تتلیوں کا بڑا مہینہ گزر گیا

ستمبر کا مہینہ گزر گیا تتلیوں سے محبت کا مہینہ تھا اور ہم نے یہ مہینہ ان کی قربت میں گزارا۔ پاکستان بٹرفلائی سوسائٹی مسلسل دو سالوں سے اس ماہ کو تتلیوں کے مہینے کے طور پر منا رہی ہے۔ نیچر دوست ساتھی سلمان بلوچ پاکستان بٹرفلائی سوسائٹی کا سہ ماہی جریدہ اپنی فیس بک وال پر شیئر نہ کرتے تو میں موجودہ سال بھی اس قافلے کا ہمراہی نہیں بن پاتا۔ میں نے جریدہ ڈاؤن لوڈ کر کے اس

Read more

بچے اور ہمارا نصابِ تعلیم

سکول کی گھنٹی بجتے ہی بچے سکول کے گیٹ کی طرف ایسی دوڑیں لگاتے ہیں کہ جیسے طویل قید کاٹنے کے بعد مجرم رہائی پا گیا ہو۔ سوچتا ہوں ایسا کیوں؟ کیا ہم بھی طالب علمی کے زمانے میں ایسے ہی تھے؟ تو اس کا جواب ہاں میں ہی آتا ہے کہ کس بے صبری سے ہم چھٹی کا انتظار کیا کرتے تھے۔ اور بالخصوص گرما کی چھٹیوں کا اعلان ہوتے ہی دل کی بہاریں کھل اٹھنا شروع ہو جاتی تھیں۔

Read more

کراچی میں بچوں کا میلہ

بچہ کیا سوچتا ہے؟ چاہتا کیا ہے؟ نہ ہمیں اس کی سوچ سے غرض اور نہ ہی چاہتوں سے واسطہ۔ بچہ اس خاکے سے غائب ہے۔ تعلیمی نصاب ہی اٹھا کر دیکھ لیں کیا ہے اس میں؟ بچوں کی دلچسپی کا کوئی عنصر تو نظر نہیں آتا اور نہ ہی بچے کی نفسیات کو بنیاد بنا کر مرتب کی جاتی ہے۔ نصاب میں ہم نے نظریات تھوپی ہیں۔ نفرت کا ذائقہ ڈال دیا۔ اسے ہم نے مذہب کے پیمانوں سے

Read more

ٹیچر ہونے کا سوال

صبح سویرے جب نیند سے بیدار ہوتا ہوں تو پہلا خیال یہ آتا ہے کہ سکول جانا ہے۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آپ کو ٹیچر ثابت کرنے میں جھٹ جاتا ہوں۔ ایک استاد کی وہ کون سی صلاحیتیں یا خاصیتیں مجھ میں موجود ہیں جو مجھے اس کی عظمت سے منسلک کر سکیں۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر زور زور سے اپنی خوبیاں گنوانا شروع کر دیتا ہوں۔ میں بولتا چلا جاتا ہوں آئینہ ہنستا چلا

Read more

آواران آگے بڑھتا ہوا

تحریر: زبیدہ مصطفیٰ انگریزی سے ترجمہ: شبیر رخشانی 16 اکتوبر بلوچستان کی تاریخ میں ایک یادگار دن تھا جب لنجار کے ٹیچر نے سکول کے اوقات کار کے بعد لڑکے اور لڑکیوں کو جمع کر کے بلوچی لینگویج کلاس کا آغاز کیا۔ کوئی پوچھ سکتا ہے کہ اس میں ایسا کیا خاص ہے جس کا جشن منایا جائے؟ حقیقت یہ ہے کہ بلوچ سے اس کا زبان چھینا جا چکا ہے۔ عرصہ دراز سے یہ فسانہ گڑھا جا چکا ہے

Read more

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی انتظامیہ کے نام کھلا خط

جاھو آواران سے آداب میں حال ہی میں محکمہ تعلیم بلوچستان کی جانب سے سیکنڈری سکول ٹیچر بھرتی ہوا ہوں۔ امتحانی نتائج کا اعلان جب دسمبر 2020 میں ہوا تو اس کے بعد دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ ایم ایڈ میں داخلہ لے لوں۔ تو واحد ذریعہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ہی قرار پایا جہاں میں یکسوئی کے ساتھ نہ صرف اپنی تعلیم جاری رکھ پاتا تھا بلکہ اس کے ساتھ بطور استاد سکول کی ذمہ داریاں نبھا سکتا

