گیارہ برسوں میں والد کے نام چوتھا خط

پیارے ابو جان، آپ پر سلامتی ہو، امید کرتی ہوں کہ جس جگہ آپ اب ہیں وہاں بہت اچھے ہوں گے۔ ان گیارہ برسوں میں یہ میرا آپ کے نام چوتھا خط ہے اور ہمیشہ کی طرح یہ بھی اتنا ہی مشکل جیسے پہلے والے خطوط تھے۔ گیارہ مارچ کو آپ کو ہم سے بچھڑے گیارہ برس ہوجائیں گے اتنے برسوں میں تو ایک نسل جوان ہوجاتی ہے۔ جب آپ بیمار تھے تو صرف میں تھی جو یونیورسٹی سے ڈگری

Read more

فادرز ڈے پر والد کے نام خط

پیارے ابو جان، آپ پر سلامتی ہو۔ یہ دس برسوں میں آپ کے نام تیسرا خط ہے اور دلچسپ بات یہ کہ آپ کو لکھے جانے والے خط میں آج بھی سوچ بچار زیادہ کرنی پڑتی ہے۔ سو بار ارادہ باندھا جاتا ہے کہ خط لکھا جائے یا نہیں یا پھر جب آپ کو سلام کہنے کے لئے آپ کی آرام گاہ پر جایا جائے تب ہی بہت سی باتیں گوش گزار کردی جائیں؟ لیکن وہاں جاکر دل ڈوب جاتا

Read more

ذہنی دباؤ کا شکار صحافی؛ ’کوئی ماہر نفسیات کے پاس جائے تو کہا جاتا ہے کسی کام کے قابل نہیں رہا‘

کراچی — معاشرتی مسائل، دہشت گردی، تنازعات اور اس طرح کے دیگر واقعات رپورٹ کرنا صحافی کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن یہ واقعات کئی مرتبہ ان کی ذہنی صحت پر گہرا اثر چھوڑ جاتے ہیں۔ پاکستان میں اگر کوئی صحافی ذہنی دباؤ کا شکار ہو تو اس مسئلے کو یا تو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا یا پھر مہنگا علاج تھیراپی کرانے کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ گزشتہ برس نومبر میں کراچی کے ایک میڈیا ورکر فہیم مغل

Read more

کیا آپ بیٹے کے والدین ہیں؟ تو آپ کو ڈرنا چاہیے

میں پانچویں کلاس میں پڑھتی تھی جب اپنے چھوٹے بہن بھائی اور محلے کے بچوں کے ساتھ اسکول سے گھر آیا کرتی تھی۔ صبح اسکول چھوڑنے کی ذمہ داری ابو کی تھی واپسی پر بچوں کا گینگ مل کر آ جاتا تھا اس پر بھی سو ہدایات تھیں کہ راستے میں رکنا نہیں ہے، دکان پر جانا نہیں ہے بس سیدھا گھر آنا ہے۔ اسکول اور گھر کا فاصلہ پیدل پانچ منٹ کی مسافت پر تھا۔ ایک دن گلی میں داخل ہونے سے ذرا پہلے ایک بائیک والا بہت قریب سے گزرا اور مجھے ہاتھ لگا کر چلتا بنا۔

میرے ساتھ جو لڑکی تھی وہ سہم گئی اور اس نے کہا کہ کیا اس نے تمہیں مارا ہے؟ میں سن ہو چکی تھی لگتا تھا جیسے کسی گہرے کنویں میں گرتی جا رہی ہوں۔ گھر پہنچی تو بہت دیر چپ رہی جب امی نے نوٹس کر لیا کہ ان کی باتونی بیٹی آج گم سم ہے تو انھوں نے پوچھ گچھ کی اور میں نے رو رو کر احوال بتایا۔

Read more

دفاعی تجزیہ کار بمقابلہ موسمی قصائی

کچھ روز قبل کام کے بعد دیر سے گھر آنے کے بعد سوچا کہ اب کیا پکاؤں چلو کھانا آرڈر کر دینا بہتر ہے۔ کوئی چالیس منٹ بعد رائیڈر آیا اس نے کھانا دے کر پیمنٹ وصول کرتے ہوئے بہت احترام سے کہا کہ میڈم یہ میرا کارڈ رکھ لیں میں الیکٹریشن کا کام بھی کرتا ہوں کبھی ضرورت ہو تو آپ کال کر سکتی ہیں۔ میں نے اس وقت لڑکے کو بغور دیکھا وہ کوئی بیس، اکیس سال کا نوجوان تھا۔ میں نے اگلا سوال کر دیا۔ کیا تم پڑھتے ہو؟ جواب آیا جی میں نے انٹر کیا لیکن گھر کی ذمہ داریوں کے سبب تعلیم آگے جاری نہ رکھ سکا تو اب ڈلیوری کا کام کرتا ہوں، الیکٹریشن کا کام کرتا ہوں اور ہاں ابھی عید بھی ہے اگر جانور کی قربانی ہو تو پارٹ ٹائم قصائی بھی ہوں۔

