جمہوری ثقافت کے فروغ میں جنسی تعلیم کا کردار

میری عمر چون برس ہے۔ میں دو بچوں کا باپ ہوں اور گزشتہ تیس برس سے بڑی حد تک خوش و خرم زندگی گزار رہا ہوں۔ تاہم مجھے معلوم ہے کہ میری خوشی میں اتفاقات کو زیادہ دخل ہے۔ معاشرے نے ایک شہری ہونے کے ناتے میری خوشی، آزادی اور تحفظ کی کوئی خاص ضمانت…

Read more

ہمارے وزیر اعظم بہت اچھے ہیں

آپ کو بتانا تھا کہ درویش نے عمران خان صاحب کے بارے میں اپنی رائے بدل لی ہے۔ خدا وزیر اعظم کی حفاظت فرمائے اور ان کی حکومت کو دوام بخشے۔ فطری کاہلی آڑے آئی ورنہ اصولی طور پر تو تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوتے ہی اطاعت کا اعلان واجب تھا کہ یہی ہماری…

Read more

اماوس کی رات اور امکان کے جگنو

ناانصافی ہماری دھرتی کے سینے پر رکھا ایسا پتھر ہے جس کا بوجھ ہمارے رگ و ریشے، ہر بن مو میں ایک جیسی تکلیف دیتا ہے۔ ہماری زمین کا امتیاز یہ ہے کہ ہمارے پرکھوں نے نسل در نسل ناانصافی سے جنگ کی ہے۔ ہم نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ پاکستان کے ہر خطے میں، تاریخ…

Read more

قوم ناکام کیوں ہوتی ہے؟

اسلام آباد سے محبت کرنے والے اسے ’اسلام آباد ، دی بیوٹی فل‘ کہتے ہیں اور ٹھیک کہتے ہیں۔ مارگلہ کی پہاڑیوں سے امڈتے بادلوں تلے دو رویہ جھومتے درختوں کے بیچوں بیچ برکھا کی بوندوں میں بھیگتی سڑکوں کے نشیب و فراز آنکھ میں ٹھنڈک بن کر اترتے ہیں۔ وہی نیشا پور کے نظیری…

Read more

قندھاری انار، لعل بدخشاں اور احسان اللہ کا احسان

 منٹو نے آغا حشر سے ایک ملاقات کا احوال مزے لے لے کر لکھا۔ آغا حشر حسب معمول دون کی لے رہے تھے ۔ہندوستان کے مشاہیر ادیبوں کو خطیبانہ آہنگ میں لتاڑ رہے تھے۔ کلکتہ اور بمبئی کے سیٹھوں کی ہشت پشت بیان کر رہے تھے۔ بیچ بیچ میں رک کر پوچھتے تھے کہ مختار…

Read more

فروری کی کونپلیں اور سیاسی اظہار کے چراغ

عزیزان گرامی، گزشتہ ہفتے آپ سے ملاقات نہیں ہو پائی۔ اگرچہ ان دنوں ملاقات کی صورت یوں بھی کچھ دگرگوں ہی رہتی ہے۔ پہرے کی چاپ مسلسل کانوں میں گونجتی رہے تو قلم لڑکھڑانے لگتا ہے، نطق میں لکنت چلی آتی ہے۔ آنکھ البتہ سب کہتی ہے۔ اور پھر یہ کہ آپ جیسے ذہین اور…

Read more

قلیل خمری کی ڈرامہ سازی اور صنفی سوال -ناقابلِ اشاعت کالم

قلیل خمری کو خدا غریق رحمت کرے۔ مرحوم تاریخ میں واحد ملامتی صوفی تھا جو واقعتاً قابل ملامت تھا۔ قبلہ نے جب جب دہان دریدہ کو زحمت دی، خود ساختہ عظمت، نرگسیت، کم سوادی، بداطواری اور پٹی ہوئی دانش کے ایسے پھول جھڑے کہ خلقت اس تھوتھے چنے سے برآمد ہوتی بے تال جہالت کی گھنی تاریکی میں سر پٹختی تھی۔ غریب الدہر نے چولہا جھونکنے کے لئے ڈرامہ لکھنا چاہا تھا اس کی بدقسمتی کہ اردو ڈرامے کی صنف ایسی بے مایہ نہیں تھی جیسی اس ہیچمداں نے سمجھی۔

Read more

عمران خان کے دفاع میں ایک تحریر

اگر پاکستان ہمارا ملک ہے تو اپنے ہی ملک کے رہنماؤں اور باشندوں کو ہمہ وقت اڑنگی دینے اور دھول چٹانے سے کیا فائدہ ہو گا۔ کسی کو شیطان اور کسی کو فرشتہ سمجھنے کی لاحاصل مشق میں ہم نے بہت وقت گنوایا ہے۔ سامنے کا سبق یہ ہے کہ کسی فرد یا واقعے سے…

Read more

رسل ٹریبونل سے گلوبل ڈیموکریٹک ڈائیلاگ تک

ہم اکیسویں صدی کی دوسری دہائی مکمل کرنے کو ہیں۔ سات ارب 80 کروڑ انسانوں کا یہ قافلہ علم، تخلیقی سرگرمی، پیداواری عمل اور ٹیکنالوجی کے چار دیو ہیکل پہیوں پر آگے بڑھتا ہے۔ ان چار عظیم الشان کائناتی قوتوں کو انسانی ذہانت کے اعلیٰ ترین اظہار کی مدد سے اقدار، ضابطے، پالیسی اور اداروں…

Read more

ماؤں کے نام پر جنگ میں ہتھیار نہیں ڈالے جاتے

اسلام آباد کی شام آہستگی سے رات میں ڈھل رہی تھی۔ آتش دان سے آتی حرارت کی لہریں محبت کی سرگوشی کی طرح نظر آئے بغیر کمرے کی دیواروں سے لپٹ رہی تھیں۔ تین دوست دن بھر کی مشقت کو ملاقات کی سرخوشی میں بھگو رہے تھے۔ بہت برس گزرے، ان تینوں نے معمولی وقفے…

Read more