باپ اور نانا کی ٹھکرائی بچی کو سمندر میں گھر ملا

میں ایک ایسے خاندان کو بہت قریب سے جانتی ہوں جس کا سربراہ شیزو فرینیا کا مریض تب سے تھا جب اس کی پہلی شادی ناکام ہوئی۔ لیکن ماں اور بہنوں نے اس کا علاج کروانے کے بجائے پہلی شادی کی ناکامی کے بعد سات سے آٹھ کا سال کا وقفہ لیا اور پھر اس کی دوسری شادی یہ سوچ کردی کہ اب نئی آنے والی بہو چٹکی بجاتے ہی اس شخص کو ٹھیک کردے گی جو روز بروز نفسیاتی بیماری کا شکار ہوکر ایک خول میں بند ہوچکا تھا۔ نیا گھر بس گیا اور پھر چار بچے بھی ہوگئے جو یہ سنتے سنتے بڑے ہوئے کہ یہ تو میری اولاد ہی نہیں۔

ان بچوں کے منہ میں اپنے باپ کے کمائے ہوئے ایک روپے کا نوالہ اس لئے نہ جاسکا کہ ان کا باپ مرض کی شدت کے سبب کمانے کے قابل نہ تھا اور نہ ہی ان کا ددھیال یہ ما ننے کو تیار تھا کہ ان کا باپ ایک ذہنی مریض ہے۔ وہ ہمیشہ جھوٹی تسلیاں اور جھوٹے نوالے نگلتے رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی ماں نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک کم پڑھی لکھی عورت ہے تو سلائیاں کر کے اپنا گزارہ کرے لیکن روز کی مار پیٹ اور بدکرداری کے الزام سہنے کی عادت شاید اس عورت کو اس لیے تھی کہ اس کا میکہ اتنا مضبوط نہ تھا جو اس کا چار بچوں سمیت بوجھ اٹھاتا۔ لیکن ایک روز بچوں نے خود سنا کہ ان کے باپ نے ان کی ماں کو رات میں طلاق دی جو نہ جانے کتنے برسوں سے دی جاتی تھی اور پھر کہا جاتا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا اس واقعے نے ان بچوں کو وہ فیصلہ لینے پر مجبور کیا جو ان کی ماں کبھی نہ لے سکی۔

Read more

مرگ کے کھانے میں بوٹیاں ڈھونڈتے لوگ

ہم بہت ظالم لوگ ہیں۔ کسی کی خوشی میں ہم سج سنور کر نہیں جارہے ہوتے بلکہ حسد کا لبادہ اوڑھ کر کینہ پرور مسکراہٹ سجائے لوگوں کی خوشی میں شریک ہوتے ہیں ۔جب تک اس تقریب میں رہیں ہم کڑھتے رہتے ہیں کوئی نہ کوئی خامی تلاش کرتے رہتے ہیں اور پھر ہم اس…

Read more

عالمی دن کے بغیر جینے والے مردوں کے نام۔۔۔

شہر بھر میں ترقیاتی کاموں کے نام پر جب کھدائی شروع ہوئی تو ہر سڑک ہی جیسے پل صراط بن گئی، اونچے نیچے راستوں سے بچنے کے لئے وین ڈرائیور نے پاک کالونی اور سائٹ ایریا کا راستہ چناتو طویل سفر کے باعث شام کو تمام لڑکیاں تھک کر وین میں سو گئیں ۔نیند آنکھوں…

