وائیمر ری پبلک کے ہیولے اور وشی حکومت کے کردار

سیاسی موضوعات پر بننے والی فلموں سے شغف رکھنے والوں میں سے شاید ہی کوئی ہو جس نے 1972 میں بننے والی فلم کیبرے (Cabaret) نہ دیکھی ہو۔ کرسٹوفر ایشروڈ کی ایک مختصر کتاب Goodbye Berlin سے ماخوذ یہ فلم جرمنی کے پہلے جمہوری تجربے وائیمر ری پبلک کی ناکامی بیان کرتی ہے۔ وائمر ری…

Read more

لگاتار سردمہری کا دسمبر گزرتا ہی نہیں

عرش صدیقی کو ملال تھا کہ دسمبر آ گیا ہے۔ دسمبر کے تو اکتیس دن ہوتے ہیں اور یہ سرد دن بہرحال گزر جاتے ہیں۔ ہمارا دکھ یہ ہے کہ ریاست کی سرد مہری پر بہتر دسمبر گزر چکے ہیں۔ اس زمستانی موسم کی ہڈیوں تک اتر جانے والی بے بسی ختم ہونے کا نام…

Read more

اسے کہنا، دسمبر آ گیا ہے

لفظ تو یہیں کہیں خوار و زبوں پھرتا ہے۔ پھر ایک شاعر آتا ہے۔ وقت کی دھول میں سرگرداں، خلق کے قدموں میں پامال لفظ کو محبت سے اٹھاتا ہے، اسے جھاڑ پونچھ کر تجربے کے خدوخال بخشتا ہے، کیفیت کے سیاق و سباق میں رکھ دیتا ہے۔ لفظ شاعر کی سطروں میں سج جائے…

Read more

ماسکو ٹرائل اور حب الوطنی کا مقابلہ

بارے خیریت رہی۔ 27 نومبر کی رات گزر گئی۔ کس قیامت کی رات تھی، بیم و رجا کا کھیل تھا، ناموسِ جان و دل کی بازی لگی تھی۔ رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گذشت۔ ہماری تاریخ میں ایسی بہت سی راتیں گزریں جب آنکھیں روزن دیوار زنداں ہو گئیں۔ یہ روزن کی سہولت بھی مرزا…

Read more

گالی اور دلیل کے درمیان سیاسی اسموگ

ہمارے سیاسی مکالمے میں گالی نے دخل پا لیا ہے۔ ایک صوبائی وزیر نے ٹیلی ویژن پر کیمروں کی موجودگی میں میزبان کو ٹکسالی گالی دی۔ ایک مذہبی رہنما نے اپنی سیاسی مہم جوئی کو ایک ایسی گالی کاعنوان دیا کہ حضرت کی ذات اقدس اور ایک غیر فصیح ترکیب یک جان دو قالب ہو…

Read more

آدھے سر کا درد اور 22 کروڑ کا حق وراثت

نواز شریف علاج کے لئے بیرون ملک روانہ ہو گئے۔ مولانا فضل الرحمن کا جوار بھاٹا ساحلوں کی گیلی ریت پر اپنے نشان چھوڑ گیا۔ توپ کاپی کی محل سرا میں طاقت کی صف بندی معمولی نقل و حرکت کے ساتھ طے شدہ ترتیب میں ہے۔ نظم و ضبط کا بھرم قائم ہے۔ فلک پر…

Read more

افلاک کی روشنیاں اور اقتدار کی شوخیاں

آپ لاہور کو شہر کہتے ہیں۔ ارے نہیں، جنہوں نے لاہور کو دیکھا اور برتا ہے، وہ اسے کنج گلزار سمجھتے ہیں، کوچہ دلدار جانتے ہیں۔ آرزوئے دل فگاراں اور چشم نگار کا سنگم پکارتے ہیں۔ اس شہر کے بیچوں بیچ مال روڈ کی لکیر کھنچی ہے، آب رواں کی سی سہل گام ٹھنڈک لئے،…

Read more

نواز شریف کیسے کامیاب ہوئے؟

یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ اخباری کالم مصدقہ اطلاع نہیں ہوتے۔ یہ تو بھنگڑ خانے کی گپ ہے ۔ کچھ سنی سنائی، کچھ دل کی دہائی اور باقی روئی کی دھنائی۔ لوگ باگ مگر کچھ ایسے خوش عقیدہ واقع ہوئے ہیں کہ بے خبر کالم نگاروں کے صریر خامہ کو نوائے سروش سمجھ…

Read more

میلان کنڈیرا سے عدیلہ سلیمان تک: فن کار کا فساد اور اہل کار کی ذمہ داری

کراچی میں آرٹ کی دو سالہ نمائش کے نام پر ایک نئے رنگ کا میلہ شروع ہوا ہے جسے اطالوی زبان کے لفظ Biennale کی مناسبت سے بینالے کا عنوان دیا گیا ہے۔ اس برس فنکار وغیرہ کہلانے والے شرپسندوں نے پھر سے فریئر ہال میں اپنا تنبو سائبان جمایا تھا۔ اللہ کا فضل ہوا…

Read more