1940ء کی قراردادِ لاہور – مفروضہ اور حقیقت!


ویسے تو مسلم لیگ کی سیاست صوبائی خودمختاری، عدم مرکزیت کے اصولی موقف کے باوجود بنیادی طور پر فرقہ پرست اور ہمیشہ تضادات کی شکار رہی ہے۔ عام طور پر 1940ء کی قرارداد کو مثبت انداز میں لیا جاتا ہے، جب کہ غور سے پڑھا جائے تو وہ قرارداد خود بھی بڑے تضادات کا شکار ہے۔ اور اس کے کچھ بنیادی منفی پہلو بھی ہیں۔ جن کو عام طور پر زیرِ بحث نہیں لایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ذیل درج نقاط بحث طلب ہیں:

•           1940ء کی قرارداد کی بنیاد دو قومی نظریے پر تھی۔ یعنی اس میں قوموں کے تاریخی وجود اور حیثیت کی بجائے مذہب کی بنیاد پر درجہ بندی کی گئی تھی۔ اس بات پر کم بحث کیا گیا ہے کہ اس اجلاس میں جناح صاحب کا سارا خطاب بھی دو قومی نظریے پر مشتمل تھا۔ جس میں اس نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے علیحدہ تہذیبوں کے مفروضے کی بنیاد پر مسلمانوں کو ایک الگ قوم قرار دے کر ان کے اکثریتی علائقوں کو ملاکر ایک زون میں شامل کرنے کی بات کی۔ جب کہ تاریخی طور پر برِصغیر میں قوموں کا وجود مذہب کی بنیاد پر نہ تھا۔ 1940ء کی قرارداد میں جہاں خود ارادیت کا مطالبہ کیا گیا وہ قومی بنیادوں پر نہیں بلکہ مذہبی بنیادوں پر علائقوں کی درجہ بندی کے تحت کیا گیا۔ اس لیے ہم آج تک اس فریب میں ہیں کہ 1940ء کی قرارداد میں تاریخی قوموں کو آزاد اور خودمختار حیثیت دینے کا واعدہ کیا گیا تھا۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ 1940ء کی قرارداد میں تاریخی قوموں کے صوبوں کو آزاد اور خودمختار حیثیت دینے کا واعدہ تو کیا گیا تھا لیکن 1940ء کی قرارداد میں ایک لفظ بھی تاریخی قوموں کی حق خودارادیت کے لیے نہیں ہے۔

•           1940ء کی قرارداد کو پاکستان کی قراردار کہنا اس لیے بھی غلط ہے کہ 1940ء کی قرارداد میں ایک کنفیڈرل یا نیم وفاقی خاکے کی بات کی گئی تھی، جب کہ جناح بار بار پاکستان کے لیے وفاقی نظام تجویز کرتے رہے۔ کیونکہ دنیا کے کسی بھی ملک کے وفاقی نظام میں وفاق کے پاس صرف تین شعبے نہیں ہوتے ٬ جیساکہ 1940ء کی قرارداد میں تجویز کیا گیا تھا۔

•           برصغیر کے معروف مؤرخ تاراچند، رامجی لال، اور عائشہ جلال اس رائے کے حامل ہیں کہ 1940ء کی قرارداد نے انگریزوں کو تقسیمِ ہند کا راستہ ہموار کرکے دیا۔

سندھ میں عام مفروضہ ہے کہ سندھ پاکستان میں قوموں کے تاریخی حقِ خودارادیت کے تحت 1940ء کی قرارداد کی بنیاد پر شامل ہوا۔ حقیقت میں یہ سوال اتنا آسان اور سادہ نہیں ہے۔ 3 مارچ 1943ء کو سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں جی ایم سید نے سندھ کی پاکستان میں شمولیت کے بارے میں قرارداد پیش کی۔ جو برِصغیر میں کسی بھی اسمبلی کی طرف سے پاکستان کے حق میں پہلی قرارداد تھی۔ اس اجلاس میں 60 ممبران میں سے صرف 27 مسلمان ممبر تھے، جب کہ 11 غیر مسلم ممبر اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ شہید اﷲ بخش سومرو بھی اس اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ البتہ اجلاس میں موجود 24 مسلم ممبران کی تائید سے وہ قرارداد پاس ہوگئی۔ میں نے وہ قرارداد بغور پڑھی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ جی ایم سید کا اسمبلی کا خطبہ اور قرارداد دو قومی نظریے کے علمبردار تھے٬ جس کا جی ایم سید نے خود بھی اعتراف کیا تھا۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ دو قومی نظریے کے تحت حقِ خودرادیت کا تناظر ہی ایک الگ بات تھی۔ اور تاریخی قوموں کی آزاد اور خودمختار حیثیت کا سوال اس سے قطعی مختلف ہے۔ 1940ء کی قرارداد کی حقیقی تشریح نہ کرنے کی غلطی ہمارے تمام سینئر رہنماؤ ‏ ں اور اکابرین سے ہوئی ہے۔ یہ درست ہے کہ بمبئی پریزیڈنسی سے سندھ کے الحاق کے بدترین تجربے کا بھی اس قرارداد میں عمل دخل تھا٬ تاہم جس نظریاتی بنیاد پر سندھ اسمبلی نے وہ قرارداد پیش کی وہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر تھا۔