Read more

میرا باپ بھی کلمہ گو تھا

آپ پر سلامتی ہو، امید ہے کہ اب آپ اللہ میاں کے پاس خیریت سے پہنچ چکے ہوں گے اور اب آپ کو درد بھی نہیں ہو رہا ہو گا۔ یقیناً وہ لوگ بھی وہاں نہیں ہوں گے جنھوں نے آپ کو مارا تھا جن کی وجہ سے آپ ہمیں یوں چھوڑ کر چلے گئے۔ آپ کو پتہ ہے جس روز آپ گھر سے ڈیوٹی پر جانے کے لئے نکلے تھے میں نے سوچا ہوا تھا کہ رمضان شروع ہونے والا ہے ، آپ سے کہوں گی کہ اس بار زیادہ سے زیادہ افطار ہمارے ساتھ کیجیے گا۔ ہر بار آپ کی ڈیوٹی کہیں نہ کہیں لگ جاتی ہے کبھی جلسوں پر تو کبھی بازاروں میں رش کے سبب تو کبھی ناکوں پر۔

میں گھنٹوں انتظار کرتی رہ جاتی ہوں ، سوچتی تھی کہ خفا رہوں پر جب آپ کہتے تھے کہ ناں پتر ناراض نہ ہو ، اگر تیرا ابا یا تیرے باپ کی طرح اور پولیس والے یہ ڈیوٹیاں نہ دیں تو باہر نکلنے والے پریشان ہو جائیں گے۔ ہمارے گھر والوں کو، خاص کر ماؤں، بیویوں اور تجھ جیسی شہزادی جیسی بیٹیوں کو بڑا حوصلہ کرنا پڑتا ہے ، تب ہی تو ہم بھی گھر آ کر ساری تکان بھول جاتے ہیں۔

Read more

ہمارے یہاں شہید بنانے کا کام تسلی بخش کیا جاتا ہے

میرے عزیز ہم وطنو، میں جانتا ہوں کہ آپ کو اب میرے خطاب سے کوئی دلچسپی نہیں اس لئے میں اس تحریر کے ذریعے آج آپ سے مخاطب ہوں۔ آج میں آپ کو یہ بات بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے یہاں شہید بنانے کا کام تسلی بخش کیا جاتا ہے۔ پڑھ کر حیران مت ہوں یہ حقیقت ہے یہ سعادت آپ کو کب کہاں، کیسے میسر آ جائے آپ کو بھی معلوم نہیں۔ لیکن یقین جانیے جب بھی ایسا ہو

Read more

باہر نکلتے ہوئے وقت نہیں، اپنا عورت ہونا دیکھیں

اپوزیشن حکومت دست و گریبان ہوتی رہی میں خاموش رہی، استعفوں کی بھرمار ہوئی میں تب بھی دیکھتی رہی۔ ترکی کا ڈرامہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے لئے ایک خوفناک خواب بن گیا میں نے سوچا ضرور لیکن لکھا نہیں۔ کراچی میں بارشیں شہر کو نگل گئیں میں نے بیان ضرور کیا لیکن تحریر نہ کر سکی۔

آج میرا قلم مجھے آتے جاتے کچوکے لگانے لگا کہ اب بات تیرے عورت ہونے کی غلطی پر ہے اب بھی تو خاموش رہے گی؟ تو میں چیخ اٹھی۔ میں صحافت میں دس برس سے ہوں گھر سے نکلتے ہوئے میں نے اپنے والٹ میں پیسے اور اے ٹی ایم کارڈ تو ضرور چیک کیا ہوگا لیکن اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ میں شہر کے ہر کونے پر گئی اور واپس آ گئی لیکن آج مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ میں اتنی بے خوف کیسے ہو گئی مجھے اپنے اس عمل پر آج جھرجھری آ رہی ہے کہ میں کئی برسوں سے انجان رکشے ڈرائیوروں، کریم اوبر والوں کے ساتھ وقت بے وقت کیسے سفر کرتی رہی؟ کئی کئی منٹ سنسان سڑک یا فٹ پاتھ پر کھڑے ہو کر نہ صرف سواری کا انتظار کیا تو کئی بار ایسا بھی ہوا کہ اکیلے سفر کے دوران گاڑی خراب ہوئی تو آگے کا راستہ کافی تاخیر کے بعد کسی سواری کے ملنے پر طے کیا۔

Read more

ادھورے خواب اور مطالعے سے عشق کی تلخ یادیں

کچھ روز قبل میری ایک دوست نے اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی بیٹی جسے وہ دوران ملازمت اپنے قریبی رشتے داروں کے گھر چھوڑ جاتی ہیں انھوں نے اس بچی کے ساتھ برا رویہ اختیار کیا۔ ان دنوں اسکول کی تعطیلات ہیں اور بچی کو اکیلے گھر چھوڑنا نا ممکن تھا تو اسے با حالت مجبوری بیٹی کو وہاں بھیجنا پڑا۔ بچی کو کھانسی تھی تو ان عزیزوں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ شاید بچی کرونا کا شکار ہے اسے شدید گرمی میں گھر کے اندرونی حصے میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی۔

