عورت، طلاق اور مردانہ معاشرہ
اس مرد نے دوسری شادی رچا لی۔ اس کے گھر میں شادیانے بجنے لگے۔ اور وہ عورت۔ وہ عمر بھرطلاق کا طوق گلے میں لٹکا کر سماج کے ان سوالوں کا جواب دینے سے قاصر رہی جو عموماً ایک طلاق یافتہ عورت سے پوچھے جاتے ہیں۔ اور نہ ہی اس بیٹے نے اس عورت سے آج تک سوال کیا ” ماں طلاق کی وجہ کیا بنی‘‘ اس بیٹے کو پتہ تھا کہ یہ سوال ان زخموں کو دوبارہ تازہ کریں گی جو ایک باپ کی طرف سے اس کی طلاق یافتہ ماں کے ورثے میں آچکی ہیں۔ لیکن اس معاشرے نے آج تک میرے والد سے یہ سوال کبھی نہیں کیا کہ آخر وہ کونسی وجوہات تھی جن کو بنیاد بنا کر تو نے ایک عورت کو تین لفظوں کا تحفہ دے کر زندگی بھر انہی لفظوں کے سہارے جینے کا عادی بنا لیا۔ سوسائٹی چپ رہی۔ اب اس مردانہ سوسائٹی سے گلہ بھی کیا کیا جا سکتا ہے۔
سوال آج یہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ کہ طلاق کا اختیار ایک مرد کے سپرد ہی کیوں کیا جاتا ہے؟ اگر مرد کے سپرد کیا گیا ہے۔ تو وہ اس کا ناجائز استعمال کیوں کرتا ہے؟ اگر وہ ناجائز استعمال کرتا ہے تو کیا کوئی ایسا قانون موجود ہے جو اس مرد کو اس قانون کے کٹہرے میں لاکر کھڑا کر دے۔ اس سے سوال کرے۔ اس سے جواب مانگے۔ پھر سوال اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ کونسا قانون۔ اگر قانون موجود ہے تو کیا ہمارا مردانہ معاشرہ اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ خاتون اپنا کیس لڑے یا وہ ویہی خواتین جنہیں ان قوانین کی الف ب کا نہیں معلوم کیا وہ اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرنے کے لیے عدالتی جنگ لڑنے کی اہل ہوں گی۔ اگر اہل ہوں گی تو بتایا جائے آج تک عدالتوں نے کتنی ایسی عورتوں کو انصاف فراہم کیا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی طلاق کے اسباب ڈھونڈ نکالنے چاہئیں۔ قانون سازی کی جائے۔ حل نکالا جائے۔ مردوں کو اگر مجرم ہی نہ سہی ملزم سمجھ کر سوالناموں سے گزارا جائے۔ مرد کے ساتھ ساتھ مرد کے دیگر افراد ماں، بہن کو بھی شامل تفتیش کیا جائے بسا اوقات ایسے بھی ہوتا ہے کہ خواتین کے راستے میں خواتین ہی کانٹے بچھاتی ہیں۔
میں نہیں کہتا کہ طلاق کے معاملے میں قصور صرف مرد کا ہے۔ لازمی بات ہے عورت کو بھی بری الزمہ قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ لیکن جو اہم نقطہ ہے وہ یہ ہے کہ طلاق کے اختیارات مرد کے ہاتھوں میں ہیں۔ شادی کے بعد مرد اور عورت زندگی کے دو لازمی جز بن جاتے ہیں۔ جہاں تک طلاق کا معاملہ ہے۔ تو سوسائٹی کو چاہیے کہ دائرہ کار بنائے۔ اگر زیادہ نہیں ہوتا تو کم از کم مرد کا سوشل بائیکاٹ ہی کیا جا سکتا ہے۔ سوسائٹی پہ بھاری ززمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے مردوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا طریقہ کار وضع کرے۔ اس سے طلاق کا عمل رک تو نہیں جائے گا البتہ کمی ضرور آئے گی۔ اور ہاں طلاق یافتہ عورتوں کے لیے دوسری شادی کی جو بند بنائے گئے ہیں سوسائٹی ان کا خاتمہ کر دے۔