Read more

زمین سے کیسی شکایتیں

گزشتہ دنوں جب آواران سے جاھو کی جانب سفر کر رہا تھا۔ بیدی کے مقام پر ویگن رکی۔ ایک سفید ریش شخص ہم سفر بنا۔ ابھی ویگن نے سفر کا ابتدا ہی کیا تھا کہ بابا نے بڑبڑانا شروع کیا۔ "آواران نون جاگہے؟ (آواران بھی کوئی جگہ ہے) بابا جی آواران کو برا بھلا کہنے میں کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہا تھا۔ میں نے پوچھا بابا جی آواران کی اتنی برائی کیوں؟ کہنے لگے کہ آواران کا

Read more

پنجگور میں گرلز لائبریری کا خواب کیسے پورا ہوا؟

گزشتہ سال جب پنجگور جانا ہوا تو وہاں تربت یونیورسٹی کا کیمپس نیا نیا کھل گیا تھا۔ ہمارے ساتھی منیر نوشیروانی نے فخریہ کہا تھا کہ کیمپس میں داخلہ لینا والا پہلا طالبعلم اس کا بھتیجا عدنان قرار پایا ہے۔ گزشتہ روز عطا مہر نے ہمیں بتایا کہ تعداد چھ سو تک پہنچ گئی ہے یہ سننا تھا خوشی کے تاثرات دل سے ہوتے ہوئے چہرے پر عیاں ہو گئے۔ عطا مہر اس وقت یونیورسٹی کیمپس میں بطور فوکل پرسن

Read more

ہوشاب کیچ کی طالبات سڑکوں پر کیوں نکل آئیں؟

ہوشاپ کیچ کا دل کہلاتا ہے۔ کیچ کو آواران، پنجگور، خاران، قلات تا کوئٹہ اور دیگر علاقوں سے لنک کرنے کا مرکز ہوشاپ ہے۔ سی پیک روٹ کا گزر یہیں سے ہوتا ہے۔ مگر گزشتہ روز یہ روٹ ڈیڑھ گھنٹے تک معطل رہا۔ سکول کی طالبات سراپا احتجاج تھیں۔ مطالبات جائز اور سادہ تھے : تعلیمی اداروں تک رسائی یقینی بنائی جائے، نامکمل بلڈنگ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ استانیوں کا کوٹہ پورا کیا جائے۔ مطالبات کو لے کر

Read more

یکساں نصاب تعلیم: بلوچستان کی نمائندگی کون کر رہا تھا؟

شعبہ تعلیم صوبے کے پاس ہے یا وفاق کے۔ اب تک جو فارمولا طے کے گیا۔ آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد اب تک صوبے کس قدر اس کا ذائقہ چکھنے میں کامیاب ہوئے کہ یا نہیں یہ سب باتیں اپنی جگہ۔ اب تک کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے لگ تو یہی رہا ہے کہ تعلیم کا شعبہ نہ تین میں اور نہ تیرہ میں۔ تجربہ گاہ میں جو دیگ پک رہی تھی اس کا چولہا کسی حد تک ٹھنڈا

Read more

کمیونٹی کی کوششوں سے گجرو جاھو کا بند سکول آٹھ سال بعد فعال

چار کمروں پر مشتمل مڈل سکول گجرو جاھو کی چاردیواری کے اندر سکوت نے دم توڑ دیا ہے۔ استاد کی تعیناتی اور بچوں کی آمد سے تدریسی نظام بحال ہوا ہے مگر اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ 2013 کا سال آواران بھر کی تعلیمی نظام کو اپنی لپیٹ میں لینے کا سال قرار پایا۔ زلزلہ آیا اور پھر حالات خراب ہوئے۔ مڈل سکول گجرو (بندش سے قبل پرائمری سکول ہوا کرتا تھا) کا واحد ٹیچر محمد اقبال اپنا

Read more

قاضی نور احمد کی یادداشتیں : گرے پتے

گرے پتے ایک سیاسی کارکن کی یاداشتوں کا باغیچہ ہے وہ باغیچہ جہاں درخت لگے اور کٹتے گئے جنہوں نے امان پائی ان کے پتے خزاں رسیدہ ہو کر گرتے گئے۔ یاداشت کے ساتھ بے رحمانہ سلوک اور اس پر کھل کر اظہار مصنف کی آزاد خیالی کو ظاہر کرتا ہے۔ مصنف نے جہاں کھل کر اپنی یاداشتوں کو کتاب کا حصہ بنایا ہے۔ وہیں لکھتے لکھتے جذبات کو لگام دینے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ بغیر کسی کنجوسی کے

