اجی سنتے ہو؟ تمہاری اولاد مرنے کو ہے!

کچھ ماہ قبل ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی ویب سائیٹ پر ایک خاتون ماہر نفسیات کی رپورٹ نشر ہوئی جس میں انھوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا کس طرح سے شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوا اور پھر اس نے خود سوزی کرلی۔ رپورٹ کے نیچے کمنٹس کرنے والے یہ کہتے رہے کہ کیسی ماں ہیں آپ جو ماہر نفسیات تھیں اور نہ جان سکیں کہ بیٹا کس اذیت سے گزر رہا ہے۔ شاید وہ ماں جانتی ہو لیکن پھر بھی وہ کچھ نہ کر سکی ہوں۔ جیسے بیوٹی بلاگر آمنہ اپنے شوہر اور سسرال کے رویے سے تنگ آکر خود کشی کر بیٹھی جبکہ وہ اپنے مسائل سے گھر والوں کا آگاہ کر چکی تھی۔ دوست بھی واقف تھے لیکن کوئی بھی آمنہ کو نہ بچا سکا۔

Read more

میں ٹھیک تم غلط، نہ مانو تو بھگتو اب

ان دنوں زندگی مشکل سی لگتی ہے، جسے دیکھو مہنگائی سے پریشان، گرمی سے بے حال۔ جس سے بھی بات کرو چڑچڑاپن، غصہ صاف دکھائی دیتا ہے۔ بازار میں سبزی گوشت خریدنے والا ہر شخص چاہے وہ مرد ہو یا عورت دکاندار کو بے بھاؤ کی سناتا آگے یہ سوچ کر بڑھ جاتا ہے کہ میں نے اپنا جائز غصہ نکال دیا۔ ظاہر ہے اشرافیہ طبقے کو سنانا تو اپنے بس میں نہیں جو اس برس بھی رمضان میں مہنگی مہنگی افطار پارٹیوں میں ڈیزائنر کپڑے زیب تن کیے ملک کی برائیوں سے روزہ کھولتے دکھائی دیتے رہے یا پھر وہ حکومت جو ابھی تک اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قمری کیلنڈر یا پھر قمری ڈاکٹرین کو سمجھتے ہوئے عوام کو گھبرانے نہ دینا کا مشورہ دینے پر قائم ہے۔ ایسے میں مجھے آپ کو امرود والا ہو یا دودھ والا، سبزی والا ہو یا غریب ریڑھی پر چاٹ بیچنے والا ہی جابر، ظالم اور غاصب دکھائی دیتا ہے۔

Read more

چھ برسوں میں ابو کے نام بیٹی کا دوسرا خط

پیارے ابو جانآپ پر سلامتی ہوپورے چھ برس بیت جائیں گے آپ کو گئے ہوئے۔ کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ وقت کتنی تیزی سے گزرتا ہے، نہیں گزرتا تو وہ وقت جو بہت مشکل ہوتا ہے۔ جن دنوں آپ زندگی اور موت سے جنگ لڑ رہے تھے وہ ایک دن چوبیس کے بجائے اڑتالیس گھنٹے کا لگتا تھا اور آج حساب لگا و تو برسوں گزر گئے۔ لیکن اتنے سالوں میں، مجھے ان سب پر غور کرنے کا موقع ملا جو میں نے آپ کی موجودگی میں نہیں کیا ہوگا، اور ویسے بھی غور تو ہم سب تب ہی کرتے ہیں جب کسی کو کھو دیں، کوئی ہمیں چھوڑ جائے یا ہم کسی کو چھوڑ دیں۔ کس نے کیا کہا تھا؟ کہاں زیادتی کی تھی؟ کہاں اچھا کیا تھا کہاں ساتھ نبھایا تھا؟ کس نے کب چھوڑا تھا کس نے دکھ بانٹا تھا یہ سب ہم روز ہی تو یاد کرتے ہیں پر ہمارے لیے ہمارے باپ نے کب کب، کیاکیا؟ ذرا مشکل سے نظر آتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم سب اپنی ماؤں سے کافی قریب ہوتے ہیں وہ ہمارا خیال رکھتی ہے باپ کے غصے، مار، ڈانٹ سے بچاتی ہے اور اکثر یہ بتاتی رہتی ہے کہ باز آجاؤ ابھی تمہارے باپ کو نہیں معلوم کہ تم نے کیا کیا تھا۔ ذرا ہوشیار رہو تمہارے ابو کو پتہ چلا تو پھر دیکھنا کیا ہوتا ہے اور موقع ملے تو ماں کہیں نہ کہیں یہ بھی بتا دیتی ہے کہ احساس کرو ماں کتنی تکلیفیں اٹھا کر اولاد کو پالتی ہے اپنی راتیں جاگ کر تمہارے آرام کے لئے قربان کرتی ہے، تمہارے کھانے پینے، پہناوے سے لے کر تمہاری ہر ضرورت کا خیال رکھتی ہے اور ایک تم ہو جسے خیال ہی نہیں۔

Read more

باپ اور نانا کی ٹھکرائی بچی کو سمندر میں گھر ملا

میں ایک ایسے خاندان کو بہت قریب سے جانتی ہوں جس کا سربراہ شیزو فرینیا کا مریض تب سے تھا جب اس کی پہلی شادی ناکام ہوئی۔ لیکن ماں اور بہنوں نے اس کا علاج کروانے کے بجائے پہلی شادی کی ناکامی کے بعد سات سے آٹھ کا سال کا وقفہ لیا اور پھر اس کی دوسری شادی یہ سوچ کردی کہ اب نئی آنے والی بہو چٹکی بجاتے ہی اس شخص کو ٹھیک کردے گی جو روز بروز نفسیاتی بیماری کا شکار ہوکر ایک خول میں بند ہوچکا تھا۔ نیا گھر بس گیا اور پھر چار بچے بھی ہوگئے جو یہ سنتے سنتے بڑے ہوئے کہ یہ تو میری اولاد ہی نہیں۔

