کچھ عرصہ ہوا جب میں نے شاہ دارا کے نام کی بستی شاہدرہ کے گلی کوچوں میں دوستوں کی مدد سے شاہ حسین کی بیٹھک تلاش کر لی کہ شاہ حسین اکثر لاہور کی گلیوں میں رقص کرتے اپنے مُریدوں کے غول میں پہلے تو سرشام دریائے راوی کے کنارے پہنچتے اور پھر وہاں سے شاہدرہ میں واقع اپنی بیٹھک میں جا قیام کرتے۔ اس بیٹھک کے اندر ایک بہت پرانے درخت کا تنا اب تک موجود ہے جس کے ساتھ ٹیک لگا کر شاہ حسین بیٹھا کرتے تھے۔ بیٹھک کے عین سامنے مادھو لال کا گھر تھا اور وہ شاہ حسین کے محبوب اتنے ہوئے کہ انہوں نے اپنا نام بھی مادھو لال حسین رکھ لیا ’ان کی قبر کے سرہانے جو کتبہ آویزاں ہے اس پر بھی یہی نام درج ہے۔
مادھو لال بعد میں مسلمان ہوئے اور شاہ حسین کی قربت نے انہیں بھی ولائت کے درجے پر فائز کر دیا۔ مادھو لال کا گھر تو کب کا اجڑ چکا لیکن اس کی جگہ جو گھر ان دنوں موجود ہے وہ بھی بہت قدیم تعمیر کا ہے۔ انہی موسموں میں شاہ حسین کی یاد میں میلہ چراغاں کا اہتمام ہوتا ہے اور میں اپنی صحت کے ہاتھوں مجبور شدید خواہش کے باوجود اس بار اس میلے میں شریک نہ ہو سکا۔ بدقسمتی سے شاہدرہ کی بے ہنگم آبادیوں نے مقبرہ جہانگیر کی بیرونی دیواروں اور برجوں کو ایک جونک کی مانند اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
Read more