خود کھانا گرم کر لو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر کوئی شادی شدہ دوست آپ کی کال کے جواب میں اپنی بے انتہا مصروفیت کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ بتائے کہ وہ ایک خاص قسم کی ریسرچ پر کام کر رہا ہے اور گویا ہو کہ

”I am currently working on Aqua-thermal treatment of ceramics, aluminum and steel under a constrained environment.”

تو اس کی تحقیق کی لگن سے متاثر ہونے کی بجائے اپنے نازک دماغ پر زور دے کر سوچئے اور سمجھ جائیے کہ موصوف اپنی بیگم صاحبہ کی نگرانی میں گرم پانی سے برتن دھو رہے ہیں۔۔۔

چلیں یہاں تک وہ شاید محفوظ رہیں کہ ریسرچ کا ٹاپک سب سمجھ نہیں پائیں گے۔ خواتین کے نئے مطالبے کو دیکھیئے۔۔۔

”خود کھانا گرم کر لو ”

اب اس کے لئے ریسرچ کا کونسا ٹاپک لیا جائے کہ دوست مرعوب بھی ہو جائیں اور گردن بھی تنی رہے۔۔۔ چلیں یہاں رکتے ہیں اور ذرا اس بات کے بیک گراونڈ میں جاتے ہیں۔۔۔

آٹھ مارچ دو ہزار اٹھارہ کو لاہور میں خواتین کا عالمی دن مناتے ہوئے ‘عورت مارچ’ کچھ ایسی ذہین و فطین خواتین اور ان کے ہاتھ میں اٹھائے گئے پلے کارڈذ نظر سے گزرے کہ طبیعت ”بحال ” ہوگئی۔۔۔ ”خود کھانا گرم کر لو” والا پلے کارڑ اٹھائے ایک خاتون نظر آئیں۔۔ سوشل میڈیا پر بھی بھونچال سا آگیا۔۔ مرد حضرات اس غم میں مبتلا کہ کہیں کوئی قانون ہی پاس نہ ہو جائے اور لبرل مائنڈ سیٹ خواتین کی اس خاتون کے لئے داد و تحسین کے ڈونگرے۔۔۔ مجھ سی درمیانی سوچ رکھنے والی بھی چونک کے رہ گئی۔۔۔

ہر گھر کا ایک اپناماحول ہوتا ہے۔۔۔ مجھے یاد ہے میرے بابا، امی کے ساتھ ہر ممکن حد تک گھر کے کاموں میں مدد کرتے تھے اسی طرح امی نے ہمیشہ ہم سب کے اسکول لانے لے جانے، ہسپتال کے چکر، کبھی کبھار سودا سلف کی بھی ذمہ داری اٹھائی ہوئی تھی۔ ہمارے پاس مائیکروویو اوون نہیں تھا نہ ہی فکسڈ سٹوو۔ زمین پر ایک چھوٹا سا چولہا تھا جہاں سالن پکنے کے بعد روٹیاں پکائی جاتیں۔۔۔ بابا کبھی نائٹ شفٹ کی وجہ سے لیٹ ہو جاتے تو ہاٹ پاٹ سے روٹی نکال کے سالن گرم کرتے اور کھا لیتے۔ کبھی امی یا ہم میں سے کوئی مدد کردیتا۔ یہ سب باہمی اتفاق سے تھا۔ یہ محبت اور احترام کا رشتہ تھا۔ یہ احساس اور اپنائیت کا رشتہ تھا۔ یہ زور زبردستی والی تو بات ہی نہ تھی بھئی۔ نہ کبھی امی نے بابا کو کہا کہ کھانا خود گرم کر لو نہ بابا نے ہمیں نیند سے جگایا۔ اور اب جبکہ جدید ترین چولہے ہیں، مائیکروویو اوون ہے، جدید سہولیات ہیں اور گرم ٹھنڈا چند منٹوں کا تماشا ہے تو اس پہ یہ معصوم سی ڈیمانڈ، خواہش، گزارش یا انتباہ کیوں؟

چلیں ایسا کرتی ہوں کہ بحیثیت ایک خاتون کے ان کے اس معصوم سے حکم کو تہہِ دل سے قبول کرتے ہوئے ان تمام حضرات سے گزارش کرتی ہوں جو آسانی سے ایک چھوٹا سا مائیکروویو اوون خرید سکتے ہیں اور اگر پہلے سے موجود ہے تو استعمال آپ جانتے ہی ہوں گے اور چولہے کا استعمال بھی کوئی ایسا مشکل نہیں۔ ایسا نہ ہو کہ اگلے یومِ خواتین تک یہ پوسٹرز تیار ہوں۔۔ ”کھانا خود گرم نہیں کیا ناں چلو اب خود کھانا پکاؤ”  یا ڈریں اس وقت سے جب یہ خواتین کچھ ایسے مطالبات شروع کر دیں جو قابل قبول نہ ہوں۔ سو ہنسی خوشی یہ چھوٹی سی ڈیمانڈ مان لیں۔

