بڑے شاعر اور ادیب کنوارے کیوں مر گئے؟ (مستنصر حسین تارڑ کی ایک زندہ تحریر)

پنجابی صوفی شاعری میرے بدن اور روح میں ان پرتشدد زمانوں میں جب کہ بچوں، عورتوں اور معصوم لوگوں کو اور ہمارے جوانوں کو ہلاک کر کے ان کے سر کھمبوں پر آویزاں کرنے والوں کو شہید قرار دیا جاتا ہے۔ بے وجہ قتال اور اپنی دھرتی کے خلاف ”جہاد“ کرنے کو جائز ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ صرف پنجاب کے صوفی شعراء کا کلام ہے جو مجھے ڈھارس دیتا ہے۔ کہ نہیں، بے شک یہ کشت ویراں ہے، اس میں

Read more

تتلیاں سنو لیک کی اور میرے ابا جی کے بوسے

پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے سے پیشتر سرینگر کی ڈل جھیل کے کنارے پر ہمارا ایک وسیع سِیڈ فارم تھا جہاں دیگر پھولوں کے علاوہ ڈہلیا کے کھیت تھے اور وہ حجم میں اتنے بڑے ہوتے تھے کہ صرف تین پھولوں سے ایک گلدان بھر جاتا تھا۔۔۔والد صاحب تب اس خطے کے سب سے بڑے بیجوں کے ادارے کے مالک تھے اور اُن کا کاروبار برما اور سری لنکا تک پھیلا ہوا تھا، یہاں تک کہ دوسری جنگ عظیم

Read more

’’کرتار پور اور رین بوبرج کے خواب‘‘

تو کیا ہم نے کرتارپور کوریڈور کھول کر، ایک وسیع کامپلکس تعمیر کر کے اس کے قدرتی صدیوں قدیم ہریاول بھرے ماحول کو تبدیل کر کے، ہم نے بابا نانک کی مانند ایک سچا سودا کیا ہے یا اس سودے میں ہمیں گھاٹا پڑے گا؟ پچھلی شب مجھے میرے دیرینہ دوست سکھدیپ سنگھ رانگی کا فون سڈنی سے آیا اور وہ ہر تین چار ہفتوں کے بعد مجھے تب فون کرتا ہے جب وہ کلی طور پر ٹن ہوتا ہے

Read more

’’گورے ادیب، کالے ادیب اور کاملہ شمسی‘‘

ہمارے ادب میں تین قسم کے پاکستانی پائے جاتے ہیں، ایک وہ جو اپنی مادری زبانوں میں اس کے باوجود کہ ان کا کوئی چرچا نہیں ہوتا، شہرت اگر ہوتو محدود ہوتی ہے یہ لوگ اپنی سرزمین سے جڑے ہوئے لوگ پنجابی، پشتو اور سندھی میں بڑا ادب تخلیق کر رہے ہیں۔ دوسری قسم کے پاکستانیوں میں مجھ ایسے ہیں جنہوں نے اگرچہ فیض عام کی مانند کچھ نہ کچھ تو اپنی مادری زبان میں لکھا لیکن ان کا بنیادی

Read more

’’بچے جتنے کچّے اتنے ہی میٹھے‘‘

کیا نوجوان طالب علموں اور بچوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا جائز ہے؟ کیا انہیں کسی بھی سیاسی تحریک میں جھونک دینا مناسب ہے؟ لکشمی مینشن نام کی ایک کولونئیل عمارت جو رہائشی فلیٹوں پر مشتمل ہوا کرتی تھی اور پھر تاجر مافیا کے ہاتھوں یوں برباد ہوئی کہ سعادت حسن منٹو کے نام کی تختی ان کے گھر سے اکھاڑ کر کوڑے میں پھینک دی گئی۔ میں نے اپنے بچپن اور جوانی کا ایک بڑا حصہ

Read more

ہراموش اور نانگا پربت کے جنگل روتے ہیں

یہ جولائی 1975 ء کا قصہ ہے جب سوئٹزر لینڈ کے دارالحکومت برن میں مجھے اطلاع ملی کہ میرا خالہ زاد بھائی والدین کی اکلوتی اولاد کیپٹن پائلٹ ساجد نذیر کوئٹہ میں اپنے جہاز کے حادثے میں شہید ہو گیا ہے۔ ساجد میرے بہت ہی قریب تھا اور عمر میں بڑا ہونے کے باوجود اس کے ساتھ میری گہری دوستی بھی تھی۔ حادثے میں وہ بری طرح جھلس گیا تھا اور اسے ایک خصوصی ٹینٹ میں رکھا گیا تھا۔ اس

Read more

’’تنہائی کے سو رُوپ ہیں‘‘

تنہائی کے سو روپ ہیں۔ اس کا ایک روپ ایسا ہے جس میں انسان خود ایک اداسی گھولتا ہے اور اس کیفیت کو اپنے اوپر طاری کر کے ایک لطف سے آشنا ہوتا ہے جیسے آج تنہائی کسی ہمدمِ دیرینہ کی طرح کرنے آئی ہے میری ساقی گری شام ڈھلے…چنانچہ تنہائی کا یہ رُوپ کسی حد تک رومانوی ہوتا ہے۔ اس میں مجبوری کا عمل دخل نہیں ہوتا، ایک تنہائی رُوح کی ہوتی ہے اور یہ سانس کی عطا کے

Read more

’’کرکٹ کی ڈائن بقیہ کھیلوں کو کھا گئی‘‘

سلمان نے نہایت اشتیاق سے اخبار کے پہلے صفحہ کی سرخیوں پر نظر دوڑائی اور ویٹر کو کہنے لگا اوئے پرانا اخبار لے آتے ہو! ویٹر نے قسم کھا کرکہا کہ صاحب آج کا اخبار ہے۔ سلمان نے بہ نظر غائر اخبار کی پیشانی پر درج تاریخ پڑھی۔ واقعی آج کا اخبار ہی تھا۔ ہماری غیر حاضری میں ملکی صورت حال میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی تھی۔ تمام خبریں خاص طور پر سیاسی اور سماجی بالکل وہی تھیں جو

Read more

”تبدیلی آئی رہے“ گنگنانا شروع کر دوں؟

گئے زمانوں میں دو قسم کی ”واپسیاں“ بہت مشہور ہوا کرتی تھیں بلکہ المشہور ہوا کرتی تھیں۔ ایک ٹارزن کی واپسی اور دوسری عذرا کی واپسی۔ لون رینجر کے علاوہ ٹارزن ہی پسندیدہ ہیرو ہوا کرتا تھا اور ہم اس کی فلمیں اکثر چوری چھپے دیکھا کرتے تھے۔ ٹارزن کا کردار ادا کرنے والے اداکار اور اس کی گرل فرینڈ جین کا کردار نبھانے والی خواتین بدلتی رہتی تھیں۔ اولین ٹارزن جانی وزملر نام کا ایک اداکار تھا جو ذاتی زندگی میں ایک سوئمنگ چمپئن ہوا کرتا تھا۔

Read more

ٹیرر ٹکیلا اور چچن اِتزا کا عظیم اہرام

میرے تصور میں اک تصویر تھی کہ بہت گھنے جنگل دکھائی دیں گے اور ان کی ہر بادل میں سے سر بلند ہوتا مایا تہذیب کا عظیم اہرام چچن اتزا دور سے نظر آنے لگے گا پر ایسا نہ ہوا۔ حسب معمول ہم ایک ایسی پارکنگ لاٹ میں داخل ہو گئے جہاں درجنوں کوچیں اپنے اپنے مسافر اگل کر استراحت فرما رہی تھیں۔ مقامی مصنوعات کی ایک جدید مارکیٹ اور ریستورانوں سے پرے ایک ناہموار راستہ تھا جس کے دونوں

Read more

’’ٹیرر ٹکیلا اور چچن اِتزا کا عظیم اہرام‘‘

مایا تہذیب کے زمانوں کے زمین کی گہرائی میں پوشیدہ ’’سنوتے‘‘ تالاب کے یخ بستہ پانیوں میں اترنا گویا ایک آبی خواب میں اترنا تھا۔ تالاب کے گرد اٹھتے گنبد نما حصار کی کچی دیواروں میں سے آبی خود رو بوٹے پھوٹ رہے تھے اور اس گنبد میں جو شگاف تھا اس میں سے دھوپ ایک روپہلی چادر کی صورت نیم تاریکی میں اترتی تھی اور اس کے ہمراہ ایک آبشار کے پانی تالاب کی سطح پر بلندی سے گرتے

Read more

سمندر پر تیرتے جام

ہم میکسیکو کے شہر کین کون میں ”فائنسٹ پلایا مجیرس“ ریزارٹ کی جنت ارضی کی قید میں تھے۔ ہماری جنت میں تو وعدہ ہے کہ ہم جس بھی پھل کی جانب ہاتھ بڑھائیں گے وہ خود بخود آپ کے ہاتھوں میں آ جائے گا۔ یہاں معاملہ قدرے مختلف تھا۔ آپ اگر شغف فرماتے ہیں تو آپ کا دل پسند مشروب اک اشارے سے آپ کے ہاتھ میں آ جائے گا نہ صرف کمرے میں مے خوری نہیں بلکہ مے خواری کے تمام اہتمام تھے کہ جتنی شراب یہاں تھی اسے نوش کرنے کے بعد بندہ خوار ہو جاتا تھا۔

Read more

سورج کے ساتھ ساتھ عابد علی بھی ڈوب گیا

ابھی ایک دو برس پیشتر مجھے کسی پروگرام کی ریکارڈنگ کے سلسلے میں پاکستان ٹیلی ویژن لاہور جانے کا اتفاق ہوا تو مجھے وہاں قبرستان ایسی خاموشی محسوس ہوئی حالانکہ رونق بہت تھی۔ چہل پہل تھی لیکن میرے کانوں میں ایک سناٹا اترتا تھا۔ لاہور ٹیلی ویژن کی راہداریاں سنسان پڑی تھیں۔ مجھے وہاں شائبے سے ہوتے تھے کہ یہ کون تھا جو میرے قریب سے گزر گیا اور مجھ سے ملنے کے لئے ٹھہرا بھی نہیں۔ سلام دعا تک نہیں کی۔ خیام سرحدی ’شفیع محمد‘ جمیل فخری ’ظل سبحان‘ فاروق ضمیر ’محبوب عالم‘ بدیع الزماں ’ایوب خان‘ ایم شریف کون تھا۔

Read more

آکٹاویو پاز کی شاعری اور جانب میکسیکو

کیا آکٹاویو پاز ایسے شاعر کے لیے کارلوس فونٹس ایسے ناول نگار کے لیے فریدہ کوہلو ایسی خبطی مصور ہ کے لیے، مارلن برانڈو کی فلم ”ویوا زچال“ کے لیے، ایک سومبریروہیٹ کے لیے، آگ کے ایک بوٹ کے لیے، قدیم مایا تہذیب کے لیے اور ٹکیلاشراب کے ایک گھونٹ کے لیے، میکسیکو کی جانب پرواز کرتے جانا جائز ہے۔ شاعری، ریت، خون اور انقلاب کی سرزمین کی جانب سفر کرنا جائز ہے۔ ہاں جنوبی امریکہ کا رُخ کرنا پہلی بار اور میکسیکو ایسے دھوپ بھرے ویرانے کی جانب چل دینا جائز ہے اگر۔

