’’سکندر بخار، وادیٔ کالاش اور یونانی دواخانے‘‘

چنانچہ ہم جیسے عام لوگوں تک وہی تاریخ پہنچتی ہے جو اقتدار کے ایوانوں میں درباری خوشامدیوں سے لکھوائی جاتی ہے…اور اس تاریخ میں صرف بادشاہ کی بے مثال فتوحات کا تذکرہ ہوتا ہے۔ مجال ہے کسی ایک شکست کا بھی ذکر ہو۔ اس طرح سکندر اعظم اور پورس کے درمیان جو جنگ ہوئی اسے…

Read more

’’مہمل تاریخ اور پورس کے ہاتھوں سکندر اعظم کی شکست‘‘

ولیم فورڈ کا تاریخ کے بارے میں ایک ایسا فقرہ ہے جو اس کی کاروں سے کہیں بڑھ کر مشہور ہوا ہے۔یعنی’’ہسٹری از اے بَنک‘‘ جس کا ترجمہ تو یہی ہو سکتا ہے کہ تاریخ ایک مہمل شے ہے۔ بکواس ہے۔ لیکن ’’بَنک‘‘ ایک ایسا لفظ ہے جس کا کچھ بھی ترجمہ کیا جا سکتا…

Read more

’’گلہریاں اور استاد بشیر احمد‘‘

جی ہاں اُن دنوں یہ عین ممکن تھا کہ نیشنل کالج آف آرٹس میں مختصر مصوری کے استاد بشیر احمد کے کمرے میں آپ ایک بے ہوش گلہری پڑی دیکھ لیں تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخری ایک گلہری کا این سی اے اور خاص طور پر بشیر احمد میں کیا تعلق…

Read more

’’عہد جدید کے بہزاد کا ’’کارخانہ‘‘

کیا آپ جانتے ہیں کہ گلہریوں کا مصوری سے گہرا تعلق ہے‘ اگر خدانخواستہ گلہریاں نہ ہوتیں تو ایک مخصوص قسم کی مصوری بھی نہ ہوتی۔ اور مصوری کا لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس سے گہرا تعلق ہے۔ یوں دراصل گلہریاں اور نیشنل کالج آف آرٹس یعنی این سی اے لازم و ملزوم ہیں…

Read more

تاج محل کا ایک گوشہ اور آصف جاہ کے گنبد کے گِدھ

کچھ عرصہ ہوا جب میں نے شاہ دارا کے نام کی بستی شاہدرہ کے گلی کوچوں میں دوستوں کی مدد سے شاہ حسین کی بیٹھک تلاش کر لی کہ شاہ حسین اکثر لاہور کی گلیوں میں رقص کرتے اپنے مُریدوں کے غول میں پہلے تو سرشام دریائے راوی کے کنارے پہنچتے اور پھر وہاں سے شاہدرہ میں واقع اپنی بیٹھک میں جا قیام کرتے۔ اس بیٹھک کے اندر ایک بہت پرانے درخت کا تنا اب تک موجود ہے جس کے ساتھ ٹیک لگا کر شاہ حسین بیٹھا کرتے تھے۔ بیٹھک کے عین سامنے مادھو لال کا گھر تھا اور وہ شاہ حسین کے محبوب اتنے ہوئے کہ انہوں نے اپنا نام بھی مادھو لال حسین رکھ لیا ’ان کی قبر کے سرہانے جو کتبہ آویزاں ہے اس پر بھی یہی نام درج ہے۔

مادھو لال بعد میں مسلمان ہوئے اور شاہ حسین کی قربت نے انہیں بھی ولائت کے درجے پر فائز کر دیا۔ مادھو لال کا گھر تو کب کا اجڑ چکا لیکن اس کی جگہ جو گھر ان دنوں موجود ہے وہ بھی بہت قدیم تعمیر کا ہے۔ انہی موسموں میں شاہ حسین کی یاد میں میلہ چراغاں کا اہتمام ہوتا ہے اور میں اپنی صحت کے ہاتھوں مجبور شدید خواہش کے باوجود اس بار اس میلے میں شریک نہ ہو سکا۔ بدقسمتی سے شاہدرہ کی بے ہنگم آبادیوں نے مقبرہ جہانگیر کی بیرونی دیواروں اور برجوں کو ایک جونک کی مانند اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

Read more

’’ایم ایم عالم دمشق میں اور…گولان‘‘

ابھی پچھلے دنوں امریکی صدر نے نیتن یاہو کو الیکشن جتوانے کے لئے ایک تحفہ پیش کر دیا اور گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کی ریاست قرار دے دیا۔ اس سے پیشتر امریکہ کی جانب سے مقبوضہ علاقوں میں یہودیوں کو نئی بستیاں آباد کرنے کا حق بھی تسلیم کر لیا گیا اور بیت المقدس…