Read more

افریقہ کے بلوچ

چند سال قبل میں اور پناہ بلوچ گجرانوالہ میں منعقدہ ادبی تقریب اٹینڈ کرنے گئے تو وہیں مجھے جانکاری ملی کہ گجرانوالہ میں ایک بستی ہے بلوچ کالونی کے نام سے۔ بلوچ بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ جانے کا اشتیاق پیدا ہوا جب گئے وہاں تو کھڑا مجمع ہم پر پھول برساتا رہا۔ بلوچی بیٹھک کا اہتمام تھا۔ بلوچی میں ایک دوسرے سے حال احوال ہوتی رہی۔ قدیم زمانے سے آباد یہ لوگ رند ہیں دوسری اقوام کے ساتھ بندھن

Read more

کہاں سے لائیں وہ استاد

آج بیٹھے بیٹھے ماسٹر نذیر احمد صاحب یاد آ گئے عجب انسان تھے روٹھ کر چلے گئے رب غریق رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ بطور شاگرد ان سے بہت کچھ سیکھا۔ علم بانٹنے میں کبھی بھی کنجوسی نہیں کی۔ سیکھنے کا رجحان بڑھ جائے، نئے نئے آئیڈیاز تخلیق کرتے۔ تین سالہ تعلیمی دورانیے میں، میں نے اسے درسگاہ سے کبھی لاتعلق نہیں پایا۔ ایک دن طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو اس دن حاضری نہیں لگی بلکہ رخصتی کی درخواست آئی۔

Read more

میدان عمل کے سپاہی

قیوم آباد میں واقع دی سٹیزن فاؤنڈیشن کالج کی چاردیواری کے اندر رنگ تماشا جاری تھا۔ شرجیل بلوچ کی دعوت پر میں بھی رنگ تماشا کا حصہ تھا ، رنگ تماشا کا تیسرا دن تھا۔ رنگوں کا کھیل کھیلا جا رہا تھا۔ میں اور شرجیل کس موضوع پہ گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک ان کے زبان پر آغا شکیل کا نام آیا۔ کہنے لگے کہ ایک دم ملنگ آدمی ہے۔ یتیم، کسان مزدوروں کے بچے پڑھ لکھ جائیں ،

Read more

کورونا سے متعلق حکومتی ناکام تعلیمی پالیسی

وہی ہوا جس کا ڈر تھا حکومت نے ایک بار پھر تعلیمی اداروں کی تالہ بندی کا اعلان کر دیا۔ عیدالفطر تک تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔ وفاقی وزیر تعلیم کا حکم نامہ آ چکا ہے۔ خبر تاخیر سے ملی۔ ٹیکنالوجی اور ٹی وی سے دور خبر کی تصدیق تعلیمی ذمہ داران سے کرنی پڑی۔ پرائمری اور مڈل سیکشن بند رہیں گے۔ آٹھویں جماعت کے امتحانی نتائج کا اعلان ہونا باقی ہے ، نویں اور دسویں کلاسز کے سالانہ

Read more

بلوچستان میں مِسنگ درسی کتب کا معاملہ

بلوچستان بھر میں نئے تعلیمی سال کا آغاز ہو چکا ہے۔ سال کے آغاز میں سکولوں کے طلبا و طالبات کو جس چیز کا بے چینی سے انتظار رہتا ہے وہ ہیں نصابی کتابیں۔ مگر ہر سال کی طرح موجودہ سال بھی بلوچستان بھر کے تعلیمی ادارے درسی کتابوں کی عدم دستیابی کا رونا رو رہے ہیں مگر حکومت وقت ہے کہ جس نے اس اہم مسئلے پر کچھ کہنے کے موڈ میں نہیں۔ محکمہ تعلیم آواران کے ضلعی افسر

Read more

حسن گوٹھ لیاری کا سکول کیوں بند ہوا؟

گزشتہ روز میری تحریر بعنوان ”محکمہ تعلیم پر سیاسی اجارہ داری، آخر کب تک؟“ شائع ہوا تو حسن گوٹھ لیاری کے مکین شفیع محمد کا پیغام آیا کہ ان کا سکول ڈیڑھ سال سے بند ہے حکومت وقت اس پر اقدامات نہیں اٹھا رہی۔ اس پر کچھ لکھ لیں۔ ان سے ملاقات چند ماہ قبل اپنے محسن عزیز احمد جمالی کی محفل میں ہوئی تھی وہاں بھی ان کی گفتگو کا مرکزی خیال یہی سکول تھا۔ علاقے کے بچوں کی