بچی کو اس سلوک سے شدید صدمہ پہنچا اور وہ شام میں اپنی ماں سے ملنے کے بعد بہت دیر تک بے آواز روتی رہی۔ جس لمحے وہ مجھے یہ بتا رہی تھی اس کے لہجے کا کرب واضح تھا کیونکہ ایسا کرنے والے کوئی دور کے نہیں اس کے اپنے قریبی رشتے تھے۔ میں نے تسلی کے دو بول بولے اور کہا کہ بچی کو بار بار یہ یاد نہ کروانا نہ ہی ان لوگوں کا ذکر اس کے سامنے کرنا کچھ دنوں میں سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن یہ یاد رکھنا یہ واقعہ تمہاری بیٹی کو شاید عمر بھر یاد رہے۔

Read more

کمزور دل افراد عورت مارچ سے دور رہیں

میں آج جہاں ہوں اس میں اہم کردار ان مردوں کا ہے جنھوں نے مجھے ان مردوں سے لڑنے کی طاقت اور حوصلہ دیا جو میرے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے تھے۔ کئی جگہوں پر میرا ضبط جواب دیتا کئی جگہ ہمت ٹوٹنے لگتی لیکن پھر مجھے کوئی راستہ دکھا دیا جاتا۔ وقت گزرتا گیا میں نے حالات سے لڑنا سیکھ لیا ان لوگوں سے بھی جو عورت کو کچھ نہیں سمجھتے۔ میری خوش

Read more

اٹک واقعہ ۔۔۔ اشک مژگاں پہ ہے اٹک سا گیا

 فرض کیجئے! شہر میں بد امنی کے سبب ایک شخص فائرنگ کی زد میں آجاتا ہے اور پھر اسے فوری طور پر اچھی قسمت ہونے کے سبب ایمبولینس فراہم ہوجاتی ہے۔ گھر والے واقف نہیں کہ وہ کس حالت میں ہے لیکن وہ ایک اسپتال کی ایمرجنسی میں پہنچ جاتا ہے۔ جہاں اسے لگنے والی گولی سے نجات دلانے کے لئے فورا آپریشن تھیٹر منتقل کردیا جاتا ہے۔ اسی دوران اس کے اہلخانہ کو بھی اطلاح دے دی جاتی ہے۔

Read more

اجی سنتے ہو؟ تمہاری اولاد مرنے کو ہے!

کچھ ماہ قبل ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی ویب سائیٹ پر ایک خاتون ماہر نفسیات کی رپورٹ نشر ہوئی جس میں انھوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا کس طرح سے شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوا اور پھر اس نے خود سوزی کرلی۔ رپورٹ کے نیچے کمنٹس کرنے والے یہ کہتے رہے کہ کیسی ماں ہیں آپ جو ماہر نفسیات تھیں اور نہ جان سکیں کہ بیٹا کس اذیت سے گزر رہا ہے۔ شاید وہ ماں جانتی ہو لیکن پھر بھی وہ کچھ نہ کر سکی ہوں۔ جیسے بیوٹی بلاگر آمنہ اپنے شوہر اور سسرال کے رویے سے تنگ آکر خود کشی کر بیٹھی جبکہ وہ اپنے مسائل سے گھر والوں کا آگاہ کر چکی تھی۔ دوست بھی واقف تھے لیکن کوئی بھی آمنہ کو نہ بچا سکا۔

Read more

میں ٹھیک تم غلط، نہ مانو تو بھگتو اب

ان دنوں زندگی مشکل سی لگتی ہے، جسے دیکھو مہنگائی سے پریشان، گرمی سے بے حال۔ جس سے بھی بات کرو چڑچڑاپن، غصہ صاف دکھائی دیتا ہے۔ بازار میں سبزی گوشت خریدنے والا ہر شخص چاہے وہ مرد ہو یا عورت دکاندار کو بے بھاؤ کی سناتا آگے یہ سوچ کر بڑھ جاتا ہے کہ میں نے اپنا جائز غصہ نکال دیا۔ ظاہر ہے اشرافیہ طبقے کو سنانا تو اپنے بس میں نہیں جو اس برس بھی رمضان میں مہنگی مہنگی افطار پارٹیوں میں ڈیزائنر کپڑے زیب تن کیے ملک کی برائیوں سے روزہ کھولتے دکھائی دیتے رہے یا پھر وہ حکومت جو ابھی تک اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قمری کیلنڈر یا پھر قمری ڈاکٹرین کو سمجھتے ہوئے عوام کو گھبرانے نہ دینا کا مشورہ دینے پر قائم ہے۔ ایسے میں مجھے آپ کو امرود والا ہو یا دودھ والا، سبزی والا ہو یا غریب ریڑھی پر چاٹ بیچنے والا ہی جابر، ظالم اور غاصب دکھائی دیتا ہے۔

