انٹری ٹیسٹ کی تیاری یا خوابوں کی سوداگری

تعلیم صرف ایک خواب نہیں، بلکہ والدین کی پلکوں پر رکھا ایک چراغ ہے۔ ایک ایسی تمنّا ہے، جو ہر ماں باپ کے دل میں اپنے بچوں کے لیے پنپتی ہے۔ دن رات کی مشقت، آرام و سکون کی قربانی، اور محدود وسائل کے باوجود اسکول، کالج، یونیورسٹی تک اپنے بچوں کی تعلیم کا سفر محض اس ایک امید پر جاری رکھتے ہیں کہ بچے پڑھ لکھ کر ایک دن ضرور کچھ بن جائیں گے اور ان سے بہتر زندگی

Read more

دسترخوان: تہذیب، روایت اور رشتوں کی زنجیر

دسترخوان ایک قدیم روایت جو صرف کھانے کے لیے بچھائے جانے والے کپڑے تک محدود نہیں، بلکہ مشرقی تہذیب کی جڑوں میں پیوست ایک علامت سمجھی جاتی تھی۔ وہ وقت تیزی سے رخصت ہو رہا ہے جب دستر خوان محبت، سلیقے اور خاندان کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا کرتے تھے۔ اس پر صرف کھانا نہیں بلکہ تعلقات، جذبات، قربتیں اور نسلوں کی تربیت رکھی جاتی تھی۔ جب دسترخوان بچھایا جاتا تھا تو اس کے گرد صرف خاندان کے افراد

Read more

دعا زہرہ کیس سے کیا سبق لیا جائے

سپریم کورٹ نے بھی دعا زہرہ کیس پر قلم چلا دیا۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عدالت کے فیصلے کو تسلیم کر لیا جائے، لیکن معاملہ یہ ہے کہ سماجی میڈیا اب بھی میدان جنگ بنا ہوا ہے، بلکہ شور اور لعن طعن کا سلسلہ دراز ہو گیا ہے۔ ملک کے دو بڑے فرقوں کے ماننے والے واضح طور پر گروہوں میں تقسیم ہو کر ساری انتہائیں پار کر چکے ہیں۔ خیر سماجی میڈیا پر اخلاقی گراوٹ کے

Read more

پاکستان میں کورٹ میرج کا مکروہ دھندا

گیارہ سال کی عمر میں فیس بک پر اپنی ہم عمر لڑکی سے دوستی ہوئی۔ اس دوستی نے محبت کا چولا اوڑھنے میں کچھ زیادہ ہی سرعت دکھائی اور محبت کے جذبے سے مغلوب یہ کم عمر جوڑا گھر سے بھاگ کر حیدرآباد پہنچ گیا۔ عشق کا سودا ایسا سر میں سمایا کہ یہاں کی سیشن کورٹ سے اجازت نامہ حاصل کر نے کے بعد شادی بھی کرڈالی۔ لڑکی کے گھر والوں نے اپنی عزت بچانے کے لیے لڑکے پر

Read more

پاکستانی مردوں کو غیرت کا ناجائز حمل ٹھہر گیا

میرا تعلق ایسے ملک سے ہے جہاں بچپن ہی سے لڑکیوں کی اخلاقی تربیت پر ضرورت سے زیادہ توجہ د ی جاتی ہے۔ اس پر حیرت بھی نہیں، کیوں کہ جہاں عورتیں نام نہاد مردانہ غیرت کی علامت ہوں، ان کی ذرا سی لغزش سے پگڑیوں کے شملے نیچے ہوجاتے ہوں، ان کی جانب اٹھنے والی غلط نظروں سے خاندانی وقار ملیا میٹ ہو تا ہو، ایسے معاشرے میں بچیوں کو تربیت کے نام پر بے جا سختیوں تلے پروان

Read more

”کرونا“ کا انتظار

پوت کے پاؤں پالنے میں ہی نظر آجاتے ہیں۔ اپنے چھوٹے بیٹے کی کانوں پر جوں تک نہ رینگنے کی عادت دیکھتے ہوئے مجھے ابھی سے یقین ہوچلا ہے کہ بڑا ہو کر یہ سرکاری افسر بنے گا یا پھر سیاست دان۔ سال بھر کا تھا کہ اپنے جنجال کم کرنے کے لیے اس کو موبائل پکڑانے کی غلطی کر بیٹھی۔ اس دن سے اس کا اٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا، کھانا پینا سب یوٹیوب کی سنگت میں ہونے لگا۔ اس

Read more

برائیڈل شاور میں پانی کا ہی شاور دینا بہتر ہے

جب میں نے برائیڈل شاور کا لفظ پہلی بار سنا تو دماغ بھک سے اڑ گیا تھا۔ خود کو بے حد وسیع النظر سمجھنے کے باوجود برائیڈل شاور کی اصطلاح پر شرم سے پانی پانی ہوگئی۔ تصور میں بھارتی فلموں اور ڈراموں کے وہ سین گھومنے لگے جن میں، ہونے والی دلہن آدھے جسم کو تولیے سے ڈھک کر بہت سی عورتوں کے بیچ کسی چوکی پہ بیٹھی ہوتی ہے اور وہ عورتیں اس کے جسم پہ جانے کون کون سی خوشبووں کا لیپ کر کے حسب ِ استطاعت کبھی دودھ سے تو کبھی عرقِ گلاب سے مل مل کر نہلا رہی ہوتی ہیں۔

Read more

اپنے بچوں کی خاطر بچے کم پیدا کریں

سرکار آبادی کم کرنے کا مشورہ دینے کی کتنی بھی وجوہات پیش کرے لیکن میں یہ سمجھتی ہوں کہ آبادی اس لیے بھی کنٹرول کر لینی چاہیے تاکہ اس قوم کے بچوں کو مزید کنفیوز اور پریشان ہونے سے بچایا جا سکے۔ وہ زمانہ گیا جب کسی بچے سے پوچھا جاتا تھا کہ بیٹا کتنے بہن بھائی ہو؟ تو وہ جھٹ ان کی تعداد اور فر فر نام بھی گنوا دیا کرتا تھا۔ لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ دو

Read more

اپنی میڈیکل رپورٹ دیکھ کر بچے یتیم خانے میں جمع کروانے والا باپ

تین کم عمر بچوں کو فلاحی ادارے کے حوالے کر کے جوڑا اطمینان سے رخصت ہوا۔ خاندان بکھرا تو کیا ہوا، نکاح تو بچ گیا۔ اس وقت یہ بچے کراچی کے ایک فلاحی ادارے میں موجود ہیں۔ نئی اور اجنبی دیواروں کے درمیان سہمے ہوئے، گم صم اور خاموش رہتے ہیں۔ شیلٹر ہوم کی ہر عورت میں اپنی ماں کا عکس کھوجتے ہیں، اس کی خوش بو ڈھونڈتے ہیں اور مایوس ہونے پر جی بھر کر روتے ہیں۔ چھوٹے بھائی

Read more

پورن فلمیں، میریٹل ریپ اور بیوی کی بے بسی

انسان بظاہر جتنا مطمئن اور سرشار دکھائی دیتا ہے، کاش اتنا اصل میں بھی ہوتا۔ لیکن رونا کاہے کا! یہ انسان کی پھیلائی ہوئی غلاظت ہی تو ہے جس سے معاشرہ اس قدر سڑ چکا ہے کہ بس ذرا ہی جھانکنے کی کوشش میں تعفن سے دماغ پھٹنے اور سانس رُکنے لگتی ہے اور ہر بار مارے تاسف کے خود سے ہی نظریں ملانا دوبھر ہوجاتا ہے۔ میں بھی اکثر اس کیفیت سے دو چار ہوتی ہوں خاص طور پر

