نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا کو رگید کے رکھ دیا


واجد ضیا

ضیاء سے جب موزیک فونسیکا کے دو خطوط سے متعلقہ دستاویزات سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ جے آئی ٹی نے وہ دستاویزات حاصل نہیں کیں مگریہ فرض کر لیا گیا کہ ان خطوط کے مندرجات درست ہیں مگر قطری خطوط کے بارے میں ایسا نہیں کیا گیا۔ ضیاء نے تصدیق کی کہ موزیک فونسیکا کے دو خطوط بی وی آئی کی ایف آئی اے سے تصدیق شدہ تھے مگر جے آئی ٹی نے لاء فرم سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور یہ کہ ان خطوط کے ساتھ متعلقہ دستاویزات تھیں مگر وہ بھی جے آئی ٹی نے حاصل نہیں کیں۔ حارث نے پھر پوچھا کہ کیا جے آئی ٹی نے لاء فرم کے خطوط کے آخر میں لکھے گئے ناموں والے لوگوں سے کوئی رابطہ کیا اور ان سے بیانات دینے کا کہا تو ضیاء نے اس کا جواب نفی میں دیا۔ ضیاء نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ جے آئی ٹی نے بی وی آئی کو بھی لاء فرم کے خطوط سے متعلقہ دستاویزات کے لئے استفسار نہیں کیا۔

قطری شہزادے کے لئے سوالنامہ نہیں اور جیریمی فریمین کے لئے سوالوں کی فہرست :۔

جمعرات کو واجد ضیاء نے عدالت کو بتایا کہ پولیس میں 29 سالہ سروس کے دوران انہوں نے کسی گواہ کو سوالنامہ نہیں بھیجا۔ انہوں نےکہا کہ جے آئی ٹی نے ہی قطری شہزادے کو سوا لنامے نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ اگلے ہی روز گواہوں کے اسی کٹہرے میں کھڑے ہو کر واجد ضیاء نے اسی عدالت کو بتایا کہ کوئیسٹ سالیسٹرز نے حسین نواز کی طرف سے پیش کئے گئے سمجھوتے کی تصدیق کے حوالے سے جیریمی فریمین کو سوالنامہ بھجوایا۔ انہوں نے کہا کہ فری مین کو سوالنامہ بھیجنے کا فیصلہ ان سمیت جے آئی ٹی نے متفقہ طور پر کیا۔ ضیاء نے عدالت کو مزید بتایا کہ فری مین سے جواب موصول ہونے کے بعد جے آئی ٹی نے اسےغیر اطمینان بخش قرار دیا مگر نہ تو فری مین سےدوبارہ رابطےکی کوئی کوشش کی گئی اور نہ ہی انہیں بیان قلمبند کر انے کا کہا گیا۔

گلف سٹیل کی فروخت کے سمجھوتے:۔

حارث نے عدالت کے روبرو ضیاء کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ 1978ء کے گلف سٹیل کی فروحت کے سمجھوتے کو تو درست تسلیم کر لیا گیا مگرانہوں نے کہا کہ 1980ء میں حصص کی مزید فروحت کے بارے میں شریفوں کی طرف سے پیش کیا گیا سمجھوتہ جعلی تھا۔ حارث نے انہیں کہا کہ وہ عدالت کے سامنے اس سمجھوتے کےمندرجات پڑھیں جن میں ضیاء نے اتفاق کیا کہ 1978ء کا سمجھوتہ دبئی کی عدالت میں رجسٹرڈ کیا گیا جبکہ 1980ء کے سمجھوتے میں کسی عدالت میں رجسٹریشن ظاہر نہیں کی گئی ۔ ضیاء نے کہا کہ بعد میں ہونے والا سمجھوتہ جعلی تصور کیا گیا کیونکہ دبئی کی عدالتوں سے اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا‘ اس پر حارث نے ان سے پوچھا کہ جب سمجھوتہ عدالت میں رجسٹریشن کا متقاضی نہیں تو اسکی رجسٹریشن کیسے ضروری ہو گئی؟ حارث نے جے آئی ٹی کے سربراہ سے پوچھا کہ کیا جے آئی ٹی نے اہلی خاندان سےرابطہ کیا جنہوں نے گلف سٹیل مل خریدی تھی؟ تو ان کا جواب نفی میں تھا۔

مشینری کی شارجہ سےجدہ منتقلی:۔

خواجہ حارث نے ضیاء سےسوال کیا کہ کیا انہیں معلوم ہے کہ سعودی عرب میں مل لگانے کیلئےمشینری شارجہ سے جدہ بھیجی گئی تھی‘ دبئی سے جدہ نہیں؟ ضیاء نے جواب دیا کہ ایک ایم ایل اے یو اے ای بھیجا گیا اور شارجہ یو اے ای کا حصہ تھا‘ اس پر حارث نے پوچھا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ جےآئی ٹی رپورٹ کے ساتھ لف لیٹر آف کریڈٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ پرانی ری رولنگ مل تھی سکریپ نہیں؟ ضیاء نے ایل سی پڑھنے کے بعد جواب اثبات میں دیا۔ پھر ضیاء نے حارث کےسوال کا یہ جواب دیا کہ 2001-2003ءمیں شارجہ سےجدہ پرانی ری رولنگ مل کی منتقلی کی تصدیق کے لئے یو اے ای حکام کے پاس جے آئی ٹی نے کوئی ایم ایل اے نہیں بھیجا تھا۔

العزیز یہ سٹیل مل کا قیام:۔ العزیزیہ سٹیل مل کے قیام کے بارے میں خواجہ حارث نے ضیاء سے سوال کیا کہ جے آئی ٹی کو یہ ثبوت ملا کہ یہ میاں شریف (مرحوم) نے قائم کی اور اسےتین لوگوں کو منتقل کیا گیا جس کا ضیاء نے اعتراف کیا۔ العزیزیہ سٹیل میاں شریف کی طرف سے لگائی گئی اور پھر حسین نواز‘ رابعہ شریف اورعباس شریف (مرحوم) کو منتقل کی گئی۔ جےآئی ٹی کو کوئی ثبوت نہیں ملا کہ مرحوم عباس شریف اور رابعہ شریف نے کبھی کاروبارمیں حصہ لیا یا العزیزیہ سٹیل سےکوئی فائدہ اٹھایا اور یہ کہ جے آئی ٹی نے رابعہ شریف یا عباس شریف کےورثاء میں سے کسی کو کوئی نوٹس نہیں دیا۔ ضیاء نے کہا کہ حسین نواز نے پہلے یہ کہا تھا کہ صرف وہی یہ کاروبار چلا رہے تھےاور بعد میں کہا کہ دو اور بھی حصص یافتگان تھے۔ خواجہ حارث یہ ثابت کر نے میں کامیاب رہے کہ جے آئی ٹی نواز شریف کےخاندان کے حوالےسےمتعصب تھی کیونکہ اس نے دوسرےحصص یافتگان سےتحقیقات نہیں کی اوراپنی توجہ صرف نواز شریف کے بیٹے تک محدود رکھی۔

بشکریہ: روزنامہ جنگ

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2