پولیس والے! تیری ایسی کی تیسی!
ایک سیاسی جلسے پر جلدی پہنچتے وقت شاہراہ فیصل پر بے قابو ٹریفک کو راستہ دینے والے دو ٹریفک سارجنٹ بائک سواروں اور گاڑی والوں سے گالیاں کھا رہے تھے جب اس نے ہمیں راستہ بنا کر دیا تو میں نے پہلی بار اس کا شکریہ سلیوٹ کے انداز میں ادا کیا گھنٹوں کی ڈیوٹی ادا کرنے والے تھکے چہروں پر مسکراہٹ آئی اور انھوں نے اپنی گردن ہلا کر اس کا جواب دیا۔
مجھے وہ پولیس کا جوان بھی یاد ہے جسے میں نے 2015 میں پہلی بار اسلام آباد اکیلے پہنچنے پر ائیر پورٹ کے باہر مدد کے لئے بلایا اور کہا کہ مجھے اس ایڈریس پر پنڈی جانا ہے کیا آپ میری رہنمائی کرسکتے ہیں تو اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ اکیلی ہیں اور پہلی بار اس شہر آئی ہیں؟ میں نے اسے ہاں میں جواب دیا تو وہ بولا میں آپ کو ٹیکسی کروا کے دیتا ہو یہ آپ کو اس پتے تک چھوڑ کر آئے گا ساتھ ہی پوچھا کیسا ہے ہمارا کراچی؟ میں چونکی تو اس نے بتایا کہ وہ چار سال عزیز بھٹی تھانے میں تعینات رہا ہے اور اب کئی برسوں سے اسلام آباد میں ہے لیکن کراچی اسے روز یاد آتا ہے۔ جب میں اپنی منزل پر پہنچی تو ٹیکسی والے نے میرے سامنے اس پولیس والے کو کال کر کے بتایا کہ باجی کو ان کے عزیزوں کے گھر پہنچادیا ہے۔
مجھے وہ پولیس کے جوان بھی یاد آتے ہیں جنھوں نے دوران فیلڈ رپورٹنگ کئی بار خبرادار کیا کہ آگے خطرہ ہوسکتا ہے اپنے کیمرامین کو کہیں کہ وہ پیچھے آئے۔ مجھے وہ پولیس والے بھی یاد ہیں جب بائیس اگست کو ایک پارٹی کی تقریر نشر کرنے کے بعد ہنگامہ آرائی کا آغاز ہوا تو دفتر سے محفوظ مقام تک پہنچنے پر انھوں نے میری حفاظت میرے بھائی کی طرح کی۔ مجھے وہ پولیس والا بھی یاد آتا ہے جب مشتعل ہجوم نے خواتین کو شیلنگ کے سامنے مارچ کرنے کو کہا تو اس نے شیلنگ روکی اور دوسرے سے کہا کہ اب روک دو پارٹی کارکنان نے ان خواتین کو سامنے کردیا ہے یہ زخمی نہ ہوجائیں۔ مجھے وہ پولیس والا بھی یاد ہے جس نے بتایا کہ پی ایس ایل کا فائنل وہ بھی دیکھنا چاہتا تھا کیونکہ زلمی اس کی پسندیدہ ٹیم ہے لیکن آج اس میچ کو پر امن بنانے کی سیکورٹی کا حصہ ہونا اس کے لئے سب سے اہم ہے۔ وہ آج کمنٹری موبائل پر بھی سن سکتا ہے کیونکہ آج ہار جیت دو ٹیموں میں نہیں امن دشمنوں اور ہمارے درمیان ہے۔
دفتر لوٹتے وقت مجھے ان وردی والوں کی سخت ڈیوٹی اور شہریوں کے ساتھ تعاون بار بار یاد آتا رہا اور میں نے اپنی ڈیسک سے کہا کہ کراچی والوں کو بھلے شکریہ ادا کریں لیکن ایک رپورٹ الگ سے پولیس والوں پر بنائیں جن کے سبب یہ سب ممکن ہوا تو مجھے کرائم رپورٹر رجب بھائی کی آواز آئی کہ جی سدرہ میں نے اس پر آج ایک رپورٹ فائل کی ہے۔
تو جناب کرپشن کہاں نہیں ہوتی کہیں ٹداپ ا سکینڈل تو کہیں پانامہ کا چرچا کسی نے حاجیوں کو نہ بخشا تو کوئی ملک ہی کھا گیا؟ اقربا پروری، رشوت خوری، یہاں تک کہ سینیٹرز کی خرید و فروخت کیا سرکار اور سیاستدان نہیں کرتے یا آج تک کوئی جج نہیں بکا؟ کیا یہ سب وہ نہیں کرتے جنھوں نے معزز ہونے کا درجہ رکھتے ہوئے بھی شہر میں حد نگاہ زمینوں پر قبضہ کر رکھا ہے؟ لیکن ہمیں ٹوٹی موبائلوں اور بابے آدم کے زمانے کا اسلحہ تھامے سستی جان لئے یہ وردی پہنا پولیس والا ہی نظر آتا ہے۔ کیونکہ جب یہ مرتا ہے تو کوئی ہنگامی پریس کانفرنس نہیں ہوتی، کوئی نغمہ جاری نہیں ہوتا ان کے لئے کوئی ہیلی کاپٹرمیں بیٹھ کر نہیں آتا۔ جنازہ پڑھا جاتا ہے اور خاموشی سے لحد میں اتار دیا جاتا ہے زندگی چلتی رہتی ہے سیکورٹی پلان بنتے رہتے ہیں ناکے، تھانے، چوکیاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں نہیں بدلتی تو ہماری سوچ اور زبان جس نے وردی کو گالی دینے میں بھی اپنا معیار بنا رکھا ہے۔