Read more

قصیدہ بانت سعاد اور لاہور کی تلوار

گئے زمانوں کے قصے ہیں جب ریل گاڑی دھواں اگلنے والے انجن کے کالے کلوٹے وجود سے بندھی پنڈی کی جانب سے لاہور کی قربت میں ہوتی جاتی تھی تو بائیں جانب کھڑکیوں میں سے کھجوروں کے جھنڈ نظر آنے لگتے تھے تو کم از کم تین چار مسافر ضرور پکار اٹھتے تھے کہ لو بھائی جان شاہدرہ آ گیا ہے اور جب ریل گاڑی راوی کے پل پر پہنچتی تھی تو ”لو بھائی جان لاہور آ گیا ہے“ کے نعرے لگتے تھے۔ کھجور کے ان جھنڈوں میں ان پاکستانی فلموں کی شوٹنگ ہوا کرتی تھی جن میں عرب ماحول دکھانا مقصود ہوتا تھا۔

ہیرو عرب لباس زیب تن کیے رباب بجا رہا ہے اور ہیروئن چہرے کو ایک نقاب میں پوشیدہ کیے ٹھمکے لگاتی۔ ”حبیبی ہیا ہیا“ گا رہی ہے۔ اکثر اس دوران کھجوروں سے پرے ایک سڑک پر سے کوئی تانگہ یا بس بھی گزر جاتی تھی لیکن اتنی باریکیوں میں کون جاتا تھا۔ کہتے ہیں دو افیونی ذرا جھوم سے گئے۔ جذباتی ہو گئے اور کہنے لگے ’یار فیقے زندگی کا کچھ پتہ نہیں۔ حج نہ کر آئیں۔ چنانچہ بمشکل اٹھے اور اپنے تئیں مکہ مکرمہ کا خ کر لیا۔

Read more

’’حسن یوسف اور مولوی غلام رسول عالمپوری‘‘

جب کبھی کوئی کھوئی ہوئی یاد دل کے نہاں خانوں میں سراب کی صورت ‘ ایک دھندلے خواب کی صورت یوں جھلملانے لگتی ہے کہ کبھی وہ صاف ظاہر ہوتی ہے اور کبھی بیتے زمانوں کے اندھیاروں میں گم ہو جاتی ہے تو تین چیزیںایسی ہوتی ہیں جو اس یاد کو سراب سے دریافت کر…

Read more

قبر کے کتبے کے گلے میں ہار اور صدارتی گیٹ ہمیشہ کے لئے بند

کسی بھی ایوارڈ کی وقعت اور اہمیت کو پرکھنا ہو تو یہ دیکھئے کہ آپ سے پہلے وہ ایوارڈ کن کن ادیبوں کو مل چکا ہے۔ اگر تو ایسے ویسے ادیبوں کو بھی مل چکا ہے تو اسے قبول کر کے آپ بھی ایسے ویسے ہو جائیں گے۔ مجھے 2001 ء میں یا شاید 2002 ء میں دوہا قطر کا فروغ اردو ادب انٹرنیشنل ایوارڈ عطا کیا گیا اور یہ فیصلہ اس جیوری نے کیا جس کے چیئرمین مشتاق یوسفی تھے اور یوسفی صاحب کے بقول جیوری نے صرف چند منٹوں کے اندر متفقہ طور پر یہ فیصلہ سنایا تو یہ ایوارڈ میرے لئے اس لئے بھی مسرت اور اعزاز کا باعث بنا کہ اس سے پچھلے برس یہ ایوارڈ شوکت صدیقی صاحب کو دیا گیا۔

ان سے پہلے احمد ندیم قاسمی ’اشفاق احمد اور قرۃ العین حیدر وغیرہ نے یہ ایوارڈ حاصل کیا۔ بلکہ جب جرمنی کی سرکاری ادبی تنظیم ”لٹریٹر ورک سٹاٹ“ نے میرے ناول ”راکھ“ کے حوالے سے جنوب مشرقی ایشیا کے نمائندہ ناول نگار کی حیثیت سے مجھے برلن مدعو کیا تو یہ بھی ایک بڑا اعزاز اس لئے تھا کہ مجھ سے پیشتر انتظار حسین اور قرۃ العین حیدر کے علاوہ جرمن ادیب تھامس مان جس نے ”ٹن ڈرم“ جیسا ناول تخلیق کیا تھا کو بھی یہ اعزاز دیا گیا تھا۔

Read more

’’ایوارڈ حاصل کرنے کے مجرب نسخے اور قبر کے کتبے‘‘

سول ایوارڈ کچھ تو عطا ہوتے ہیں اور کچھ عطا کروائے جاتے ہیں یعنی کچھ ملتے ہیں اور کچھ ’’حاصل ‘‘ کئے جاتے ہیں۔ ایوارڈ ’’حاصل‘‘ کرنے کے لئے وہ تمام تر حربے استعمال کئے جاتے ہیں جو کسی بھی غیر قانونی عمل کو قانونی کروانے کے لئے بروئے کار لائے جاتے ہیں‘ یعنی سفارش‘…

Read more