آٹھ مارچ کا مارچ۔ اب کارواں رکنے والا نہیں

آٹھ مارچ کو خواتین کا عالمی دن سالانہ آکر گزر بھی جاتا اور پتہ بھی نہیں چلتا تھا مگر اس بار ایسا طوفان برپا کر گیا ہے کہ لگتا ہے ہر شے تہہ و بالا ہوکر رہ گئی ہے۔ ہر طرف ایک شور برپا ہے کہ خواتین نے ایسے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جو انھوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ کچھ تو قرب قیامت کی نشانی سمجھ کر اپنی عاقبت کی فکر میں پڑ گئے اور کچھ نے دوسروں کو راہ راست پر لانے کی ٹھانی ہے۔قبائلی اور جاگیر دارانہ سماج میں عورت کی حیثیت زرخرید غلاموں جیسی یا اس سے تھوڑی بہتر ہوتی تھی جہاں نہ صرف بازار میں کنیزیں اور غلام بیچے اور خریدے جاتے تھے بلکہ عام عورتیں بھی رشتے ناطے کے نام پر استحصال کا شکار ہوتی رہتی تھیں۔ صنعتی دور کے آغاز کے ساتھ دنیا میں جو بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں ان میں ایک تو جمہوریت ہے اور دوسری تبدیلی انسانوں کے برابری کو بطور بنیادی حق تسلیم کرنا ہے۔ غلاموں، مزدوروں کی طرح عورتوں کی برابری کے سماجی حقوق کی جدوجہد کا آغاز بھی ریاست ہائے متحدہ امریکا سے ہی ہوا اور

Read more

جنگ کوئی کھیل نہیں

ہمیں ٹیلی ویژن پر ہی حافظ سعید صاحب کو دیکھنے کا شرف حاصل ہے جو ضلع شیخوپورہ کے علاقے مرید کے میں اپنے گھوڑوں پر سواری کرتے ہوئے فرمارہے تھے کہ دشمن کے خلاف جنگ کے لیے ہمیشہ اپنے گھوڑے تیار رکھنے کا حکم ہے۔ کچھ ایسا ہی پچھلے عشروں میں پوٹھوہار سے محترم اکرم اعوان صاحب بھی کرتے اور کہتے دکھائی دیے تھے۔ ان کے تیار کردہ گھوڑوں اور تلواروں کا کیا بنا اس کے بعد ہمیں بھی نہیں معلوم۔ ہمارے قومی سیاسی منظر نامے میں ایسے کردار عموماً منظر عام پر آتے رہتے ہیں جو شکسپئیر کے کسی ڈرامے کے کرداروں کی طرح وقت کے ساتھ بدل بھی جاتے ہیں۔ مگر ان کرداروں کے تخلیق کار اور ہدایت کار تسلسل کے ساتھ اپنی فخریہ پیشکش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Read more

دیدار حسین کا قاتل کون؟

سال نو کے آغاز پر ہی ملک کے شمال میں واقع ضلع غذر کی تحصیل اشکومن میں ایک چودہ سالہ طالب علم دیدار حسین کے ساتھ پیش آنے والے اجتماعی جنسی زیادتی اور بہیمانہ قتل کے واقعہ نے اس پر امن اور پر سکون وادی میں ہیجان پرپا کر دیا ہے۔

اس سال ہونے والی بے پناہ برف باری اور پڑنے والی شدید ترین سردی کے باوجود لوگوں نے ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوکر اپنا پر امن احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔ اب تک آٹھ ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے، انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمہ درج کرکے ملزمان سے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

مقدمہ درج ہوچکا ہے، ملزم گرفتار ہوچکے ہیں، تفتیش جاری ہے اور فیصلہ عدالت نے کرنا ہے اس لیے اس تحریر کا مقصد حکومت یا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اثر انداز ہونا نہیں بلکہ اس بحث کو آگے بڑھانا ہے جو بڑھتے ہوئے تشدد کے اسباب، عوامل اور سد باب کے بارے میں وقتاً فوقتاً جاری رہتی ہے۔ چونکہ اس واقعے کے خلاف ایک شدید عوامی رد عمل بھی موجود ہے جس کو اجتماعی مثبت سوچ کے دائرے میں لانے کی ضرورت ہے جو ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ اور جائزہ کے بغیر ممکن نہیں۔