Read more

پولیو مہم : بچوں کی حفاظت مگر عورتوں کا استحصال

کچھ روز قبل صبح کے وقت ہونے والی دستک پر گھر کا دروازہ کھولا تو سامنے دو پولیو ورکر کھڑی تھیں۔ تسلسل سے گھروں کا دورہ کرنے والی یہ پولیو ورکر عموماً بچے کے اسکول اور گھر واپسی کے اوقات سے باخبر ہوتی ہیں۔ اسی لیے میں نے انہیں بے وقت دروازے پر کھڑا دیکھ کر آنے کی وجہ پوچھی تو ان میں سے ایک نے قدرے جھجکتے ہوئے ہلکی سی آواز میں مجھ سے کہا، ”سنیں ہمیں معلوم ہے

Read more

روایتوں کی چتا پر ستی ہونے والی پاکستانی عورتیں

لوگ خود کشی کی طرف کیوں مائل ہوتے ہیں اور کیوں وہ اپنی جان کے آپ ہی درپے ہوجاتے ہیں، یہ موضوع ہمیشہ سے ہی ماہرینِِ نفسیات کی خصوصی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ معاشرے سے جڑے ان گنت مسائل فرد کو خودکشی پر اکساتے ہیں، درست راہنمائی نہ ملنے کے باعث لوگوں کو اپنے ان مسائل کا حل سوائے موت کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ ایک موقر مقامی جریدے میں گذشتہ ماہ شایع ہونے والی رپورٹ کے مطابق

Read more

اسمِ بامسمٰی کشمیری خاتون پروینہ آہن گر

پروینہ آہن گر کون ہے؟ اس کو بی بی سی نے گزشتہ ماہ سو متاثر کن خواتین کی فہرست میں بھلا کیوں شامل کیا ہے؟ اس کی جدوجہد کا جائزہ لینے کے لیے آئیے انتیس سال پیچھے چلتے ہیں۔ یہ 1990 کے وہ دن تھے جب بھارتی فوج اور حریت پسندوں کے درمیان تصادم اپنے عروج پر تھا۔ فوجی جس گھر میں چاہتے گھس جاتے اور جسے چاہے اٹھا کر لے جاتے۔ ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ ٹھہر نہ

Read more

کاش دنیا گول نہ ہوتی

کتنے اچھے دن تھے وہ جب برسوں بعد کوئی پرانا شناسا راہ چلتے ملتا، دونوں تپاک سے گلے ملتے، پرانی یادیں تازہ ہوتیں، دوبارہ رابطے میں رہنے کا عہد باندھا جاتا اور اس تشنہ ملاقات میں ایک جملے سے ضرور رنگ بھرا جاتا کہ ”یار! یقین آہی گیا کہ دنیا گول ہے، بچھڑنے والے واقعی کبھی نہ کبھی ضرور آملتے ہیں“۔ لیکن بھلا ہو ٹیکنالوجی کی ترقی کا، جس نے لوگوں کے لیے جو اَن گنت مسائل پیدا کیے، ان

Read more

کیا ”حضور بخش مینٹیلیٹی“ سے نجات ممکن ہے؟

حضور بخش کی چار بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے یہ ڈرائیور ہیں۔ چالیس کے پیٹے میں چل رہے ہیں۔ کل ان کی بارہ سالہ بیٹی اسکول میں داخلے کے لیے میرے پاس آئی۔ بچی بلا کی ذہین اور خوب صورت تھی۔ گھبرائی اور شرمائی میرے سامنے بیٹھی خواہش کا اظہار کر رہی تھی کہ وہ پڑھنا چاہتی ہے۔ میں نے اس کے حوصلے کی داد دی اور اس سے داخلے کے لیے چند ضروری کاغذات مانگے، جن میں اس کی پیدائش کا سرٹیفیکیٹ اور تصویریں شامل تھیں۔

میرا مطالبہ کچھ ایسا بڑا تو نہ تھا لیکن جانے کیوں مایوسی کے بڑے بڑے سائے اس کے معصوم چہرے پر لہرانے لگے۔ پوچھنے پر بتایا کہ اس کے گھر میں بیٹیوں کی پیدائش کا سرٹیفیکیٹ نہیں بنوایا جاتا۔

Read more

فیملی فرینڈلی دفاتر وقت کی اشد ضرورت ہیں

ایک عورت کے لیے ماں ہونا دیگر تمام رشتوں سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ابھی کچھ دہائیوں پہلے کے وہ مناظر بھی نظروں میں تازہ ہیں جب معاشی مسائل اس قدر بے قابو نہ ہوئے تھے اور ایک مرد کی کمائی سے پورا خاندان عزت سے گزارا کر لیتا تھا، یوں مائیں اپنے دن کا زیادہ تر حصہ اولاد کی پیدائش اور پرورش کے تمام معاملات نبیڑنے میں بتا دیا کرتی تھیں۔ وقت ایک سا نہیں رہتا۔ وہ وقت گزر گیا۔ ان آنکھوں نے پھر وہ دہائی بھی دیکھی جب معاش کا حصول آسان نہ رہا، مسابقت کی دوڑ، اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور پھر تیزی سے تبدیل ہونے والے طرزِزندگی نے ایک پہیے پر مزید انحصار کرنے سے انکار کردیا۔

Read more

ہم سے عید پر بھی کوئی گلے نہیں ملتا

چہرہ رعونت سے اور لہجہ اس خاص قسم کے گھمنڈ سے عاری تھا جو ہمارے وطن میں پولیس والوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔ ابھی ابھی ایک اے ایس آئی میرے سامنے سے اٹھ کر گیا ہے۔ آدھے گھنٹے اس کے ساتھ ہونے والی گفتگو نے اگر ایک طرف اس ملک کے استحصالی نظام کا گھناؤنا اور پوشیدہ چہرہ بے نقاب کیا تو دوسری طرف ایک عام پولیس اہل کار کے لیے دل میں موجود وہ مکروہ جذبات بھی کم کرنے پر اکسایا، جو بدقسمتی سے تقریباً ہر پاکستانی شہری کے دل میں پولیس والوں کے لیے لازمی طور پر موجود ہیں۔

Read more

اپنا ٹائم آتا نہیں لانا پڑتا ہے

یہ گبول گوٹھ کی پیچیدہ اور ٹیڑھی میڑھی گلیاں ہیں۔ اس گوٹھ کی حالت بھی کم و بیش وہی ہے جو کراچی کے دیگرگوٹھوں کی ہے۔ وہی ابلتے گٹر، جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، ڈھابوں پر فارغ مَردوں کا جھمگھٹا، شدید ابتر معاشی حالت سے بے خبر حلق سے ابلتے قہقہوں کی آوازیں، ہر دکان پر اونچی آواز میں بجتے گانے اور ان پر جھومتے جوان اور بوڑھے سر۔ اب تک کی زندگی میں بے شمار گوٹھ دیکھے، ان سب میں ایک بات مجھے مشترک لگتی ہے اور وہ ہے شہر کا حصہ ہونے کے باوجود شہری طرزِزندگی کا ان سے روٹھے رہنا۔