Read more

’’آکٹاویو پاز کی شاعری اور جانب میکسیکو‘‘

کیا آکٹاویو پاز ایسے شاعر کے لیے کارلوس فونٹس ایسے ناول نگار کے لیے فریدہ کوہلو ایسی خبطی مصور ہ کے لیے، مارلن برانڈو کی فلم ’’ویوا زچال‘‘ کیلیے، ایک سومبریروہیٹ کے لیے، آگ کے ایک بوٹ کے لیے، قدیم مایا تہذیب کے لیے اور ٹکیلاشراب کے ایک گھونٹ کے لیے، میکسیکو کی جانب پرواز کرتے جانا جائز ہے۔ شاعری، ریت، خون اور انقلاب کی سرزمین کی جانب سفر کرنا جائز ہے۔ ہاں جنوبی امریکہ کا رُخ کرنا پہلی بار

Read more

امریکی ہرن اور پاکستانی بکرے عید مبارک

دیار غیر میں عید کا دن بسر کرنا اور اپنے وطن میں عید منانے میں صرف ایک بنیادی فرق ہے۔ آپ اپنے وطن کی عید کی سویر کو بیدار ہوتے ہیں تو آپ کے بدن کے اندر ایک عجیب مسرت بھری چراغاں جگمگاتی ہے۔ جس کی روشنی روح میں شامل ہو کر آپ کو خوشیوں کے مہک آور ہار پہنا دیتی ہے۔ یہی موسم جو آپ کے بدن کے اندر دمکتے جھلملاتے ہیں، آپ کے چاروں طرف باغ بہاراں کی مانند کھلے ہوتے ہیں۔ کیا بچے کیا بڑے یہاں تک کہ تانگوں کے گھوڑے بھی عید کے خمار میں سرشار نظر آتے ہیں۔

Read more

یہ حُب الوطنی کیا شے ہے؟

میں نے گزشتہ کالم میں بابا فرید کا حوالہ دیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ دُکھ سجھائے جگ۔ ان خطوں میں دو بڑے دکھ ہیں۔ وطن سے دوری کا دکھ اور تنہائی کا دکھ۔ آخر یہ حب الوطنی کیا ہے۔ ایک بیماری ہے۔ ایک روگ ہے کیا ہے۔ کیا وطن کے خدا کی پرستش جائز ہے یا انسان کو اس سے ماورا ہو کر ایک کائناتی سچ کا حصہ بن جانا چاہیے۔ انگلستان میں ایتھوپیا کا رہنے والا ایک

Read more

آر لینڈو میں زندگی، اور ایک موت

آرلینڈو کو مگرمچھوں کا شہر بھی کہا جا سکتا ہے جہاں اگر مگر مچھ ہیں تو وہ صرف مقامی لوگوں کو ہی نظر آتے ہیں۔ اس شہر میں جھیلیں، جنگل اور ہریاول بہت ہے اور انسان کم کم ہیں۔ ان جھیلوں میں مبینہ طور پر مگرمچھ پائے جاتے ہیں۔ اگر ہیں تو جانے کیوں وہ مجھے اپنا رخ زیبا دکھانے سے جھجکتے ہیں۔ پچھلے پندرہ برس میں مجھے تو آرلینڈو میں ایک مگرمچھ بھی نظر نہیں آیا۔ بہت خواہش تھی

Read more

ڈاکٹر خالد حسن کی حیرت انگیز مسافت

یہ اُن زمانوں کا قصہ ہے جب ہم لاہور کے تین انگریزی کے لیے مخصوص سینما گھروں ریگل، اوڈین اور پلازا میں ہالی وڈ کی فلمیں نہایت باقاعدگی سے دیکھا کرتے تھے۔ 1966 ء میں ایک فلم ”فنٹاسٹک وائج“ نام کی پلازا سینما میں نمائش کی گئی جس کے مرکزی کرداروں میں بن حُر والے سٹیفن بانڈ اور ہم سب کے ہوش اڑا دینے والی دراز قامت متناسب بدن اداکارہ راکوئل ویلش شامل تھے۔ یہ ”حیرت انگیز مسافت“ ایک سائنس فکشن فلم تھی جو انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی تھی۔

Read more

’’شہزادہ زرنونی، قطری شہزادہ اور سلور رولز رائس

ریت میں اَٹا ہوا شہر دوبئی اور میں اجنبی نہ تھے۔ ہماری بہت سی ملاقاتیں ٹھہر چکی تھیں۔ کبھی یورپ سے واپسی پر عارضی قیام اور کبھی اپنے شو ’’شادی آن لائن‘‘ کی ریکارڈنگ کے دنوں میں اور کبھی کسی تقریب میں شرکت کے سلسلے میں، پہلی بار دوبئی سے ملاقات ہوئی تو میں ظاہر ہے اس عجوبہ شہر کی جدید حیرت انگیزی سے متاثر ہوا اور وہ سب کچھ کیا جو دوبئی کی سیاحت کا محکمہ کسی غیر ملکی

Read more

’’نہ اوہ مومن، نہ اوہ کافر، شاہ حسین‘‘

ربا! میرے حال دا محرم توں اندر توں ہیں، باہر تو ہیں، رُوم رُوم وِچ توں توں ہی تانا، توں ہی بانا، سبھ کجھ میرا توں کہے حسین فقیر نمانا، میں ناہیں سبھ توں! محبوب الحق…حضرت شیخ مادھو رحمتہ اللہ علیہ قادری لاہوری ولادت 983ھ…وصال 1054ھ قطب الحق، امام الاوتار …حضرت شاہ حسین مقصود العین المعروف لال حسین قدس سرہُ العزیز…ولادت 940ھ …وصال 30جمادی الثانی 1008ھ عجب شام تھی… شام تو نہ تھی ڈھل چکی رات تھی۔ تقریباً پینتالیس برس

Read more

’’اِک حسیں گائوں تھا کنارِ آب ۔ جالب جالب‘‘

پاکستان کے وجود میں آنے سے پیشتر اردو ادب میں جتنے بھی بڑے ادیب اور شاعر تھے انہیں پسند کرنے والے اور پڑھنے والے ان کے ادب کے علاوہ اُن کے سیاسی اور سماجی رویوں سے آگاہ تھے۔ ترقی پسند ادیب یوں بھی اپنی تحریروں سے ہی پہچان لئے جاتے تھے کہ ان کا سیاسی اور سماجی نکتہ نظر کیا ہے۔ آپ کو پریم چند ‘ راجندر سنگھ بیدی‘ کرشن چندر‘ کیفی اعظمی ‘ اختر الایمان‘ جوش ملیح آبادی‘ احمد

Read more

’’غزہ میں شادی اور موت‘‘

کبھی کبھار ایسا ہو جاتا ہے کہ میں اپنی حیات کے تجربوں میں سے کوئی ایک تجربہ جسے میں بیان کر چکا ہوں،اسے پھر سے اپنے کالم کے سپرد کر دیتا ہوں کہ جنوںمیں جتنی بھی گزری اگرچہ بے کار گزری ہے لیکن میں نے وہی بیان کرنا ہے جو کہ مجھ پر گزری۔ میں اپنے نکتہ نظر کو ثابت کرنے کے لئے نئے قصے نہیں گھڑتا۔ نہ ہی مقدس حوالوں سے متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ بس وہی

Read more

’’فرانس میں مُرغ انقلاب‘‘

مجھے یہ اقرار کرنے میں کچھ تامل نہیں کہ میرے انسانی نظام میں کچھ ایسا خلل ہے کہ مجھے انسانوں کی نسبت جانور زیادہ پسند ہیں۔ نہ صرف ان کی خصلت‘ طرز زندگی بلکہ ان کی شکلیں زیادہ پسند ہیں۔ مجھے ہرگز کسی کی دل آزاری مقصود نہیں لیکن آپ خود انصاف کیجیے کیا آج کے سیاسی سربراہوں اور ان کے حواریوں کی نسبت کچھ جانور اور پرندے وغیرہ زیادہ خوش شکل نہیں ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سفید برفانی

Read more

مہان سنگھ کی سمادھی۔ گوجرانوالہ

ایک بے آرام تنگ سی گلی جس کے دونوں جانب کے بھدے سے مکان پہلوانوں کی مانند ماتھے قریب کرتے ہوئے اک دوجے کے ساتھ بھڑ جانے کو تیار۔ ایک ایسی گلی جس میں داخل ہو کر انسان خود بھی اس گلی کی مانند تنگ اور بے آرام ہو جائے اور جب پلٹ جانے کو جی چاہے تو اس گلی کے آخر میں مکانوں میں پھنسا ہوا ایک کھنڈر ہوتا گنبد، ایسا نظر آئے کہ اس پر اصفہان کے کسی پرشکوہ گنبد کا گمان ہو۔ ایک ایسی شکستہ عمارت جس کی برباد ہو چکی خوش نمائی میں اب تک اتنی تاثیر ہو کہ اس کی پہلی جھلک دیکھ کر دل تھم جائے کہ آخر اس بے ترتیب، گنجلک اور گندی گلیوں والے شہر میں یہ سوگوار کر دینے والی قدامت کی اجڑی ہوئی تعمیر کہاں سے ظاہر ہو گئی۔

Read more

زیدی فوٹو گرافرز اور شاہد زیدی کا کمال فن

چلئے آپ بھی کیا یاد کریں گے ہم آج کی بات نہیں کرتے۔ آج سے تقریباً ستر برس پیشتر کے زمانوں کا قصہ چھیڑتے ہیں۔ ہم ان دنوں کافی نابالغ ہوا کرتے تھے یعنی ساتویں جماعت میں پڑھتے تھے اور کافی لاڈلے بھی ہوا کرتے تھے کہ سب سے بڑے بیٹے تھے۔ کیا ہوا جو ہماری رنگت قدرے مشکی ہوا کرتی تھی۔ یعنی ہم کالے شاہ کالے بھی نہیں تھے اور گورے وغیرہ تو ہرگز نہیں تھے۔ بس بین بین

Read more

مسجد بیگم پورہ اور مٹھو کی حویلی

بیگم پورہ کی تاریخی مسجد کے وسیع صحن میں دھوپ بہت تھی اور تشویش اور انجانے کا خوف بہت تھا۔ صحن پر کھلتی متعدد قدیم محرابیں جو کسی زمانے میں کھلی ہوں گی۔ سفید دروازوں اور شیشوں سے ان زمانوں میں بند کر دی گئی ہیں تا کہ مسجد کا اندرون گردوغبار سے محفوظ رہے اور وہاں تعلیم حاصل کرنے والے دل جمعی سے قرآن پاک اور دینی علوم کو حفظ کر سکیں۔ اگرچہ بیگم پورہ مسجد کے قدیم درودیوار پر جو پرکشش روغنی اینٹوں سے سجی ہوئی زیبائشیں تھیں ان میں سے بیشتر اکھڑ چکی ہیں اور ان کی جگہ قلعی شدہ سپاٹ سطح ہے لیکن حیرت تو یہ ہے کہ اب بھی محرابوں کے اوپر چوکھٹوں میں کہیں کہیں ان کی رنگین گل بوٹوں والی نشانیاں موجود ہیں بلکہ مسجد کے عین درمیان میں زرد روغنی اینٹوں سے ترتیب شدہ ایک خوبصورت شجر جوں کا توں موجود ہے اور دیکھنے کے لائق ہے۔