ان بچوں کے منہ میں اپنے باپ کے کمائے ہوئے ایک روپے کا نوالہ اس لئے نہ جاسکا کہ ان کا باپ مرض کی شدت کے سبب کمانے کے قابل نہ تھا اور نہ ہی ان کا ددھیال یہ ما ننے کو تیار تھا کہ ان کا باپ ایک ذہنی مریض ہے۔ وہ ہمیشہ جھوٹی تسلیاں اور جھوٹے نوالے نگلتے رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی ماں نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک کم پڑھی لکھی عورت ہے تو سلائیاں کر کے اپنا گزارہ کرے لیکن روز کی مار پیٹ اور بدکرداری کے الزام سہنے کی عادت شاید اس عورت کو اس لیے تھی کہ اس کا میکہ اتنا مضبوط نہ تھا جو اس کا چار بچوں سمیت بوجھ اٹھاتا۔ لیکن ایک روز بچوں نے خود سنا کہ ان کے باپ نے ان کی ماں کو رات میں طلاق دی جو نہ جانے کتنے برسوں سے دی جاتی تھی اور پھر کہا جاتا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا اس واقعے نے ان بچوں کو وہ فیصلہ لینے پر مجبور کیا جو ان کی ماں کبھی نہ لے سکی۔

Read more

مرگ کے کھانے میں بوٹیاں ڈھونڈتے لوگ

ہم بہت ظالم لوگ ہیں۔ کسی کی خوشی میں ہم سج سنور کر نہیں جارہے ہوتے بلکہ حسد کا لبادہ اوڑھ کر کینہ پرور مسکراہٹ سجائے لوگوں کی خوشی میں شریک ہوتے ہیں ۔جب تک اس تقریب میں رہیں ہم کڑھتے رہتے ہیں کوئی نہ کوئی خامی تلاش کرتے رہتے ہیں اور پھر ہم اس…

Read more

عالمی دن کے بغیر جینے والے مردوں کے نام۔۔۔

شہر بھر میں ترقیاتی کاموں کے نام پر جب کھدائی شروع ہوئی تو ہر سڑک ہی جیسے پل صراط بن گئی، اونچے نیچے راستوں سے بچنے کے لئے وین ڈرائیور نے پاک کالونی اور سائٹ ایریا کا راستہ چناتو طویل سفر کے باعث شام کو تمام لڑکیاں تھک کر وین میں سو گئیں ۔نیند آنکھوں…

Read more

کنیز کا بیٹا، شہزادہ نہیں بن سکتا

بستر مرگ پر روز موت کے فرشتے کو ”کچھ اور مہلت دے دو“ کی منت سماجت جاری تھی۔ لیکن فرشتہ آتا سنتا اور مسکرا کر چلا جاتا۔ کرب و اذیت سرطان جیسے موذی مرض کا نہیں ان کیے دھروں کا تھا جو طاقت کے نشے میں کرنا معمول بن چکا تھا۔ لیکن اب وقت کسی ریت کی مانند مٹھی سے پھسلے جارہا تھا۔ گھٹن بڑھ رہی تھی اور رات کی تاریکی بھی کہ ایک رات جب سب سورہے تھے اور تارے جاگ رہے تھے، ایک سرگوشی سنائی دی۔ سنو! تمہیں ابو نے بلایا ہے، آواز میں اداسی بھی تھی اور دھیما سا خوف بھی لیکن اس کی آنکھ ایسے کھلی جیسے اسے اسی بلاوے کا انتظار تھا۔ وہ خاموشی سے اٹھی او ر د وسرے کمرے کی جانب چل دی جہاں اس کا باپ نہ صرف جاگ رہا تھا بلکہ بے چینی سے اسی کا منتظر تھا یہ بوڑھی آنکھیں بتارہی تھیں۔

Read more

اپنے بچوں کو نہ سمجھا تو آپ انہیں کھو دیں گے

پر تکلف عشائیے کے بعد چائے کا انتظار کرنے کے لئے ہم نے لاونج میں بیٹھنے کو ترجیح دی، مسز حارث چائے بنانے کچن چلی گئیں باقی تمام لوگ باتوں میں مصروف ہوگئے۔ دیوار پر لگی ایک پینٹنگ پر میری نگاہ پڑی جو ٹوٹے ہوئے کانچ سے بنائی گئی تھی اور بعد میں اس پر…

Read more

چشم دید گواہی: ’پاکستان کوارٹرز‘ والوں کے ساتھ کل کیا ہوا؟

یہ طے ہوچکا ہے کہ نئے پاکستان کے پچاس لاکھ گھر آشیانہ اسکیم کی طرح نہیں ہوں گے۔ ان کے معاملات شفاف ہوں گے اور یہ گھر نہ صرف اسی حکومت کے دوران نہ صرف بن جائیں گے بلکہ ان کے مکین اس گھر کی دوسری سالگرہ بھی دھوم دھام سے منانے میں کامیاب ہوجائیں…

Read more

عورت بکے تو طوائف، مرد بکے تو دولہا

آج کی عورت باہمت بھی ہے اور کسی حد تک با اختیار بھی لیکن اگر کوئی عورت مضبوط نظر آرہی ہے تو اس کے پیچھے ضرور کوئی ایسی وجہ ہے جس نے اس میں یا تو حوصلہ پیدا کیا ہے یا کمزور سے طاقتور بنایا ہے۔ لیکن وہ کیا ہے ناں ہم دنیا والے ظاہر…

Read more