Read more

بھکاری مافیا کے ہاتھوں کابل سے اغوا ہو کر کراچی پہنچنے والی دو بچیاں

کابل کی گلیوں میں بے فکری سے کھیلنے اور ماں باپ کی آغوش میں چین سے سونے والی بارہ سالہ مستورہ اور آٹھ سالہ فاطمہ کو کب پتا تھا کہ ان پر ایسا برا وقت بھی آئے گا جب ان سے کراچی کی سڑکوں پر بھیک منگوائی جائے گی۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل سے تعلق رکھنے والے چالیس سالہ محمد حسن کی دونوں بیٹیاں بین الاقوامی بھکاری مافیا کے ہتھے چڑھ گئیں، راتوں رات جعلی کاغذات بنا کر انہیں پاکستان اسمگل کردیا گیا۔ رمضان کی حالیہ گزرنے والی با برکت ساعتوں میں ان بچیوں سے کراچی میں نہ صرف بھیک منگوائی گئی، بلکہ انہیں خوف زدہ کرنے کے لیے بے تحاشا تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

Read more

بلال! تم کو یہی مٹی کھا گئی

بلال مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے جس دن فیس بک پر تمہاری فرینڈ ریکویسٹ آئی تھی۔ میں اسے قبول کرنے میں کیوں ہچکچا رہی تھی، یہ تم بھی اچھی طرح جانتے ہو اور میں بھی۔ میں نے اس دن ایک بار پھر تمہاری ٹائم لائن کا وزٹ کیا، کچھ دیر سوچا اور ایک کلک کے بعد تم میری فہرست میں ایک دوست کی حیثیت سے شامل تھے۔ بلال، کتنی عجیب بات ہے کہ میں بھی سب کی طرح تم کو لفظوں سے پرکھتی اور دوسروں کی زبانی پڑھتی رہی، تمہارے اندر ایک جنونی مولوی کی کھوج میں لگی رہی تاکہ تنقید کا مزہ اٹھا سکوں، انگلی اٹھا کر مسکرا سکوں۔ میں تمہارے خیالات کو معاشرے کے جدید معیار پر رکھ کر تولتی اور مسترد کرتی رہوں۔

Read more

بس پانچ دن اور وحشی درندے

وہ بدنصیب ان دنوں اپنا شمار ان چند خوش نصیبوں میں کر رہی تھی جو خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے محنت اور لگن سے اپنے حالات بدلنے جا رہے تھے۔ کراچی کے بگڑتے حالات سہنے کے لیے اپنے شوہر اور دو سالہ بیٹے کے ساتھ صرف پانچ دن اور اس ملک میں تھی۔ پانچ دن بعد سب کچھ بدلنے والا تھا۔ پردیس کو اپنا دیس بنانے کی خوشی تھی تو اپنوں کو انہی حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ جانے کا دکھ بھی تھا۔ اس شام حالات ذرا معمول پر لگے تو بچے کو ماں کے پاس چھوڑ کر دونوں میاں بیوی رکے ہوئے کاموں کو سمیٹنے نکل پڑے اور واپسی میں اس علاقے کو اپنی گزر گاہ بنانے کی غلطی کر بیٹھے جہاں نظریہ قومیت کا علم تھامے بے شمار وحشی فلسفہ انسانیت کی توہین کرنے کو سرِراہ کھڑے تھے۔

Read more

میں ایشوریا جیسی ماں بننا چاہتی ہوں

ایک زمانے میں فلم دیوداس کی میں اتنی ہی دیوانی تھی جتنا پارو اپنے دیو کی۔ پارو بیاہ کر دوسرے گاؤں کیا گئی، دیوداس، بنا کسی کے کہے دنیا ہی چھوڑ گئے۔ جانے کتنی بار میں نے یہ فلم دیکھی، کوئی حساب نہیں۔ فلم میں پارو کا مرکزی کردار نبھانے والی ایشوریا رائے نے مجھے جس طرح متاثر کیا اس کے بعد سے آج تک میں اس کی اصل زندگی کا یوں پیچھا کرتی ہوں، گویا اس کی مداح نہ ہوئی بلکہ ”پاپارازی“ ہوگئی۔ اس کھوج اور تجسس نے جس حقیقت کو مجھ پر آشکار کیا وہ یہ کہ صرف فلموں میں ہی نہیں بلکہ عام زندگی میں بھی ایک عورت کی حیثیت سے ایشوریا کا کردار لائقِ تحسین ہے۔ سب چھوڑیے، صرف ایک ماں کے روپ میں ہی اسے جانچیں تو آنکھیں حیرت سے کھلی رہ جاتی ہیں۔

Read more

وراثت ہڑپنے سے روزہ تو نہیں ٹوٹتا؟

ماہِ مبارک کی برکت سے مسلمانوں پر نیکیوں کا چڑھا جوش قابل دید ہوتا ہے۔ پورے سال کے کردہ و ناکردہ گناہ اسی ماہ بخشوانے کی لگن میں اپنی استطاعت سے بڑھ کر کردار ادا کیا جاتا ہے، مستحقین کے لیے جیب اور دل دونوں کشادہ کر دیے جاتے ہیں، مصلوں پر سجدوں کی بھرمار ہوتی ہے، دعا کے لیے ہاتھ، اٹھے اٹھے تھکتے نہیں، صدا لگانے والے خالی ہاتھ لوٹتے نہیں، گھروں سے لے کر سڑکوں تک ایسے روح پرور مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ اللہ اللہ۔

قرآنی احکامات کی یاددہانی کا سلسلہ چاند دیکھنے سے شروع ہو کر چاند دیکھنے تک ہی جاری رہتا ہے۔ اچھی بات ہے، یہی ہونا بھی چاہیے۔ لیکن وراثت کی تقسیم ایک ایسا معاملہ ہے جس کے بارے میں رمضان میں بھی گھروں سے لے کر منبروں تک سناٹا چھایا رہتا ہے۔ ہر طرف زکوٰۃ، صدقات اور عطیات کی چیخ وپکارتو ہوتی ہے، لیکن کسی کونے سے وراثت کی تقسیم کے لیے آواز بلند نہیں ہوتی۔ انسانی زندگی کے اس اہم ترین حکم کی طرف سے پورے سال کی طرح اس ماہ بھی آنکھیں بند کرلی جاتی ہیں، کیوں کہ بعض لالچی قسم کے مسلمانوں کے نزدیک یہ واحد چیز ہے جس کو ہڑپنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

Read more

نادیہ حسین اور سونم کپور کو رول ماڈل بنائیے

کل انسٹا پر مشہور ماڈل نادیہ حسین کی ایک تصویر نظروں سے گزری اور میں ٹھٹھک گئی۔ خاص بات یہ تھی کہ نادیہ حسین میک اپ سے عاری، بالکل سادہ چہرے اور گھریلو حلیے میں تصویر میں جلوہ گر تھیں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کون سی نئی بات ہے، اکثر اداکاراؤں کی لاعلمی میں ان کی بغیر میک اپ کی تصاویر لے کر اپ لوڈ کردی جاتی ہیں، لیکن یہی اس تصویر کی خاص بات ہے کہ

Read more

می ٹو نہیں اب ہِم ٹو

حقوق نسواں کا نعرہ یقیناً بہت خوش کن ہے۔ مولوی ازم کے بعد پاکستان میں ایک یہی منجن ہے جو خوب بکتا ہے۔ کچھ عرصے پہلے تک میرا خیال تھا کہ یہ نعرہ، ہمارے دیہات، قصبوں اور اندرونِ شہر کی بے بس اور کچلی ہوئی عورتوں کو ان کے حقوق کا صحیح شعور اور ادراک عطا کرنے کی ایک مسلسل تحریک اور جدوجہد کا نام ہے، لیکن صنفی حقوق کے نام پر مغرب سے آنے والی وبائی مہم ”می ٹو“