Read more

علی مردان خان اور بُدھو کا مقبرہ

ہم جب کبھی روزمرہ کی گفتگو کے دوران کسی گاؤں، کسی شہر، آس پاس کے کسی گلی محلے یا علاقے کا نام لیتے ہیں تو سرسری گزر جاتے ہیں کہ یہ محض ایک نام ہے ایک پہچان ہے۔ ہم کم ہی اس کی کسی تاریخی نسبت یا قدامت کے کسی حوالے پر غور کرتے ہیں کہ آخر یہ چوہڑکانہ ہے تو یہ شخص چوہڑ کون تھا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کو آباد کرنے والا درویش ٹیک سنگھ کہاں سے آیا تھا۔ وہ گویا سائیں کون تھا جس کے نام کے تالاب کو سرگودھا کہا گیا وغیرہ۔

Read more

انور سجاد کا خوشیوں کا باغ

کہاوت تو یہی ہے کہ ”آج مرے اور کل دوسرا دن“ ویسے کہنا تو یہ چاہیے کہ ”آج مرے تو کل قیامت“ انور سجاد کو مرے ہوئے آج دوسرا نہیں پانچواں دن ہے۔ میرا دُکھ قدرے کم ہو گیا ہے تو میں نے سوچا رو دھو لیا، جی کو بہت آزار دے لیا تو کیوں نہ پچھلے زمانوں کے کچھ ورق پلٹے جائیں، انور سجاد کو کچھ یاد کر لیا جائے کہ بس یہی موقع ہے کیونکہ ابھی چوٹ تازہ ہے، یہ چوٹ ٹھنڈی ہو گئی تو ہم اسے بھول بھال جائیں گے، جیسے ابن انشاء اور مجید امجد کو بھول گئے۔

فیض اور فراز کو بھلا دیا، اور تو اور ادیبوں میں میرا واحد نزدیکی دوست یعنی وہ جو جگر ہوا کرتا تھا عبداللہ حسین بھی بھولتا جاتا ہے۔ بھٹہ چوک کے قریب سے گزرتا ہوں تو یاد آتا ہے کہ اسے کونے والے قبرستان میں دفن کیا تھا۔ اس کے بعد مجال ہے کہ کبھی چند لمحے نکال کر فاتحہ کے لیے بھی اس کی قبر کا رُخ کیا ہو، پھول چڑھانا تو دور کی بات ہے۔ سچی بات ہے مرنے والوں کے ساتھ وفا نہیں ہو سکتی۔ ایک مختصر کالم میں مشکل ہے، بہت مشکل۔

Read more

’’عید کی مبارکاں، عید کی اداسیاں‘‘

میں صدق دل سے سمجھتا ہوں کہ عید کے مبارک موقع پر ہمیں سب گلے شکوے بھول کر ایک دوسرے کو گلے لگا لینا چاہیے اور میری مراد ہے کہ روئیت ہلال کمیٹی کے سب اراکین کو تو ضرور ہی گلے لگانا چاہئے تا کہ سب شکایتیں دور ہو جائیں اور ہم مسلم امہ کی یک جہتی کا ثبوت دے سکیں۔ انسان خطا کا پتلا ہے اور اگر وہ عورت ہو تو خطا کی پتلی ہے؛ چنانچہ مجھ سے خطا

Read more

شیر شاہ سُوری کا کوس مینار

فرید کی سفید مینڈکی پھر سے رواں ہو گئی۔ دراصل اس کی کار میڈ ان جاپان ہے اور اس کا ناک نقشہ بھی جاپانی سا ہے یعنی سامنے سے ایک چپٹی ناک والی گیشگرل لگتی ہے چنانچہ میں اسے پیار سے ”ڈڈی“ یعنی مینڈکی کہتا ہوں۔ فرید بالکل مائنڈ نہیں کرتے بلکہ اسے صبح سویرے پارک میں آنے سے دیر ہو جائے تو نہائت سنجیدگی سے کہتا ہے۔ دراصل رات کو کچھ چھینٹے پڑے تو مینڈکی بے چاری گندی ہو گئی میں اسے نہلا رہا تھا اس لئے دیر ہو گئی۔

شیمپو بھی تو کرنا تھا۔ گلیوں اور تنگ بازاروں میں سفر کرنے کے لئے یہ مینڈکی بہت کارآمد ہے۔ وہ تنگ آبادیوں اور پیچیدہ گلیوں کے درمیان ایک وسیع ویران قطعے کے ایک کونے میں عجب فحش انداز میں کھڑا تھا۔ ہم اسے چھو نہیں سکتے تھے کہ صد شکر محکمہ آشار قدیمہ نے اس کے آگے ایک طویل آہنی جنگلہ ایستادہ کر کے اسے محفوظ کر لیا تھا۔ قطعے کے گرد تین اطراف میں بھدے سے سیمنٹ زدہ مکان کچھ تو پشت کیے کھڑے تھے اور ان کی دیواروں میں سے ایئر کنڈیشنر معلق تھے۔

Read more

’’میرا پہلا روزہ اور عید کا چاند‘‘

میری عمر کے باباجات کے ساتھ صحت کے کچھ مسائل کے علاوہ ایک اور ٹریجڈی یہ ہوتی ہے کہ لوگ ہمیں پتھر کے زمانے کا سمجھتے ہیں کہ اچھا آپ کے زمانے میں ہوائی جہاز ایجاد ہو گیا تھا۔ اچھا اگر آپ کے بچپن میں برگر اور پیزا نہیں ہوتا تھا تو آپ کھاتے کیا تھے۔ علاوہ ازیں ہر ایک آپ کی صحت کے بارے تشویش کا اظہار کرنا اپنا فرض منصبی سمجھتا ہے۔ یعنی آپ کسی پارک میں ذرا

Read more

موٹر سائیکل چلانے والی ڈولفن مچھلیاں

ان دنوں تو ہر جانب ڈالر کی ہاہا کار مچی ہے اور ڈالر ہے کہ ادھر ڈوبا ادھر نکلا کبھی ڈوبا اور پھر نکلا تو گویا پرندہ ہو گیا معیشت کی فضائے بسیط میں پرواز کرنے لگا اور اب ماہرین اپنی اپنی معاشی قابلیت کے کوٹھوں پر چڑھ کر اسے پچکارتے ہیں۔ سیٹیاں بجا کر متوجہ کرتے ہیں جیسے کبوتر باز اپنے کبوتروں کو واپس ٹھکانے پر لانے کے لئے عجب عجب آوازیں نکالتے ہیں کہ آ لوٹ کے آ

Read more

’’کائرہ کے دُکھ اور بچھڑ جانے والے بیٹے‘‘

میں جب لکھتے لکھتے تھک گیا تو اپنی سٹڈی سے اُٹھ کر لائونج میں چلا گیا۔ وہاں حسب معمول ٹیلی ویژن چل رہا تھا اور میری بیگم اس کے سامنے بت بنی بیٹھی تھی۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگی’’کائرہ کا جوان بیٹا مر گیا ہے‘‘ ’’کونسے کائرہ کا؟ مجھے یکدم سمجھ نہ آئی کہ وہ کیا کہہ رہی ہے۔ ’’اپنے پیپلزپازٹی والے کائرہ صاحب کا۔‘‘ اُس کی آنکھوں میں نمی اتر رہی تھی اور وہ ایک سناٹے میں آئی ہوئی

Read more

سرو والا مقبرہ: ایک تاریخی بھید

چہروں کی مانند بعض تصویریں، سکیچ یا نقش اپنے اندر کوئی ایسی دل کشی رکھتے ہیں کہ وہ یاد رہ جاتے ہیں۔ بے انت چہرے۔ تصویریں، سکیچ یا نقش بھول جاتے ہیں اور کچھ دل کے نہاں خانوں میں کہیں ثبت ہو جاتے ہیں، یاد رہ جاتے ہیں۔ جیسے شفیق الرحمن نے مجھے ’’الحمرا کی کہانیاں‘‘ کا ایک قدیم نسخہ تحفے کے طور پر بھیجا جس میں قصر الحمراء کے ایوانوں، محرابوں اور باغوں کے پین اینڈانک کے بلیک اینڈ

Read more

’’درس میاں وڈّا کی قبر کی گھاس‘‘

یہ ایک اور دن تھا نِمی نِمی دھوپ والا‘ ٹھنڈک بھری ہوائوں والا، جب میں ایک مرتبہ پھر لاہور آوارگی پر مائل ہوا اور میرے ہمراہ دائیں بائیں دو مُنکر نکیر تھے۔ صدیق شہزاد اور فرید احمد جو میرے نائب آورہ گرد تھے اور ہم اس سویر نکلے تھے ان آثار کی تلاش میں جو اس شہر میں جگہ جگہ بکھرے۔ کہیں ظاہر ہوتے اور کہیں نیم پوشیدگی میں تاریخ کو اپنی پرانی اینٹوں پرنقش کئے ہماری آنکھوں کے منتظر

Read more

’’کتاب کائنات کا سفر نامہ‘‘

ہم میں سے وہ لوگ جو تاریخ کی گتھیاں سلجھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں یقیناً ولیم ڈیل رمپل کے نام سے واقف ہوں گے۔ اس نے اپنی پہلی کتاب ’’ذی ناڈو کی تلاش میں‘‘ صرف بائیس برس کی عمر میں تحریر کی اور پوری دنیا میں ایک سفرنامہ نگار اور تاریخ دان کے طور پر متعارف ہو گیا۔ یہاں تک کہ لنڈن کے ٹائمز نے اس کی توصیف میں لکھا کہ اتنی کم عمری میں اتنی بڑی کتاب لکھنا کچھ

Read more

بڑا ادب صرف ابنارمل لوگ لکھ سکتے ہیں؟

میرا گزشتہ کالم کتابوں کے مجذوبوں کے بارے میں تھا تو بارے کتابوں کے بھی کچھ بیاں ہو جائے تو چنداں مضائقہ نہیں البتہ کوئی سو جھوان یعنی فلسفی نما شخص بجا طور پر معترض ہو سکتا ہے کہ اگر یہ ادیب حضرات کتابیں نہ لکھیں تو ایسے کتابوں کے مارے لوگ مجذوب ہونے سے بچ جائیں اور وہ بھی دیگر لوگوں کی مانند نہائت کامیاب اور باشعور حیات بسر کر سکیں تو سارا قصور ادیبوں کا ہے کہ یہ

Read more

’’جلیانوالہ باغ بھگت سنگھ اور قیام پاکستان‘‘

یہ پاکستان کے قیام کی پچاسویں سالگرہ کے دن تھے جب پاکستان ٹیلی ویژن نے تحریک پاکستان کے حوالے سے خصوصی ڈراموں کا ایک سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ وہ دن تھے جب پی ٹی وی میں کچھ جان باقی تھی اور اس کی سکرین پر پاکستانی ثقافت ‘ ادب اور موسیقی کے حوالے سے خصوصی پروگرام دیکھنے کو مل جاتے تھے۔ یہ ابھی ایک مردہ گھوڑا نہ ہوا تھا جو صرف حکومت وقت کی تھپکی سے

