مسیحی تنسیخِ نکاح کا قانون

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

19 مارچ 2018ء کو جنیوا سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے عالمی معیادی جائزہ کی رپورٹ کی حتمی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے دوران اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب فرخ عامل نے مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے ضمن میں حکومت ِ پاکستان کی کاوشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی اقلیتوں (بشمول ہندو، سکھ، پارسی، بہائی) کی ازدواجی زندگی کو قانونی تحفظ دینے کے لیے مشاورت جاری ہے جبکہ مسیحی نکاح اور مسیحی تنسیخِ نکاح سے متعلق قانون سازی کے لیے مسودے بھی زیرِ غور ہیں۔ گزشتہ برس مئی 2017ء میں حکومت ِپاکستان نے بطور امیدوار انسانی حقوق کونسل کی 2018 تا 2020 رُکنیت کے لیے ہونے والے انتخابات سے قبل انسانی حقوق کی پاسداری کے حوالہ سے رضاکارانہ عہد کا تحریری اعلان کر کے اقوامِ متحدہ کے دفتر میں جمع کروایا جس میں ایک اعلان یہ بھی شامل تھا کہ مسیحی عائلی قوانین متعارف کروائے جائیں گے۔ گزشتہ برس عالمی یومِ خواتین2017ء کے موقع پر وزیرِ اعلی پنجاب شہباز شریف نے پنجاب اسمبلی سے مسیحی عائلی قوانین میں ترمیم منظور کروانے کا اعلان بھی کیا ۔

پاکستان میں مسیحیوں کے لیے عائلی قوانین” مسیحی قانونِ نکاح “1872 اور” مسیحی تنسیخ نکاح قانون” 1869 موجود ہیں جو کہ متحدہ ہندوستان میں انگریزوں کے دورِ حکومت میں متعارف کروائے گئے۔ قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں(NCSW)  نے 2005ء میں مُلک میں رائج فیملی لاز کا جائزہ لیا اورعائلی قوانین کو صنفی امتیازات سے پاک کرنے کے لیے حکومتِ پاکستان کو سفارشات پیش کیں ۔ اس تحقیقی جائزہ کی بنیاد پر درج ذیل نتائج پیش کئے گئے کہ مسیحی عائلی قوانین کے نفاذ کے بعد سے ان میں خاطر خواہ مثبت اصلاحات متعارف نہیں کروائی گئیں۔ مسیحیت میں طلاق کا حصول خاصا مشکل امر ہے۔ نکاح شادی شدہ جوڑے میں تب ختم تصور کیا جاتا ہے جب اُن میں سے کوئی ایک وفات پا جائے۔ ورنہ دونوں فریقین کے حیات ہونے کی صورت میں طلاق کی اجازت عدالت کے ذریعے مگر بہت محدود وجوہات کی بناء پر ہی ممکن ہے۔ تا ہم یک طرفہ طلاق کا تصور مسیحیت میں موجود نہیں۔

قانون مسیحی تنسیخ ِنکاح کی شق نمبر 10 کے مطابق شادی شدہ مسیحی خاتون (بیوی) اپنے خاوند سے نکاح ختم کرنے کی غرض سے درج ذیل چھ بنیادوں پر عدالت میں درخواست دائرکر سکتی ہے۔ (1) اُس کے خاوند نے کوئی دوسرا مذہب اختیار کر لیا ہو۔ (2) اُس کا خاوند کسی غیر عورت کے ساتھ زنا کاری کا مرتکب ہو ا ہو۔ (3) اُس کے شوہر نے کسی دوسری عورت کے ساتھ شادی کر لی ہو۔ (4) اُس کے خاوند نے منع کیے ہوئے رشتوں میں جنسی تعلق رکھا ہو۔ (5) اُس کے خاوند نے کسی جانور کے ساتھ مباشرت کی ہو، یا کسی مرد کے ساتھ بد فعلی کی ہو، یا کسی عورت کی عصمت دری کی ہو۔ (6) اُس کا خاوند زنا کاری کے علاوہ ظالمانہ سلوک کا مرتکب ہوا ہو۔ جبکہ شادی شدہ مسیحی مرد (خاوند) اپنی بیوی کے خلاف صرف اور صرف زنا کاری ( بدچلنی، بدکاری) کے فعل کے مرتکب ہونے کی بنا پرعدالت میں تنسیخِ نکاح کا دعویٰ دائر کر سکتا ہے۔ مذکورہ قانون کی شق نمبر 11 کے مطابق خاوند مبینہ شریکِ جرم کو مقدمہ میں فریق بنانے کا بھی پابند ہے جس سے اس کی بیوی زناکاری کرتی ہو۔ بصورت دیگر اُسے بیان دینا ہو گا کہ اُس کی بیوی ایک طوائف کی زندگی گزار رہی ہے اور وہ نہیں جانتا کہ اُس کی بیوی کتنے مردوں کے ساتھ زنا کر تی ہے۔

