ہمارا خاندانی نظام بدلنے کی ضرورت ہے
ہمارے موجودہ خاندانی نظام کا دوسرا ستون حیاتیاتی اور جسمانی تقاضوں کو جھٹلانا، دبانا اور چھپانا ہے۔ اول تو ہم یہ حقیقت ہی تسلیم نہیں کرتے کہ تمام انسانوں کی کچھ جائز جنسی ضروریات ہوتی ہیں۔ حقائق سے آنکھیں چرانے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم اجتماعی اور انفرادی جنسی رویوں میںپیدا ہونے والی خرابیوں سے بے خبر رہتے ہیں اور پاکیزگی کی ظاہری چادر کے نیچے ہر طرح کی برائیاں پرورش پاتی ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے ہاں لڑکوں اور لڑکیوں کی جنسی تربیت اور تعلیم کا کوئی باقاعدہ طریقہ ¿ کار موجود نہیں۔ چنانچہ نوجوان اپنے ہم عمر ساتھیوں سے پوشیدہ طور پر غیر مستند اور الٹی سیدھی معلومات حاصل کرتے ہیں۔ ایک طرف تو اس طریقہ ¿ کار سے نوجوانوں میں غیر ضروری تجسس اور بے جا احساس گناہ پیدا ہوتا ہے، دوسری طرف یہ نوجوان غلط تربیت اوربے ہودہ اخلاقی قدریں سیکھتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بزرگ نسل اپنے طور پر تصور کر لیتی ہے کہ ایک خاص عمر کو پہنچنے کے بعد نوجوان جنسی حقائق سے خود بخود آگاہ ہو جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ مذہب، سائنس اور بنیادی خواندگی کے سلسلے میں تو ہم نے کبھی یہ تصور نہیں کیا کہ نوجوان خود بخود یہ معلومات حاصل کر لیں گے، جنسی معاملات میں یہ کیسے فرض کر لیا گیا کہ نوجوانوں کو باقاعدہ اخلاقی اقدار اور علمی حقائق سمجھنے کی ضرورت نہیں؟ اس غلط سوچ کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر افراد علمی طور پر غلط، ناقابل عمل اور غیر اخلاقی جنسی اقدار کے ساتھ جوان ہوتے ہیں۔
اسی سوچ کا دوسرا رُخ جنسی جذبات اور تقاضوں پر ناجائز پابندیوں کا ہے۔ یہ امر تاریخی طور پر ثابت ہے کہ کوئی معاشرہ سخت ترین سزاﺅں کے باوجود جنسی جذبات پر ناجائز پابندیوں سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکتا۔ جنسی آزادی لازمی طور پر اخلاقی ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہے لیکن جنسی تقاضوں پر ناجائز پابندیوں کے نتیجے میں جائز اخلاقی حدود کا تعین ممکن نہیں رہتا۔ دبے ہوئے جائز جنسی تقاضے مجرمانہ رجحانات کو جنم دیتے ہیں۔ تاریخ میں ایسے تمام معاشرے جنسی بے راہ روی اور منافقت کا شکار ہو جاتے ہیں جہاں جائز جنسی ضروریات پر پابندیاں عائد کی جائیں۔
تاریخ میں استحصال کرنے والے حکمران طبقوں نے عوام کو کچلنے کے لیے جسمانی جبر و تشدد، سوچ اور فکر پر پابندیاں اور جائز جنسی ضروریات پر پہر ے جیسے حربے اختیار کیے ہیں۔ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ حکمران طبقوں کا مقصد پورا کرنے میں تیسرا طریقہ کار سب سے موثر ہے کیونکہ جنسی گھٹن میں انسانوں کو اپنے وجود سے بیگانگی پیدا ہوتی ہے۔ انسان زندگی سے بیزار ہو جاتے ہیں۔ اذیت پسندی فروغ پاتی ہے، اجتماعی بھلائی سے ایمان اٹھ جاتا ہے، انسان اپنی سوچ اور ضمیر پر یقین کھو بیٹھتے ہیں۔ اور سب سے اہم یہ کہ ایسے معاشروں میں درمیانہ طبقہ نام نہاد جنسی پابندیوں کا علمبردار بن جاتا ہے جبکہ اعلیٰ اور نچلے طبقات میں ہر طرح کی جنسی برائیاں خوب پھلتی پھولتی ہیں۔ جنسی گھٹن کے ماحول میں صحت مند جنسی رویوں اور اقدار کی پرورش نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ لوگ اپنی جنسی زندگی سے غیر مطمئن رہتے ہیں اور طرح طرح کی اخلاقی برائیوںمیں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہ خرابی صرف ہمارے معاشرے تک ہی محدود نہیں بلکہ دنیا بھر میں صدیوں کی جنسی گھٹن اور ناجائز پابندیوں کے باعث روایتی اخلاقی ڈھانچے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ احساس ذمہ داری اور جائز جسمانی تسکین کو یکساں اہمیت دینے والی صحت مند جنسی اخلاقیات راتوں رات نشوونما نہیں پا سکتی۔ نامعقول اجتماعی رویوں کی موجودگی میں معقول لیکن غیر معروف نکتہ نظر کو مشکل سے جگہ ملتی ہے۔ اس ضمن میں پہلا قدم مسئلے کی حقیقت تسلیم کرنا ہے۔ مرض کی درست تشخیص کیے بغیر بیماری دور نہیں کی جا سکتی۔ آج کی دنیا میں ذرائع ابلاغ اس قدر ترقی کر چکے ہیں کہ معاشرے میں ہر طرح کی معلومات کی بلا روک ٹوک فراہمی پر پابندی لگانا ممکن نہیں رہا۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے ہر طرح کا بُرا بھلا مواد ان افراد تک پہنچے گا جنہیںاپنے معاشرے میں ان موضوعات پر بحث مباحثے کے ذریعے اچھائی اور برائی جانچنے کا موقع میسر نہیں ہو گا۔ اس کا حتمی نتیجہ یہ ہو گا کہ ہمارا خاندانی نظام مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گا۔ اگر ہم اجتماعی سطح پر دیانتدارانہ اور کھلے بحث مباحثے کے ذریعے مثبت اور منفی جنسی قدروں کا تعین نہیں کرتے تو ہماری آئندہ نسلوں کو مکمل تباہی سے بچانا ممکن نہیں رہے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ معاشرے میں بہتری، ترقی، خوشحالی، تحفظ اور امن چاہنے والا کوئی فرد یا گروہ خاندانی ڈھانچے کی تباہی سے خوش نہیں ہو سکتا۔ تاہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مروجہ خاندانی نظام کے بہت سے پہلو بدلتے ہوئے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات میں نہ صرف یہ کہ غیر ضروری ہو چکے ہیں بلکہ سماجی اور معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن چکے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سنجیدہ اور دیانت دارانہ بحث مباحثے کے ذریعے سماجی ڈھانچوں اور اجتماعی رویوں میں مناسب تبدیلیاں پیدا کی جائیں۔ قانونی سطح پر غیر منضبط رواجی روایات کی تقلید چھوڑ کر تمام شہریوں کے لیے مشترکہ سول قوانین نافذ کیے جائیں۔ قانونی، سیاسی اور سماجی سطح پر صنفی امتیاز کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ عورتوں کے لیے معاشی مواقع پیدا کیے جائیں۔ اجتماعی سطح پر استحصال اور بدعنوانی کی بجائے محنت اور اہلیت کے اصول رائج کیے جائیں۔ بے جا جنسی گھٹن پیدا کرنے کی بجائے صحت مند جنسی اظہار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ مغرب کے خاندانی انتشار پر بغلیں بجانے کی بجائے اپنے خاندانی ڈھانچوں اور سماجی رویوں کا تنقیدی جائزہ لیا جائے۔ صرف اسی صورت میں صحت مند اور پیداواری سماجی ثقافت فروغ پا سکتی ہے اور ایک ایسا خاندانی نظام جنم لے سکتا ہے جو محبت اور تحفظ پر مبنی ہو۔ عین ممکن ہے کہ اس مجوزہ ثقافت اور سماجی نظام میں بہت سے رشتوں کی باہمی نوعیت وہ نہ رہے جس کے ہم صدیوں سے عادی چلے آ رہے ہیں لیکن اس کے ذریعے مکمل سماجی تباہی اور زوال کا راستہ ضرور روکا جا سکتا ہے۔