مسلم لیگ نے 1940ء کی قرارداد کو بعد میں پاکستان کی بنیاد قرار دیا تھا مگر اس کے روح کو اس نے خود تقسیم سے پہلے مار ڈالا۔ مثال کے طور پر جناح نے 1940ء کے کنفیڈرول خاکے کی بجائے وفاقی ڈھانچے پر زور دیا۔ اور دوسری جانب 7 اور 9 اپریل 1946ء میں مسلم لیگ کا مرکزی و صوبائی قانون ساز اداروں کا اجلاس دہلی میں ہوا۔جس میں ایک کمیٹی قائم کی گئی، جس میں علی اکبر، آغا بدرالدین، محمود ہارون شامل تھے۔ کمیٹی کے کھلے اجلاس میں اتفاق رائے سے قرارداد منظور کی گئی جس میں ایک طرف پاکستان کا آزاد ریاست کے طور پر مطالبہ کیا گیا تو دوسری جانب 1940ء کی قرارداد میں بنیادی ترمیم کی گئی اور 1940ء کی قرارداد میں سے وہ الفاظ خارج کردیے گئے کہ وحدتیں آزاد اور خودمختار ہونگی۔ یہ الگ بات ہے کہ اس اجلاس کو مسلم لیگ کے 27ویں سالانہ جنرل کونسل کے اجلاس میں قرارداد میں ترمیم کا کوئی آئینی اختیار اور اخلاقی جواز نہیں تھا۔ حد تو یہ ہے کہ 1940ء کی قرارداد میں وحدتوں کی آزاد اور خودمختار حیثیت کو”اصطلاح کی غلطی” قراردیا گیا۔ اس لیے جب مسلم لیگ نے 1940ء کی قرارداد کا احترام تقسیم سے پہلے نہ کیا تو پھر پاکستان کے قیام کے بعد وہ اس کا کیا لحاظ کرتی؟ جناح صاحب نے 15 جون 1948ء کو کوٹہ میونسپالٹی کی طرف سے دیے گئے استقبالیہ میں واضح طور پر کہا کہ "برطانوی کنٹرول سے محفوط رہنے کے لیے صوبائی خودمختاری اور مقامی آزادی کے بت بنائے گئے، جس کو کچھ لوگ ابھی تک چمٹے ہوئے ہیں۔” اگر لیڈرشپ کے پاس بنیادی اُصولوں کی بجائے تمام سوالات حکمت عملی کے تھے تو ان سے تقسیم کے بعد کس طرح کی امید کی جا سکتی تھی؟

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا ریاستی تضاد اب اتنا تو پیچیدہ ہوگیا ہے کہ 1940ء کی قرارداد اس کا کوئی حل نہیں ہے۔ کیونکہ وہ نہ صرف مبہم ہے بلکہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہے۔ پاکستان کو قوموں ٬ صوبوں٬ مختلف گروہوں اور شہریوں کے درمیان ایک نیا سماجی معاہدہ ہی بچا سکتا ہے۔ جو نہ صرف عالمی جمہوری وفاقیت کے اُصول پر مبنی ہو بلکہ اس کی ضمانت نئی آئین ساز اسمبلی کے تحت نئی سیکولر اور حقیقی وفاقی آئین میں دی گئی ہو۔ البتہ 1940ء کی قرارداد کی عدم مرکزیت کے اُصول کی نسبت آج بھی قائم ہے۔ اس لیے یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں قوموں اور ان کے صوبوں کو حقِ خودارادیت 1940ء کی قرارداد کی روح (عدم مرکزیت) کے مطابق دی جائے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

جامی چانڈیو

جامی چانڈیو پاکستان کے نامور ترقی پسند ادیب اور اسکالر ہیں۔ وہ ایک مہمان استاد کے طور پر ملک کے مختلف اداروں میں پڑھاتے ہیں اور ان کا تعلق حیدرآباد سندھ سے ہے۔ Jami8195@gmail.com chandiojami@twitter.com

jami-chandio has 11 posts and counting.See all posts by jami-chandio