Read more

بلوچستان حکومت اور سوال ایک لاکھ بچوں کی تعلیم کا

رخسانہ بی بی تحصیل جھاؤ کے ایک دور افتادہ گاؤں میں درس و تدریس کے نظام سے منسلک ہیں۔ اس نظام سے جڑے لڑکے اور لڑکیاں 142 ہیں جن میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ یہ بچے حصول علم کے لیے اسی سکول کا رخ کرتے ہیں جسے بنیاد ان کی استانی رخسانہ نے فراہم کی ہے۔ گاؤں سے وہ پہلی خاتون ہے جو بطور ٹیچر بھرتی ہوئی ہے اور گزشتہ پانچ سال سے شعبہ تعلیم میں فرائض انجام دے

Read more

عدالتی احکامات نظرانداز: محکمہ تعلیم ضلع آواران میں قائم مقام افسر تعینات

ضلع اواران کا تعلیمی نظام اب بھی ایکٹنگ افسر ان کے سہارے چل رہا ہے۔ عدالت عالیہ کے احکامات کی روشنی میں محکمہ تعلیم میں بڑے پیمانے پر تقرریاں و تبادلے کیے گئے۔ جس سے لگ یہی رہا تھا کہ ان تقرری و تبادلوں کے نتیجے میں تعلیمی نظام میں بہتری آئے گی مگر ایسا نہیں ہو سکا۔ کچھ ہی عرصے بعد ماضی کے فارمولے دوبارہ آزمائے جانے لگے۔ اور نچلے درجے کے افسر ان کو بھاری ذمہ داریاں سونپی

Read more

کھلا خط بنام صوبائی وزیر تعلیم سردار یار محمد رند

جناب والا! اس وقت پوری دنیا ایک وبا کی لپیٹ میں ہے۔ اس سے نمٹنے کا واحد ذریعہ گھروں میں رہنا قرار پا چکا ہے۔ تعلیمی ادارے بند ہیں دفاتر تک رسائی ناممکن ہے آپ کی توجہ بذریعہ کھلا خط ایک اہم اور حل طلب مسئلے کی جانب لے جانا چاہوں گا۔ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ موجودہ وبا سے قبل 2013 کو آواران کو ایک بڑے قدرتی آفت کا زلزلے کی شکل میں سامنا کرنا پڑا

Read more

آواران کے انٹرنیز اساتذہ کی بحالی ضلعی ذمہ داران کے لیے چیلنج بن گئی

آواران کے انٹرنیز اساتذہ کی بحالی ضلعی ذمہ داران کے لیے چیلنج بن گئی ایک سال سے تنخواہوں سے محروم انٹرنیز بجٹ کی فراہمی کے باوجود تنخواہوں کے حصول سے محروم ہو گئی۔ 22 فروری کو محکمہ خزانے سے بجٹ جاری ہونے کے باوجود ضلعی ایجوکیشن افسر کی کوتاہیوں سے انٹرنیز اساتذہ پریشانی سے دوچار ہیں۔ آرگنائزر بلوچستان ایجوکیشن سسٹم شبیر رخشانی نے کہا کہ 22 فروری 2020 کو نہ صرف انٹرنیز کی دو سال کے لیے دوبارہ بحالی کے

Read more

کیچ سے رخصتی

کیچ میں قیام کا یہ ہمارا آخری دن تھا۔ کرونا وائرس کی دھوم نے کیچ کے تعلیمی اداروں کو تالے لگا دیے تھے۔ اداروں کے اندر صرف انتظامی امور سنبھالنے والوں کا حلیہ نظر آیا۔ مالک دور حکومت کیچ کو یونیورسٹی کا بنیاد فراہم کر گیا۔ یونیورسٹی کیمپس سے اس کا سفر اب ایک مکمل یونیورسٹی کی صورت میں سامنے آچکا ہے۔ یونیورسٹی کے اندر اس وقت 13 شعبے ہیں۔ آغاز کمپیوٹر سائنس، منیجمنٹ سائنس اور کامرس سے کیا گیا۔

Read more

روز نامہ آساپ اور تربت میں ذرائع ابلاغ کا زوال

کیچ کا صحافتی سفر ادھورا رہے گا جب تک آساپ کا ذکر نہ آئے۔ آساپ کا جنم بھومی علاقہ۔ ماہنامہ سے ہفت روزہ پھر ہفت روزہ سے روزنامہ کا سفر روزنامہ آساپ نے کیچ کی سرزمین پر طے کرکے کیا۔ دشتی بازار میں واقع آساپ کا پرنٹنگ پریس بطور نشانی اب بھی آساپ اخبار کی موجودگی کا پتہ بتا دیتی ہے۔ یہ کیچ میں ذرائع ابلاغ کا عروج کا دور تھا جب واحد اخبار آساپ اپنے قارئین کو صبح صبح