Read more

چھ برسوں میں ابو کے نام بیٹی کا دوسرا خط

پیارے ابو جانآپ پر سلامتی ہوپورے چھ برس بیت جائیں گے آپ کو گئے ہوئے۔ کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ وقت کتنی تیزی سے گزرتا ہے، نہیں گزرتا تو وہ وقت جو بہت مشکل ہوتا ہے۔ جن دنوں آپ زندگی اور موت سے جنگ لڑ رہے تھے وہ ایک دن چوبیس کے بجائے اڑتالیس گھنٹے کا لگتا تھا اور آج حساب لگا و تو برسوں گزر گئے۔ لیکن اتنے سالوں میں، مجھے ان سب پر غور کرنے کا موقع ملا جو میں نے آپ کی موجودگی میں نہیں کیا ہوگا، اور ویسے بھی غور تو ہم سب تب ہی کرتے ہیں جب کسی کو کھو دیں، کوئی ہمیں چھوڑ جائے یا ہم کسی کو چھوڑ دیں۔ کس نے کیا کہا تھا؟ کہاں زیادتی کی تھی؟ کہاں اچھا کیا تھا کہاں ساتھ نبھایا تھا؟ کس نے کب چھوڑا تھا کس نے دکھ بانٹا تھا یہ سب ہم روز ہی تو یاد کرتے ہیں پر ہمارے لیے ہمارے باپ نے کب کب، کیاکیا؟ ذرا مشکل سے نظر آتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم سب اپنی ماؤں سے کافی قریب ہوتے ہیں وہ ہمارا خیال رکھتی ہے باپ کے غصے، مار، ڈانٹ سے بچاتی ہے اور اکثر یہ بتاتی رہتی ہے کہ باز آجاؤ ابھی تمہارے باپ کو نہیں معلوم کہ تم نے کیا کیا تھا۔ ذرا ہوشیار رہو تمہارے ابو کو پتہ چلا تو پھر دیکھنا کیا ہوتا ہے اور موقع ملے تو ماں کہیں نہ کہیں یہ بھی بتا دیتی ہے کہ احساس کرو ماں کتنی تکلیفیں اٹھا کر اولاد کو پالتی ہے اپنی راتیں جاگ کر تمہارے آرام کے لئے قربان کرتی ہے، تمہارے کھانے پینے، پہناوے سے لے کر تمہاری ہر ضرورت کا خیال رکھتی ہے اور ایک تم ہو جسے خیال ہی نہیں۔

Read more

باپ اور نانا کی ٹھکرائی بچی کو سمندر میں گھر ملا

میں ایک ایسے خاندان کو بہت قریب سے جانتی ہوں جس کا سربراہ شیزو فرینیا کا مریض تب سے تھا جب اس کی پہلی شادی ناکام ہوئی۔ لیکن ماں اور بہنوں نے اس کا علاج کروانے کے بجائے پہلی شادی کی ناکامی کے بعد سات سے آٹھ کا سال کا وقفہ لیا اور پھر اس کی دوسری شادی یہ سوچ کردی کہ اب نئی آنے والی بہو چٹکی بجاتے ہی اس شخص کو ٹھیک کردے گی جو روز بروز نفسیاتی بیماری کا شکار ہوکر ایک خول میں بند ہوچکا تھا۔ نیا گھر بس گیا اور پھر چار بچے بھی ہوگئے جو یہ سنتے سنتے بڑے ہوئے کہ یہ تو میری اولاد ہی نہیں۔

ان بچوں کے منہ میں اپنے باپ کے کمائے ہوئے ایک روپے کا نوالہ اس لئے نہ جاسکا کہ ان کا باپ مرض کی شدت کے سبب کمانے کے قابل نہ تھا اور نہ ہی ان کا ددھیال یہ ما ننے کو تیار تھا کہ ان کا باپ ایک ذہنی مریض ہے۔ وہ ہمیشہ جھوٹی تسلیاں اور جھوٹے نوالے نگلتے رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی ماں نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک کم پڑھی لکھی عورت ہے تو سلائیاں کر کے اپنا گزارہ کرے لیکن روز کی مار پیٹ اور بدکرداری کے الزام سہنے کی عادت شاید اس عورت کو اس لیے تھی کہ اس کا میکہ اتنا مضبوط نہ تھا جو اس کا چار بچوں سمیت بوجھ اٹھاتا۔ لیکن ایک روز بچوں نے خود سنا کہ ان کے باپ نے ان کی ماں کو رات میں طلاق دی جو نہ جانے کتنے برسوں سے دی جاتی تھی اور پھر کہا جاتا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا اس واقعے نے ان بچوں کو وہ فیصلہ لینے پر مجبور کیا جو ان کی ماں کبھی نہ لے سکی۔

Read more

مرگ کے کھانے میں بوٹیاں ڈھونڈتے لوگ

ہم بہت ظالم لوگ ہیں۔ کسی کی خوشی میں ہم سج سنور کر نہیں جارہے ہوتے بلکہ حسد کا لبادہ اوڑھ کر کینہ پرور مسکراہٹ سجائے لوگوں کی خوشی میں شریک ہوتے ہیں ۔جب تک اس تقریب میں رہیں ہم کڑھتے رہتے ہیں کوئی نہ کوئی خامی تلاش کرتے رہتے ہیں اور پھر ہم اس میں کا میاب ہو کر ہی گھر کو لو ٹتے ہیں۔ یہی حال غموں میں ہوتا ہے وہاں ہم شریک تو ہوتے ہیں لیکن احسان

