ماہ صیام میں سعودی خیرات۔ ہم خرما و ہم ثواب

ماہ رمضان کے آغاز پر امدادی خورد و نوش کی اشیا کے پیکٹوں کواپنے سامنے عقیدت سے رکھے باد شاہ عرب کو دعائیں دیتی گلگت بلتستان کے خواتین کی تصاویر یہاں کے مکینوں کے لئے ہی نہیں بلکہ ان علاقوں کو جاننے والوں کے لئے بھی تعجب کا باعث بنیں۔ وہ علاقہ جہاں شہریوں نے رضاکارانہ طور پلاسٹک کی تھیلیوں سے پاک کرکے حال ہی میں نہ صرف پورے ملک کے لئے قابل تقلید مثال قائم کی بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں بھی پہلا ایسا علاقہ ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

Read more

سائنس اور روحانیات کو معاف کر دیا جائے

انڈین سائنس کانگریس ایسوسی ایشن ایک صدی قبل وجود میں آئی تھی تب سے اب تک اس کے ممبران کی تعداد تیس ہزار سائنسدانوں سے بڑھ گئی ہے۔ اپنے وجود میں آنے کے بعد سے کانگریس اپنا سالانہ اجلاس کا بلا تعطل انعقاد کرتی آئی ہے اور اس سال جنوری میں منعقد ہوئے 106 ویں…

Read more

عورتوں کے لئے توہین آمیز رویے میں عمران خان کا کیا قصور ہے؟

ایک سیاست دان کا دوسرے سیاست دان کو گالی دینا، الزام لگانا یا دشنام دینا اتنا ہی غلط ہوسکتا ہے جتنا ایک مہذب معاشرے کے دیگر افراد کا ایسا کرنا۔ مگر کسی جمہوری ملک کے وزیر اعظم کا کسی طنز کو دنیا کی آدھی آبادی کی جنس سے منسوب کرنا جن کا ووٹ اس کو اقتدار تک پہنچانے میں بھی شامل ہو شاید نئی بدعت ہے جو ٹرمپ، مودی کے بعد اب عمران خان سے شروع ہوئی ہے۔

بات عمران خان کے بار بار زبان پھسل جانے کی ہو تو اس کو انفرادی نفسیاتی مسئلہ یا یا پرسنالٹی ڈس آرڈر سمجھ کر بھلا دیا جا سکتا ہے مگر دفاع میں ایک دم سے جو سماجی رابطے کی فوج سامنے آتی ہے تواس سے معلوم ہو تا ہے کہ اب یہ ایک اجتاعی قومی نفسیاتی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ کوئی ان پڑھ، جاہل کہلانے والے نا خواندہ لوگ بھی نہیں ہوتے بلکہ پڑھے لکھے، اردو اور انگریزی زبان میں مہارت رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں جنھوں نے بادی النظر میں دنیا دیکھی بھالی بھی ہوتی ہے۔

Read more

سلسلہ ایک اسد عمر تک ہی موقوف نہیں

اسد عمر ہمارے حلقے سے منتخب نمائندہ بھی ہیں اس لئے اس کی وزارت کے جانے کا ہمیں زیادہ دکھ ہونا چاہیے مگر نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ صاحب صرف انتخابات کے موقع پر ایک آدھ بار جلوہ دکھانے پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ وہ بھی جانتے ہیں کہ ووٹ کون دے گا اور کیوں دے گا۔ حلقے کے لوگ بھی ان سے کوئی امید نہیں رکھتے کیونکہ کوئی بھی براہ راست ان سے شناسائی نہیں رکھتا اور جو ان کے شناسا ہیں وہ وہ بھی شاکی ہیں پر چپ رہنے پر مجبورہیں کیونکہ ان کو بھی چپ چاپ ووٹ دینے کے احکامات کہیں اور سے آتے ہیں جہاں شکایت کرتے ہوئے ان کے بھی پر جلتے ہیں۔

اسد عمر کے بڑی توپ ہونے کی خبر یں پچھلی حکومت کے دوران ہی گرم ہوئی جب وہ اسحاق ڈار اور نواز شریف کی حکومت کو اسمبلی میں اپنی شستہ اردو اور صاف انگریزی زبان کے ساتھ نشانے پر رکھتے تھے۔ بغل میں فائلیں دبائے جب اسمبلی کے فلور پر آتے تھے تو بغیر داڈھی اور گھنی مونچھوں کے کلین شیو اسد عمر ہمارے روایتی سیاستدانوں کے برعکس ایک لائق فائق شائستہ اور مخلص صاحب بصیرت معلوم ہوتے تھے جن کی موٹے عدسوں والی نظر کی عینکوں کے پیچھے سے عقابی نگائیں پس پردہ حقائق کا بھی ادراک رکھتی ہیں۔

Read more

اندھیر نگری کا پھندا اسد عمر کی گردن میں۔۔۔

اسد عمر ہمارے حلقے سے منتخب نمائندہ بھی ہیں، اس لئے ان  کی وزارت کے جانے کا ہمیں زیادہ دکھ ہونا چاہیئے، مگر نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ صاحب صرف انتخابات کے موقع پر ایک آدھ بارجلوہ دکھانے پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ وہ بھی جانتے ہیں کہ ووٹ کون دے…