Read more

’’سکندر بخار، وادیٔ کالاش اور یونانی دواخانے‘‘

چنانچہ ہم جیسے عام لوگوں تک وہی تاریخ پہنچتی ہے جو اقتدار کے ایوانوں میں درباری خوشامدیوں سے لکھوائی جاتی ہے…اور اس تاریخ میں صرف بادشاہ کی بے مثال فتوحات کا تذکرہ ہوتا ہے۔ مجال ہے کسی ایک شکست کا بھی ذکر ہو۔ اس طرح سکندر اعظم اور پورس کے درمیان جو جنگ ہوئی اسے لکھنے اور بیان کرنے والے وہ تاریخ نویس تھے جو سکندر کی مہم میں اس کے ساتھ آئے تھے۔ وہ کیسے تحریر کر سکتے تھے

Read more

’’مہمل تاریخ اور پورس کے ہاتھوں سکندر اعظم کی شکست‘‘

ولیم فورڈ کا تاریخ کے بارے میں ایک ایسا فقرہ ہے جو اس کی کاروں سے کہیں بڑھ کر مشہور ہوا ہے۔یعنی’’ہسٹری از اے بَنک‘‘ جس کا ترجمہ تو یہی ہو سکتا ہے کہ تاریخ ایک مہمل شے ہے۔ بکواس ہے۔ لیکن ’’بَنک‘‘ ایک ایسا لفظ ہے جس کا کچھ بھی ترجمہ کیا جا سکتا ہے۔ یعنی تاریخ بیہودہ ہے۔ لایعنی ہے‘ پتہ نہیں کیا ہے‘ جھوٹ کتنا ہے۔ اور اس میں سچ کتنے فیصد ہے وغیرہ …ہر شخص اپنے

Read more

’’گلہریاں اور استاد بشیر احمد‘‘

جی ہاں اُن دنوں یہ عین ممکن تھا کہ نیشنل کالج آف آرٹس میں مختصر مصوری کے استاد بشیر احمد کے کمرے میں آپ ایک بے ہوش گلہری پڑی دیکھ لیں تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخری ایک گلہری کا این سی اے اور خاص طور پر بشیر احمد میں کیا تعلق ہو سکتا ہے تو میں یہ بھید کھولے دیتا ہوں۔ میں تب مال روڈ پر لکشمی مینشن میں رہائش پذیر تھا اور وہاں سے پیدل

Read more

’’عہد جدید کے بہزاد کا ’’کارخانہ‘‘

کیا آپ جانتے ہیں کہ گلہریوں کا مصوری سے گہرا تعلق ہے‘ اگر خدانخواستہ گلہریاں نہ ہوتیں تو ایک مخصوص قسم کی مصوری بھی نہ ہوتی۔ اور مصوری کا لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس سے گہرا تعلق ہے۔ یوں دراصل گلہریاں اور نیشنل کالج آف آرٹس یعنی این سی اے لازم و ملزوم ہیں اور ہاں یہ وہ گلہریاں نہیں جو این سی اے میں عجیب و غریب پیرا ہنوں میں ملبوس فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں میں تعلیم

Read more

تاج محل کا ایک گوشہ اور آصف جاہ کے گنبد کے گِدھ

کچھ عرصہ ہوا جب میں نے شاہ دارا کے نام کی بستی شاہدرہ کے گلی کوچوں میں دوستوں کی مدد سے شاہ حسین کی بیٹھک تلاش کر لی کہ شاہ حسین اکثر لاہور کی گلیوں میں رقص کرتے اپنے مُریدوں کے غول میں پہلے تو سرشام دریائے راوی کے کنارے پہنچتے اور پھر وہاں سے شاہدرہ میں واقع اپنی بیٹھک میں جا قیام کرتے۔ اس بیٹھک کے اندر ایک بہت پرانے درخت کا تنا اب تک موجود ہے جس کے ساتھ ٹیک لگا کر شاہ حسین بیٹھا کرتے تھے۔ بیٹھک کے عین سامنے مادھو لال کا گھر تھا اور وہ شاہ حسین کے محبوب اتنے ہوئے کہ انہوں نے اپنا نام بھی مادھو لال حسین رکھ لیا ’ان کی قبر کے سرہانے جو کتبہ آویزاں ہے اس پر بھی یہی نام درج ہے۔

مادھو لال بعد میں مسلمان ہوئے اور شاہ حسین کی قربت نے انہیں بھی ولائت کے درجے پر فائز کر دیا۔ مادھو لال کا گھر تو کب کا اجڑ چکا لیکن اس کی جگہ جو گھر ان دنوں موجود ہے وہ بھی بہت قدیم تعمیر کا ہے۔ انہی موسموں میں شاہ حسین کی یاد میں میلہ چراغاں کا اہتمام ہوتا ہے اور میں اپنی صحت کے ہاتھوں مجبور شدید خواہش کے باوجود اس بار اس میلے میں شریک نہ ہو سکا۔ بدقسمتی سے شاہدرہ کی بے ہنگم آبادیوں نے مقبرہ جہانگیر کی بیرونی دیواروں اور برجوں کو ایک جونک کی مانند اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

Read more

’’ایم ایم عالم دمشق میں اور…گولان‘‘

ابھی پچھلے دنوں امریکی صدر نے نیتن یاہو کو الیکشن جتوانے کے لئے ایک تحفہ پیش کر دیا اور گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کی ریاست قرار دے دیا۔ اس سے پیشتر امریکہ کی جانب سے مقبوضہ علاقوں میں یہودیوں کو نئی بستیاں آباد کرنے کا حق بھی تسلیم کر لیا گیا اور بیت المقدس کو تو سب سے پہلے اسرائیل کا صدر مقام قرار دے کر امریکی سفارتی عملہ بھی منتقل کر دیا گیا تھا۔ گولان کی پہاڑیوں کو

Read more

قصیدہ بانت سعاد اور لاہور کی تلوار

گئے زمانوں کے قصے ہیں جب ریل گاڑی دھواں اگلنے والے انجن کے کالے کلوٹے وجود سے بندھی پنڈی کی جانب سے لاہور کی قربت میں ہوتی جاتی تھی تو بائیں جانب کھڑکیوں میں سے کھجوروں کے جھنڈ نظر آنے لگتے تھے تو کم از کم تین چار مسافر ضرور پکار اٹھتے تھے کہ لو بھائی جان شاہدرہ آ گیا ہے اور جب ریل گاڑی راوی کے پل پر پہنچتی تھی تو ”لو بھائی جان لاہور آ گیا ہے“ کے نعرے لگتے تھے۔ کھجور کے ان جھنڈوں میں ان پاکستانی فلموں کی شوٹنگ ہوا کرتی تھی جن میں عرب ماحول دکھانا مقصود ہوتا تھا۔

ہیرو عرب لباس زیب تن کیے رباب بجا رہا ہے اور ہیروئن چہرے کو ایک نقاب میں پوشیدہ کیے ٹھمکے لگاتی۔ ”حبیبی ہیا ہیا“ گا رہی ہے۔ اکثر اس دوران کھجوروں سے پرے ایک سڑک پر سے کوئی تانگہ یا بس بھی گزر جاتی تھی لیکن اتنی باریکیوں میں کون جاتا تھا۔ کہتے ہیں دو افیونی ذرا جھوم سے گئے۔ جذباتی ہو گئے اور کہنے لگے ’یار فیقے زندگی کا کچھ پتہ نہیں۔ حج نہ کر آئیں۔ چنانچہ بمشکل اٹھے اور اپنے تئیں مکہ مکرمہ کا خ کر لیا۔

Read more

’’حسن یوسف اور مولوی غلام رسول عالمپوری‘‘

جب کبھی کوئی کھوئی ہوئی یاد دل کے نہاں خانوں میں سراب کی صورت ‘ ایک دھندلے خواب کی صورت یوں جھلملانے لگتی ہے کہ کبھی وہ صاف ظاہر ہوتی ہے اور کبھی بیتے زمانوں کے اندھیاروں میں گم ہو جاتی ہے تو تین چیزیںایسی ہوتی ہیں جو اس یاد کو سراب سے دریافت کر کے آپ کی یادداشت کے جھروکوں میں پہچان کے چراغ جلا دیتی ہیں ایک تو شکل‘ کوئی منظر‘ کوئی لینڈ سکیپ‘ دوسری چیز ہے خوشبو

Read more

قبر کے کتبے کے گلے میں ہار اور صدارتی گیٹ ہمیشہ کے لئے بند

کسی بھی ایوارڈ کی وقعت اور اہمیت کو پرکھنا ہو تو یہ دیکھئے کہ آپ سے پہلے وہ ایوارڈ کن کن ادیبوں کو مل چکا ہے۔ اگر تو ایسے ویسے ادیبوں کو بھی مل چکا ہے تو اسے قبول کر کے آپ بھی ایسے ویسے ہو جائیں گے۔ مجھے 2001 ء میں یا شاید 2002 ء میں دوہا قطر کا فروغ اردو ادب انٹرنیشنل ایوارڈ عطا کیا گیا اور یہ فیصلہ اس جیوری نے کیا جس کے چیئرمین مشتاق یوسفی تھے اور یوسفی صاحب کے بقول جیوری نے صرف چند منٹوں کے اندر متفقہ طور پر یہ فیصلہ سنایا تو یہ ایوارڈ میرے لئے اس لئے بھی مسرت اور اعزاز کا باعث بنا کہ اس سے پچھلے برس یہ ایوارڈ شوکت صدیقی صاحب کو دیا گیا۔

ان سے پہلے احمد ندیم قاسمی ’اشفاق احمد اور قرۃ العین حیدر وغیرہ نے یہ ایوارڈ حاصل کیا۔ بلکہ جب جرمنی کی سرکاری ادبی تنظیم ”لٹریٹر ورک سٹاٹ“ نے میرے ناول ”راکھ“ کے حوالے سے جنوب مشرقی ایشیا کے نمائندہ ناول نگار کی حیثیت سے مجھے برلن مدعو کیا تو یہ بھی ایک بڑا اعزاز اس لئے تھا کہ مجھ سے پیشتر انتظار حسین اور قرۃ العین حیدر کے علاوہ جرمن ادیب تھامس مان جس نے ”ٹن ڈرم“ جیسا ناول تخلیق کیا تھا کو بھی یہ اعزاز دیا گیا تھا۔

Read more

’’ایوارڈ حاصل کرنے کے مجرب نسخے اور قبر کے کتبے‘‘

سول ایوارڈ کچھ تو عطا ہوتے ہیں اور کچھ عطا کروائے جاتے ہیں یعنی کچھ ملتے ہیں اور کچھ ’’حاصل ‘‘ کئے جاتے ہیں۔ ایوارڈ ’’حاصل‘‘ کرنے کے لئے وہ تمام تر حربے استعمال کئے جاتے ہیں جو کسی بھی غیر قانونی عمل کو قانونی کروانے کے لئے بروئے کار لائے جاتے ہیں‘ یعنی سفارش‘ دوستی‘ تعلقات‘ سیاست اور تعلقات عامہ کے شعبہ سے ۔ ویسے تو ایوارڈ حاصل کرنے کا آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ کسی بھی صوبائی