2015ء میں امین مسیح نے شیراز ذکاء ایڈووکیٹ کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی کہ وہ بدچلنی کا جھوٹا الزام لگائے بغیر اپنی بیوی سے با وقار طریقے سے علیحدگی چاہتا ہے مگر مسیحی تنسیخ ِنکاح کے قانون کے تحت ایسا ممکن نہیں کیونکہ مذکورہ قانون کی شق نمبر 10 میں طلاق کے لیے درج طریق کار کے مطابق شوہر کا اپنی بیوی پر بدچلنی کا الزام ثابت کرنا ضروری ہے۔ اُس نے عدالت سے استدعا کی کہ 1981ء میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے مذکورہ قانون کی شق نمبر7 کی منسوخی کو غیر آئینی اور بنیادی حقوق کے منافی قرار دیا جائے نیز مذکورہ قانون کی منسوخ شدہ شق نمبر 7 بحال کی جائے جو کہ مسیحی جوڑوںکو حرام کاری کا الزام لگائے بغیر باعزت طریقے سے تنسیخ ِ نکاح کے لیے معقول بنیادیں بھی فراہم کرتی ہے۔

چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے اس مقدمہ کی سماعت کے دوران مسیحی سیاسی و مذہبی رہنماﺅں، قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں سے رائے طلب کی۔ پنجاب کمیشن برائے حقوقِ خواتین (PCSW) کی چئیرپرسن محترمہ فوزیہ وقار نے عدالت میں بیان دیا کہ اقلیتوں کے آئینی حقوق اور مفادات کا تحفظ کیا جائے کیونکہ تنسیخ ِ نکاح کے موجودہ قانون میں تبدیلی کے لیے مسیحی کئی برسوں سے کوشاں ہیں اوراس قانون میں بیان کردہ شرائط مساوات کی بجائے صنفی امتیاز پر مبنی ہیں ۔ نامورماہر ِ قانون محترمہ حنا جیلانی نے عدالت میں بیان دیا کہ مسیحی تنسیخ ِ نکاح کے قانون سے شق نمبر 7 کوآرڈیننس کے ذریعے حذف کرنا آئین ِ پاکستان کے آرٹیکل 9(زندگی اور آزادی کے تحفظ کے حق)، آرٹیکل 14(انسانی عزت و وقار کی پاسداری)، آرٹیکل 25 (حقِ مساوات) کی خلاف ورزی ہے ۔ لہذا پاکستانی مسیحیوں کو بھی تنسیخ ِ نکاح کے لیے وہ بنیادیں فراہم کی جائیں جو دیگر ممالک میں مسیحیوں کو حاصل ہیں۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل محترمہ حنا حفیظ اللہ اسحاق نے عدالت میں بیان دیا چونکہ مذکورہ صدارتی آرڈیننس انسانی حقوق کے معیارات پر پورا نہیں اُترتا لہذا اُسے کالعدم تصور کیا جائے۔ نیز پاکستان میں نا فذ العمل 147 سالہ مسیحی تنسیخ ِ نکاح کے قانون کو دُنیا میں رائج الوقت مسیحی طلاق کے قوانین سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ محترم بشپ الیگزینڈر جان ملک نے عدالت میں بیان جمع کروایا کہ جنرل ضیا الحق نے مسیحی مذہبی رہنماﺅں سے مشاورت کئے بغیر مسیحی تنسیخ ِ نکاح کے قانون میں ترمیم کی۔ لہذا مذکورہ قانون کی اصل روح بحال کرنے کے لیے شق نمبر 7 کا شامل کیا جانا ضروری ہے۔