Read more

کنیز کا بیٹا، شہزادہ نہیں بن سکتا

بستر مرگ پر روز موت کے فرشتے کو ”کچھ اور مہلت دے دو“ کی منت سماجت جاری تھی۔ لیکن فرشتہ آتا سنتا اور مسکرا کر چلا جاتا۔ کرب و اذیت سرطان جیسے موذی مرض کا نہیں ان کیے دھروں کا تھا جو طاقت کے نشے میں کرنا معمول بن چکا تھا۔ لیکن اب وقت کسی ریت کی مانند مٹھی سے پھسلے جارہا تھا۔ گھٹن بڑھ رہی تھی اور رات کی تاریکی بھی کہ ایک رات جب سب سورہے تھے اور تارے جاگ رہے تھے، ایک سرگوشی سنائی دی۔ سنو! تمہیں ابو نے بلایا ہے، آواز میں اداسی بھی تھی اور دھیما سا خوف بھی لیکن اس کی آنکھ ایسے کھلی جیسے اسے اسی بلاوے کا انتظار تھا۔ وہ خاموشی سے اٹھی او ر د وسرے کمرے کی جانب چل دی جہاں اس کا باپ نہ صرف جاگ رہا تھا بلکہ بے چینی سے اسی کا منتظر تھا یہ بوڑھی آنکھیں بتارہی تھیں۔

Read more

اپنے بچوں کو نہ سمجھا تو آپ انہیں کھو دیں گے

پر تکلف عشائیے کے بعد چائے کا انتظار کرنے کے لئے ہم نے لاونج میں بیٹھنے کو ترجیح دی، مسز حارث چائے بنانے کچن چلی گئیں باقی تمام لوگ باتوں میں مصروف ہوگئے۔ دیوار پر لگی ایک پینٹنگ پر میری نگاہ پڑی جو ٹوٹے ہوئے کانچ سے بنائی گئی تھی اور بعد میں اس پر…

Read more

چشم دید گواہی: ’پاکستان کوارٹرز‘ والوں کے ساتھ کل کیا ہوا؟

یہ طے ہوچکا ہے کہ نئے پاکستان کے پچاس لاکھ گھر آشیانہ اسکیم کی طرح نہیں ہوں گے۔ ان کے معاملات شفاف ہوں گے اور یہ گھر نہ صرف اسی حکومت کے دوران نہ صرف بن جائیں گے بلکہ ان کے مکین اس گھر کی دوسری سالگرہ بھی دھوم دھام سے منانے میں کامیاب ہوجائیں…

Read more

عورت بکے تو طوائف، مرد بکے تو دولہا

آج کی عورت باہمت بھی ہے اور کسی حد تک با اختیار بھی لیکن اگر کوئی عورت مضبوط نظر آرہی ہے تو اس کے پیچھے ضرور کوئی ایسی وجہ ہے جس نے اس میں یا تو حوصلہ پیدا کیا ہے یا کمزور سے طاقتور بنایا ہے۔ لیکن وہ کیا ہے ناں ہم دنیا والے ظاہر…

Read more

کہانی سماجی ’دیو‘ اور باغی شہزادیوں کی ۔۔۔

یہ سب یہاں نہیں چلے گا، جب اپنے گھر جاؤ تو سارے شوق پورے کرلینا، دوسری ڈگری؟ کیا دماغ ٹھکانے پر ہے لوگ پھر باتیں کریں گے کہ اچھی خاصی عمر ہے ان کی بیٹی کی، کوئی اچھا رشتہ بھی نہیں آئے گا۔ ایم فل، پی ایچ ڈی کرنی ہے تو شادی کے بعد شوہر…

Read more

 بول نیوز… جس نے کر دیا سب کا لائف اسٹائل تبدیل

اگست 2015 میں بول کی عظیم الشان عمارت کے گراونڈ فلور پر جہاں کراچی بیورو ہوا کرتا تھا وہاں اس ادارے کے کرتا دھرتاؤں نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ پورا ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ان میں وہ لوگ بھی تھے جو مئی سے تنخواہوں کا انتظار کر رہے تھے۔ ان میں وہ…

Read more

نانو، یہ ہجرت کیا ہوتی ہے؟

”عید کا دن تھا جب ہم نے ہجرت کی تھی“، نانی نے سیاہ چادر تانے آسمان پر ہیروں کی طرح دمکتے ستاروں کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ یہ مئی 1992 کے ایک گرم دن کے بعد کی تاریک لیکن ٹھنڈی رات تھی۔ کراچی میں موسم رات کو بدل سا جاتا ہے۔ دن میں…

Read more