Read more

صدارتی ایوارڈ کے اصطبل میں عربی گھوڑے اور خچر

یہ غالباً 91 ء کا قصہ ہے جب صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی عطا کیے جانے کے بعد اسلام آباد کے ایک انگریزی اخبار کے رپورٹر نے مجھ سے معمول کا ایک سوال کیا کہ آپ کا اس ایوارڈ کے بارے میں کیا تاثر ہے اور میں نے کہا تھا کہ تمغہ حسن کارکردگی ایک ایسا اصطبل ہے جس میں عربی گھوڑے اور خچر ساتھ ساتھ بندھے ہوتے ہیں۔ اس بیان پر مجھ سے پہلے اپنے زور بازو سے ایوارڈ ”حاصل“ کرنے والے ایک دو ادیبوں نے بہت غل مچایا کہ تارڑ نے ہمیں خچر کہا ہے۔

میں نے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ نہیں نہیں حضور میں نے تو آپ کو عربی گھوڑے کہا ہے پر انہیں یقین نہ آیا کہ وہ ہنہنا نہیں سکتے تھے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس بار جو اعلیٰ ٹپ ایوارڈ دیے گئے ان میں شاید خچروں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ چند ایک عربی گھوڑے بھی شرمندہ شرمندہ سے پھرتے ہیں کہ اس ایوارڈ کی عاشقی میں تو عزت اسپ بھی گئی۔ اسی لئے تو برادر عامر خاکوانی نے اتنا ماتمی کالم ان ایوارڈز کی خوشی میں لکھا ہے۔

Read more

’’دن کو بھی یہاں شب کی سیاہی کا سماں ہے…تلوک چند محرومؔ‘‘

انگریز سرکار کے ابتدائی دور میں جہانگیر‘ آصف جاہ اور نورجہاں کے مقابر ایک دوسرے کی قربت میں تھے۔ جہانگیر کشمیر سے واپسی پر راجوڑی یا بھمبر کے مقام پر 1627ء میں راہی ملک عدم ہوا۔ اس کی شیر افگن سے چھینی ہوئی لاڈلی ملکہ نورجہاں نے شاہی حکیم کو حکم دیا کہ شہنشاہ کو میں اپنے لاہور میں دفن کروں گی چنانچہ حکیم نے شہنشاہ کے بدن میں نشتر لگا کر اسے کھولا اور مردہ بدن کے وہ حصے

Read more

کامران کی شکست خوردہ بارہ دری

بارہ دری باغ کامران شہر لاہور میں تعمیر کردہ مغلیہ عمارتوں پر قدامت کے حساب سے غالباً سبقت رکھتی ہے۔ مرزا کامران ’شہنشاہ بابر کا بیٹا اور ہمایوں کا بھائی اس عمارت کا بانی تھا اور تب یہاں صرف بارہ دری نہیں بلکہ اس کے آس پاس ایک شاندار مغل باغ بھی تعمیر کیا گیا تھا۔ جج عبدالطیف نے ”تاریخ لاہور میں اس کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے“ یہ مستحکم و مضبوط پرانی عمارت اپنی عالی شان اور بلند و بالا محرابوں کے ہمراہ دریائے راوی کے دائیں کنارے پر کھڑی ہے۔یہ عمارت ایک خوبصورت باغ کے وسط میں واقع تھی جس کا شمار ان باغات میں ہوتا تھا جن کو پہلے پہلی ہندوستان میں سرسبز و شاداب اور میوہ جات سے بھر پور ملک سے آنے والے مغلوں نے لگایا تھا۔ اس وقت راوی اپنی موجودہ گزر گاہ سے دو میل کے فاصلے پر شہر کی فصیل کے ساتھ بہتا تھا۔ محمد شاہ کے دور میں دریا نے اپنا رخ تبدیل کیا اور مغل امرا کے لگائے گئے بہت سے باغات بہا کر لے گیا۔ مرزا کامران کے باغ کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔

Read more

’’سر گنگا رام کی سمادھی اور راوی کی آلودگی‘‘

جن زمانوں میں میری حیات کا تسلسل صبح کی نشریات کی میزبانی تھا ان دنوں میرے پروگرام کیلئے خصوصی طور پر تیار کردہ لاہور ٹیلی ویژن کی جانب سے ایک ایسی ڈاکومنٹری وصول ہوئی جسے دیکھ کر میں اپنی آنکھوں پر یقین نہ کر سکا کہ یہ خواب ہے کہ سراب ہے۔ سرسبز کھیتوں کے درمیان میں ٹرین کے ڈبے ایک پٹڑی پر چلے جا رہے ہیں۔ ان میں مسافر سوار ہیں اور ان ڈبوں کے آگے ریلوے انجن نہیں

Read more

ہندوستانی ہاتھی اور پاکستانی چڑیا

بعض اوقات کوئی بہت فضول اور عامیانہ سا لطیفہ کسی صورت حال پر یوں منطبق ہوتا ہے کہ مجبوراً اس کا حوالہ دینا ہی پڑتا ہے۔ لطیفہ کچھ یوں ہے کہ ایک نامور کبڈی کے کھلاڑی کی بیوی نے عدالت میں اس کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا کہ حضور میرے خاوند میں وہ خصوصیات مفقود ہیں جو ایک مرد میں ہونی چاہئیں اس لئے میں اس سے طلاق حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ جج نے حیران ہو کر کہا کہ بی بی آپ کیا کہہ رہی ہیں۔ آپ کا خاوند تو بہت تنومند کبڈی کا کھلاڑی ہے۔اس پر اس کی بیوی نے افسردہ ہو کر کہا کہ جج صاحب یہی تو پرابلم ہے۔ کمبخت آتا ہے اور ہاتھ لگا کر بھاگ جاتا ہے۔ آپ کو ظاہر ہے یاد آ گیا ہو گا کہ ہاتھ لگا کر کون بھاگ جاتا ہے بلکہ ہاتھ بھی کہاں لگایا ’آیا اور بھاگ گیا۔ حضور کچھ دیر تو ٹھہرتے۔ ہم آپ کی مناسب تواضع کرتے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم کیسے بن بلائے مہمان کی تواضع کرتے ہیں۔ ستمبر 65 ء میں بھی تو آپ آئے تھے۔ یعنی بین الاقوامی سرحد عبور کر کے اور وہ بھی ہواؤں میں آپ آئے اور فوراً ہی پلٹ بھی گئے۔

Read more

’’ایک شاندار حُسن والا گھوڑا…کشمیر‘‘

میری امّی جان اور میری دو عدد خالائیں اپنی روز مرہ کی گفتگو میں محاورے بے دریغ استعمال کرتی تھیں‘ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ محاوروں میں کچھ کچھ گفتگو کرتی تھیں۔ ہماری زبان یعنی پنجابی کو ایک تو دیگر زبانوں نے زدو کوب کیا اور اس کے علاوہ خود پنجابیوں نے بھی اپنی مادری زبان سے نفرت کی انتہا کر دی۔ بہرحال مجھے ہمیشہ قلق رہے گا کہ میں نے اپنے گھر میں کثرت سے استعمال

Read more

گوروارجن دیو، شاہجہاں کی بیٹی اور شوکت خانم کی قبر

شہر لاہور کے بہت سے باسی اکثر موچی دروازے کے اندر واقع ایک قدیم کنویں کے قریب سے گزرتے رہتے ہیں اور وہ اس کنویں سے منسوب دوستی کی ایک لازوال داستان سے واقفیت نہیں رکھتے۔  ایک مسلمان درویش حضرت میاں میر اور ایک سکھ گورو ارجن دیو کی دوستی کی داستان۔ یہ کنواں جو ”لال کھوہ“ کہلاتا ہے البتہ اپنی ذائقہ دار برفی کے لئے دنیا بھر کے لاہوریوں میں معروف ہے اور اس داستان میں یہاں کی برفی

Read more

’’حضرت میاں میر‘ چھجو بھگت اور داراشکوہ‘‘

لاہور تاریخ کے نگار خانے میں ایک عجائب ہے۔ بہت دیوانگی‘ عبادت‘ ریاضت پاکیزگی اور روحانیت کا۔ اس نگارخانے میں ایسی ایسی محیرالعقول داستانیں رقم ہیں کہ انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ وہ یقین کس کا کرے۔ تعصب ‘ مذہبی تنگ نظری کا یا فراخ دلی اور انسانیت کے اعلیٰ پیمانوں کا۔ مجھے آج تین الگ الگ داستانیں سنانی ہیں۔ تاریخ اور عقیدے کے تین سب سے بڑے جری اور شاندار کردار اور تینوں کی عظمت اور پارسائی

Read more

بائے بائے بسنت۔ ویلکم ویلنٹائن

اِک دن رہیں بسنت میں اِک دن جئیں بہار میں اِک دن پھریں بے انت میں اِک دن چلیں خمار میں دو دن رکیں گرہست میں اِک دن کسی دیار میں (منیر نیازی) آپ مشہور پنجابی لوگ گیت ”جگنی ’کے ان مصرعوں سے تو آگاہ ہوں گے کہ‘ جگنی جاوڑی وچ روہی۔ اوتھے رو رو کملی ہوئی۔ اوہدی وات نہ لیندا کوئی۔ یعنی جگنی روہی کے ویرانے میں چلی گئی اور وہاں رو رو کر کملی ہو گئی اور پھر بھی کسی نے اس کی خبر نہ لی۔ ان دنوں بے چاری بسنت بھی جگنی ہو چکی ہے۔

دشمنوں کے نرغے میں آ گئی ہے۔ روتی ہے فریادیں کرتی ہے اور پھر بھی کوئی نہیں جو اس کے آنسو پونچھے ’اس کی خبر لے۔ ہر کوئی لٹھ لے کر بسنت کے پیچھے پڑا ہوا ہے کہ یہ تو ہندو تہوار ہے۔ کفر کی ریت ہے اور پاکستان اس روز دن دونی رات چوگنی ترقی کرے گا جب بسنت کو ہمیشہ کے لئے لاہور سے نکال دیا جائے گا۔ خاندانی نظام خطرے میں ہے‘ ہماری روحانی اقدار کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ ہمارے معاشرے کی بنیادیں متزلزل ہو جائیں گی اور یقین کیجیے کہ بسنت کے ویری اور مفت میں ویری لوگ جب اس تہوار کے خلاف بولتے ہیں تو ان سے ڈر لگتا ہے وہ اتنے اشتعال میں ہوتے ہیں۔

Read more

’’گورنر ہائوس سندھ میں ادب فیسٹول کا مور ناچا‘‘

سندھ کے گورنر ہائوس کے سبزہ زاروں اور چمن زاروں میں کچھ ادیب گمشدہ بھیڑوں کی مانند پھرتے تھے اور انہیں اپنی شکل کی کوئی بھیڑ نظر نہ آتی تھی اور سندھ کے گورنر ہائوس میں ’’ادب فیسٹول پاکستان کراچی‘‘ کا امتیازی نشان یعنی مور ناچتا پھرتا تھا اور اسے کل دنیا دیکھتی تھی۔ اور یہ مور بھی ناچتا پھرتا تھا اور شناسا چہروں والے ادیبوں کو تلاش کرتا پھرتا تھا اور وہ دکھائی ہی نہ دیتے تھے۔ یہ ادب