Read more

عورت کانفرنس کی عورت

”فیس بک پر اسے میسیج کرتے وقت میرے ذہن میں صرف یہ تھا کہ وہ ایک عورت ہے، شاید اس ناتے میرے لیے کچھ کر سکے۔ مجھے لکھنے کے لیے کوئی پلیٹ فارم چاہیے تھا اور وہ سالوں سے ایک خبری ادارے سے وابستہ تھی، سو مدد اور رہنمائی کی گزارش کے ساتھ میں نے اسے اپنا موبائل نمبر بھی بھیج دیا اور جواب کا انتظار کرنے لگی۔ کچھ دن بعد اس کا جواب آیا اور میرے اندر مسرت کی

Read more

آخر مرد کیوں جلدی مرجاتے ہیں؟ اصل وجہ جانیے

برسوں پہلے کا وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب امی نے پہلی بار گھر میں نہاری بنانے کی کوشش کی۔ بڑے بھائی کھانے کے لیے بیٹھے تو پلیٹ ایک طرف کھسکا کر اٹھ گئے اور امی سے بولے کہ اب کبھی نہاری کھانے کا دل چاہے تو بتا دیجیے گا، میں بازار سے لے آؤں گا۔ اس کے بعد امی نے نہاری اس وقت بنائی جب بھائی لمبی اڑان بھر کے وطن کو خیر باد کہہ کر جا چکے

Read more

بیٹی شرافت کی زندگی گزار رہی ہے

پچھلے دنوں اپنی بھانجی کو نئے نمبر سے فون کرنے کی غلطی کر بیٹھی۔ وہ نمبر بھانجی کے موبائل میں محفوظ نہ تھا۔ کافی بار نمبر کال ملائی لیکن دوسری طرف کسی نے ریسیو نہ کی۔ معاملہ ارجنٹ تھا سو میں لگاتار فون کرتی گئی لیکن جواب ندارد۔ سخت جھنجھلاہٹ اور کوفت ہوئی لیکن خود کو تسلی دے کر بہلالیا کہ بھانجی یا تو کہیں مصروف ہوگی یا اس کا موبائل سائلنٹ ہوگا۔ خیر جناب اگلے دن بہن سے رابطہ ہوا تو پوچھنے پر وہ لمبی سی ہائے کر کے کہنے لگی کہ اچھا تم کال کر رہی تھیں، اصل میں میری بچی کسی نئے نمبر سے آنے والی کال وصول ہی نہیں کرتی۔

Read more

برما کی بے بس عورتیں چینی بچے پیدا کرنے کی پابند

میانمار (برما) کے لوگوں پر ہونے والا ظلم و ستم کیا پہلے ہی کم تھا کہ اب یہاں کی عورتیں چین کی ”ایک جوڑا ایک بچہ“ کی ناکام ترین پالیسی کا بھگتان بھی بری طرح کر رہی ہیں۔ کل ای میل پر موصول ہونے والی ہیومن رائٹس واچ کی ایک سو بارہ صفحات پر مشتمل رپورٹ میرے لیے کسی دھماکے سے کم نہ تھی۔ اصل صورت حال یقیناً بیان کردہ حالات سے زیادہ دردناک ہو گی لیکن عالمی بے حسی اس سے کہیں زیادہ اذیت ناک ہے۔ میانمار کی کچن ریاست سے تعلق رکھنے والی ان عورتوں پر ڈھائے جانے والے بھیانک ظلم کی کڑیاں شمالی سرحد سے جا ملتی ہیں، جس کے پار چین کی عظیم الشان ریاست قائم ہے۔

1975 سے 2015 تک چین میں ایک جوڑا ایک بچے کا قانون بزور نافذ کروایا گیا۔ وہ معاشرتی روایات جن میں صرف بیٹا ہی والدین کا بڑھاپے میں کفیل قرار پاتا ہے، اس کے تحت چینی جوڑوں نے صرف بیٹے کی پیدائش کو ترجیح دی اور بڑی تعداد میں بیٹیوں کو شکمِ مادر میں ہی قتل کردیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چین میں عورتوں کی تعداد تیزی سے گھٹنے لگی۔

Read more

میرے وطن میں غریب کی قیمت سوا تین روپے فی درجن

کچھ دن قبل مجھے ایک خاتون ملیں۔ وہ کچھ عرصے سے شدید مالی مسائل کا شکار اور اپنے لیے گھر بیٹھے کسی کام کی تلاش میں تھیں۔ میرے پوچھنے پر بتایا کہ انہیں کام مل گیا ہے۔ نیو کراچی میں چلنے والے ایسے ہی ایک کارخانے کے سیٹھ نے انہیں لڑکیوں کی کڑھائی والی قمیصوں پر موتی لگانے کا کام دیا ہے۔ وہ مجھے قمیص اور موتی دکھاتے ہوئے طریقہ بتانے لگیں، میں حیرت سے ان کے ہاتھوں کو چلتا ہوا دیکھنے لگی۔

Read more

چوٹ لگتی ہے ماں! مت مارو

ننھے منے تین سال کے معصوم بچے کو ماں نے مارا اور خوب ہی مارا۔ اس کا جرم کیا تھا؟ کیوں پھولوں جیسا بچہ اپنی سگی ماں کے ہاتھوں عتاب کا شکار ہوا؟ اپنے ہی پیٹ سے جنا بچہ اتنا بے وقعت کیسے ہوگیا کہ ماں شفقت اور محبت کا دامن چھوڑ کر زبان اور ہاتھ دونوں سے اس کا بدترین استحصال کرنے لگی۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ یہ آئے دن کی کہانی ہے۔ کبھی شوہر کی ڈانٹ سے خائف ہوکر بچے کو بری طرح دھنا جاتا ہے، کبھی ساس کا دل جلانے کے شوق میں معصوم کو تختہ مشق بنایا جاتا ہے، تو کبھی نندوں کی آمد پر بگڑنے والا مزاج بچے کے گال لال کرنے کے بعد بھی سنورتا نہیں۔

اس ظلم کا شکار ایک بچہ نہیں بلکہ پاکستان کا بوسیدہ ہوتا خاندانی نظام اور ٹوٹتے پھوٹتے رشتے ایسے بچوں سے معاشرے کی گود بھرتے جا رہے ہیں۔ مغرب پر لعن طعن کرنے اور انگلیاں اٹھانے والوں کو کب معلوم تھا کہ جلد ہی وہ دن آن پہنچے گا جب یہاں بھی بچے اپنے ہی والدین کے ہاتھوں گھروں میں غیرمحفوظ ہوجائیں گے۔ غیرذمہ دار والدین کے ہاتھوں بچوں پر تشدد کے واقعات تیزی سے بڑھنے کے باوجود اس موضوع پر بات کرنے سے لوگ کنی کتراتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ مذہب کے نام پر والدین کو سونپے جانے والے بے جا اختیارات نے انہیں بچوں کے معاملے میں ایسا دلیر بنا دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ کوئی بھی ناروا سلوک روا رکھنے پر خود کا قابلِ سزا سمجھتے ہیں اور نہ کسی کے سامنے جواب دہ۔