Read more

عالمی دن کے بغیر جینے والے مردوں کے نام۔۔۔

شہر بھر میں ترقیاتی کاموں کے نام پر جب کھدائی شروع ہوئی تو ہر سڑک ہی جیسے پل صراط بن گئی، اونچے نیچے راستوں سے بچنے کے لئے وین ڈرائیور نے پاک کالونی اور سائٹ ایریا کا راستہ چناتو طویل سفر کے باعث شام کو تمام لڑکیاں تھک کر وین میں سو گئیں ۔نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی میں اپنے فون سے اکتانے کے بعد کھڑکی سے باہر بے ہنگم ٹریفک کا جائزہ لینے لگی، سفر میں وقت بھی

Read more

کنیز کا بیٹا، شہزادہ نہیں بن سکتا

بستر مرگ پر روز موت کے فرشتے کو ”کچھ اور مہلت دے دو“ کی منت سماجت جاری تھی۔ لیکن فرشتہ آتا سنتا اور مسکرا کر چلا جاتا۔ کرب و اذیت سرطان جیسے موذی مرض کا نہیں ان کیے دھروں کا تھا جو طاقت کے نشے میں کرنا معمول بن چکا تھا۔ لیکن اب وقت کسی ریت کی مانند مٹھی سے پھسلے جارہا تھا۔ گھٹن بڑھ رہی تھی اور رات کی تاریکی بھی کہ ایک رات جب سب سورہے تھے اور تارے جاگ رہے تھے، ایک سرگوشی سنائی دی۔ سنو! تمہیں ابو نے بلایا ہے، آواز میں اداسی بھی تھی اور دھیما سا خوف بھی لیکن اس کی آنکھ ایسے کھلی جیسے اسے اسی بلاوے کا انتظار تھا۔ وہ خاموشی سے اٹھی او ر د وسرے کمرے کی جانب چل دی جہاں اس کا باپ نہ صرف جاگ رہا تھا بلکہ بے چینی سے اسی کا منتظر تھا یہ بوڑھی آنکھیں بتارہی تھیں۔

Read more

اپنے بچوں کو نہ سمجھا تو آپ انہیں کھو دیں گے

پر تکلف عشائیے کے بعد چائے کا انتظار کرنے کے لئے ہم نے لاونج میں بیٹھنے کو ترجیح دی، مسز حارث چائے بنانے کچن چلی گئیں باقی تمام لوگ باتوں میں مصروف ہوگئے۔ دیوار پر لگی ایک پینٹنگ پر میری نگاہ پڑی جو ٹوٹے ہوئے کانچ سے بنائی گئی تھی اور بعد میں اس پر لاتعداد رنگ بھر دیے گئے تھے، میں نے کافی سمجھنے کی کوشش کی کہ پینٹنگ ہے کیا لیکن سمجھ نہ سکی البتہ پینٹنگ تھی اتنی

Read more

چشم دید گواہی: ’پاکستان کوارٹرز‘ والوں کے ساتھ کل کیا ہوا؟

یہ طے ہوچکا ہے کہ نئے پاکستان کے پچاس لاکھ گھر آشیانہ اسکیم کی طرح نہیں ہوں گے۔ ان کے معاملات شفاف ہوں گے اور یہ گھر نہ صرف اسی حکومت کے دوران نہ صرف بن جائیں گے بلکہ ان کے مکین اس گھر کی دوسری سالگرہ بھی دھوم دھام سے منانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اس روز خوشی میں پٹاخے چلانے کا انتظام فواد چوہدری، علی امین گنڈاپور عرف شہد والے کے ذمے لگائیں گے۔ یہ بھی سچ ہے

Read more

عورت بکے تو طوائف، مرد بکے تو دولہا

آج کی عورت باہمت بھی ہے اور کسی حد تک با اختیار بھی لیکن اگر کوئی عورت مضبوط نظر آرہی ہے تو اس کے پیچھے ضرور کوئی ایسی وجہ ہے جس نے اس میں یا تو حوصلہ پیدا کیا ہے یا کمزور سے طاقتور بنایا ہے۔ لیکن وہ کیا ہے ناں ہم دنیا والے ظاہر کو دیکھتے ہیں، رائے دیتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔ خاص کر اس معاشرے میں اگر کوئی جی دار عورت دکھائی دے تو اس

Read more

کہانی سماجی ’دیو‘ اور باغی شہزادیوں کی ۔۔۔

یہ سب یہاں نہیں چلے گا، جب اپنے گھر جاؤ تو سارے شوق پورے کرلینا، دوسری ڈگری؟ کیا دماغ ٹھکانے پر ہے لوگ پھر باتیں کریں گے کہ اچھی خاصی عمر ہے ان کی بیٹی کی، کوئی اچھا رشتہ بھی نہیں آئے گا۔ ایم فل، پی ایچ ڈی کرنی ہے تو شادی کے بعد شوہر کی اجازت سے کرلینا۔ نوکری؟ کوئی ضرورت نہیں تم کیا چاہتی ہو تمہارا باپ اور ماں اس عمر میں لوگوں سے طعنے سنیں کہ بیٹی