Read more

’’پنجاب کی آخری شہزادی‘ بمباں سدر لینڈ کی ویران قبر‘‘

فرق شاہی و بندگی برخاست چوں قضائے نوشتہ آید پیش گر کسے خاک مردہ باز کند نہ شناسد تونگر از درویش پنجاب کی آخری شہزادی‘ شہزادی بمباں سدر لینڈ۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی پڑپوتی۔ مہاراجہ دلیپ سنگھ کی پوتی کی قبر پر اس روز بھی کوئی پھول کوئی گلدستہ نہ تھا جس روز پورے قبرستان میں غریب ترین اور گمنام ترین شخص کی قبر پر پھول بکھرے ہوئے تھے۔ مندرجہ بالا رباعی گویا شہزادی کی اس حالت زار کی گواہی

Read more

’’لاہور کا قدیم ترین گورا قبرستان…1841ئ‘‘

عام طور پر قبرستان کو ہمارے ہاں شہر خموشاں کہا جاتا ہے لیکن شہر تو کبھی خاموش نہیں ہوتے کہ جہاں لوگ آباد ہوں گے وہاں ان کی باتوں کا شورتو ہو گا‘ آوازیں تو ہوں گی۔ چنانچہ جیسے شہر بولتے ہیں ایسے قبرستان بھی بولتے ہیں اگرچہ سرگوشیوں میں اور یہ سرگوشیاں خاص طور پر انہیں سنائی دیتی ہیں جن کے پیارے وہاں دفن ہوتے ہیں۔ کیا ہم اپنے عزیزوں کی ڈھیریوں کو چھوتے ہی دل ہی دل میں

Read more

علی غزنوی آف شاہِ ہجویر

تو کیا یہ درست ہے کہ جس شہر میں بدی جڑیں پکڑ جائے اور لوگ راہ راست سے بھٹک جائیں اسی نسبت سے اس شہر کے ولی اللہ کا مزار عالیشان اور وسیع ہوتا جاتا ہے؟ یعنی یہ احساسِ جُرم ہے جس کی وجہ سے آج کے لوگ اپنے شہروں میں واقع اللہ سے قربت رکھنے والے لوگوں کے مرقدوں کی وسعت کے لئے دل کھول کر چندہ دیتے ہیں۔ داتا صاحب کی مانند میں تب چھٹی جماعت میں پڑھتا

Read more

’’داتا گنج بخش اور سِکھ سردار کی منت‘‘

میں داتا گنج بخش کے مزار کے برابر والی گلی میں لنگر تقسیم کر رہا ہوں۔ میرے سامنے چنے کے پلائو کی تین دیگیں دھری ہیں۔ آگے بڑھے ہوئے ہاتھ ہیں۔ جھولیاں اور شاپر ہیں اور میں انہیں بھرتا جا رہا ہوں۔ یہ 25دسمبر کے بڑے دن کی ایک دھندلی سویر ہے۔ چاول تقسیم کرتے میرا ہاتھ دکھنے لگتا ہے لیکن میں رک نہیں سکتا۔ سوال کرتی‘ بھیک مانگتی‘ غربت زدہ آنکھیں ہیں جو مجھے اس آس میں تک رہی

Read more

’’جھلّی چلی گئی۔ رُوحی بانو‘‘

’’کتاب عُمر کا ایک باب ختم ہوا شباب ختم ہوا اک عذاب ختم ہوا‘‘ روحی بانو کے بھی سب عذاب ختم ہوئے۔ سب آزمائشیں ‘ سب امتحان‘ سب نارسائیاں سب دُکھ درد ختم ہوئے۔ کسی کے بس میں نہیں ہوتا کہ وہ کہاں کس ماحول میں پیدا ہو جائے۔ اس کے بس میں یہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ماحول سے فرار ہو جائے۔ اپنا پس منظر پوشیدہ کر کے ’’مہذب‘‘ معاشرے میں شامل ہو جائے۔ روحی بانو بیک

Read more

آوارگی میں ہم نے کتابوں کی سیر کی

لائبریری کے سوا ایک اور مقام ایسا ہے کہ آپ میری آنکھوں پر پٹی باندھ کر مجھے لے جائیے اور میں کچھ دیر کے بعد آپ کو بتا دوں گا کہ آپ مجھے کہاں لے آئے ہیں۔ انارکلی ’مال روڈ اور پاک ٹی ہاؤس کے باہر فٹ پاتھوں پر پرانی کتابوں کا جو جہان ہر اتوار سجتا ہے اپنی زوال پذیر مہک اپنے ساتھ لاتا ہے۔ ایک زمانہ میں میری اتوار کی سویریں اس جہان میں گزرتی تھیں۔ یہ جو فٹ پاتھوں پر بکھرا پرانی کتابوں کا جہان ہوتا ہے اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ایک سیکولر دنیا ہے۔

ایک غیر وابستہ کائنات ہے۔ یہاں آپ کو دنیاکے ہر موضوع‘ ہر مذہب اور ہر ثقافت کے بارے میں کتابیں مل جائیں گی۔ یہاں تک کہ اگر آپ پورنو گرافی میں دلچسپی رکھتے ہیں تو ذرا سی سرگوشی درکار ہے۔ میرے لکشمی مینشن والے فلیٹ کے عین سامنے ہال روڈ کے فٹ پاتھ پر مقبول خان مقبول برس ہا برس تک فٹ پاتھ پر پرانی کتابوں کے انبار لگائے کاروبار کرتا رہا، یہاں تک کہ بالآخر خود بھی شاعر ہو گیا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ شاعری اس کے زوال کا باعث بن گئی۔

Read more

’’کتاب کی خوشبو…مورا کامی اور حنیف کے نئے ناول‘‘

یہ کتاب کی شائع شدہ حرف کی خوشبو ہے جس نے سب سے پہلے میرے بدن کی مساموں میں سرایت کیا۔ میں ابھی موسموں‘ بدنوں اور منظروں کی مہک سے آشنا نہ ہوا تھا جب کتاب کی مہک نے مجھے اپنا اسیر کیا۔ میرے والد صاحب نے زراعت کے بارے میں باقاعدہ درجنوں تحقیقی کتب تصنیف کیں اور تقریباً تیس برس تک’’کاشتکار جدید‘‘ کے نام سے فن زراعت کے بارے میں ایک پرچہ ترتیب دیتے رہے۔ وہ ہمیشہ چارپائی پر

Read more

’’قطرہ قطرہ دل میں آنسو گرتے ہیں‘‘فہمیدہ ریاض

سب شیشے سب شیشے‘ ساغر ‘ لعل و گہر دامن میں چھپائے بیٹھی ہوں سب ثابت و سالم ہیں اب تک اک رنگ جمائے بیٹھی ہوں ٭٭٭ یہ نازک موتی عزت کا اور ایماں‘ کانچ کا یہ پتلا یہ ساغرِ دل کا سرخ کنول لبریز میٔ احمر سے سدا چٹخے نہ خراش آئی اِن پر تم ان کی صفا دیکھو تو ذرا ہے جھل جھل ان کی آب وہی اور جگ مگ ان کی وہی ضیا ٭٭٭ پتھرائو تھا چومکھ

Read more

’’موراں سرکار‘ لاہور کی امرائو جان ادا‘‘

لاہور کے لوہاری دروازے کے اندر ‘ سارنگی سکول سے آگے۔ کفن دفن کی شاید واحد دکان سے کچھ فاصلے پر۔ چوک چکلا کے نواح میں ایک ایسی قدیم تاریخی حویلی جس کے تمام کمرے‘ خواب گاہیں‘ مہمان خانے‘ سب کے سب اندھے تھے ان میں سے کسی ایک میں بھی نہ کوئی کھڑکی تھی‘ نہ کوئی روزن نہ روشنی کا کوئی در۔ اسی لئے وہ’’اندھی حویلی‘‘ کے نام سے جانی گئی۔ کوئی نہیں جانتا کہ اسے تعمیر کرنے والا

Read more

’’طوطا کہانی اور اندھی حویلی کے اسرار‘‘

ہم سب چھجو بھگت کا چوبارا ‘ ایبک کا مزار اور لاہور کا قدیم ترین پُرتگالی کلیسا دیکھنے کے بعد جہاں کبھی ’’مکتبہ جدید ‘‘ ہوا کرتا تھا اور میں بچپن میں حنیف رامے صاحب سے کتابیں خریدنے آیا کرتا تھا اور اس کے آگے جو فٹ پاتھ تھا‘ وہاں ساغر صدیقی کا ڈیرہ ہوا کرتا تھا‘ . میں اور یوسف کامران اکثر ساغر کے ساتھ فٹ پاتھ پر بیٹھ کر گپیں لگایا کرتے تھے‘ اس فٹ پاتھ کے پار

Read more

’’اسپتال روڈ کے فوٹو گرافر اور قطب الدین ایبک کا مزار‘‘

ہم میو ہسپتال سے باہر آ کر اسپتال روڈ پر چلتے ایبک روڈ کی جانب رواں ہو گئے جہاں ہم نے قطب الدین ایبک سے ملنا تھا‘ ہو سکتا ہے وہ چوگان کھیلتا ابھی تک گھوڑے سے نہ گرا ہو۔ ایک روایت ہے کہ اس نے کسی خاتون سے بد سلوکی کی تھی اور یہ اس کی بد دعا تھی جس کے نتیجے میں وہ پولو کھیلتا گھوڑے سے گر کر مر گیا۔ مجھے اس روایت کو تسلیم کرنے میں

Read more

’’شہر لاہور میں آج کرسمس ہے‘‘

’’آج کرسمس ہے۔ شہر میونخ میں آج کرسمس ہے: فاصلوں کی کمند سے آزاد میرا دل ہے کہ شہر میونخ ہے چار سو جس طرف کوئی دیکھے برف گرتی ہے ساز بجتے ہیں آج کرسمس ہے۔ شہر لاہور میں آج کرسمس ہے۔ اگرچہ برف نہیں گرتی لیکن یہ موسم برفیلے ہیں۔ ہوا میں ایک سرد سرگوشی ہے کہ میرے اندر اتنی ٹھنڈک ہے کہ میں نمی کی بوندوں کو برف کے گالوں میں بدل سکتی ہوں۔ لیکن شہر لاہور کو

Read more

جو سُکھ چھجّو دے چوبارے ’اوہ نہ بلخ نہ بخارے ”۔ ۔ ۔ ( 2 )

انہوں نے تو سعادت حسن منٹو کے گھر کی تختی بھی اکھاڑ پھینکی۔ یہ سب کچھ پچھلے بیس برس سے ماشاء اللہ نواز لیگ کی چھتر چھاؤں تلے ہوا اور اعتراف کون کرے ٹریڈر مافیا ”میاں دے نعرے وجن گے“ میوزیکل گروپ تھا۔ نون لیگ کے لئے تن من اور خاص طور پر دھن قربان کرنے والے بیوپاری۔ اس دوران نہ صرف مال روڈ بلکہ ہال روڈ کی جانب لکشمی مینشن کی پوری عمارت کو جہازی سائز کے بل بورڈوں سے ڈھانک دیا گیا۔ میرے فلیٹ کی چار کھڑکیاں بھی ان لعنتی بورڈوں کے پیچھے دفن ہو گئیں۔

