کے معصوم بچے کو ماں نے مارا اور خوب ہی مارا۔ اس کا جرم کیا تھا؟ کیوں پھولوں جیسا بچہ اپنی سگی ماں کے ہاتھوں عتاب کا شکار ہوا؟ اپنے ہی پیٹ سے جنا بچہ اتنا بے وقعت کیسے ہوگیا کہ ماں شفقت اور محبت کا دامن چھوڑ کر زبان اور ہاتھ دونوں سے اس کا بدترین استحصال کرنے لگی۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ یہ آئے دن کی کہانی ہے۔ کبھی شوہر کی ڈانٹ سے خائف ہوکر بچے کو بری طرح دھنا جاتا ہے، کبھی ساس کا دل جلانے کے شوق میں معصوم کو تختہ مشق بنایا جاتا ہے، تو کبھی نندوں کی آمد پر بگڑنے والا مزاج بچے کے گال لال کرنے کے بعد بھی سنورتا نہیں۔

اس ظلم کا شکار ایک بچہ نہیں بلکہ پاکستان کا بوسیدہ ہوتا خاندانی نظام اور ٹوٹتے پھوٹتے رشتے ایسے بچوں سے معاشرے کی گود بھرتے جا رہے ہیں۔ مغرب پر لعن طعن کرنے اور انگلیاں اٹھانے والوں کو کب معلوم تھا کہ جلد ہی وہ دن آن پہنچے گا جب یہاں بھی بچے اپنے ہی والدین کے ہاتھوں گھروں میں غیرمحفوظ ہوجائیں گے۔ غیرذمہ دار والدین کے ہاتھوں بچوں پر تشدد کے واقعات تیزی سے بڑھنے کے باوجود اس موضوع پر بات کرنے سے لوگ کنی کتراتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ مذہب کے نام پر والدین کو سونپے جانے والے بے جا اختیارات نے انہیں بچوں کے معاملے میں ایسا دلیر بنا دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ کوئی بھی ناروا سلوک روا رکھنے پر خود کا قابلِ سزا سمجھتے ہیں اور نہ کسی کے سامنے جواب دہ۔

Read more

ناصر اور اس کی بستی

جانے کتنے سالوں بعد کچے آنگن میں قدم دھرا۔ سرخ شینیل سے سجے اور بڑی شان سے بچھے نواڑ کے پلنگ دیکھتے ہی طبیعت آرام کے لیے للچا گئی، صحن کے بیچوں بیچ لہلہاتے اِملی کے پیڑ کی گھنی ٹہنیوں کو جو سر اٹھا کر دیکھا تو وہ سکون ملا جس سے میں ایک عرصے سے محروم تھی۔ اس بے سکونی کو رفع کرنے کے لیے وقت کے مرہم کا ہزارہا لیپ کیا، لیکن ظالم وقت کی بیمار کروٹوں تلے دب کر زندگی اور شکن آلود ہوگئی۔ پھر خود کو یہ سوچ کر تسلی دے ڈالی کہ جب سینے میں ہی دلِِ بے قرار نصب ہو، تو اس کو بہلانے کی ساری کوششیں رائیگاں ہونے کے سوا اور کریں بھی کیا؟

پھر ایک خوش گوار صبح، ہوا کے ٹھنڈے جھونکے مجھے اڑا کر مسلم گوٹھ لے پہنچے۔ کچھ دن قبل جب ناصر نے مجھے اپنے گھر چلنے کی دعوت دی، تو میں نے مسکرا کے سر ہلا دیا تھا۔ ناصر کا دل جو رکھنا تھا۔ آپ لوگ اب پوچھیں گے کہ ناصر کون ہے؟ ناصر میرے بہت سارے مسئلوں میں سے اکثر کا حل ہے۔

Read more

ایل سلواڈور میں اسقاطِ حمل کا غیر انسانی قانون

ایمیلڈا کارٹیز کا تعلق ایل سلواڈور کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے۔ سترہ سال کی عمر میں ایمیلڈا کو اس کے ستر سالہ سوتیلے باپ نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہو گئی۔ کم عمری اور لاعلمی کی وجہ سے ایمیلڈا اپنے حمل سے یکسر بے خبر تھی۔ سو نہ وہ کسی اسپتال گئی اور نہ اس نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں کسی کو بتایا۔ ایک دن اچانک اس کے پیٹ میں شدید درد اٹھا او ر وقت سے پہلے ہی اپنے گھر کے واش روم میں ہی ایمیلڈا نے ایک بچی کو جنم دے دیا۔

