کاش دنیا گول نہ ہوتی

کتنے اچھے دن تھے وہ جب برسوں بعد کوئی پرانا شناسا راہ چلتے ملتا، دونوں تپاک سے گلے ملتے، پرانی یادیں تازہ ہوتیں، دوبارہ رابطے میں رہنے کا عہد باندھا جاتا اور اس تشنہ ملاقات میں ایک جملے سے ضرور رنگ بھرا جاتا کہ ”یار! یقین آہی گیا کہ دنیا گول ہے، بچھڑنے والے واقعی…

Read more

کیا ”حضور بخش مینٹیلیٹی“ سے نجات ممکن ہے؟

حضور بخش کی چار بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے یہ ڈرائیور ہیں۔ چالیس کے پیٹے میں چل رہے ہیں۔ کل ان کی بارہ سالہ بیٹی اسکول میں داخلے کے لیے میرے پاس آئی۔ بچی بلا کی ذہین اور خوب صورت تھی۔ گھبرائی اور شرمائی میرے سامنے بیٹھی خواہش کا اظہار کر رہی تھی کہ وہ پڑھنا چاہتی ہے۔ میں نے اس کے حوصلے کی داد دی اور اس سے داخلے کے لیے چند ضروری کاغذات مانگے، جن میں اس کی پیدائش کا سرٹیفیکیٹ اور تصویریں شامل تھیں۔

میرا مطالبہ کچھ ایسا بڑا تو نہ تھا لیکن جانے کیوں مایوسی کے بڑے بڑے سائے اس کے معصوم چہرے پر لہرانے لگے۔ پوچھنے پر بتایا کہ اس کے گھر میں بیٹیوں کی پیدائش کا سرٹیفیکیٹ نہیں بنوایا جاتا۔

Read more

فیملی فرینڈلی دفاتر وقت کی اشد ضرورت ہیں

ایک عورت کے لیے ماں ہونا دیگر تمام رشتوں سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ابھی کچھ دہائیوں پہلے کے وہ مناظر بھی نظروں میں تازہ ہیں جب معاشی مسائل اس قدر بے قابو نہ ہوئے تھے اور ایک مرد کی کمائی سے پورا خاندان عزت سے گزارا کر لیتا تھا، یوں مائیں اپنے دن کا زیادہ تر حصہ اولاد کی پیدائش اور پرورش کے تمام معاملات نبیڑنے میں بتا دیا کرتی تھیں۔ وقت ایک سا نہیں رہتا۔ وہ وقت گزر گیا۔ ان آنکھوں نے پھر وہ دہائی بھی دیکھی جب معاش کا حصول آسان نہ رہا، مسابقت کی دوڑ، اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور پھر تیزی سے تبدیل ہونے والے طرزِزندگی نے ایک پہیے پر مزید انحصار کرنے سے انکار کردیا۔

Read more

ہم سے عید پر بھی کوئی گلے نہیں ملتا

چہرہ رعونت سے اور لہجہ اس خاص قسم کے گھمنڈ سے عاری تھا جو ہمارے وطن میں پولیس والوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔ ابھی ابھی ایک اے ایس آئی میرے سامنے سے اٹھ کر گیا ہے۔ آدھے گھنٹے اس کے ساتھ ہونے والی گفتگو نے اگر ایک طرف اس ملک کے استحصالی نظام کا گھناؤنا اور پوشیدہ چہرہ بے نقاب کیا تو دوسری طرف ایک عام پولیس اہل کار کے لیے دل میں موجود وہ مکروہ جذبات بھی کم کرنے پر اکسایا، جو بدقسمتی سے تقریباً ہر پاکستانی شہری کے دل میں پولیس والوں کے لیے لازمی طور پر موجود ہیں۔

Read more

اپنا ٹائم آتا نہیں لانا پڑتا ہے

یہ گبول گوٹھ کی پیچیدہ اور ٹیڑھی میڑھی گلیاں ہیں۔ اس گوٹھ کی حالت بھی کم و بیش وہی ہے جو کراچی کے دیگرگوٹھوں کی ہے۔ وہی ابلتے گٹر، جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، ڈھابوں پر فارغ مَردوں کا جھمگھٹا، شدید ابتر معاشی حالت سے بے خبر حلق سے ابلتے قہقہوں کی آوازیں، ہر دکان پر اونچی آواز میں بجتے گانے اور ان پر جھومتے جوان اور بوڑھے سر۔ اب تک کی زندگی میں بے شمار گوٹھ دیکھے، ان سب میں ایک بات مجھے مشترک لگتی ہے اور وہ ہے شہر کا حصہ ہونے کے باوجود شہری طرزِزندگی کا ان سے روٹھے رہنا۔

Read more

بھکاری مافیا کے ہاتھوں کابل سے اغوا ہو کر کراچی پہنچنے والی دو بچیاں

کابل کی گلیوں میں بے فکری سے کھیلنے اور ماں باپ کی آغوش میں چین سے سونے والی بارہ سالہ مستورہ اور آٹھ سالہ فاطمہ کو کب پتا تھا کہ ان پر ایسا برا وقت بھی آئے گا جب ان سے کراچی کی سڑکوں پر بھیک منگوائی جائے گی۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل سے تعلق رکھنے والے چالیس سالہ محمد حسن کی دونوں بیٹیاں بین الاقوامی بھکاری مافیا کے ہتھے چڑھ گئیں، راتوں رات جعلی کاغذات بنا کر انہیں پاکستان اسمگل کردیا گیا۔ رمضان کی حالیہ گزرنے والی با برکت ساعتوں میں ان بچیوں سے کراچی میں نہ صرف بھیک منگوائی گئی، بلکہ انہیں خوف زدہ کرنے کے لیے بے تحاشا تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