خدا مزید بھلا کرے چیف جسٹس صاحب کا۔ انہوں نے حکم دیا کہ لکشمی مینشن کو دفن کر دینے والے بورڈ فی الفور ہٹا دیے جائیں اور یوں میرے پرانے گھر کی چار کھڑکیاں بھی برسوں کے بعد ظاہر ہو گئیں۔ میری آنکھیں یونہی تو بھر نہیں گئی تھیں۔ عمارت کا پورا چہرہ برسوں سے ڈھکا ہوا جب ظاہر ہوا تو اس کا حال برا تھا۔ نیم شکستہ اور مٹیالا اور سوگ میں رنجیدہ۔ تھینک یو چیف جسٹس صاحب آپ نے مجھے میری کھڑیاں دکھا دیں۔ میو ہسپتال کی مرکزی عمارت میں نصب کلاک گئے وقتوں کی یادگار ’اس نے کیسے کیسے زمانے دیکھے تھے۔

Read more

’’لکشمی مینشن کی چار کھڑکیاں اور چھجو دا چوبارہ‘‘

جب موسم گرما کا آغاز ہوتا ہے‘ دھوپ کی شدت بڑھنے لگتی ہے تو مجھے شمال کی جانب سے صدائیں آنے لگتی ہیں۔ فیئری میڈو کی برفیں پگھلنے لگتی ہیں تو ان میں سے سٹرابیری کا پہلا پھول برف میں سے ظاہر ہوتا ہے تو وہ مجھے پکارتا ہے۔ بہت دنوں سے نہیں آئے۔ پریوں کی جس چراگاہ میں تم نے آج سے تیس برس پیشتر قدم رکھا تھا اور دنیا کے اس سب سے خوبصورت منظر کو عام پاکستانیوں

Read more

’’گناہ ٹیکس ‘اور حقّہ بھی پیتے تھے نال نال‘‘

جب سے حکومت وقت نے ’’سِن ٹیکس‘‘ یعنی ’’گناہ ٹیکس‘‘ کے نفاذ کا اعلان کیا ہے لوگ باگ گھبرائے گھبرائے پھرتے ہیں۔ ایک سراسیمگی سی پھیل گئی ہے۔ ایک صاحب پارک میں ذرا پوشیدہ سے ہو کر میرے پاس آ کر کہتے ہیں’’تارڑ صاحب پہلے مالی خسارہ پورا کرنے کے لئے مرغیوں اور کٹّوں وغیرہ کی شامت آئی تھی اب خان صاحب کو کیا سوجھی کہ گناہ ٹیکس عائد کرنے لگے ہیں۔ خود تو موج میلہ کر کے تائب ہو

Read more

’’آخرِ شب کے ہم سفر عطارکے پرندے‘‘

کراچی کا بیچ لگژری ہوٹل ان زمانوں میں لے جاتا ہے جب یہ ایک فراخ دل اور کھلے بازوئوں سے تمام مذاہب کو قبول کرتا تھا اور اس میں تو کچھ شک نہیں کہ یہ پارسی تھے جنہوں نے اس شہر کو اپنایا‘ اسے خوبصورت کیا اور مالا مال کیا۔ کسی زمانے میں وہاں ایرانی ہوٹل بھی ہوا کرتے تھے۔ ایک قدیم قبرستان میں اب بھی کراچی کے باسی یہودیوں کی سینکڑوں قبریں زبوں حالی کا شکار ہیں اور ایک

Read more

’’عارف نقوی۔ شمیم حنفی اور آخری‘ حسین ‘‘

چنانچہ میرے ناول’’اے غزالِ شب‘‘ جس کا انگریزی میں ترجمہ ’’لینن فار سیل‘‘ کے نام سے ہو چکا ہے اس کا مرکزی کردار عارف نقوی ہے جسے میں بہت مدت پہلے برلن میں ملا تھا اور میرا خیال تھا کہ وہ بھی اب تک مر چکا ہو گا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ گیارہویں عالمی اردو کانفرنس کے دوران ایک خوش شکل گورا چٹا بوڑھا ہاتھ پھیلائے میری جانب چلا آ رہا ہے اور کہتا ہے’’تارڑ صاحب‘‘ میں عارف نقوی ہوں۔

Read more

’’چاندی کے آبی پرندے‘ فہمیدہ ریاض اور اردو کانفرنس‘‘

میری بیوی نے آئی پیڈ سے آنکھیں اٹھا کر کہا’’فہمیدہ ریاض مر گئی ہے‘‘ اگر میں یہ کہوں کہ میں ایک گہرے صدمے میں چلا گیا اور فہمیدہ کے ساتھ اس کی شاعری اور شخصیت کے حوالے سے جتنی چاہت جتنا احترام تھا‘ ان سب کی تصویری البم کھولتا ہوں تو تمام تصویریں سیاہ ہو گئی ہیں۔ فنا کے رنگ میں معدوم ہو چکی ہیں تو شاید یہ درست نہ ہو کہ مجھے یکدم یقین نہ آیا۔ تو میں نے

Read more

’’شاہدرہ کے جہانگیری خواجہ سرا اور کاشغر کے کھسرے‘‘

آپ کو یاد ہو گا کہ گزشتہ کالم میں ایسی دو ’’خواتین‘‘ کا تذکرہ ہوا تھا جو ایک محفل کے اختتام پر مجھ سے شکایت کرنے آئی تھیں کہ آپ نے اپنی گفتگو کے آغاز میں صرف خواتین و حضرات کو مخاطب کیا۔ ہمیں بھول گئے کہ ہم بھی تو تیسری جنس کی صورت پڑے ہیں راہوں میں۔ ان میں ایک گلستان ایم بی اے تھیں اور دوسری صائمہ کسی سکول میں ٹیچر تھیں تو اس حوالے سے میں نے

Read more

خواجہ سرا بہنوں اور بھائیوں کے لیے

ان دنوں جب مجھے کسی سٹیج پر کھڑے ہو کر اپنے ارشادات عالیہ سے عوام الناس کو مستفید کرنا ہوتا ہے تو گفتگو کا آغاز کرنے سے پیشتر میں قدرے جھجک جاتا ہوں۔ پہلے تو ایک روانی میں خواتین و حضرات السلام علیکم کہہ کر تقریر دل پذیر کا آغاز کردیتا تھا لیکن اب ایک نہایت گمبھیر صورت حال درپیش ہے۔ کچھ عرصہ پہلے کسی ادبی میلے میں حسب عادت خواتین و حضرات سے بسم اللہ کر کے گفتگو شروع

Read more

منظر ہے اس طرح کا کہ دیکھا نہیں ہوا

منیر نیازی نے مجھے اپنی ’’کلیات منیر‘‘ عنایت کرتے ہوئے میری حیات کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھا۔ مستنصر کے لئے۔ ’ ایسا سفر ہے جس میں کوئی ہم سفرنہیں، منظر ہے اس طرح کا کہ دیکھا نہیں ہوا‘۔ 19 فروری 98ء کی شام۔ میں نے اکثر تنہا سفر کیا جس میں کوئی ہم سفر نہ تھا اور ایسے منظر دیکھے جس طرح کے منظر کبھی دیکھے نہ تھے۔ اس جنوں خیز آوارگی کی شام ہو رہی ہے اور مجھے درجنوں

Read more

’’میں رویت ہلال کمیٹی کا چاند، تو میری چاندنی‘‘

میں بہ قائمی ہوش و حواس یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ میں ایک عدد محب الوطن پاکستانی ہوں اگرچہ میرے پاس حب الوطنی کا کوئی سرٹیفکیٹ نہیں ہے۔ نہ ہی میں فخر سے اعلان کرسکتا ہوں کہ میں نے ملک و قوم کی بے حد خدمت کی ہے اور میری کوئی قدر نہیں کی گئی اور میری شرافت کا کوئی مول نہیں پڑا۔ اگرچہ میں سفیررہا، وزیر رہا، شاعر رہا، ادیب رہا تو ایک محب الوطن کے طور پر میرے

Read more

مجھے ننگے پاؤں چلنے والے، رونے والے اچھے لگتے ہیں

کیا بھینسیں فروخت کرنے سے ملک میں ڈیم بن سکتے ہیں؟ نہیں بن سکتے ’ لیکن بھینسیں نہ فروخت کرنے سے بھی تو ڈیم نہیں بن سکے ’ تو پھر کیا پتہ بھینسیں فروخت کرنے سے ہی ڈیم بن جائیں۔  ان بھینسوں کی فروخت پر بہت واویلا کیا گیا تھا کہ ہائے ہائے ہمارے صاحب ان کا دودھ تھوڑا پیتے تھے۔  وہ تو ان کے سامنے بیٹھ کر بین بجایا کرتے تھے۔  ویسے ان دنوں جو ایک سادگی اور کفائت

Read more

’’ہائے میری بھنڈیاں اور وہ جو دکان اپنی بڑھا گئے‘‘

خواتین و حضرات! میرے ساتھ کچھ ہمدردی کے بول بولئے کہ میرے ساتھ ایک ہاتھ ہو گیا ہے۔ یوں کہیے بہت زیادتی ہو گئی ہے۔ پچھلے دنوں جو کھلی بغاوتیں ہوئیں۔ شورش پسندوں نے پورے پاکستان میں ناکے لگا کر ناک میں دم کر دیا۔ شاہراہیں بند‘ سکول بند اور عوام الناس گھروں میں بند۔ پٹرول کی نایابی اور دھندے والے حضرات کی کامیابی ۔ یہاں تک کہ سبزیاں کمیاب۔ دنگا کرنے والے اتنے کامیاب اگر معاملہ یہیں تک رہتا

Read more

اس گھر کو آگ لگ رہی ہے گھر کے چراغ سے

پچھلے دو تین روز سے میں سہم گیا ہوں۔  جیسے میں ایک کبوتر ہوں اور ایک سیاہ بلی غراتی ہوئی میری جانب بڑھ رہی ہے اور میں سہم گیا ہوں۔  میرے اندر نامعلوم کے ایک خوف نے جڑیں پکڑلی ہیں۔  میری سرزمین کا خون پی جانے والی سیاہ چمگادڑیں میرے بدن میں پھڑپھڑاتی پھرتی ہیں۔  مجھے کچھ جلنے کی بو آ رہی ہے ’ جیسے گوشت جل رہا ہو اس کی ناگوار بو سارے میں پھیل جاتی ہے۔  میں اپنے

Read more

سمیع آہوجہ، عرفان جاوید، ظفر اقبال کی شانداریاں

”فرام کارگل ٹو دے کُو“ نسیم زہرہ کی اس ہنگامہ خیز تحقیق میں بہت سی ناگوار حقیقتیں بھی سامنے آتی ہیں جن کے بارے میں ہم آج تک لاعلم تھے؟ مشرقی پاکستان میں جو ہوا وہ ہم سے چھپایا گیا۔ فوج میں وہ کون ساگروہ تھا جس نے کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی اور کارگل پر یلغار کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا۔ یہاں تک کہ نوازشریف بھی بے خبر رہے۔ سری پائے نوش کرتے رہے یا مری

Read more

گارسیا مارکیز کی بیوی اور ہماری بیویاں

ہمیں یہ تو تسلیم کر ہی لینا چاہیے کہ انگریزی زبان کا طوق ابھی تک ہمارے گلے میں پڑا ہوا ہے اور ہم اس طوق کو ایک گہنا ایک کینٹھا سمجھتے ہیں اور فخر کرتے ہیں، اس میں کچھ کلام نہیں کہ اگر آپ نے بیشتر دنیا سے کلام کرنا ہے تو انگریزی کے بغیر کام نہیں چلے گا اور اگر آپ نے دنیا بھر کے ادب اور تاریخ سے آگاہ ہونا ہے تو ان سب کے تراجم بھی انگریزی