بچی انتہائی غیر محفوظ طریقے سے پیدا ہونے کے بعد بھی محفوظ رہی لیکن ایمیلڈا کو جیل بھیج دیا گیا۔ ایمیلڈا کا شمار ایل سلواڈور کی ان سیکڑوں بد قسمت عورتوں میں ہوتا ہے جو اپنے ملک میں اسقاطِ حمل کے بدترین قانون کا بری طرح شکار بنی ہوئی ہیں۔

Read more

میک اپ اور گاڑیاں چمکانے کے شوق کی قیمت بچوں کا لہو ہے

یوں تو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے دنیا کا کوئی بھی خطہ محفوظ نہیں۔ امریکا ہو یا یورپ، افریقہ ہو یا ایشیا، سب جگہ کی رونقیں فقط ہنگاموں پہ ہی موقوف ہیں، لیکن بھارت کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں ان ہنگاموں سے محفوظ و مامون رہنے کے لیے انسانیت آئے دن سر پٹ دوڑتی ہے مگر رکھوالوں کی چین بھری نیند میں کوئی خلل نہیں آتا۔ انتہاپسند اور نام نہاد جمہوری بھارت میں انسانیت کا لازوال جذبہ، فرسودہ اور باطل قرار پا چکا ہے۔

خطِ غربت سے کہیں نیچے زندگی گھسیٹنے والے بھارتی غیرانسانی ماحول میں روزی کمانے پر مجبور ہیں۔ خصوصاً بھارت کے شعبۂ کان کنی میں مزدوروں کی حالت قابلِ رحم ہے۔ غیرقانونی کان کنی کے اعتبار سے بھارت کا نام پوری دنیا میں بدنام ہوچکا ہے۔ 2014 میں یہاں پانچ ہزار غیرقانونی کانوں پر پابندی لگادی گئی تھی مگر ریاستی حکومتوں کے لیے عدالتی احکامات سے زیادہ اہم مالی مفادات ٹھہرے، یوں وہ اس حکم نامے پر عمل کروانے میں ناکام ہوگئیں۔

Read more

سندھ کے وڈیرے اور امبانی کی شادی

شادی کی تقریب سے زیادہ یہ سندھ کی وڈیرہ شاہی کا کھلم کھلا اظہار تھا۔ پیسے کا بہاؤ بازار میں کھڑی کسی طوائف کی طرح سارے بند توڑ چکا تھا۔ سندھ کی روایتی ٹوپیوں اور اجرکوں میں ملبوس گردنیں تانے لوگوں کے جسم گر چہ مہنگی مہنگی خوشبوؤں میں بسے ہوئے تھے پر جانے کیوں فضا میں سندھ کی قاتل روایتوں کے بھبھکے اڑ اڑ کر سڑاند بھر رہے تھے۔ میں عالمِ بے زاری میں واٹس ایپ پر خود کو مصروف رکھنے کی بے تکی سی کوشش کر رہی تھی کہ میری بیٹی نے ساتھ والی کرسی پر ڈیرا جمایا اور وڈیرے کا مطلب پوچھ ڈالا۔

سوال کے ساتھ بیٹی کا اشتیاق اور میری بے زاری مزید بڑھ گئی۔ سندھ کی دھرتی سے تعلق رکھنے والی اپنی سات پھوپھیوں کے چہرے میری نظروں کے سامنے گھومے اور میں صبر کے بڑے بڑے گھونٹوں کے ساتھ جواب بھی پی گئی، لیکن وہ بھی میری ہی بیٹی تھی ہار کیسے مان جاتی؟ جواب جاننے کی لگن میں میرے بازو پر مسلسل اپنی کہنی سے ٹہوکے لگاتی رہی۔ میں نے مجبوراً انتہائی بے تکا جواب دیا کہ بیٹا وڈیرے سندھ کے ہوتے ہیں ناں۔ بیٹی نے جھٹ کہا، ”ماما! سندھ کے وڈیرے مطلب سندھ کے چور؟ “ میں بری طرح سٹپٹا گئی۔ بیٹی کو گھورتے ہوئے جلدی سے آس پاس دیکھا اور سکون کا سانس بھرا۔ یہ اور بات کہ زیادہ اطمینان اس بات کا تھا کہ چھوٹی سی عمر میں اس نے ایک پوری صدی کے استحصالی نظام کا فلسفہ اپنی بہترین قوتِ مشاہدہ کی بدولت خود ہی سمجھ لیا۔