Read more

 بول نیوز… جس نے کر دیا سب کا لائف اسٹائل تبدیل

اگست 2015 میں بول کی عظیم الشان عمارت کے گراونڈ فلور پر جہاں کراچی بیورو ہوا کرتا تھا وہاں اس ادارے کے کرتا دھرتاؤں نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ پورا ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ان میں وہ لوگ بھی تھے جو مئی سے تنخواہوں کا انتظار کر رہے تھے۔ ان میں وہ بھی تھے جو دو ہفتہ قبل اپنے پرانے اداروں کی جانب سے نوکری کی آخری آفر کو ان کرتا دھرتاوں کے یہ کہنے پر ٹھکرا

Read more

نانو، یہ ہجرت کیا ہوتی ہے؟

”عید کا دن تھا جب ہم نے ہجرت کی تھی“، نانی نے سیاہ چادر تانے آسمان پر ہیروں کی طرح دمکتے ستاروں کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ یہ مئی 1992 کے ایک گرم دن کے بعد کی تاریک لیکن ٹھنڈی رات تھی۔ کراچی میں موسم رات کو بدل سا جاتا ہے۔ دن میں جہاں قہر برسے، رات سکون کی ہوتی ہے۔ ان دنوں کراچی کے حالات بدترین تھے اور نانی ہمارے گھر رہنے آئی ہوئی تھیں۔ مضبوط لکڑی

Read more

ڈاکٹر روتھ فاؤ۔۔۔ جسے نہ جزا کی پرواہ ، نہ جنت کا لالچ

پیر علی شاہ کا تعلق سوات سے ہے 1965 میں وہ اپنے مرض کے علاج کے لئے کراچی پہنچے تو ان کی ملاقات پاکستانی مدر ٹریسا ڈاکٹر روتھ فاؤ سے ہوگئی۔ شفاء تو مل گئی لیکن پیر روتھ کے مرید بن گئے۔ پیری مریدی کا سفر 1965 سے شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔ اسپتال سے متصل روتھ کا دو کمروں کا چھوٹا سا فلیٹ جو اب بعد از وفات میوزیم میں تبدیل ہوچکا ہے پیر علی شاہ ہی

Read more

آ جا چھوری۔۔۔ میدان حاضر ہے

ہم ہمیشہ ہی دوسروں کی خوشی میں ناچتے آئے ہیں۔ ہمیں خوشی مناتا دیکھ کر بہت سے چہروں پر مسکراہٹ بکھر جاتی ہے کیونکہ ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ جیسے مردہ جسم میں بھی جان پڑ گئی ہو۔ لیکن پہلی بار ایسا ہوا جب شیدی اپنے لئے ناچے اور وہ موقع تب آیا جب میں خواتین کی مخصوص نشست کے لئے منتخب ہوئی۔ یہ الفاظ ہیں بدین کے شہر ماتلی کی رہنے والی تنزیلہ قمبرانی کے جو پیپلز پارٹی

Read more

آپ کے بچے کا وین ڈرائیور کون ہے؟ جاننے کی کوشش کیجئے

اسکول کھل چکے اب کسی حد تک ماﺅں کو بھی سکون آئے گا کہ بچوں کی روٹین پہلے کی طرح ہوجائے گی۔ دو ماہ بچوں کا ہلا گلہ بھرپور رہا اور ماوں کو بھی سونے کا کسی حد موقع ملا ۔ لیکن اب وہی صبح بھاگ دوڑ، لنچ بکس، بیگ میں سامان پورا ہے کہ نہیں کی فکر اور پھر بھاگتے دوڑتے کوئی اپنے لاڈلوں تو کوئی اپنی شہزادی کو اسکول کی وین میں بٹھانے کے بعد شکر ادا کرے

Read more

فارم 45، سجناں نے بوئے اتھے چک تان لئے۔ ۔ ۔

الیکشن کے نتائج پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ نئے پاکستان کو ابھی سے نئی محاذ آرائی کا سامنا شروح ہوگیا ہے۔ اگر کراچی کی بات کی جائے تو یہاں کے نتائج حیران کن نہیں مشکوک ترین ہی ہوگئے ہیں۔ فارم 45 نہ ملے تو شاید ایسے ہی نتائج آتے ہیں جس میں ہارنے والے سے زیادہ جیتنے والا شرمندہ دکھائی دیتا ہے۔ ان سب حالات میں سوال الیکشن کمیشن کی ساکھ پر اٹھ رہا ہے اور

Read more

ہیرو کی موت، نئے پاکستان میں جانے سے انکار

نئے پاکستان میں داخل ہونے میں چند گھنٹے باقی ہیں اور اس ’ہیرو‘ نے ایسے وقت میں مر کر یہ بتانے کی ناکام کوشش کی کہ انتخابات میں صرف دہشت گر دی سے مرنے والے امیدواروں کا لہو شامل نہیں۔ میری ٹوٹی پسلیوں اور ہڈیوں، زخموں سے رستا خون، دن رات کی اذیت بھی شامل ہوگی۔ اس ہیرو کو کسی خود کش بمبار نے نہیں مارا اسے اس نفرت اور اندر پلنے والی عداوت نے مارا ہے جو ہمارے نوجوانوں

