سیاست کا گھن چکر

جمہوری جماعتی سیاست میں لوگ اپنے تمام دلدر سے نجات کسی خاص جماعت کے برسر اقتدار آنے میں دیکھتے ہیں اور اس جماعت کی ناکامی کے بعد دوسری جماعت سے امیدیں وابستہ رکھتے ہیں اور یہ سلسلہ ایک سے دوسری جماعت اور ایک سے دوسری نسل میں منتقل ہوتا رہتا ہے اور یہ ساراعمل سیاست کا ایک گھن چکرسا بن جاتا ہے۔ امید اور نا امیدی کا یہ سلسلہ برطانیہ جیسے قدیم جماعتی پارلیمانی سیاست میں صدیوں سے جاری ہے اور بعض ہماری جیسی جمہوریتوں میں اقتدار کی بساط کے کھلاڑی اپنی بے صبری اور عدم برداشت کی وجہ سے کھیل کو بگاڑ بھی دیتے ہیں۔

Read more

مجھے خوف کس بات کا ہے؟

میں ایک عام نامعلوم شہری ہوں جس کا کوئی ایسا کاروبار نہیں جو اس کی شناخت ہو جیسا کہ منڈی والا، دانہ والا یا پھر کوئی ایسا برانڈ جو اس کے خاندان کے ساتھ منسوب ہو۔ نہ میں کوئی تاجر ہوں اور نہ کوئی زمیندار۔ مجھ پر بھی مہنگائی اور ٹیکس کے بڑھنے اور گھٹنے…

Read more

مولانا فضل الرحمٰن کا انداز سیاست اور مزاحمت

تحریک بحالی جمہوریت کی طویل جدوجہد کے بعد جب 1988ءمیں انتخابات منعقد ہوئے اورنئی حکومتیں بنیں تو بلوچستان میں حکومت سازی کے سوال پر پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت اور نواب اکبر خان بگٹی کی قیادت میں بننے والے بلوچستان نیشنل الائنس کے درمیان ٹھن گئی۔ پیپلز پارٹی کی پسپائی کے بعد بگٹی صاحب نے جو حکومت تشکیل دی اس میں جمیعت علمائے اسلام فضل الرحمٰن گروپ بڑے حصہ دار کے طور پر سامنے آیا۔

Read more

کوئے ملامت میں آرزوئے آبرو کیسی

قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ایک قرار دادِ استحقاق پر یہ فیصلہ صادر ہوا کہ اسمبلی کے فلور پر وزیر اعظم کو ’سلیکٹیڈ وزیراعظم‘ نہ کہا جائے۔ یہ ایک بہت ہی اچھی بات ہی نہیں بلکہ بہت اچھی پارلیمانی روایت بھی ہوگی اگر اپنے منتخب نمائندوں کی کم از کم ان ایوانوں میں توہین نہ کی جائے جہاں وہ منتخب ہوکر آتے ہیں پھر وہاں سے اکثریت کا اعتماد حاصل کرکے اقتدار کی کرسی تک پہنچ جاتے ہیں۔ منتخب ہونا اور پھراکثریت کا اعتماد حاصل کر کرنا کتنا مشکل کام ہے اس کا اندازہ وہ کر ہی نہیں سکتے جو ایک گھنٹہ بغیر بجلی کے اور ایک دن بغیر روٹی کے نہیں گزار سکتے۔ مگر اسی ایوان میں بیٹھے لوگ جب ان منتخب لوگوں کو طعنے دیتے ہیں اور ان کی بے عزتی کرتے ہیں تو یہ صرف ایک شخص کی توہین نہیں بلکہ اس ایوان اور اس جمہوری نظام کی توہین بھی ہے جہاں لوگوں کے منتخب نمائندے جمہور کی ننمائندگی کرتے ہیں۔

Read more

غلام جیلانی برق کا انتباہ اور آج کا پاکستان

اپنی زندگی میں ہی راز مسرت پانے والے ڈاکٹر غلام جیلانی برق ایک شخص نہیں بلکہ ایک عہد کا نام ہے۔ چالیس کے لگ بھگ کتب کے مصنف ہونے کے ساتھ عربی زبان کے مستند استاد بھی تھے۔ ان کو نہ صرف قران و حدیث پر عبور حاصل تھا بلکہ زبور، تورات اور انجیل کی…

Read more

سیاسی گرفتاریاں: ہوا کسی کی نہیں

سنہ 1988ء میں ضیالحق کی ناگہانی موت کے بعد منعقد ہونے والے انتخابات میں چلائے گئے جھرلو کی باز گشت آج بھی نہ صرف گونجتی ہے بلکہ سپریم کورٹ میں چلے اصغر خان کیس کی شکل میں ایک بد نما داغ کی طرح ہمیشہ کے لئے باعث عبرت و ندامت ہے۔ یہ الگ بات ہے…

