دنیا کا سب سے مہنگا زہر تیار کیسے ہوتا ہے؟ قیمت ایک ارب دس کروڑ روپے لیٹر
تاہم خطرناک ہونے کے ساتھ اس بچھو کا زہر بہت کارآمد بھی ہے۔ تل ابیب یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل گریوٹز کے مطابق اس زہر کا استعمال بہت سی طبی تحقیقات اور علاج میں کیا جا رہا ہے۔ اس زہر میں کچھ ایسے اجزاء موجود ہوتے ہیں جو درد کش ادویہ کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ 2013 میں شائع ہونے والی فریڈ ہچنسن کینسر ریسرچ سینٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق اس بچھو کا زہر کینسر والے خلیوں کو بننے سے روکتا ہے۔
سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ زہر جسمانی اعضا کی محفوظ منتقلی میں بھی معاون ہوتا ہے۔ کئی بار جسم میں اعضا کی پیوند کاری پر انسانی جسم انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ ایسی صورتحال میں اس زہر میں تبدیلی کر کے، بہت ہی معمولی مقدار میں جسم کے اندر داخل کیا جائے گا جس کے بعد یہ سیدھا مدافعتی نظام پر عمل کرے گا اور مصنوعی اعضا مسترد ہونے کا امکان کم ہوجائے گا۔
اس کے علاوہ یہ زہر ہڈیوں کی بیماریوں میں بھی بہت فائدہ مند ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ انسانی جسم میں ہڈیاں کمزور ہونے لگتی ہیں اور اس طرح کام نہیں کر پاتیں جیسے ایک نوجوان کے جسم میں ہڈیاں کام کرتی ہیں۔ لہٰذا اس زہر کو استعمال کرکے ہڈیوں کے کمزور ہونے کا عمل سست رفتار بنایا جاسکتا ہے۔ 2011 میں کیوبا کے ایک 71 سالہ شخص نے دعویٰ کیا تھا کہ لیوریئس کوانکوسٹیریئس قسم کے کچھ بچھوؤں سے انہوں نے خود کو کٹوایا تھا۔ جیسے ہی بچھوؤں کا زہر اس کے جسم میں داخل ہوا، اس کے سارے درد غائب ہوگئے۔
ان بچھوؤں کا زہر نکالنے کےلیے لیبارٹری میں انہیں کرنٹ دیاجاتا ہے جس کے باعث بچھوؤں کا زہر ان کے ڈنک میں آجاتا ہے جسے ایک بوتل میں محفوظ کرلیا جاتا ہے۔ تاہم یہ عمل بہت پیچیدہ ہے اور ایک وقت میں ایک بچھو کے ڈنک سے صرف ایک بوند زہر نکلتا ہے۔ اس صورت میں ایک لیٹر زہر نکالنے کےلیے تقریباً 1000 سے زائد بچھو درکار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان بچھوؤں کے ایک لیٹر زہر کی قیمت 110 کروڑ روپے کے لگ بھگ ہے۔
واضح رہے کہ اس زہر کا اثر براہ داست دماغ پر ہوتا ہے اور اسی خاصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس زہر پر مزید تحقیق جاری ہے۔ دماغ اور اعصاب پر اثر کرنے والے زہروں کو ’’نیورو ٹاکسنز‘‘ کہا جاتا ہے جو ہلاکت خیز ہونے کے ساتھ ساتھ علاج میں مفید بھی ثابت رہتے ہیں، بشرط یہ کہ انہیں احتیاط سے اور بہت ہی کم مقدار میں استعمال کیا جائے۔