Read more

الیکشن کا دن۔۔۔غصہ اور بھڑاس نکالنے کا سنہری موقع

پانی نہیں ہے نلکے میں، نظر نہ آنا حلقے میں، ایف سی ایریا میں غصے سے بھری خواتین کا یہ احتجاجی نعرہ تھا۔ ”اس با ر تھوڑی مشکل ہوگی تمہیں، ہمیں اب منانے میں، اپنا آپ بچانے میں۔ “ یہ کہنا ہے کراچی کے علاقے موسی کالونی کی رہائشی بائیس سالہ سعدیہ کا جن کے والدین اور دادی پچھلے چالیس برسوں سے ایک تنگ سی گلی میں چھوٹے سے گھر میں رہ رہے ہیں۔ جہاں ہوا کا گزر کیا ہو

Read more

یہ ”عسکری جھولے“ نہیں آسان اتنا ہی سمجھ لیجے

عسکری پارک میں جھولا گرنے کا واقعہ کافی افسوسناک ہے کیونکہ اس شہر میں بحیثیت رپورٹر میں نے تو کوئی ایسی تفریح گاہ نہیں دیکھی جہاں عوام جائیں اور خوشی سے واپس گھر کو لوٹیں۔ کبھی جو گلی محلے یا علاقے کے اچھے پارک ہوا کرتے تھے ان پر چند سال قبل سیاسی جماعتوں نے اپنے ابا کی جاگیر جیسا حق جتایا اور پھر اس پر شہداء کا نام استعمال کر کے پلازے کھڑے کر دیے جو پارک قبضوں سے

Read more

کیا باپ دوست نہیں بن سکتا؟

اسماء آج بہت اداس ہیں، شوہر کے مرنے کے بعد انھوں نے بہت حوصلے سے سخت حالات کا مقابلہ کیا لیکن ہمت نہ ہاری۔ لیکن بالآخر آج حوصلہ کر کے اپنے مرحوم شوہر کی الماری سے سارے کپڑے نکال کر ایک شیلٹر ہوم بھیج دئیے۔ کچھ کپڑے اس لئے رکھ چھوڑے کہ انھیں اپنی بیٹی کے بنا سسکی لئے گرم گرم آنسو رخساروں سے پھسلتے دکھائی دئیے تھے۔ جس پر اپنی بیٹی کی ہمت بڑھاتے ہوئے پوچھا بتاو ابو کے

Read more

نسٹ کے طالب علم محمد مرسلین کا معافی نامہ اور میرا ذاتی تجربہ

” جو بھی عورت گھر سے باہر نوکری کے لئے قدم رکھتی ہے اسے مرد کی ہر بات سننا ہوگی کیو نکہ اس نے اپنے لئے ذلت کا راستہ خود چنا ہے ویسے بھی دفتر اور وہ بھی میڈیا میں کام کرنے والی لڑکیاں کون سی پارسا ہوتی ہیں”۔ یہ ایک جملہ نہیں ہے بلکہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں مرد بنا کر انھیں اس لئے بھیجا گیا کہ وہ ہر عورت

Read more

چلو بھر پانی نہیں۔۔۔ ڈوب مرنے کے لئے سمندر بھی کم ہے

 بلوچستان میں موجود ” سپٹ کا ساحل” اب بھی لوگوں کی پہنچ سے دور ہے۔ لیکن یہاں ابن آدم کی مہربانیاں ظاہر ہونا شروع ہوگئیں ہیں۔ یہی حال جیوانی کے ساحل کا ہے جہاں پلاسٹک سے بنی اشیاءجن میں پلیٹیں، بوتلیں، جوس کے ڈبے اور کھانے پینے کی اشیاءکے ریپرز شامل ہیں ساحل کے حسن کو گہن لگارہے ہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ٹیکنکل ایڈوائزر معظم خان کے مطابق ایک جانب جہاں سمندر میں غیر قانونی اور ضرورت سے زیادہ

Read more

میرے بچپن کی یادوں کے قاتل سنو

کراچی شہر اب وہ رہا ہی نہیں جو آج سے بیس برس قبل تھا، جہاں ٹھنڈی ہوا کے لئے ساحل نہیں گلی محلے کے کسی بھی پارک میں بیٹھ کر بھری دوپہر ہو یا پھر رات، جھولوں پر کھیلتے بچے ہواوں سے ہلتے بلکہ جھومتے ناچتے درختوں کو دیکھ کر آپس میں کہا کرتے تھے کہ دیکھو دیکھو یہ درخت کتنا ہل رہا ہے اس پر کسی بھوت یا آسیب کا سایہ ہے۔ پھر وہ پارک شہر میں خون کی

