فریادی کی بحث نورا کشتی ہے یا کچھ اور؟
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ دو گھنٹے طویل ملاقات کے بعد مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ ایک طرف وہ مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران سینئر وکیلوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے یقین دہانی کروارہے ہیں کہ وزیر اعظم سے ان کی ملاقات کا صرف عدلیہ کو فائدہ ہؤا ہے کیوں کہ حکومت نے عدالتی معاملات میں سہولت فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ایک مقدمہ کی سماعت پر سینئر وکیل اور پیپلز پارٹی کے رہنما سردار لطیف کھوسہ کے استفسار پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ان پر اعتبار کیا جائے، عدالت نے اس ملاقات سے کچھ نہیں کھویا بلکہ فائدہ ہی ہؤا ہے۔ انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لوگ فریاد لے کر سپریم کورٹ آتے ہیں اور عدالت سب کی درخواستیں سنتی ہے۔ اس مکالمہ کے تناظر میں ہونے والی رپورٹنگ میں بتایا گیا کہ چیف جسٹس نے وزیر اعظم کو فریادی قرار دیا تھا۔ یہ ملاقات اور چیف جسٹس کی وضاحت اس وقت قومی سطح پر بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔
اب چیف جسٹس نے اپنے ترجمان کے ذریعے اس بات کی تردید کی ہے اور اس رپورٹنگ کو گمراہ کن اور غلط قرار دیا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم کو فریادی نہیں کہا بلکہ وہ حکومت کے سربراہ کے طور پر ان کا احترام کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے سربراہ اب اس بات سے بھی انکار کررہے ہیں کہ فریاد لے کر آنے والوں کے حوالے سے ان کی گفتگو وزیر اعظم سے ان کی ملاقات کے بارے میں تھی۔ لیکن چیف جسٹس کی ان وضاحتوں کے باوجود رائے عامہ میں چیف جسٹس اور سردار لطیف کھوسہ کے درمیان ہونے والے مکالمہ کو سیاسی وابستگی اور پسند ناپسند کی بنیاد پر ہی دیکھا جائے گا۔ ان سطور میں اس بات کی نشاندہی کی جاتی رہی ہے کہ سپریم کورٹ کے جج جب سیاسی معاملات میں قانون کے دائرہ سے نکل کر مداخلت کریں گے اور فیصلوں کی بجائے بیانات کے زور پر خبروں میں رہنا چاہیں گے تو اس قسم کی افسوسناک صورت حال پیدا ہونا لازمی ہے۔
چیف جسٹس نے آج ہی ایک دوسرے مقدمہ کی سماعت کے دوران تحریک انصاف کے لیڈر اور سینئر وکیل نعیم بخاری سے ڈائیلاگ کرتے ہوئے آئین کی کتاب ہاتھ میں پکڑ کر اعلان کیا کہ آئین پر پوری طرح عمل کیا جائے گا اور عدالت بھی اسی کتاب میں درج حروف کے مطابق ہی اپنے اختیارات استعمال کرے گی۔ چیف جسٹس کی باتوں اور یقین دہانیوں پر شبہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے لیکن انہیں خود اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ انہوں نے گزشتہ چند ماہ کے دوران جو متحرک کردار ادا کرنا شروع کیا ہے، وہ کس حد تک سپریم کورٹ کے وقار میں اضافہ کرنے کا سبب بنا ہے۔ چیف جسٹس نے مفاد عامہ کے مختلف معاملات میں سو موٹو ایکشن لے کر اور سماعت کے دوران ریمارکس کے ذریعے یا تقریروں میں واشگاف الفاظ میں یہ کہا ہے کہ کہ اگر حکومت اور اس کے ادارے کام نہیں کریں گے تو کسی کو تو عوام کی ضرورتوں کا خیال رکھنا ہے۔ حکومت کی ناکامی پر سپریم کورٹ اقدام کرے گی اور عوام کو سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائے گی۔ اس حکمت عملی کا نتیجہ ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی صلاحیتیں اب اپنے اقدامات اور اعلانات کی وضاحتیں دینے میں صرف ہو رہی ہیں۔ جسٹس ثاقب نثار کو آئین کا از سر نو مطالعہ کرتے ہوئے یہ بھی دیکھ لینا چاہئے کہ کیا آئین کی اس کتاب میں چیف جسٹس کے لئے ایسا کوئی کردار تجویز کیا گیا ہے کہ وہ از خود نوٹس کی ایک شق کو انتظامی امور میں مداخلت کے لئے بے دریغ استعمال کرے اور پھر ان اقدامات کی وضاحتیں دینے پر اپنا وقت اور صلاحیت صرف کرے۔