Read more

امبانی کی شادی: سال کا سب سے بھیانک سچ

بغیر کسی تمہید کے سال کا سب سے بھیانک سچ سنیے۔ وہ یہ کہ بھارت کے نمبر ون کھرب پتی مکیش امبانی کی بیٹی کی شادی میں، تمام ہندوانہ رسوم کا پالن کرنے پر بھگوان ان سے بے حد خوش ہوا۔ پندرہ ملین امریکی ڈالر کی لاگت سے ہونے والی یہ شادی غربت کے گھپ اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مارتے بھارتیوں کو کچھ اس لیے بھی سرتاپا نہال کرگئی کہ تقریب میں سابق امریکی خاتونِ اول ہیلری کلنٹن اور سینیٹر جان کیری بھی ”اوم جے جگ دیش ہرے“ کی لے پر کھڑے آرتی اتارتے نظر آئے، جس سے ہندوتوا سماج کا سر فخر سے بلند ہوگیا۔

ڈیڑھ ڈالر روزانہ پر جینے والے بھارتیوں کی اکثریت اپنی غربت کی لکیر پر پڑنے والے ریلائینس کمپنی کے ہاتھی جیسے پاؤں سے صرفِ نظر کرکے اس کھوج میں لگی رہی کہ بولی وڈ کے خانوں اور دیگر مسلمان اداکاروں نے بھی آرتی اتاری یا نہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ سنگیت کی ساری محفلوں میں ٹھمکے لگانے کے بعد انہیں اچانک اپنا مذہب یاد آگیا ہو۔ ٹویٹر پر بھارتی شہری مکیش امبانی کو مبارک باد دیتے رہے کہ انہوں نے ہندو مذہبی رسومات کا خیال رکھ کر سب کے دلوں میں اپنی عزت اور قدر میں مزید اضافہ کرلیا ہے۔

Read more

لاپتا پاکستان کے گم شدہ افراد

بھاری بوٹوں کی دھمک سے زمین گونج رہی تھی۔ کالے نقابوں سے چہرے چھپائے اسلحے سے لیس بنا وردی والے آدھی رات کو دروازے پیٹ رہے تھے۔ یہاں سے وہاں تک ہٹو بچو کا اعلان کرتے سَر ہی سَرگردش میں تھے۔ اور پھر ملزم ہاتھ لگ گیا۔ بنا کسی مزاحمت کے مطلوب ملزم قانون کے…

Read more

عورتوں کے لیے سب سے خطرناک جگہ ان کا اپنا گھر ہے

یہ جان کر بھی کہ عورتوں پر ہونے والے ظلم کے بیان پر بہت سے مَردوں کا منہ حلق تک کڑوا ہوجاتا ہے، میں یہ سطریں لکھنے پر مجبور ہوں۔ عورتوں پر تشدد کی تاریخ انسانی وجود کی طرح پرانی ہے، لیکن کیا وجہ ہے کہ اس ظلم کو ظلم تو تسلیم کیا جاتا ہے مگر اس کا تدارک آج تک نہ ہوسکا۔ شاید مردانہ سماج اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ کاتب تقدیر نے عورت کے جسم میں تشدد سہنے کے جراثیم خون اور روح کی طرح شامل کردیے ہیں، اسی لیے دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں کی خواتین بھی اس ظلم کی روک تھام میں بے بس ہو چکی ہیں۔

Read more

بے وفا شوہر سے انتقام

میں احمر کی زندگی میں آنے والی ساتویں عورت لیکن احمر میری زندگی میں آنے والا پہلا مرد تھا۔ وہ مرد جس کا احساس نوعمری میں چہرے کی تابانی بڑھاتا ہے، راتوں کی نیندیں اڑاتا ہے، وہ مرد جس کا ہاتھ تھام کر لڑکی خیالوں اور خوابوں میں کتنے ہی ہول ناک آگ کے دریا پھاند جاتی ہے، جس کے سینے میں چھپ کر اپنا بچپن، سہیلیاں، محلے کی گلیاں اور ماں کی لوریاں سب بھول جاتی ہے، جس کے چوڑے شانوں کے پیچھے سے جھانک کر سامنے کا جو راستہ دیکھتی ہے تو نامعلوم سارے خار کہاں غائب ہوجاتے ہیں، بس پھول ہی پھول کِھلے نظر آتے ہیں۔ وہ مرد جو سب کے لیے عام ہوکر بھی اس کے لیے خاص ہوتا ہے۔ احمر میرے لیے ایک ایسا ہی مَرد تھا۔ شادی کی پہلی رات احمر نے اپنی پوری زندگی کی کتاب میرے سامنے کھول کر رکھ دی۔ میرا ہاتھ تھام کر اپنے ایک ایک معاشقے کی داستان سناکر کہا، ”ثمین! یہ ہے تمہارا احمر اب یہ بس تمہارا ہے، اسے سمیٹ لو۔ “

Read more