Read more

کچرے میں رزق تلاش کرتے سونے جیسے ہاتھ

”میں امیر ہونا نہیں چاہتا، امیر ہوجاؤ تو لوگ تنگ کرتے ہیں طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں، چھیڑتے ہیں کہ یہ کیسے امیر ہوگیا؟ اتنا پیسہ کہاں سے آگیا اس کے پاس؟ میں یہی خوش ہوں اورساری زندگی یہی گزارنا چاہتا ہوں۔“ زندگی کا سادہ لیکن پختہ فلسفہ بیان کرنے والا دس سالہ صبیح، جام چھاکرو میں رہتا ہے اور روزانہ کئی گھنٹے کوڑے کے ڈھیر سے کام کی چیزین چن کر بیچتا ہے۔ کراچی کے مضافات میں جام

Read more

وہ مائیں جو باپ بھی ہیں

حسن صاحب نے چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے بات شروع کی۔ میں شہر سے ایک ہفتہ باہر چلا جاوں تو میری بیوی کا رویہ فون پر ہی چڑچڑا محسوس ہونے لگتا ہے، بے وجہ الجھنا، لڑائی کا کوئی بہانہ ڈھونڈ لینا کچھ نہ ملے تو یہ کہہ دینا کہ آپ اچھے ہیں جو دوسرے شہر جاکر بیٹھ گئے یہاں میں ہلکان ہوچکی ہوں ہزاروں جھمیلوں میں، ان باتوں پر کبھی میں بھی آواز اونچی کرلیتا ہوں تو کبھی خاموش ہوجاتا

Read more

مزدور ہوں میں، مجھے تنخواہ دو

انسان کو اشرف المخلوق کا درجہ خدا نے دیا لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ زمینی خداوں نے انسان کو اس منصب سے محروم کر کے ایک کام کرنے والا جانور بنا ڈالا، جانور بھی وہ جو صرف اپنے اوپر بوجھ لادے جاتا ہے۔ لیکن اسے شکوہ کرنے کی اجازت نہیں، وقت پر چارہ نہ ملے تو زیادہ سے زیادہ احتجاجاً وہ ڈھینچوں ڈھینچوں کی آواز نکالے گا اور مالک کی چابک ایسی پڑے گی کہ وہ آواز ایک

Read more

یہ لو بیٹا موبائل، جاؤ اب گیمز کھیلو

سالار کی عمر ابھی تین برس ہے لیکن دوسرے بچوں کے مقابلے میں وہ قدرے ذہین ہے۔ اپنی من پسند چیز کیسے حاصل کرنی ہے یہ وہ خوب جانتا ہے ان دنوں اس کی سوئی دادی کے موبائل پر اٹکی رہتی ہے جسے حاصل کرنے کے لئے وہ دادی کو مکھن لگانے کے بعد اس پر گیمز کھیلتا ہے جب بیٹری ختم ہوجائے تو اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اسے چارج کرنا ہے اور جب تک یہ عمل جاری

Read more

عورت کا مرد سے بدلہ ۔۔۔ ایک صبر آزما انتظار

 ہمارے ایک بہت پرانے پڑوسی جو اپنی سخت طبیعت کی وجہ سے خاصے مشہور تھے برسوں پہلے یہ محلہ چھوڑ کر کسی اور علاقے میں جا بسے ۔ دو برس قبل جب انکے انتقال کی خبر پہنچی تو ہم پر تعزیت کرنا فرض بن گیا۔ سو جنھوں نے اطلاح دی ان سے نمبر مانگا اور کال ملادی۔ کال ملاتے وقت ذہن تعزیت کے لئے الفاظ اکٹھے کرنے میں مصروف تھا کہ ایک انجان آواز سے تعارف ہوا معلوم ہوا کہ

Read more

یہ آوارہ، بدچلن اور باغی عورتیں

بھلا ایک گانے بجانے والی کے مرنے پر کوئی سوگ منایا جاتا ہے؟ کیا دکان بند کردی جائے؟ وہ تھی ہی کون؟ ایک گانے والی میراثن کہیں کی۔ لو بھلا یہ تو ہونا ہی تھا خوشی کے موقعوں پر مجرے رچائے جاتے ہیں، محفلیں سجائی جاتی ہیں اب ان میں دل بہلانے کو نیک اور پاکباز عورتیں تو نہیں بلائی جاتی ناں ایسی ناچنے گانے والی ہی بلائی جاتی ہیں۔ کیا انھیں نہیں معلوم ہوتا کہ یہ جہاں محفل کی

Read more

لڑکی، ڈگری، شادی اور طعنے

آپ کی بیٹی نوکری کرتی ہے؟ کیا نوکری ہے اس کی؟ گھر کب آتی ہے؟ دیر تو ہوجایا کرتی ہوگی؟ گھر کیسے آتی جاتی ہے؟ تنخواہ کتنی ہے؟ آپ کو تو بڑی آسانی ہوگی اس کی نوکری سے، آخر کو گھر جو چل رہا ہے۔ یہ وہ تمام جملے ہیں جو کوئی بھی، کسی بھی گھر کے مکینوں کو کہہ کر وہ آگ لگا سکتا ہے جو اس وقت فیس بک کی جانب سے لوگوں کے ڈیٹا کو عام کرنے

Read more