اچھا اب یہ سوالات کہ بھئی اس ایک معصومانہ سے پوسٹر کو لے کے اتنا بھونچال کیوں؟ مان لیا کہ یہ کوئی ایسی بات نہیں بھی ہے جس پر اتنا بولا، سوچا اور لکھا جائے کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ توجیہ دی جائیگی کہ مرد اور عورت برابر اور یہ کہ دونوں کی ذمہ داری کو مساوی طور پر بانٹنا چاہیے وغیرہ وغیرہ۔۔

تو میری پیاری پلے کارڈ اٹھائی بہن تمھاری یہ ڈیمانڈ پوری ہوئی بس تم یوں کرو کہ اگلی دفعہ تمھاری گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو تو کسی گزرتے ہوئے حضرت کو روک کے یا کال کر کے والد، بھائی، میاں یا کسی کولیگ کو بلا کے یہ نہ کہنا کہ ٹائر پنکچر ہوگیا ہے، آ کے چینج کر دیجئے۔۔ منرل واٹر کی لارج سائز بوتل اٹھاؤ یا بڑی بڑی بالٹیاں اٹھائے فلٹر پلانٹ یا ٹیوب ویل کے سامنے اپنی اپنی باری کا انتظار کرو۔۔ پانی اٹھا کے لے جانے کے لئے کسی حضرت کا انتظار نہ کرنا اور بعد ازاں گھر کے کولر یا ڈسپنسر میں بصد شوق ڈالنا (خدارا گاؤں کی خواتین کی مثال نہ دیجیئے گا۔ وہ بلا شک و شبہ گھڑوں کا بار اٹھا کے منہ اندھیرے یا سویرے سویرے نکل پڑتی ہیں اور واپسی پر کھانا گرم نہیں بلکہ باقاعدہ بناتی ہیں، شعور اور آگہی نہ پہنچنے والی بات بھی نہ کیجئے گا پلیز) اور پھر یوں بھی کرو کہ بنک، اے ٹی ایم، بل جمع کرواتے، کسی کاؤنٹر پر کھڑے سامان پیک کرواتے، پیمنٹ کرتے، لوکل ٹرانسپورٹ استعمال کرتے، آفس میں تھمب امپریشن کی مشینوں کے سامنے کھڑے ہو کے اپنی باری کا انتظار بھی کرنے کی قسم کھالو۔ ویمن کارڈ کسی بھی جگہ استعمال نہ کرو اور یہ کہ لیڈیز فرسٹ والے ایکسپریشن یا امپریشن سے بخوشی دستبردار ہو جاؤ۔

مرد اور عورت ایک ٹیم کی طرح ہوتے ہیں جو حالات سے مقابلہ کرتے ہیں۔ جب مرد اور عورت آپس میں مقابلے پہ اتر آئیں اور گھر کو اکھاڑا بنا لیں تو ایسے پلے کارڈز ہی دیکھنے کو ملیں گے۔ حقوق مرد کے برابر ضرور ہوں لیکن پیاریو، فرائض بھی برابری کی بنیاد پر لو ناں۔۔ تا کہ یہ ”ظالم ” مرد پھر ایسے معصوم مطالبات پر کوئی طعنے تشنے نہ تیار رکھیں۔ ویسے آپس کی بات ہے مجھے اس پوسٹر سے زیادہ ایک اور پوسٹر نے ہِلا کے رکھ دیا۔ اس پوسٹر پر یہ تحریر تھا

” ویسے تو ہم سخت لونڈے ہیں ”

اِسے ذرا سمجھ لوں پھر احاطہُ قلم میں لانے کی کوشش کروں گی فی الحال وہ کھانا کھا لوں جو میرے عزیز از جان شریکِ حیات اپنے ہاتھوں سے گرم کر کے لائے ہیں۔۔۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

رابعہ بصری

رابعہ بصری کا تعلق پاکستان کے حسین ترین علاقے بلتستان سے ہے۔ بطورِ شاعرہ، آرٹیکل رائٹر وہ اپنا آپ منوا چکی ہیں ۔۔ ینگ ویمن رائٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر کی کوفاؤنڈر اور پریذیڈنٹ کی حیثیت سے نوجوان خواتین لکھاریوں کی رہنمائی کرتے ہوئے ادب کی ترویج اور فروغ میں اپنا حصہ بھرپور انداز میں ڈالنے کی کوشش کررہی ہیں

rabia-basri has 4 posts and counting.See all posts by rabia-basri