اس مقدمہ کی سماعت کے دوران پیش کیے گئے بیانات اور دلائل سُننے کے بعد چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے 19جون 2017ء کو تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے مسیحی تنسیخ ِ نکاح کے قانون میں 1981 میں متعارف کروائی گئی ترمیم کو کالعدم قرار دیا اور شق نمبر 7 کو بحال کر دیا جسے جنرل ضیا الحق نے ایک فیڈرل آرڈیننس کے ذریعے غیر جمہوری طریق کار اپناتے ہوئے حذف کیا تھا۔ جس کے مطابق پاکستانی عدالتیں مسیحی جوڑوں کے تنسیخ ِ نکاح سے متعلق معاملات نمٹانے کے لیے برطانیہ میں رائج قانون Matrimonial Causes Act, 1973  اور طلاق کے لیے اپنائے گئے اصولوں اور قواعد سے رہنمائی لے سکتی ہیں۔

بعد ازاں عمانوئیل فرانسیس نے سیف الملوک ایڈووکیٹ کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ کے مذکورہ فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے انٹرا کورٹ اپیل دائر کی اور موقف اختیار کیا کہ جنرل ضیا الحق کے دورِ حکومت میں مسیحی طلاق کے (ترمیم شدہ) قانون کی پارلیمان نے منظوری دی تھی، لہذا پارلیمان کی منسوخ شدہ ترمیم (شق نمبر 7)کو بحال کرنا عدالت کے سنگل بینچ کا اختیار نہیں۔ جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں بننے والے ڈویژن بینچ نے عدالتی فیصلہ پر نظر ثانی کی اپیل سے متعلق وکیل کے ابتدائی دلائل سُننے کے بعدو فاقی حکومت اور حکومت ِ پنجاب کو جوابات جمع کروانے کے لیے نوٹس جاری کر دئیے۔ اس مقدمہ کی 18 جنوری 2018ء کو ہونے والی پہلی سماعت کے دوران پنجاب کمیشن برائے حقوق ِ خواتین(PCSW)  کی چئیر پرسن محترمہ فوزیہ وقار نے عدالت میں بیان دیا کہ طلاق کی خاطر زناکاری یا جسم فروشی کے الزامات لگانا خواتین کے وقار کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔ مسیحی تنسیخ ِ نکاح کے قانون میں شق نمبر 7 کی بحالی سے مسیحی میاں بیوی ایک دوسرے پر حرامکاری کے جھوٹے الزامات ثابت کرنے کے بغیر باوقار طریقے سے علیحدگی اختیار کر سکتے ہیں۔ لہذا مذکورہ عدالتی فیصلہ کو برقرار رکھا جائے اور نظر ثانی کی اپیل کو خارج کیا جائے۔ اس مقدمہ کی 13 مارچ 2018ء کو ہونے والی حالیہ سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ نے مسیحی عائلی قوانین سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر اعتراض اُٹھایا کہ اپیل میں امین مسیح کو فریق کیوں نہیں بنایا گیا جس کی درخواست پر عدالت نے 19جون 2017ء کو فیصلہ جاری کیا تھا۔ مقدمہ کی اگلی سماعت 29 مئی 2018ء مقرر کر دی گئی۔

ایک طرف لاہور ہائی کورٹ میں مسیحی تنسیخ ِنکاح کے قانون سے متعلق عدالتی فیصلے پر نظر ثانی کا ایک مقدمہ زیر ِ سماعت ہے جبکہ دوسری جانب وفاقی و صوبائی حکومتیں فرسودہ مسیحی عائلی قوانین میں اصلاحات متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہیں ۔ ایسی صورتحال میں حکومت کو چاہئیے کہ اقوامِ عالم سے کئے گئے وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے انسانی حقوق کی صورتحال میں بہتری لانے کےلئے خصوصاً تمام مذہبی اقلیتوں کی خاندانی زندگی کے تحفظ کے لیے اقدامات اُٹھائے۔ جس کے لیے مسیحی عائلی قوانین کو آئین ِ پاکستان ، انسانی حقوق کے عالمی معیارات اور پاکستان کے معروضی حالات سے ہم آہنگ کر نا نیزمذکورہ مسودات قانون کو کابینہ اور پارلیمان میں منظوری کے لیے بلا تاخیرپیش کرنا ضروری ہے۔

(شازیہ جارج پنجاب کمیشن برائے حقوقِ خواتین (PCSW) کی رکن ہونے کے علاوہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم عوام پاکستان سے منسلک ہیں۔)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شازیہ جارج کی دیگر تحریریں
شازیہ جارج کی دیگر تحریریں