منظور پشتون سٹریٹیجکلی صحیح ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

منظور پشتون اور پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف آئے روز مختلف پروپیگنڈے کیے جا رہے ہیں، لیکن شدید قسم کی بوکھلاہٹ کے شکار افراد کی طرف سے جتنے زور و شور سے ہر نیا پروپیگنڈا پھیلایا جاتا ہے، سوشل میڈیا پر ہنسی اور مذاق کا شکار ہوکر ہر وہ پروپیگنڈا دھوئیں کی طرح ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے۔

بوکھلاہٹ کے شکار اربابِ اختیار اور اُن کی نمک حلالی کرنے والے، جن میں کچھ کا تو جیب خرچ کا مسئلہ ہوتا ہے جبکہ کچھ اپنی منفی فطرت سے مجبور ہوتے ہیں، پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈے میں تن مَن اور دھن کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ منظور پشتون کا اخلاص اور حقیقت پر مبنی مطالبات ہی ہیں کہ مخالفت کرنے والوں کے ہاتھ ابھی تک وہ کمزور کڑی نہیں آئی جسے استعمال کرکے یہ لوگ تحریک کو کسی قسم کا نقصان پہنچا سکیں۔ پروپیگنڈا کرنے والے تاحال پشتون تحفظ موومنٹ کی روز بہ روز مقبولیت جبکہ اپنے بھونڈے پروپیگنڈوں کو مذاق اور قہقہوں کی صورت میں تحلیل ہوتا دیکھ کر تلملاہٹ میں ہاتھ ملنے پر مجبور ہیں۔

تحریک کا راستہ روک تو نہیں سکتے تاہم تحریک کا راستہ کھوٹا کرنے کے لیے کبھی را اور این ڈی ایس کا بھونڈا الزام لگایا جاتا ہے تو کبھی بغاوت کا، کبھی چند گروہوں کو پاکستان تحفظ موومنٹ کے نام پر سڑکوں پر اُتار کر اُن سے پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف ریلیاں اور جلسے کروائے جاتے ہیں تو کبھی جلسوں میں عوام کی طرف سے لگائے گئے نعروں پر اعتراض۔

جب خوردبین اور دوربین کے بھرپور استعمال کے بعد تحریک کے خلاف کوئی ثبوت نہ ملا تو اِس بار چند دانش گرد میدان میں اُتر آئے ہیں جو منظور پشتون کے آئینی مطالبات سے صرف نظر کرتے ہوئے لوگوں کو فاٹا کے انضمام یا الگ صوبے اور ایف سی آر کے مسائل میں اُلجھا کر لوگوں کے رجحانات تبدیل کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ یہ دانش گرد منظور کو مشورہ دے رہے ہیں کہ آپ اپنے تمام مطالبات چھوڑ کر فاٹا کے انضمام کا مطالبہ شروع کردیں تو آپ کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔

یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ منظور پشتون کا ایک مطالبہ ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ کمیشن کے قیام کا بھی ہے۔ اور راو انوار پر نقیب محسود و دیگر چار سو سے زائد افراد کے ماورائے عدالت قتل کا الزام فاٹا میں نہیں بلکہ کراچی جیسے سیٹلڈ شہر میں لگا ہے۔ اِن ماورائے عدالت قتلوں سے فاٹا کے انضمام یا الگ صوبے کا کیا تعلق؟ کراچی میں تو ایف سی آر نہیں پھر لوگ کیوں ماورائے عدالت قتل ہورہے ہیں؟

منظور پشتون کا گمشدہ افراد کو عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ صرف فاٹا سے متعلق نہیں۔ ملک کے مختلف شہروں سے لوگ راتوں رات گُم کیے گئے ہیں۔ یہ گُمشدگیاں ایف سی آر کے تحت نہیں ہوئیں۔ اِن گُمشدگیوں سے فاٹا کے انضمام یا ایف سی آر کے خاتمے کا کیا تعلق؟ غیر ضروری چیک پوسٹ اور پشتون پروفائلنگ صرف وزیر ستان والوں کا مسئلہ نہیں۔ ملک میں رہنے والے ہر پشتون کا مسئلہ ہے۔

چیک پوسٹوں پر تذلیل صرف وزیر ستان والوں کی نہیں ہوتی۔ ملک کے مختلف شہروں میں رہنے والے ہر پشتون کا مسئلہ ہے۔ کیا فاٹا کے انضمام سے ملک کے دوسرے شہروں میں رہنے والے پشتونوں کا یہ مسئلہ حل ہوجائے گا؟

صرف بے جا کرفیو و تشدد اور بارودی سرنگوں کے مسائل ایسے ہیں جو صرف فاٹا تک محدود ہیں۔ اِن مسائل کے متعلق بھی یہ دانش گرد توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔ جبکہ یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ کرفیو اور تشدد فاٹا میں ہوتا ہے جس کا تعلق صوبائی یا مرکزی حکومت سے نہیں ہے۔ بارودی سرنگیں دفاع کے نام پر بچھائی گئی ہیں حکومت کے نہیں۔ اب یہ دفاعی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ بارودی سرنگیں ہٹائیں اور لوگوں کو جینے دیں۔

بقول ہٹلر ”مسلسل پرپیگنڈے کے ذریعے سے یہ بھی ممکن ہے کہ لوگ جنت کو دوزخ اور دوزخ کو جنت سمجھنے لگیں“۔ یہ بوکھلاہٹ کے شکار، پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف مسلسل پروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔ لیکن اِن کے پروپیگنڈوں سے پشتونوں کی آواز زیادہ پر زور ہے۔ اِس آواز کے آگے ہر پروپیگنڈا دبتا چلا جارہا ہے۔ تحریک کے خلاف ہر چال اُلٹی سمت چلنا شروع ہوجاتی ہے۔ لوگ تحریک کا ساتھ چھوڑنے کے بجائے تحریک سے جُڑ رہے ہیں۔ پشتون جینے کا حق اور تھوڑی عزت مانگ رہے ہیں اُنہیں عزت سے جینے کا حق دیں۔ تحریک خود بخود ختم ہوجائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
طیب شاہ مندوخیل کی دیگر تحریریں