Read more

ناصر اور اس کی بستی

جانے کتنے سالوں بعد کچے آنگن میں قدم دھرا۔ سرخ شینیل سے سجے اور بڑی شان سے بچھے نواڑ کے پلنگ دیکھتے ہی طبیعت آرام کے لیے للچا گئی، صحن کے بیچوں بیچ لہلہاتے اِملی کے پیڑ کی گھنی ٹہنیوں کو جو سر اٹھا کر دیکھا تو وہ سکون ملا جس سے میں ایک عرصے سے محروم تھی۔ اس بے سکونی کو رفع کرنے کے لیے وقت کے مرہم کا ہزارہا لیپ کیا، لیکن ظالم وقت کی بیمار کروٹوں تلے دب کر زندگی اور شکن آلود ہوگئی۔ پھر خود کو یہ سوچ کر تسلی دے ڈالی کہ جب سینے میں ہی دلِِ بے قرار نصب ہو، تو اس کو بہلانے کی ساری کوششیں رائیگاں ہونے کے سوا اور کریں بھی کیا؟

پھر ایک خوش گوار صبح، ہوا کے ٹھنڈے جھونکے مجھے اڑا کر مسلم گوٹھ لے پہنچے۔ کچھ دن قبل جب ناصر نے مجھے اپنے گھر چلنے کی دعوت دی، تو میں نے مسکرا کے سر ہلا دیا تھا۔ ناصر کا دل جو رکھنا تھا۔ آپ لوگ اب پوچھیں گے کہ ناصر کون ہے؟ ناصر میرے بہت سارے مسئلوں میں سے اکثر کا حل ہے۔

Read more

ایل سلواڈور میں اسقاطِ حمل کا غیر انسانی قانون

ایمیلڈا کارٹیز کا تعلق ایل سلواڈور کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے۔ سترہ سال کی عمر میں ایمیلڈا کو اس کے ستر سالہ سوتیلے باپ نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہو گئی۔ کم عمری اور لاعلمی کی وجہ سے ایمیلڈا اپنے حمل سے یکسر بے خبر تھی۔ سو نہ وہ کسی اسپتال گئی اور نہ اس نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں کسی کو بتایا۔ ایک دن اچانک اس کے پیٹ میں شدید درد اٹھا او ر وقت سے پہلے ہی اپنے گھر کے واش روم میں ہی ایمیلڈا نے ایک بچی کو جنم دے دیا۔

بچی انتہائی غیر محفوظ طریقے سے پیدا ہونے کے بعد بھی محفوظ رہی لیکن ایمیلڈا کو جیل بھیج دیا گیا۔ ایمیلڈا کا شمار ایل سلواڈور کی ان سیکڑوں بد قسمت عورتوں میں ہوتا ہے جو اپنے ملک میں اسقاطِ حمل کے بدترین قانون کا بری طرح شکار بنی ہوئی ہیں۔

Read more

میک اپ اور گاڑیاں چمکانے کے شوق کی قیمت بچوں کا لہو ہے

یوں تو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے دنیا کا کوئی بھی خطہ محفوظ نہیں۔ امریکا ہو یا یورپ، افریقہ ہو یا ایشیا، سب جگہ کی رونقیں فقط ہنگاموں پہ ہی موقوف ہیں، لیکن بھارت کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں ان ہنگاموں سے محفوظ و مامون رہنے کے لیے انسانیت آئے دن سر پٹ دوڑتی ہے مگر رکھوالوں کی چین بھری نیند میں کوئی خلل نہیں آتا۔ انتہاپسند اور نام نہاد جمہوری بھارت میں انسانیت کا لازوال جذبہ، فرسودہ اور باطل قرار پا چکا ہے۔

خطِ غربت سے کہیں نیچے زندگی گھسیٹنے والے بھارتی غیرانسانی ماحول میں روزی کمانے پر مجبور ہیں۔ خصوصاً بھارت کے شعبۂ کان کنی میں مزدوروں کی حالت قابلِ رحم ہے۔ غیرقانونی کان کنی کے اعتبار سے بھارت کا نام پوری دنیا میں بدنام ہوچکا ہے۔ 2014 میں یہاں پانچ ہزار غیرقانونی کانوں پر پابندی لگادی گئی تھی مگر ریاستی حکومتوں کے لیے عدالتی احکامات سے زیادہ اہم مالی مفادات ٹھہرے، یوں وہ اس حکم نامے پر عمل کروانے میں ناکام ہوگئیں۔

Read more

سندھ کے وڈیرے اور امبانی کی شادی

شادی کی تقریب سے زیادہ یہ سندھ کی وڈیرہ شاہی کا کھلم کھلا اظہار تھا۔ پیسے کا بہاؤ بازار میں کھڑی کسی طوائف کی طرح سارے بند توڑ چکا تھا۔ سندھ کی روایتی ٹوپیوں اور اجرکوں میں ملبوس گردنیں تانے لوگوں کے جسم گر چہ مہنگی مہنگی خوشبوؤں میں بسے ہوئے تھے پر جانے کیوں فضا میں سندھ کی قاتل روایتوں کے بھبھکے اڑ اڑ کر سڑاند بھر رہے تھے۔ میں عالمِ بے زاری میں واٹس ایپ پر خود کو مصروف رکھنے کی بے تکی سی کوشش کر رہی تھی کہ میری بیٹی نے ساتھ والی کرسی پر ڈیرا جمایا اور وڈیرے کا مطلب پوچھ ڈالا۔

سوال کے ساتھ بیٹی کا اشتیاق اور میری بے زاری مزید بڑھ گئی۔ سندھ کی دھرتی سے تعلق رکھنے والی اپنی سات پھوپھیوں کے چہرے میری نظروں کے سامنے گھومے اور میں صبر کے بڑے بڑے گھونٹوں کے ساتھ جواب بھی پی گئی، لیکن وہ بھی میری ہی بیٹی تھی ہار کیسے مان جاتی؟ جواب جاننے کی لگن میں میرے بازو پر مسلسل اپنی کہنی سے ٹہوکے لگاتی رہی۔ میں نے مجبوراً انتہائی بے تکا جواب دیا کہ بیٹا وڈیرے سندھ کے ہوتے ہیں ناں۔ بیٹی نے جھٹ کہا، ”ماما! سندھ کے وڈیرے مطلب سندھ کے چور؟ “ میں بری طرح سٹپٹا گئی۔ بیٹی کو گھورتے ہوئے جلدی سے آس پاس دیکھا اور سکون کا سانس بھرا۔ یہ اور بات کہ زیادہ اطمینان اس بات کا تھا کہ چھوٹی سی عمر میں اس نے ایک پوری صدی کے استحصالی نظام کا فلسفہ اپنی بہترین قوتِ مشاہدہ کی بدولت خود ہی سمجھ لیا۔

Read more

امبانی کی شادی: سال کا سب سے بھیانک سچ

بغیر کسی تمہید کے سال کا سب سے بھیانک سچ سنیے۔ وہ یہ کہ بھارت کے نمبر ون کھرب پتی مکیش امبانی کی بیٹی کی شادی میں، تمام ہندوانہ رسوم کا پالن کرنے پر بھگوان ان سے بے حد خوش ہوا۔ پندرہ ملین امریکی ڈالر کی لاگت سے ہونے والی یہ شادی غربت کے گھپ اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مارتے بھارتیوں کو کچھ اس لیے بھی سرتاپا نہال کرگئی کہ تقریب میں سابق امریکی خاتونِ اول ہیلری کلنٹن اور سینیٹر جان کیری بھی ”اوم جے جگ دیش ہرے“ کی لے پر کھڑے آرتی اتارتے نظر آئے، جس سے ہندوتوا سماج کا سر فخر سے بلند ہوگیا۔