Read more

پاکستان میں بنتی نئی تاریخ

جب سے یہ حکم صادر ہوا ہے کہ بھلے بھلے اور سب اچھا کی خبریں دے کر اگلے دو تین تین سال تک ملک کا روشن چہرہ دکھایا جائے اس کے بعد ہم نے بھی اچھا اچھا سوچنا شروع کیا ہے تاکہ شبھ شبھ بول سکیں۔ پاکستان ریلوے کی دور مار میزائل بنانے کی پوشیدہ صلاحیت سے لے کر اگلے کچھ سالوں میں پاکستانیوں کی خلا میں گھومنے پھرنے کی ایسی خوشخبریاں ہیں کہ ہم خوشی سے کہیں مر ہی نہ جائیں۔

ملک میں ہر کام تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار کسی وزیر اعظم کے منتخب ہونے سے پہلے ہی اس کے احکامات پر عمل در آمد کرتے ہوئے ان کے حلف لیتے ساتھ ہی ہندوستان کے ساتھ ملحقہ کرتار پور کا بارڈر کھول کر سکھ یاتریوں کو گورو نانک کی جنم بھومی تک رسائی دی گئی۔ نہ صرف یہ بلکہ اس کے افتتاح کے انتظامات بھی وزیر اعظم کے دفتر پہنچنے سے پہلے ہی ہوچکے تھے۔ فیتہ کاٹنے کے لیے صرف وزیر اعظم کے شیروانی پہننے کا انتظار تھا۔

Read more

بیٹی کو مارنے والی شکیلہ کی سب سے بڑی سزا اس کا زندہ بچ جانا ہے

شکیلہ قاتل نہیں بلکہ مقتول ہے، وہ جسمانی طور پر تو اپنی جان نہ لے سکی مگر اس کی روح اس کی بیٹی کے ساتھ سمندر کے کنارے دو دریا کی ریت میں دفن ہوچکی ہے۔ اس کی روح کی موت اس وقت ہی ہو چکی تھی جب اس کے ماں باپ اور بہن بھائیوں نے اس کے وجود کو اپنے لئے بوجھ سمجھا۔ اس کے احساس کا اس روز ہی قتل ہوا تھا جب اس شوہر نے جس کے لئے وہ سب چھوڑ آئی تھی اس کوبیٹی سمیت گھر سے دھکے دے کر نکال دیا تھا۔ آج تو شکیلہ کا بے روح لاشہ ہی ہے جو اس کی بیٹی کے ساتھ ریت میں دفن نہ ہو پایا۔ ہم جس شکیلہ سے بات کر رہے ہیں وہ اس سماج کی ہزاروں لاکھوں دیگر نیم مردہ چلتی پھرتی لاشوں کی طرح ایک بے روح لاش ہے۔

Read more

گلگت بلتستان پر سپریم کورٹ کا ادھورا فیصلہ

17 جنوری 2019 ء کو پاکستان کے سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے گلگت بلتستان کے بارے میں مختلف درخواستوں کو نمٹاتے ہوئے نہ صرف ایک فیصلہ صادر فرمایا بلکہ اس فیصلے کا ذکرجاتے جاتے اسی روز اپنے کارہائے نمایاں میں بھی کیا جو انھوں نے بطور منصف اعلیٰ انجام دیے تھے۔

ناچیز نے ان ہی صفحات پر اس کیس کے آغاز ہی میں عرض کیا تھا کہ کوئی عدالت کسی علاقے کو کسی ملک میں شامل نہیں کرسکتی اور نہ علیحدہ کرسکتی ہے ہاں البتہ کسی ملک کے زیر انتظام علاقے میں بسنے والے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ شہری آزادی دینے اور ان کو برابری کا درجہ دینے میں کوئی قانون اور آئین مانع نہیں ہوتا۔ ہم نے عرض بھی یہی کیا تھا کہ سپریم کورٹ کے پاس گلگت بلتستان کے لوگوں کو بھی دنیا کے دیگر انسانوں کے برابر بنیادی انسانی اور شہری حقوق دینے کا یہ بہترین راستہ اورموقع موجودہے۔