وزیر اعظم کے لئے فریادی کا لفظ استعمال کرنے یا نہ کرنے کی بحث میں مسلم لیگ (ن) کے رہبر اعلیٰ نواز شریف نے بھی تبصرہ کرکے حساب برابر کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے۔ آج نیب میں مقدمہ کی سماعت کے موقع پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کو اوّل تو وزیر اعظم کے لئے فریادی جیسا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہئے تھا لیکن اگر انہوں نے یہ کہا تھا تو انہیں اسے واپس نہیں لینا چاہئے تھا۔ اس تبصرہ سے صرف ایک بات ہی اخذ کی جاسکتی ہے کہ اس وقت ملک میں سب سے اہم سیاسی لیڈر کے عہدے پر فائز ایک شخص ملک کے چیف جسٹس کو غلط بیانی کا مرتکب قرار دے رہا ہے۔ یعنی اس وضاحت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا جارہا ہے جو وزیر اعظم سے ملاقات کے بارے میں فریادی یا فریاد لانے کی اصطلاح کے براہ راست یا بالواسطہ استعمال کے بارے میں سپریم کورٹ سے جاری ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کی تردید کے مطابق یہ الفاظ وزیر اعظم کے لئے استعمال نہیں کئے گئے تھے۔ لیکن اس حوالے سے سامنے آنے والی صورت حال سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ عدالت اور حکومت کے تعلق کے درمیان واضح حد فاصل مقرر ہونی چاہئے۔ اسی طرح سپریم کورٹ بے شک سیاسی رہنماؤں کی بے اعتدالیوں کے معاملات پر غور کرے اور جج قانون کے مطابق فیصلے کریں لیکن انہیں ان مباحث کا حصہ بن کر خود کو متنازعہ نہیں بناناچاہئے۔ سپریم کورٹ کے دیگر سربراہوں کی طرح چیف جسٹس ثاقب نثار بھی سال بھر میں یہ پوزیشن اپنے جانشین کے حوالے کرکے ریٹائر ہو جائیں گے لیکن وہ جو بھی اچھی یا بری روایات قائم کریں گے، ان کا سایہ تا دیر سپریم کورٹ پر حاوی رہے گا۔
نواز شریف نے وزیر اعظم اور چیف جسٹس ملاقات کے حوالے سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ شاہد خاقان عباسی کو اس ملاقات کے بارے میں قوم کو اعتماد میں لینا چاہئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہیں پہلے سے اس ملاقات کا علم نہیں تھا اور نہ ہی اس بارے میں انہیں بتایا گیا تھا تاہم وہ وزیر اعظم سے ملنے پر اس بارے میں استفسار کریں گے۔ اس ملاقات پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی تبصرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ملاقات حکومت کی طرف سے نواز شریف کے لئے سہولت حاصل کرنے کی آخری کوشش تھی۔ حیرت کی بات ہے کہ اس اچانک اور غیر روایتی ملاقات کے حوالے سے نواز شریف تو وزیر اعظم کو وضاحت کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں لیکن اپوزیشن لیڈر اس پر تبصرے کرنے اور نواز شریف کو نشانہ بنانے کے باوجود قومی اسمبلی میں اس معاملہ پر وزیر اعظم سے جواب طلب کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ حالانکہ اپوزیشن کو اس معاملہ پر بیان بازی اور طعن وتشنیع کی بجائے پارلیمنٹ کے ذریعے جواب اور وضاحت طلب کرنا چاہئے تھی۔
اس عام تاثر کے برعکس کہ وزیر اعظم کسی مفاہمتی منصوبے کے تحت چیف جسٹس سے ملے تھے، نواز شریف کا اس ملاقات سے اظہار لا تعلقی اور یہ مطالبہ کہ شاہد خاقان عباسی اس معاملہ پر قوم کو اعتماد میں لیں ، کیا سیاسی نورا کشتی کا حصہ ہے یا اس کے کوئی دوسرے مقاصد ہیں۔ یا یہ ملاقات اور اس پر نواز شریف کا تبصرہ مسلم لیگ (ن) کی صفوں میں دراڑ پڑنے کا اشارہ ہے۔ یہ سوال آنے والے وقت میں مباحث کا موضوع بنے رہیں گے۔


