رسل ٹریبونل سے گلوبل ڈیموکریٹک ڈائیلاگ تک

ہم اکیسویں صدی کی دوسری دہائی مکمل کرنے کو ہیں۔ سات ارب 80 کروڑ انسانوں کا یہ قافلہ علم، تخلیقی سرگرمی، پیداواری عمل اور ٹیکنالوجی کے چار دیو ہیکل پہیوں پر آگے بڑھتا ہے۔ ان چار عظیم الشان کائناتی قوتوں کو انسانی ذہانت کے اعلیٰ ترین اظہار کی مدد سے اقدار، ضابطے، پالیسی اور اداروں…

Read more

ماؤں کے نام پر جنگ میں ہتھیار نہیں ڈالے جاتے

اسلام آباد کی شام آہستگی سے رات میں ڈھل رہی تھی۔ آتش دان سے آتی حرارت کی لہریں محبت کی سرگوشی کی طرح نظر آئے بغیر کمرے کی دیواروں سے لپٹ رہی تھیں۔ تین دوست دن بھر کی مشقت کو ملاقات کی سرخوشی میں بھگو رہے تھے۔ بہت برس گزرے، ان تینوں نے معمولی وقفے…

Read more

دروازہ نہیں کھلتا

یہ جو بڑے لوگ ہوتے ہیں، جینے کا ہنر بھی جانتے ہیں، بات کہنا بھی انہیں آتی ہے اور یہ رقیب سے بھی راز و نیاز کر لیتے ہیں۔ عرفان اور نروان کی ان منزلوں کا اندازہ نیاز و ناز سے ہوتا نہیں۔ ہم جیسے کم نظر اپنی ناک سے آگے نہیں دیکھ پاتے، دشت…

Read more

عزا دارو، جنازے لوٹ کے آتے نہیں

سال میں تین سو پینسٹھ دن اور باون ہفتے ہوتے ہیں۔ صدی کے بیسویں برس کے پہلے دو ہفتے ہی میں ایسا بجوگ پڑا ہے کہ منزلوں منزلوں راہ تاریک نظر آتی ہے۔ طلوع کے دھندلے میں ایسی ویرانی ہے تو رات گزرے گی کس خرابی سے۔ بیوہ ماں نے رت جگوں کی محنت سے…

Read more

22 کروڑ کے لئے پیر و مرشد کی بشارت

دیکھیے جو ہونا تھا، ہو چکا۔ بات کچھ ایسی بڑی نہیں تھی، کہنہ روایت موجود تھی، بس انجانے میں پاؤں رپٹ گیا اور پھر قسمت کا لکھا پورا ہوا۔ مسہری اور دری کی ایک ساتھ پامالی کا تماشا ایک دنیا نے دیکھنا تھا، سو دیکھ لیا۔ جو ہونا تھی، وہ بات ہو لی کہارو۔ دیکھنا…

Read more

نظیر اکبر آبادی کی شاعری میں نقطے اور صحافی کا نامعلوم فریق ثانی ۔۔۔۔ وجاہت مسعود  کا ناقابل اشاعت کالم

نظیر اکبر آبادی 1746 کے لگ بھگ پیدا ہوئے اور 1830 میں وفات پائی۔ مہ و سال کے تناظر میں یوں جانیے کہ میر تقی میر سے کوئی 25 برس بعد پیدا ہوئے اور ربع صدی بعد انتقال ہوا۔ گویا زمانی طور پر ہم عصر تھے۔ افتاد طبع کا فرق یوں سمجھا جائے کہ میر…

Read more

غلام عباس کا جواری اور نمبردار کا نیلا

غالب نے عجب طرفہ طبیعت پائی تھی۔ ایک طرف کہتے ہیں کہ واقعہ سخت ہے اور جان عزیز، چنانچہ تاب لاتے ہی بنے گی۔ دوسری طرف کہتے ہیں ، دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں۔ چھوڑیئے بھائی، دلی کے کوچہ قاسم جان میں رہنے والے اسد اللہ…

Read more

چار بزرگ جن کا احترام سیکھنے میں ایک عمر صرف ہوئی

لیجئے صاحب، اس برس کی آخری صبح آن پہنچی۔ آج کا سورج ڈوبے گا تو کل نئے برس میں جاگیں گے۔ اس برہمن کی کوئی خبر نہیں جو غالب کو اچھے سال کی نوید دیا کرتا تھا۔ آخری مرتبہ اسلام آباد کی نواحی پہاڑیوں میں دیکھا گیا تھا۔ معلوم ہوتا ہے ہمارے عہد کے برہمنوں…

Read more

پاکستان کے شہری قائد اعظم کا خاندان ہیں

بھارتی حکومت کے متنازع قانون شہریت پر ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ یہ قانون بھارت کے مسلمان شہریوں کے ساتھ امتیاز کرتا ہے۔ ریاست کسی مذہبی گروہ کے ساتھ ترجیحی سلوک کرے یا امتیازی، ہر دو صورتوں میں اپنے فرض سے کوتاہی کی مرتکب ہوتی ہے۔ ریاست کا کام کسی مذہبی امتیاز کے بغیر اپنے…

Read more

بادل گہرے ہیں لیکن آسمان نیلا ہے

ہم دیکھتے ہی دیکھتے ایک طوفان بلا خیز کے دہانے پر آن کھڑے ہوئے ہیں۔ دیوہیکل قوتوں میں یہ کھلی کشمکش کوئی قدرتی آفت نہیں ہے۔ ہم نے عشروں پر پھیلی غلطیوں اور غفلتوں کے ایک خوفناک تسلسل سے قوم اور ریاست کے دفاعی دمدموں کو ایک ایک کر کے مسمار کیا۔ اب ہمارا بحران…

Read more