سٹیفن ہاکنگ کو نہ سمجھنے والے ہم اکیلے نہیں
ہم نے مغرب کے الحاد سے یہ بھی سیکھاکہ علم بے یقینی اور شک کو جنم دیتی ہے جو تلاش کی نئی راہیں ڈھونڈنے میں مدد دیتی ہے۔ تشکیک کی نئی جہتوں سے اٹھنے والے سوالات کے جوابات کی تلاش میں ہر دور میں قافلے رسد گاہوں اور درسگاہوں میں آتے ہیں وہ جوابات ڈھونڈتے ہوئے نئے سولات چھوڑ جاتے ہیں یوں ہی کن فیکن کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ہم نے یہ بھی پڑھا کہ بو علی سینا، ابن رشد اور جابر بن حیان مغرب کی درس گاہوں میں ایوی سینا، اویروس اور گیبر کے ناموں سے بابائے سائنس و فلسفہ سمجھے جاتے ہیں جو کہ ہمارے ہاں تشکیک پیدا کرنے کے مجرم گردانے گئے تھے۔ اقبال نے تو کہہ دیا
مگر وہ علم کی موتی کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو ہوتا ہے دل سیپارا
مگر مسجد قرطبہ میں صدیوں بعد پہلی بار نماز پڑھنے کی سعادت حاصل کرنے والے اقبال نے یہ نہیں بتایا کہ مغرب میں فکری انقلاب برپا کرنے والے ابن رشد کواسپین کی مسجد کے ستون کے ساتھ باندھ کر نمازیوں سے ان پر تھکوایا گیا تھا۔ علم طب اور جراحی کے موجد بو علی سینا کواس کے نظریات پر زندیقی قرار دیا گیا تھا اور ان کا علمی خزانہ ہم تک پہنچا ہی نہیں کیونکہ ان عظیم دانشوروں اور فلسفیوں کی کتابوں کا اصل خزانہ جو ہمارے ہاں تھا ڈھونڈ دھونڈ کر جلا دیا گیا تا کہ ہمارے ایمان سلامت رہیں جوماشا اللہ اب تک ہیں۔ کیا ہم آج بھی جن کو اپنے آباء کہتے ہیں ان کو واقعی ایسا ہی نابغہ مانتے ہیں جیسا کہ اہل مغرب نے ان کو مان رکھا ہے؟ ہم میں سے شاید کسی کسی کو معلوم ہو کہ چاند پر ایک جگہ علم کیمیا کے موجد جابر بن حیان سے منسوب ہے اور یہ ہم نے نہیں اہل مغرب نے کیا ہے۔
ہندوستان کی آزادانہ سوچ کی فضا میں پیدا ہونے والے ہندسوں نےعرب کے جبر میں الجبرا کی شکل اختیار کرکے یونان، بغداد اور خراسان کی کی منطق میں ڈھل کر فلسفہ تشکیل دیا تو اس سے صرف انسانی عقل پر پڑے پردے کھل گئے بلکہ اجتماعی علم و شعور کو نئے افق بھی ملے۔ فلسفہ کی منطق سےسرمایہ دارانہ مغرب میں ہونے والی علیحدگی کو سٹیفن نے اولالذکر کی موت قرار دیا تو ہندسوں کو صرف نفع اور نقصان کی منطق سمجھنے والوں نے فلسفے کی موت کا جشن منالیا۔ سٹیفن کو نہ سمجھنے والوں میں صرف ہم ہی نہیں اہل مغرب بھی ہیں جہاں علم و دانش کو نفع کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
ختم شد۔