Read more

ایک مچھر آدمی کو ہیجڑا (کیسے) بنا دیتا ہے

مچھر نے نمرود کو بمع اس کی فوج صرف اساطیر میں ہی تباہ نہیں کیا بلکہ انسانی تاریخ میں مچھروں نے جس قدر تباہی سے دوچار کیا ایسا کو ئی اور جاندار انسانوں کے ساتھ نہ کرسکا۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو تمام تر دانائی اور حکمت کے باوجود انسان بے بسی کے ساتھ آج تک اس زرہ برابر مخلوق کے سامنے تالی ہی بجا تا رہا ہے۔ شاید اس لئے نانا پاٹیکر کا فلمی مکالمہ ضرب المثل بن گیاکہ ”ایک مچھر آدمی کو ہیجڑا بنا دیتا ہے“ ۔

دن کو گرمی ستاتی ہے تو رات کو مچھر بے سکون کر دیتے ہیں۔ دن بھر غائب رہنے کے بعد شام کو گھر کے اندر ایسے گھس جاتے ہیں جیسے لڑکے بالے دن بھر کی آواراہ گردی کے بعد، مجال ہے ان کو کوئی روک پائے۔ دروازے کھڑکیاں بند، اسپرے مار کر جب تمام تدابیر کر ڈالی تو رات کے کسی پہر چادر سے باہر نکلے جسم کے حصے پر ایسا انجکشن لگ جاتا ہے کہ نیند تو گئی ایک طرف باقی رات زخم سہلاتے، کھجاتے، مچھر کو کوستے اور اپنی بے بسی پر ماتم کرتے انکھوں میں کٹ جاتی ہے۔

Read more

جسٹس فائز عیسیٰ کا ایک اور گناہ جو قابل قبول نہیں

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر لگے دو الزامات یا یوں کہیے ان سے منسوب دو شکایات سے تو آپ سب ہی واقف ہیں ۔ ایک شکایت یہ ہے کہ انھوں نے کوئٹہ کے وکلاء پر خود کش حملے کی تحقیقاتی رپورٹ لکھتے ہوئے سرخ لکیر کو عبور کیا ہے اور دوسرا الزام ان پر فیض…

Read more

مرغ کی بانگ، نقارہ کی نوبت، جنتر منتر سے موبائل ایپ تک سب چلتا ہے

جب آپ دلی شہر میں کتابوں میں پڑھے تاریخ کے گوشوں کو تلاش کرکے مطمئن نہ ہوں اورکچھ اور تلاش کرنے کے متمنی ہوں تو ایک اور نام سننے کو آتا ہے جو میری طرح آپ نے بھی کبھی پہلے نہ سنا ہو۔ ٹیکسی والا کہتا ہے ًجنتر منتر دیکھئے صاحب۔ یہاں بہت گورے لوگ دیکھنے آتے ہیں ً۔ جنتر منتر کا نام سنتے ہی پہلا خیال تو کسی جادو نگری کا آتا ہے جہاں نظروں کے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے چیزیں چھومنتر سے غائب ہو جاتی ہوں۔ مگر دراصل یہ ریاست جے پور کے مہاراجہ جے سنگھ دوم کی 1724 ء میں شہنشاہ ارنگزیب کے زمانے میں بنائی ہوئی پانچ رصد گاہوں میں سے ایک ہے جو زمانے کے دھول میں دبنے سے بچ گئی ہے۔

Read more

عبدالحمید خان بھارت کا ایجنٹ ہے یا پاکستان کا؟

یہ اگست 1997 ء کا واقعہ ہے گلگت شہر میں گلگت بلتستان میں آئینی و قانونی حقوق کی عدم فراہمی پر مقامی سیاسی جماعتوں نے پاکستان کی پچاسویں سالگرہ کے موقعے پر احتجاج کیا اور بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھ کر نعرے لگائے۔ مظاہرین پر پولیس نے دھاوا بول دیا اور ان میں سے کئی ایک کو گرفتار کیا گیا جن میں بالاورستان نیشنل فرنٹ کے چئیرمین نواز خان ناجی، مرکزی راہنما عبدالحمید خان، انجنئیر شجاعت علی، قراقرم نیشنل فرنٹ کے راہنما انجنئیر جمعہ گل، محمد جاوید سمیت کئی ایک راہنما اور کارکن شامل تھے۔

گرفتار شدگان کو گلگت شہر کے نزدیک شروٹ پولیس چوکی میں منتقل کرکے تفتیش شروع کی گئی۔ 14 دن کی تفتیش 21 دنوں تک بڑھا دی گئی اور عبدالحمید خان کو اس وقت کے ایک مشہور اور حکام بالا کے روایتی چہتے پولیس آ فیسر نے اس حد تک تشدد کا نشانہ بنایا کہ اس کے گردے متاثر ہوئے۔

Read more