Read more

بلال! تم کو یہی مٹی کھا گئی

بلال مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے جس دن فیس بک پر تمہاری فرینڈ ریکویسٹ آئی تھی۔ میں اسے قبول کرنے میں کیوں ہچکچا رہی تھی، یہ تم بھی اچھی طرح جانتے ہو اور میں بھی۔ میں نے اس دن ایک بار پھر تمہاری ٹائم لائن کا وزٹ کیا، کچھ دیر سوچا اور ایک کلک کے بعد تم میری فہرست میں ایک دوست کی حیثیت سے شامل تھے۔ بلال، کتنی عجیب بات ہے کہ میں بھی سب کی طرح تم کو لفظوں سے پرکھتی اور دوسروں کی زبانی پڑھتی رہی، تمہارے اندر ایک جنونی مولوی کی کھوج میں لگی رہی تاکہ تنقید کا مزہ اٹھا سکوں، انگلی اٹھا کر مسکرا سکوں۔ میں تمہارے خیالات کو معاشرے کے جدید معیار پر رکھ کر تولتی اور مسترد کرتی رہوں۔

Read more

بس پانچ دن اور وحشی درندے

وہ بدنصیب ان دنوں اپنا شمار ان چند خوش نصیبوں میں کر رہی تھی جو خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے محنت اور لگن سے اپنے حالات بدلنے جا رہے تھے۔ کراچی کے بگڑتے حالات سہنے کے لیے اپنے شوہر اور دو سالہ بیٹے کے ساتھ صرف پانچ دن اور اس ملک میں تھی۔ پانچ دن بعد سب کچھ بدلنے والا تھا۔ پردیس کو اپنا دیس بنانے کی خوشی تھی تو اپنوں کو انہی حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ جانے کا دکھ بھی تھا۔ اس شام حالات ذرا معمول پر لگے تو بچے کو ماں کے پاس چھوڑ کر دونوں میاں بیوی رکے ہوئے کاموں کو سمیٹنے نکل پڑے اور واپسی میں اس علاقے کو اپنی گزر گاہ بنانے کی غلطی کر بیٹھے جہاں نظریہ قومیت کا علم تھامے بے شمار وحشی فلسفہ انسانیت کی توہین کرنے کو سرِراہ کھڑے تھے۔

Read more

میں ایشوریا جیسی ماں بننا چاہتی ہوں

ایک زمانے میں فلم دیوداس کی میں اتنی ہی دیوانی تھی جتنا پارو اپنے دیو کی۔ پارو بیاہ کر دوسرے گاؤں کیا گئی، دیوداس، بنا کسی کے کہے دنیا ہی چھوڑ گئے۔ جانے کتنی بار میں نے یہ فلم دیکھی، کوئی حساب نہیں۔ فلم میں پارو کا مرکزی کردار نبھانے والی ایشوریا رائے نے مجھے جس طرح متاثر کیا اس کے بعد سے آج تک میں اس کی اصل زندگی کا یوں پیچھا کرتی ہوں، گویا اس کی مداح نہ ہوئی بلکہ ”پاپارازی“ ہوگئی۔ اس کھوج اور تجسس نے جس حقیقت کو مجھ پر آشکار کیا وہ یہ کہ صرف فلموں میں ہی نہیں بلکہ عام زندگی میں بھی ایک عورت کی حیثیت سے ایشوریا کا کردار لائقِ تحسین ہے۔ سب چھوڑیے، صرف ایک ماں کے روپ میں ہی اسے جانچیں تو آنکھیں حیرت سے کھلی رہ جاتی ہیں۔

Read more

وراثت ہڑپنے سے روزہ تو نہیں ٹوٹتا؟

ماہِ مبارک کی برکت سے مسلمانوں پر نیکیوں کا چڑھا جوش قابل دید ہوتا ہے۔ پورے سال کے کردہ و ناکردہ گناہ اسی ماہ بخشوانے کی لگن میں اپنی استطاعت سے بڑھ کر کردار ادا کیا جاتا ہے، مستحقین کے لیے جیب اور دل دونوں کشادہ کر دیے جاتے ہیں، مصلوں پر سجدوں کی بھرمار ہوتی ہے، دعا کے لیے ہاتھ، اٹھے اٹھے تھکتے نہیں، صدا لگانے والے خالی ہاتھ لوٹتے نہیں، گھروں سے لے کر سڑکوں تک ایسے روح پرور مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ اللہ اللہ۔

قرآنی احکامات کی یاددہانی کا سلسلہ چاند دیکھنے سے شروع ہو کر چاند دیکھنے تک ہی جاری رہتا ہے۔ اچھی بات ہے، یہی ہونا بھی چاہیے۔ لیکن وراثت کی تقسیم ایک ایسا معاملہ ہے جس کے بارے میں رمضان میں بھی گھروں سے لے کر منبروں تک سناٹا چھایا رہتا ہے۔ ہر طرف زکوٰۃ، صدقات اور عطیات کی چیخ وپکارتو ہوتی ہے، لیکن کسی کونے سے وراثت کی تقسیم کے لیے آواز بلند نہیں ہوتی۔ انسانی زندگی کے اس اہم ترین حکم کی طرف سے پورے سال کی طرح اس ماہ بھی آنکھیں بند کرلی جاتی ہیں، کیوں کہ بعض لالچی قسم کے مسلمانوں کے نزدیک یہ واحد چیز ہے جس کو ہڑپنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

Read more