ڈیڑھ ڈالر روزانہ پر جینے والے بھارتیوں کی اکثریت اپنی غربت کی لکیر پر پڑنے والے ریلائینس کمپنی کے ہاتھی جیسے پاؤں سے صرفِ نظر کرکے اس کھوج میں لگی رہی کہ بولی وڈ کے خانوں اور دیگر مسلمان اداکاروں نے بھی آرتی اتاری یا نہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ سنگیت کی ساری محفلوں میں ٹھمکے لگانے کے بعد انہیں اچانک اپنا مذہب یاد آگیا ہو۔ ٹویٹر پر بھارتی شہری مکیش امبانی کو مبارک باد دیتے رہے کہ انہوں نے ہندو مذہبی رسومات کا خیال رکھ کر سب کے دلوں میں اپنی عزت اور قدر میں مزید اضافہ کرلیا ہے۔

Read more

لاپتا پاکستان کے گم شدہ افراد

بھاری بوٹوں کی دھمک سے زمین گونج رہی تھی۔ کالے نقابوں سے چہرے چھپائے اسلحے سے لیس بنا وردی والے آدھی رات کو دروازے پیٹ رہے تھے۔ یہاں سے وہاں تک ہٹو بچو کا اعلان کرتے سَر ہی سَرگردش میں تھے۔ اور پھر ملزم ہاتھ لگ گیا۔ بنا کسی مزاحمت کے مطلوب ملزم قانون کے سخت شکنجے میں چلا تو گیا لیکن پیچھے بہت کچھ رہ گیا۔ چار بچوں کے خوف زدہ چہرے، بیوی کی نم آنکھیں، گھر کی بلکتی

Read more

عورتوں کے لیے سب سے خطرناک جگہ ان کا اپنا گھر ہے

یہ جان کر بھی کہ عورتوں پر ہونے والے ظلم کے بیان پر بہت سے مَردوں کا منہ حلق تک کڑوا ہوجاتا ہے، میں یہ سطریں لکھنے پر مجبور ہوں۔ عورتوں پر تشدد کی تاریخ انسانی وجود کی طرح پرانی ہے، لیکن کیا وجہ ہے کہ اس ظلم کو ظلم تو تسلیم کیا جاتا ہے مگر اس کا تدارک آج تک نہ ہوسکا۔ شاید مردانہ سماج اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ کاتب تقدیر نے عورت کے جسم میں تشدد سہنے کے جراثیم خون اور روح کی طرح شامل کردیے ہیں، اسی لیے دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں کی خواتین بھی اس ظلم کی روک تھام میں بے بس ہو چکی ہیں۔

Read more

بے وفا شوہر سے انتقام

میں احمر کی زندگی میں آنے والی ساتویں عورت لیکن احمر میری زندگی میں آنے والا پہلا مرد تھا۔ وہ مرد جس کا احساس نوعمری میں چہرے کی تابانی بڑھاتا ہے، راتوں کی نیندیں اڑاتا ہے، وہ مرد جس کا ہاتھ تھام کر لڑکی خیالوں اور خوابوں میں کتنے ہی ہول ناک آگ کے دریا پھاند جاتی ہے، جس کے سینے میں چھپ کر اپنا بچپن، سہیلیاں، محلے کی گلیاں اور ماں کی لوریاں سب بھول جاتی ہے، جس کے چوڑے شانوں کے پیچھے سے جھانک کر سامنے کا جو راستہ دیکھتی ہے تو نامعلوم سارے خار کہاں غائب ہوجاتے ہیں، بس پھول ہی پھول کِھلے نظر آتے ہیں۔ وہ مرد جو سب کے لیے عام ہوکر بھی اس کے لیے خاص ہوتا ہے۔ احمر میرے لیے ایک ایسا ہی مَرد تھا۔ شادی کی پہلی رات احمر نے اپنی پوری زندگی کی کتاب میرے سامنے کھول کر رکھ دی۔ میرا ہاتھ تھام کر اپنے ایک ایک معاشقے کی داستان سناکر کہا، ”ثمین! یہ ہے تمہارا احمر اب یہ بس تمہارا ہے، اسے سمیٹ لو۔ “

Read more

سیاست دان عورتوں سے سفاکانہ سلوک

دنیا بھر میں سیاست کے میدان میں عورتوں کی بڑھتی ہوئی شمولیت کی وجہ سے 2018 کو عورتوں کا سال قرار دیا جارہا ہے۔ یہ سچ ہے کہ سیاست کے سنگلاخ میدان میں عورتیں کسی چٹان کی مانند ڈٹتی جارہی ہیں۔ یہ عورتیں سیاست کی بے رنگ دنیامیں اپنے وجود سے رنگ بھرنے نہیں بلکہ تبدیلی کے خواب کی سنہری تعبیر پانے کے لیے میدان میں اتری ہیں۔ دنیا بھر میں اتنی بڑی تعداد میں عورتوں کا سیاسی میدان میں مردوں کو پچھاڑنا یہ ثابت کرتا ہے کہ ماں جیسی دھرتی کو اگر نفرت کے شعلوں سے بچانا ہے تو اقتدار و اختیار اب ان نرم دلوں اور گداز ہاتھوں میں منتقل کرنا نہایت ضروری ہے۔

انتقامی اور جنگی عالمی سیاست کی لہروں میں انسانیت کی ڈوبتی ناؤ کے چپو سنبھالنے کے لیے عورتیں دنیا کے ہر خطے میں مستعد ہو چکی ہیں۔ اس وقت برطانیہ، نیوزی لینڈ، ماریشس، آسٹریلیا، نیپال، کروشیا، مالٹا، چلی، اسٹونیا، لیتھونیا، جرمنی، آئس لینڈ، ناروے، بنگلادیش، میانمار، پیرو، سربیا اور نیمیبیا میں عورتیں بطور سربراہِ مملکت یاحکومت کام کر رہی ہیں، جو بین الاقوامی سربراہان کا 6.3 فی صد بنتا ہے۔ اس کے علاوہ پارلیمینٹ کی سیٹیں بھی ایک بڑی تعداد میں خواتین کے پاس ہیں۔

Read more

باپ کا نام نہیں چاہیے

میڈیا کے کیمرے کئی بار اس بچی کی آواز بنے، وہ جو زارو قطار روتے ہوئے کہتی ہے کہ اسے اپنے باپ کا نام نہیں چاہیے۔ یہ تطہیر فاطمہ ہے، جس کا باپ اسے بچپن کی ابتدائی دہلیز پر چھوڑ گیا اور جاتے جاتے اپنی شناخت بھی لے گیا۔ باپ کے ہاتھوں پڑنے والے اس ڈاکے کا سب سے زیادہ نقصان تطہیر نے بھگتا۔ اس کے تمام تعلیمی مراحل روتے سسکتے آگے بڑھے، کتنی ہی امیدوں کے جگنوؤں کو وہ پکڑ نہ سکی، کتنے ہی خوابوں کی تعبیر دیکھ نہ سکی، کیوں کہ ملکی قانون کے مطابق ہر قدم پر اس کو باپ کے نام کی شناختی دستاویزات چاہیے تھیں جو اس کے پاس نہ تھیں۔

Read more

پین دی سری صفیہ مسیح

ویسے تو ہر واقعہ کوئی نہ کوئی سبق دے کر ہی جاتا ہے لیکن پچھلے ماہ میرے فلیٹ میں ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے مجھے بچی کھچی خوش فہمی سے بھی نکال کر پاکستانی معاشرے میں بسنے والی اقلیت اور اکثریت کا فرق کھڑے کھڑے سمجھا دیا۔ میں اس کہانی میں آپ سب کو بھی شامل کرنا چاہتی ہوں۔ اگرچہ ضرب میرے اطراف کے چند معزز مسلمان بھائیوں پر پڑتی ہے لیکن غلطیوں کی نشان دہی کرنا ضروری ہے