Read more

تحفظ نہیں دے سکتے تو غم ہی بانٹ لو

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی دہشت گردی کا شکار ہونے والے اپنے شہریوں کو گلے لگاتے تصویریں انگریزی کے اس محاورے کو سو فیصد درست ثابت کرتی ہیں کہ اظہار کے لئے ایک تصویر ہزار الفاظ سے بہتر ہوتی ہے۔ ان تصویروں میں کالی شال اوڑھے اس باوقار خاتون کے چہرے پرمتانت اور آنکھوں سے چھلکتی سچائی کو دیکھنے والی ہر آنکھ نے محسوس کیا۔ اپنی راہنما کو شہریوں کی ہمدردی اور محبت کے سمندر میں غوطہ زن دیکھ کر نیوزی لینڈ کے شہریوں نے بھی جب بڑھ چڑھ کر دوگنی اور چوگنی محبت کا اظہار کیا تو ایسا لگا کہ نیوزی لینڈ ایک ملک نہیں بلکہ محبت اور خلوص کا ایک نخلستان ہے جہاں نفرت کی خزاں کا گزرکبھی ہوا ہی نہیں ہے۔

Read more

ہم الف لیلیٰ کی کہانی سننا چاہتے ہیں

الف لیلیٰ یا ہزار داستان ایک کہانی ہے جس میں ایک حسینہ ہر رات ایک نئی داستان سنا کر اپنی جان ایک ظالم بادشاہ کے عتاب سے ایک ہزار راتوں تک بچائے رکھتی ہے۔ نہ الف لیلیٰ کی اپنی کہانی کی صداقت کی کوئی سند ہے اور نہ اس میں سنائی جانے والی کہانیاں مصدقہ…

Read more

آٹھ مارچ کا مارچ۔ اب کارواں رکنے والا نہیں

آٹھ مارچ کو خواتین کا عالمی دن سالانہ آکر گزر بھی جاتا اور پتہ بھی نہیں چلتا تھا مگر اس بار ایسا طوفان برپا کر گیا ہے کہ لگتا ہے ہر شے تہہ و بالا ہوکر رہ گئی ہے۔ ہر طرف ایک شور برپا ہے کہ خواتین نے ایسے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جو انھوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ کچھ تو قرب قیامت کی نشانی سمجھ کر اپنی عاقبت کی فکر میں پڑ گئے اور کچھ نے دوسروں کو راہ راست پر لانے کی ٹھانی ہے۔قبائلی اور جاگیر دارانہ سماج میں عورت کی حیثیت زرخرید غلاموں جیسی یا اس سے تھوڑی بہتر ہوتی تھی جہاں نہ صرف بازار میں کنیزیں اور غلام بیچے اور خریدے جاتے تھے بلکہ عام عورتیں بھی رشتے ناطے کے نام پر استحصال کا شکار ہوتی رہتی تھیں۔ صنعتی دور کے آغاز کے ساتھ دنیا میں جو بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں ان میں ایک تو جمہوریت ہے اور دوسری تبدیلی انسانوں کے برابری کو بطور بنیادی حق تسلیم کرنا ہے۔ غلاموں، مزدوروں کی طرح عورتوں کی برابری کے سماجی حقوق کی جدوجہد کا آغاز بھی ریاست ہائے متحدہ امریکا سے ہی ہوا اور

Read more

جنگ کوئی کھیل نہیں

ہمیں ٹیلی ویژن پر ہی حافظ سعید صاحب کو دیکھنے کا شرف حاصل ہے جو ضلع شیخوپورہ کے علاقے مرید کے میں اپنے گھوڑوں پر سواری کرتے ہوئے فرمارہے تھے کہ دشمن کے خلاف جنگ کے لیے ہمیشہ اپنے گھوڑے تیار رکھنے کا حکم ہے۔ کچھ ایسا ہی پچھلے عشروں میں پوٹھوہار سے محترم اکرم اعوان صاحب بھی کرتے اور کہتے دکھائی دیے تھے۔ ان کے تیار کردہ گھوڑوں اور تلواروں کا کیا بنا اس کے بعد ہمیں بھی نہیں معلوم۔ ہمارے قومی سیاسی منظر نامے میں ایسے کردار عموماً منظر عام پر آتے رہتے ہیں جو شکسپئیر کے کسی ڈرامے کے کرداروں کی طرح وقت کے ساتھ بدل بھی جاتے ہیں۔ مگر ان کرداروں کے تخلیق کار اور ہدایت کار تسلسل کے ساتھ اپنی فخریہ پیشکش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Read more

دیدار حسین کا قاتل کون؟

سال نو کے آغاز پر ہی ملک کے شمال میں واقع ضلع غذر کی تحصیل اشکومن میں ایک چودہ سالہ طالب علم دیدار حسین کے ساتھ پیش آنے والے اجتماعی جنسی زیادتی اور بہیمانہ قتل کے واقعہ نے اس پر امن اور پر سکون وادی میں ہیجان پرپا کر دیا ہے۔

اس سال ہونے والی بے پناہ برف باری اور پڑنے والی شدید ترین سردی کے باوجود لوگوں نے ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوکر اپنا پر امن احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔ اب تک آٹھ ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے، انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمہ درج کرکے ملزمان سے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

مقدمہ درج ہوچکا ہے، ملزم گرفتار ہوچکے ہیں، تفتیش جاری ہے اور فیصلہ عدالت نے کرنا ہے اس لیے اس تحریر کا مقصد حکومت یا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اثر انداز ہونا نہیں بلکہ اس بحث کو آگے بڑھانا ہے جو بڑھتے ہوئے تشدد کے اسباب، عوامل اور سد باب کے بارے میں وقتاً فوقتاً جاری رہتی ہے۔ چونکہ اس واقعے کے خلاف ایک شدید عوامی رد عمل بھی موجود ہے جس کو اجتماعی مثبت سوچ کے دائرے میں لانے کی ضرورت ہے جو ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ اور جائزہ کے بغیر ممکن نہیں۔

Read more