Read more

پران نول کی خاک لاہور میں اڑتی پھرتی ہے

پران نول سے آخری ملاقاتیں آکسفورڈ کے لٹریری فیسٹیول کے دوران اسلام آباد میں ہوئیں۔ چونکہ ہم ایک ہی ہوٹل میں قیام پذیر تھے اس لیے آتے جاتے کہیں نہ کہیں آمنا سامنا ہو جاتا اور وہ ایک خالص لاہوریئے کی مانند نہایت بلند آواز میں مجھے پکارتا۔ موتیاں والیو کتھے جارہو او؟ کڑیاں نوں ملن جارہے او تے مینوں وی لے چلو۔ ایک روز کسی کالج کی لڑکیوں کا ایک غول فیسٹیول میں ادیبوں وغیرہ سے ملنے آیا اور

Read more

پران نول…جس کے ساتھ ایک لاہور مر گیا

پران نول میرا ایک دوست جس کا اگر کوئی مذہب تھا تو وہ لاہور تھا۔ پہلا اور آخری عشق تھا تو شہر لاہور تھا جو کہا کرتا تھا کہ میں لاہور کا ہوں اور لاہور مجھ میں آباد ہے‘ پران وہاں ’’دیار غیر‘‘ میں مر گیا تو گویا اس کے ساتھ ایک لاہور بھی مرگیا۔ ہندوستان میں لاہور کا پرچم بلند کرنے والے اور پاکستان کے لیے ہمیشہ کلمہ خیر کہنے والے مرتے جاتے ہیں۔ پہلے بابا خشونت سنگھ رخصت

Read more

گوشت خوری، بڑے غلام علی خان اور میری خالہ جان

دنیا جہان میں بلکہ ستاروں سے آگے بھی جو جہان ہیں جہاں جہاں مسلمان ہیں ان کی ثقافت، رسم و رواج اور خوراک وغیرہ بلکہ طرز تعمیر بھی اپنی سرزمین میں سے جنم لیتے ہیں، ان میں عقیدے کے سوا کچھ بھی مشترک نہیں ہے . لیکن ایک ایسی شے ہے جو سب مسلمانوں، چین ہویا جاپان، یامراکو، برازیل ہو یا ٹمبکٹو۔ ایک شے ان سب میں مشترک ہے اور وہ ہے گوشت خوری اور بے پناہ گوشت خوری۔ ہندوستان

Read more

فردوس مارکیٹ کے پلازے میں دفن خواب

میں روز وہاں سے گزرتا ہوں اور دکھی ہوتا ہوں۔ میں کڑھتا ہوں۔ فردوس مارکیٹ کے چوک میں فلم سٹار فردوس کی سابقہ رہائش گاہ کے عین سامنے جو کارنر ہے وہاں نوجوان سیاحوں کی ایک پناہ گاہ ہوا کرتی تھی جسے ’’یوتھ ہوسٹل‘‘ کہا جاتا تھا۔ پھر نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس یوتھ ہوسٹل کے دروازے بند ہوگئے۔ کس نے دروازے بند کئے‘ سرکاری عمارت کو مقفل کیا؟ ’’نامعلوم افراد‘‘ نے۔ پھر ایک روز کیا دیکھتا ہوں کہ

Read more

پیوستہ رہ کیکر سے، امید بہار رکھ

وہ جو معروف مصرعہ ہے ناں کہ ’’پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ‘‘ تو یقین کیجئے اگر آپ اپنے مقامی، ہزاروں برسوں سے آپ کے دکھ سکھ میں شریک، شجروں کے ساتھ پیوستگی اختیار کریں گے تب ہی بہار کی امید رکھ سکیں گے۔ آپ اگر درآمد شدہ اجنبی درختوں سے پیوستہ ہوں گے تو وہ ہرگز آپ کی حیات میں بہار نہیں لائیں گے۔ مثلاً اگر آپ ایک یوکلٹپس کے درخت کو جپھا مار لیں گے تو وہ

Read more

’مُدت ہوئی کتّے کا لیگ پیس کھایا نہیں‘

جیسے ہماری نسل کے بابا جات ویت نام کو ہوچی منہہ کے حوالے سے جانتے تھے اسی طرح کمبوڈیا کو ہم پرنس سہانوک کی صورت میں پہچانتے تھے۔ وہ ایک بہت محب وطن‘ متحرک اور ترقی پسند سوچ رکھنے والا لیڈر تھا۔ اس نے بہت کوشش کی کہ اپنے ملک کو اردگرد کے خطوں میں جنگ کے جو شعلے بھڑک رہے تھے‘ ان سے بچا کے رکھے۔ لیکن ہوچی منہہ ٹریل کمبوڈیا کے جنگلوں میں سے بس گزرتا تھا اور

Read more

انجلینا جولی کے’’ٹومب ریڈر‘‘ مندر میں

سو چہروں والے بایون مندر کی بھول بھلیوں میں میری لیلیٰ گم ہو گئی تھی اور میں ’’لیلیٰ لیلیٰ پکاروں میں بَن میں، پیاری لیلیٰ بسی میرے من میں‘‘۔ کی تصویر بنا اسے پکارتا پھرا اور میں ہرگز مبالغہ نہیں کر رہا جب یہ اقرار کرتا ہوں کہ اس کی یوں گمشدگی نے مجھے حواس باختہ کر دیا یہاں تک کہ میں نے پتھروں پر نقش دیویوں اور اپسرائوں کو بھی غور سے دیکھا کہ کہیں وہ ان میں منتقل

Read more

’’میری لیلیٰ کمبوڈیا کے مندروں میں گُم ہو گئی‘‘

کمبوڈیا کے شہر سیم ریپ کے انگ کورٹ واٹ مندروں کی سلطنت کے بھید مفت میں ہاتھ نہیں آتے ان میں داخلہ کے ٹکٹ ایک وسیع ٹکٹ گھر میں حاصل کیجئے جہاں سینکڑوں سیاحوں کا ہجوم ہے۔ آپ کی تصویر اتاری جاتی ہے اور اس ٹکٹ پر عکس کر دی جاتی ہے۔ ایک دن کی مندر یاترا کے لیے باون ڈالر۔ دو دن کے لیے باسٹھ ڈالر اور پورے مہینے کے لیے ستر ڈالر۔ ہم دونوں نے تقریباً تیرہ ہزار

Read more

ہنری موہاٹ اور کمبوڈیا کا انگ کور واٹ مندر

1860ء میں ایک فرانسیسی سیاح کمبوڈیا کے شہر سیم ریپ میں آ نکلا اور اس نے وہاں گھنے جنگلوں میں نیم پوشیدہ ایک عظیم معبد کو دیکھا، جسے مقامی لوگ انگ کور واٹ کہتے تھے۔ ہنری موہاٹ اس کی کھنڈر ہوتی شانداری کو دیکھ کر گنگ رہ گیا۔ وطن واپسی پر اس نے ان خطوں کا ایک سفر نامہ تحریر کیا جس کا نام ’’1860ء میں سیام کمبوڈیا اور لائوس کے سفر‘‘ تھا۔ موہاٹ نے انگ کور واٹ کو بیان

Read more

راہب کیکڑا اور مصور آرٹ شارٹ

پچھلے چند برسوں سے میں تقریباً گوشہ نشین ہوں۔ سویرے سویرے ماڈل ٹاؤن پارک میں، پھر دوستوں سے فضول نوعیت کی گفتگو اور میں آپ کو بتاتا ہوں کہ فضول قسم کی گفتگو اور نیم فحش لطیفوں کا تبادلہ بھی انسان کو نارمل اور صحت مند رکھتا ہے۔ ہمہ وقت سنجیدہ ادبی گفتگو اور فلسفیانہ موشگافیاں خاص طور پر اس عمر میں بندے کو چڑ چڑا کرنے کے علاوہ قبض بھی کر دیتی ہیں۔ سیر سے واپسی پر سبزیاں ترکاریاں

Read more

عمران خان پلیز۔ تبدیلی کے خرگوش برآمد کیجئے

قارئین میں اچھا بھلا ویت نام سے کمبوڈیا پہنچ چکا تھا، شہر سیم ریپ کی شب میں ’’پب سٹریٹ‘‘ کی رنگینیوں کے بارے میں کالم باندھنے کو تھا جب ملک کے سیاسی کامیڈی تھیٹر میں کیا ہی لاجواب مزاحیہ کھیل پیش کیا جانے لگا۔ ایسی ایسی جگتیں کی جانے لگیں کہ بے چارے امان اللہ اور سہیل احمد نے بھی ہاتھ کھڑے کردیئے اور کہا کہ بھاجی یہ سیاست والے ہم سے بڑے کامیڈین ہیں، چنانچہ میں نے سوچا کہ

Read more

سُہانا سَپنا ساپا اور چین کی سرحد پر

”ساپا ساپا‘‘ لینڈ کروزر کی پچھلی نشست پر اودھم مچاتے ہمارے دو پانڈوں نے نعرہ لگایا۔ یاشار اور طلحہ کا وطیرہ تھا کہ ہم جدھر کا سفر اختیار کرتے وہ پچھلی نشست پر نعرہ زن ہو جاتے۔ مثلاً ہنوئی ہنوئی۔ کچھوے کی جھیل کچھوے کی جھیل۔ ادب کا مندر ادب کا مندر یا پھر ہوچی منہ ہوچی منہ۔ تو ہم بقول سُمیر ویت نام کے سب سے پر فضا شہر ساپا جا رہے تھے۔ ایک پہاڑی شہر جس کے دھند

Read more

جادوئی کچھوا اور ٹمپل آف لٹریچر

میں نے اپنے سفر نامے ’’نیو یارک کے سوانگ‘‘ میں اس شہر کی ایک پہچان درج کی ہے اور وہ ہے ایک نیکر اور بلائوز میں ملبوس جوگنگ کرتی لڑکی جس کی پونی ٹیل اس کی گردن پر ایک گلہری کی مانند اچھلتی چلی جاتی ہے۔ یہ لڑکی پورے نیو یارک میں پائی جاتی ہے صرف سنٹرل پارک میں ہی نہیں‘ ففتھ ایونیو کے فٹ پاتھ پر ‘نیو یارک پبلک لائبریری کے سامنے جو گلی ہے جس کے فٹ پاتھ

Read more

ویت نام کی امریکہ دشمنی، ایک ٹینک اور جَل پریاں

ویت نام دریائے سرخ کی سرزمین تھی۔ یعنی سرخ سلطنت کا دریا بھی سرخ تھا۔ ہنوئی کے بہت ہی عالی شان ایئر پورٹ کے باہر سمیر کی سیاہ لینڈ کروزر کے اندر ہم دونوں کی آمد کے منتظر دو پیارے پیارے پانڈے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ یاشار اور طلحہ اپنے دادا اور دادی کو دیکھ دیکھ کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے اور جب ہم نے ایک مدت کے بعد اپنے پوتوں کو دیکھا تو ہم بھی مسرت سے

Read more