Read more

مولوی خادم حسین کی دکھ بھری داستان

ویسے تو مولویوں کے اسلام کی پاکستانی تاریخ بہت کم سانحات سے بھری ہے لیکن خادم حسین کے ساتھ میری تمام ہمدردیاں اس لیے ہیں کہ ان کی باری آنے تک ہماری سرکار نے ”بس کھیل ختم“ کا نعرہ لگا کر ان کی تازہ ترین فُل مسالا مووی کا میڈیائی بائیکاٹ کر ڈالا۔ بھلا کوئی ایسے بھی کرتا ہے؟ جو بیج قیام پاکستان کی بنیادوں میں ڈالے گئے ان سے بننے والے درخت کا پھل کڑوا ہی سہی لیکن اخ

Read more

پاورٹی پورن (Poverty Porn) ذرایع ابلاغ کاایک بھیانک جرم

اس وقت انسٹاگرام پر یونیسیف کی ایک پوسٹ میرے سامنے غربت کو برہنہ کیے پڑی ہے۔ نائیجیریا کے ایک خستہ حال لیبر روم میں دو مڈ وائفس کے درمیان غروب ہوتے افریقی سورج میں اپنے جسم سے نئی جان طلوع کرتی ایک نحیف عورت کی تصویر کو بے شک کوئی زندہ المیے کا بیان ہی کیوں نہ کہے لیکن میں اس کو فقط پوورٹی پورن کا نام دوں گی۔ اس تصویر کو کیمرے کی آنکھ میں مقید کر کے نشر

Read more

لڑکیوں کو کنوارپن کے کٹہرے میں کھڑا کرتا افغان سماج

کبھی کسی نے سوال اٹھایا کہ افغانستان کی جیلوں میں سالوں سے قید ان لڑکیوں کا جرم کیا ہے جس کے بدلے میں وہ جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کیوں یہ قیدی بچیاں معین کردہ سزا کاٹنے کے باوجود رہائی کی ساری امیدیں ختم کر بیٹھی ہیں۔ ریاست سے لے کر خاندان تک کوئی ان کا پُرسانِ حال نہیں۔ ان کو زندگی کی خوشیوں سے محروم کر کے قید میں لا پھینکنے والا وہ بدنامِ زمانہ ورجینیٹی

Read more

کس نے چاہا تجھے

تیز آواز نکالتی ککر کی سیٹی باورچی خانے کے سناٹے کو روندتی ہوئی گھومے جارہی تھی۔ برتنوں کا ڈھیر کسی امیر کی قسمت کی طرح چمکنے کے لیے میرا منتظر سنک پر پڑا بھنبھنا رہا تھا۔ ادھر ادھر بکھرے پانی کے خالی کین باورچی خانے کی سفید روشنی کو وحشت ناک بنا رہے تھے۔ قیمتی چیزوں سے بھرا باورچی خانہ میری عدم توجہ کے باعث جوان اور خوب صورت بیوہ کی طرح سوگوار تھا اور میں ہمیشہ کی طرح موقع

Read more

مودی جی صرف امن ہی نہیں ہر کیٹیگری میں نوبیل انعامات کے حق دار ہیں

سنا ہے بی جے پی تامل ناڈو کی صدر تملسائی سندر راجن نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو نوبیل امن انعام 2019 کے لیے نام زد کردیا ہے۔ ان کی یہ نام زدگی جس کارنامے کی بنا پر ہوئی ہے وہ دنیا کی سب سے بڑی ہیلتھ اسکیم مودی کیئر کا آغاز ہے، جس میں وعدوں کی سرکار نے بھارت کی نصف بلین غریب آبادی کے مفت علاج کا نیا وعدہ کیا ہے۔ چار سال نامعلوم مودی جی کس پنگھوڑے

Read more

بچوں کے سیاسی شعور کی تربیت کریں ورنہ

حالیہ انتخابات میں میرے گیارہ سالہ بیٹے کے جوش و جذبات کا علم دیدنی تھا۔ شام کا کرکٹ کے لیے مختص اس کا وقت انتخابی کیمپوں پر گزرتا۔ وہ گھر آکر مجھے علاقے میں ہونے والی سیاسی سرگرمیوں کی اپ ڈیٹ دیتا، سارا سارا دن پارٹی نغموں پر رقص کرتا اور دوستوں کو جمع کر کے نعرے بازی کرتا۔ انتخابات سے قبل اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک مہم چلائی۔ گتے کے ڈبوں کو کاٹ کر بیلٹ

Read more

مجھے یہیں ماردو میں ہیجڑا ہوں

گذشتہ دنوں ’شائننگ انڈیا میں ہجوم گردی‘ کے زیرعنوان میں نے ایک تحریر لکھی۔ سچ کہوں تو بہت اچھا لگتا ہے دوسروں پر انگلیاں اٹھانا، باتیں بنانا اور چوٹ کرنا۔ پھر موضوع انڈیا ہو تو تنقید کرنے کا لطف ہی دوبالا بلکہ سہ بالا ہوجاتا ہے۔ بھارت کی سڑکوں پر مذہبی انتہاپسندی کی آڑ میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کے بارے میں لکھتے ہوئے میرے اندر ایک انجانا سا سکون اتر تا رہا اور میں سوچتی رہی کہ

Read more

کامیاب عورت اور کمتر مالی

غریب اور نادار بچوں میں تحائف اور نقد رقوم تقسیم کرنے کے لیے شہر کے ایک بڑے ہوٹل میں تقریب منعقد کی گئی تھی۔ غذائی کمی کا شکا زرد چہروں والے بچے، عام سے بھی کم درجے کے کپڑوں، پیوند لگے جوتوں اور تیل سے چپڑے ہوئے بالوں کے ساتھ موجود تھے۔ گھبرائے، شرمائے بچے ایک ایک کر کے اسٹیج پر آتے، میں ان کو والہانہ گلے لگاتی، گال چومتی، کچھ دیر ان کے کانپتے ہاتھوں کو تھام کر کیمرے

Read more

وہ دن جب میں کاری ہونے سے بچی

زندگی نے میرے دکھوں کو ضرب دے کر مجھے بہت تقسیم کیا۔ قدم قدم پر میری ذات کی نفی کی گئی۔ جمع و تفریق کی اس زندگی میں الجھ کر بھی میں آج تک وہ ایک دن نہ بھول سکی جب سندھ کی قدیم رسم کاری کی کالی تاریخ میں میرا خون شامل ہوتے ہوتے رہ گیا۔ وہ دن جب خاندان کے کرتا دھرتا دو طاقت ور مردوں نے بند کمرے میں مجھے شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنا یا،

Read more

میک کین کے جنازے پر جارج بش اور مشل اوباما کے سویٹ مومنٹس

کون ہے جسے شہرت کی خواہش نہیں۔ شہرت سے بے زاری کا اظہار کرنے والے بھی مشہور ہونے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ یہ ایسی کافر لَت ہے کہ ایک بار لگ جائے تو پھر چھٹتی نہیں۔ مشہور شخصیات کی زندگی میں ان کا اپنا کوئی ایک پل بھی نہیں ہوتا۔ کیمرے ان کی نجی زندگی کو بھی پبلک کرنے کے لیے بے چین رہتے ہیں۔ مداح جاننا چاہتے ہیں کہ ان مشہور لوگوں کی نشست و