Read more

گلگت بلتستان کے مقدمے میں سپریم کورٹ سے توقعات

چیف جسٹس ثاقب نثار اپنے نجی تفریحی دورے پر جب دیامر بھاشا ڈیم کے مسکن گلگت بلتستان گئے تو لوگوں نے حسب روایت جگہ جگہ پھول نچھاور کیے ، ڈھول بجائے، چوغے اور ٹوپیاں پہنائیں تو وہ بھی یہاں کے مکینوں کے اخلاق اور مہمان نوزی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ پاکستان کے منصف اعلیٰ نے وہاں کئی سالوں سے پابند سلاسل سیاسی راہنما بابا جان کی ماں کے بہتے آنسو بھی دیکھے اور ان کی بہنوں کی دہائی بھی سنی۔ وہاں ان کو یہ بھی معلوم ہوا کہ کہ کئی دوسرے ایسے ضمیر کے قیدی بھی ہیں جن پر پاکستان کے قوانین کے مطابق پر غداری، دہشت گردی اور مذہبی منافرت پھیلانے کے الزامات ہیں۔

Read more

ہیپی نیو ائیر۔ مگربدلا کیا ہے؟

جب زمین سورج کے گرد اپنا طواف مکمل کرتی ہے تو نئے سال کا آغاز نئے سفر کے ساتھ ہوتا ہے جو ان ہی روز و شب کی گردشوں میں ان ہی موسموں سے گزر تا ہے تو بظاہر یہ معمول ہی نظر آتا ہے مگر حقیقت میں بہت کچھ بدل گیا ہوتا ہے جس میں سے ایک زندگی ہے جو پہلے جیسی نہیں رہتی۔ ماہ و سال کی اسی گردش میں بچے جوان ہوتے ہیں، جوان بوڑھے ہوجاتے ہیں اور بوڑھے بزرگ راہی عدم سدہار جاتے ہیں۔

دنیا بھر میں نیا سال کا آغاز نئے ارادوں اور خوشی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں بسنت، وسطی ایشیا میں نوروز اور مغربی ممالک میں نیو ائیر کی خوشیاں منانے کی رسومات ہماری قدیم ثقافت کا حصہ ہیں۔ ہمارے آباؤ اجداد کے زمانوں میں زندگی ایسی آسان نہ تھی جو آج ہماری ہے۔ بیماری، بھوک، موسمی حالات اور حادثات پر ایسے قابو نہیں پایا گیا تھا جو آج کے زمانے میں ہے۔

Read more

انسانی معاشرت کا ضابطہ اور خدا کا تصور وحدانیت

جنگلوں، بیابانوں، صحراؤں اور غاروں میں رہنے والے اولین ادوار کے انسان کے لیے سب سے مہیب شے رات کا اندھیرا تھا جب وہ دیکھ نہیں پاتا تھا جس کی وجہ سے اس کا چلنا پھرناممکن نہیں رہتا اور وہ جہاں ہو وہیں تک محدود ہوجاتا تھا۔ ایسے میں چاند کی روشنی اس کے لیے دن کے اجالے کی نعم البدل بن کر اس کی مشکلات آسان کر دیتی یا پھر آسمان پر پر ٹمٹماتے ستارے اس کا سہارا بن جاتے۔ فطرت کے یہ مظاہر انسان کے لیے باعث تحیر و رحمت دونوں تھے۔ وقت کے ساتھ حیرت کو انسان نے تجسس، تعقل اور تفکر سے نئی دریافتوں میں بدل دیا اور رحمتوں کی تاویلات کو وسعت دے کر الیٰہات کے درجات تک پہنچا دیا۔

Read more

احساس عدم تحفظ کا شکار اکثریت ہے، اقلیت نہیں

امریکا بہادر کا موجودہ صدر بھی یکتائے روزگار ہے۔ایسے لوگ بھی صدیوں میں کہیں ایک آدھ ہی پیدا ہوتے ہیں۔ سو سال کے مستقبل کی پیشگی منصوبہ بندی کی شہرت رکھنے والے امریکا کی ترقی کے عروج کا کمال ہے کہ ان کو ایک ایسا شخص ملا ہے جس کے دوسرے لمحےکے فیصلے کا پتہ…

Read more