کافر مچھلیاں اور بابا نانک کا کنواں


اور یہ جو دریا ہوتے ہیں‘ دنیا بھر کے دریا ہوتے ہیں‘ وہ صرف تب نامور ہوتے ہیں جب وہ کسی قدیم شہر یا بستی کے کناروں کو سیراب کرتے ہیں تو راوی صرف لاہور سے لگ کر بہتا تھا تو جانا گیا۔ دریائے نیل قاہرہ کی قربت سے پہچانا گیا۔ گنگا کے پانی بنارس تک گمنام رہا آئے۔ دجلہ اور فرات‘ شہر بغداد کے مرہون منت ہیں۔ دریائے تھیمز کو لنڈن نے نامور کیا۔ دریائے والگا کو ماسکو نے گلے لگایا۔ البتہ ان سب میں صرف ایک دریا ہے جسے کسی بھی بستی یا شہر کی قربت کی حاجت ناموری کے لیے نہ ہوئی۔ بلکہ جن شہروں اور آبادیوں میں سے وہ گزرا‘ اس کے پانیوں نے ان کو سربلند کیا اور وہ دریائے سندھ ہے۔ جس دریا کے نام نے ایک پورے برصغیر کو اپنا نام دیا۔ انڈس سے انڈیا ہوا۔ ہم نے جسڑ کے مقام پر دھیرے سے سرکتے اجنبی راوی سے معذرت کی کہ یہاں تم اچھے نہیں لگتے۔ لاہور میں کامران کی بارہ دیواری کے ساتھ بہتے اچھے لگتے ہو۔ وہیں پھر ملیں گے ایک بریک کے بعد۔

اگرچہ لاہور سے جب آج سویر نکلے تو وہاں کا راوی بھی رواں نہ تھا۔ تھم تھم کر بہتا تھا کہ اس کے پانیوں میں شہر لاہور کی آلودگی اور گندگی گھنی ہو چکی تھی۔ راوی نہ تھا ایک غلاظت بھرا گندا نالا تھا۔ مجھے گمان ہوا کہ میری پیش گوئی شاید درست ثابت ہونے کو ہے۔ جیسے ’’بہاؤ‘‘ میں سرسوتی سوکھ گیا‘ ایسے ہی راوی بھی خشک ہورہا ہے اور آئندہ زمانوں میں لوگ ایک دریا کی خشک ہو چکی گزرگاہ کے کناروں پر کسی کھنڈر ہو چکے شہر کی مٹی کریدیں گے اور اس میں سے ٹھیکریاں برآمد ہوں گی اور کسی ایک ٹھیکری پر نقش ہوگا۔ لاہور‘ لاہور ہے۔

ہم راوی سے بچھڑ کر واپس شاہراہ پر آئے۔ کچھ مسافت اختیار کی اور کچھ دیر بعد دائیں ہاتھ پر ایک پیلے رنگ کا بورڈ آویزاں نظر آیا۔ اس بورڈ کے ماتھے پر گور مکھی میں کچھ درج تھا۔ دونوں جانب سکھ مذہب کے امتیازی نشان تھے۔ انگریزی میں بھی اعلان تھا اور اردو میں تحریر تھا۔ گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور صاحب 2.5 کلومیٹر۔

ایک بہت ہریاول بھری وسعت تھی‘ نہ کوئی گاؤں تھا نہ کسی آبادی کے آثار اور اس ہری ہری وسعت کے درمیان میں ایک سفید رنگ کی گیندوں اور محرابوں والی عمارت یوں ابھر رہی تھی جیسے وہ ان کھیتوں کی ہریاول کی بیٹی ہو۔ داخلے پر کچھ مناسب پچھ پڑتیت ہوئی کہ سکیورٹی کے معاملات تھے۔ ہم اس عمارت کے احاطے میں داخل ہوئے تو بائیں جانب محفوظ کیا جا چکا ایک کنواں تھا۔ اس کے گرد محراب نما دیواریں تھیں۔ کنواں قید میں تھا اور یہ وہی کنواں تھا قدیم طرز کا جس کی ماہل پر کبھی کوزے پروئے ہوتے تھے‘ ٹنڈیں نصب ہوتی تھیں‘ بیل گیڑے لگاتے تھے تو کوزے ہولے ہولے نیچے اتر کر پانیوں میں غرق ہوتے تھے اور پھر لبریز ہو کر ابھرتے تھے اور کھیتوں کو سیراب کرتے تھے۔ یہ تو وہی میرے دادا امیر بخش کا کنواں تھا اور یہاں کہتے ہیں کہ یہ بابا گورونانک کا کنواں ہے۔

میں نے اس بے وجہ عطا کردہ نسبتاً طویل حیات میں اپنے دادا کے علاوہ اور بہت اور بے شمار کنویں دیکھے ہیں‘ سب کا تذکرہ کہاں ہوسکتا ہے‘ مختصراً اندلس کے ویرانوں میں عرب زمانوں کا ایک کنواں‘ قبا اور مدینے کے راستے میں غرص نام کا۔ قربان قربان وہ کنواں جہاں مسافت کے دوران قصویٰ کا سوار دم لیتا تھا۔ دو گھونٹ پانی پیتا تھا اور اکثر اس کی منڈیر پر بیٹھ کر اپنی ٹانگیں کنویں کے پانیوں سے خنک کرتا تھا۔ یہاں تک کہ روایت ہے کہ میرے رسولؐ نے رخصت ہوتے ہوئے وصیت کی تھی کہ مجھے غرص کے پانیوں سے غسل دیا جائے اور حضرت علیؓ کوزے بھر بھر کے اس کے پانیوں کے لیے لے گئے تھے اور پھر سلمان فارسیؓ کا کنواں تھا‘ جسے میں نہ دیکھا جو نابود ہونے کو تھا۔ اور سب سے اعلیٰ اور مسلمانوں کی پیاس بجھانے والا عثمان غنیؓ کا خرید کردہ وہ کنواں، جس پر آج ایک بھدی سی موٹر لگی ہوئی ہے اور جس کے قریب جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ان میں پورن بھگت کے کنویں کو بھی شامل کرلیجئے جہاں آج بھی بے اولاد عورتیں حاضری دیتی ہیں اور اس کے پانیوں سے غسل کرتی ہیں کہ شاید پورن کی طفیل اولاد نصیب ہو جائے۔

ان سب کنوؤں میں ایک احساس مشترک ہوتا ہے۔ ان میں جھانکئے تو پاتال میں سے ایک مہک اٹھتی ہے۔ نسل انسانی سے ذات پات کی تخصیص کے بغیر محبت کی۔ ایک کائناتی سچائی اور وحدانیت کی۔ گورونانک کے اس کنویں کی گہرائیوں میں سے بھی وہی مہک اٹھتی تھی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

مستنصر حسین تارڑ

بشکریہ: روزنامہ 92 نیوز

mustansar-hussain-tarar has 181 posts and counting.See all posts by mustansar-hussain-tarar