Read more

کیرالہ میں ”عورتوں کی وجہ سے“ بدترین سیلاب

میں نے بھارتی سیاست و ثقافت کو جس قدر جانا میڈیا کے ذریعے جانا۔ کیمرے کی آنکھ سے بھارت کو دیکھتے ہوئے میں اکثر اپنے اندر الجھتی رہی، سوالوں کی گرہیں کھولنے کے چکر میں گھن چکر بنی رہی۔ ہونٹ بھینچے عجب مخمصوں میں گرفتار رہی۔ خدایا! کس پر اعتبار کروں؟ بولی وڈ کی فلموں اور بھارتی ٹی وی چینلوں کے ڈراموں میں دکھائی جانے والی چمکتی دنیا کو انڈیا جانوں یا بین الاقوامی اخبارات میں بھارت کے دکھائے جانے

Read more

دیہاڑی

میمونہ کو دور سے دیکھنے والوں کی پہلی نظر اس کے غیرمعمولی ابھرے ہوئے سینے پر پڑتی۔ اس کا سینہ تھا ہی ایسا جو بڑے سے بڑے درویش صفت آدمی کا بھی ایمان ڈانوا ڈول کردیتا۔ محلے کے مردوں کی گفتگو کا مرکز اکثر اس کے جسم کا یہی حصہ ہوتا۔ وہ تصور ہی تصور میں میمونہ کے سینے کو بھنبھوڑتے، نوچتے کھسوٹتے اور ان سے لپٹ کر سوجاتے اور خواب سے بے دار ہونے کے بعد فقط آہیں بھرتے۔

Read more

ایک بکھرے گھرانے کا فسانہ عجائب

میں اپنے گھر کے دروازے پر قدم دھر کر جو ذرا بائیں جانب نگاہیں اٹھاتی ہوں تو سامنے ایک کتھئی رنگ کا دروازہ نظر آتا ہے۔ یہ دروازہ بظاہر تو عام دروازوں جیسا ہے جس کے اندر میرے اور آپ کے جیسے ہی چند نفوس سانسیں بھر کر زندہ ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ گھر کے اندر سامان کم وبیش وہی ہے جو فی زمانہ صرف بنیادی ضرورتوں کے زمرے میں آتا ہے لیکن جب وہاں کے مکینوں کی بنیادی

Read more

مَوت کے فرشتے سے راز ونیاز

آہ! آخر تم آگئے۔ ایک دن توتمہیں آنا ہی تھا۔ سانسوں کو الوداع توکہنا تھا۔ موت کے کاندھوں پر جنازہ دھرنا ہی تھا۔ آج تک تم سے فرار بھلا کون پا سکا؟ تم وہ ہو، جس سے ملاقات کی کسی خواہش نے کبھی میرے اندر سر نہ اٹھایا، حتی کہ زندگی نے جب جب کڑوے کسیلے گھونٹ پلائے تو بھی دل کے کسی کونے میں تمہارا کوئی خیال چھو کر نہیں گزرا۔ کہیں جو تمہارا ذکر چھڑا دماغ نے خیال

Read more

قوم کو جگانے کا بے ہودہ اور بھونڈا طریقہ

میں آج کل سر پکڑے انگلیوں پر بس دن ہی شمار کر رہی ہوں کہ جانے کب پچیس جولائی کا سورج طلوع ہو گا۔ رکیے! کہیں یہ نہیں سمجھیے گا کہ میں اس تاریخ کے انتظار میں اس لیے اتاولی ہو رہی ہوں کہ مجھے ووٹ ڈال کر محب وطن شہریوں کی فہرست میں اپنا شمار کروانا ہے۔ ہر گز نہیں۔ میں ان لوگوں کی فہرست میں اپنا نام نہیں لکھوا سکتی جو اپنی حب الوطنی کا ثبوت پیش کرنے

Read more

ایک خوشی کتنی سستی بنی، کتنی مہنگی بکی

        میری بیٹی نے عید پر پہننے کے لیے غرارے کا انتخاب کیا۔ قیمت پوچھی تو دکان دار نے دو ہزار بتائی۔ قیمت کم کروانے پر بحث کرنی چاہی تو دکان دار نے انگلی سے بورڈ کی طرف اشارہ کردیا جس پر فکس پرائس درج تھا۔ اب تو دکان دار سے بھی بحث بے کار تھی اور ہلکے ہرے رنگ کے غرارے کو پُرشوق آنکھوں سے دیکھتی بیٹی سے بھی۔ پرس سے ہزار ہزار کے دو نوٹ نکال

Read more

بوم بوم آفریدی کے سامنے بندھا بے بس شیر

میرا بھتیجا بہت شرارتی اور نٹ کھٹ سا ہے، ٹک کر بیٹھنا تو گویا اس کو آتا ہی نہیں۔ دنیا جہاں کے وہ کون کون سے کھلونے ہیں جو میرا بھائی اس کے لیے لے کر نہیں آتا، اور وہ کچھ ہی دنوں میں ان کا ستیاناس کرکے مزید کی طلب میں ہُمکنے لگتا ہے۔ بہت سارے والدین کی طرح میرے بھائی کا بھی بس نہیں چلتا کہ دنیا کی ہر نعمت اپنے بچے کے قدموں میں ڈھیر کردے۔ بیٹے

Read more

طلاق عیب نہ ہوتی تو آج صبا زندہ ہوتی

اور اب صبا کی باری آگئی۔ اس کو اجل اپنی مرضی سے لے کر نہیں اُڑی بلکہ وہ معاشرے کی سنگ دلی اور بے حسی کی بھینٹ چڑھائی گئی۔ صبا کے قتل کے ذمہ دار تو بہت سارے افراد ہیں۔ سب سے پہلے تو والدین، جو ہر بار اسے سمجھا بجھا کر سسرال نام کے جہنم کی طرف ہنکا دیتے تھے، ان کے نزدیک بھی اہم شاید یہی تھا کہ خاندان کی کانچ جیسی عزت پر آنچ نہ آئے، طلاق

Read more

میرے وطن کی عورتوں کا آن لائن ریپ

”میری بیٹی۔ ۔ ۔ ایم بی اے۔ ۔ ۔ عمر چونتیس سال۔ ۔ ۔ کے لیے رشتہ چاہیے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ، راول پنڈی اور اسلام آباد کے رہائشی لڑکوں کے والدین رجوع کریں۔ (۔ ۔ ۔ سے معذرت)“ فساد کا باعث یہ بریکٹ بنا، جس میں ایک لسانی برادری کا نام لے کر معذرت کی گئی تھی کہ اس برادری کے لوگ رشتہ بھیجنے کی زحمت نہ کریں۔ یہ اشتہار پنڈی سے تعلق رکھنے والے ان بدقسمت والدین کی طرف

Read more

میری ماں کا دم توڑتا ہوا عشق

اس وقت ہاتھوں میں اپنی ماں کی وہ ڈائری لیے بیٹھی ہوں، جس کو پڑھنے کی تو کجا ہاتھ لگانے کی بھی اجازت بھی ماں نے کبھی نہیں دی تھی۔ البتہ دنیا چھوڑنے سے پہلے میرے ہاتھ میں خود وہ ڈائری تھما گئیں، جس کی کھوج میں ہمیشہ ہی میں بے تاب رہی۔ اس ڈائری میں ایسا آخر کیا تھا جسے ماں نے ایک راز کی طرح سب سے چھپا کر رکھا؟ کبھی رات کے کسی پہر جو میری آنکھ

Read more