Read more

کوہِ مراد کی زیارت

سنگانی سر۔ شاعر عطا شاد کا آبائی گاؤں۔ تربت سٹی سے ملحقہ علاقہ۔ مگر اس علاقے سے اچھی خبریں نہیں آتیں۔ ناپسندیدہ علاقہ قرار پایا ہے بھلا وہ کیوں۔ لفظِ منشیات سے جڑا ہوا ہے اس لیے۔ ایک عجیب سے بے کیفی ہے روح پر طاری ہے یہ لاتعلقی کا مظہر ہی تو ہے کہ ذہنوں پر پردے گرائے رہتے ہیں۔ چیزیں اپنانے سے ٹھیک ہوتی ہیں منہ موڑنے سے نہیں۔ خیر۔ اچھی خبر یہ ہے کہ جو ٹیگ سنگانی

Read more

سینما چوک، کیچ کی چائے میں موسیقی کا ذائقہ

کراچی سے پنجگور اور پنجگور سے کیچ کا طویل مسافت طے کرتے ہوئے چائے کی طلب ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ چائے کا چسکا ہر جگہ لے چکا تھا مگر حقیقی ذائقہ دینے سے وہ چائے محروم تھے۔ چائے کی بدمزگی کا برملا ا اظہار میں نہ چاہتے ہوئے پنجگور کے دوستوں کے سامنے کر چکا تھا۔ دوستوں نے سوال کر ڈالا کہ چائے کیسی چاہیے وہی بتا دو ہم بنا لیں گے میں نے جوابا کہا

Read more

کیچ یاترا

2006 کو گریجویشن مکمل ہو چکی تھی۔ ذرائع آمدن ختم ہو چکے تھے۔ غمِ روزگار ستانے لگا۔ تو کسی نے بتایا کہ پوسٹ آفس آواران میں پوسٹ مین کی پوزیشن خالی ہے۔ ڈیلی ویجز بنیاد پر کام کرنا پسند کرو گے۔ جھٹ سے ہاں کردی۔ حصولِ ملازمت کے لیے اپنے ڈاکومنٹس کیچ روانہ کر دیے۔ مکران کے ساتھ آواران کے زمینی رابطے تو ختم ہی ہو گئے تھے۔ مگر ڈاکخانہ آواران اب بھی قدیم نام ”کولواہ“ سے نہ مٹا سکا

Read more

کراچی سے پنجگور کا سفری احوال

زندگی کا سفر کہاں سے شروع ہوتا ہے اور کہاں اختتام پزیر، بشر خود اس حوالے سے لاتعلق ہوجاتا ہے۔ درمیانی حصہ اس نے کیسے گزارنی ہے اس کے لیے پلاننگ کرتا ہے، صدیوں کا پلاننگ۔ لیکن اپن کی زندگی میں پلاننگ نامی چیز نے کبھی بھی چلانگ نہیں ماری۔ اتفاقات کی ایسی بھرمار کہ۔ اب اتفاقات پر مکمل یقین سا ہو گیا ہے۔ ملتے بچھڑتے رشتوں میں اتفاقات کا ایسا دور دیکھا ہے۔ کہ پلاننگ سے زیادہ اتفاقات پر

Read more

پنجگور میں پڑاؤ

گوریچ کے خطرناک عزائم دیکھ کر ہم نے اپنے آپ کو چادر میں لپیٹ لیا ورنہ یہ گوریچ دشمنی کی آخری حد تک جا سکتا ہے اور ہم یہ خطرہ مول لینا نہیں چاہ رہے تھے۔ نہ جانے اس ہوا کو بلوچستان کی سرزمین بالخصوص پنجگور سے کیسی انسیت آن پڑی ہے کہ یہ اس کا پیچھے نہیں چھوڑتا۔ صبح سویرے گوریچ پر تبصرے اور طنزیہ جملے سامنے آنے لگے۔ منیر نوشیروانی جنہیں ہماری آمد کی اطلاع مل چکی تھی۔

Read more

لیاری کا شانتی نکیتن

رحیم غلام ہنستا ہے ہنساتا ہے عکس بناتا ہے بنانا سکھاتا ہے۔ یہی ہنر جانتا ہے جو بھی جانتا ہے اپنے آپ تک محدود نہیں کرتا اسے بانٹتا ہے۔ مسکراتا ہے اور مسکراتا ہی چلا جاتا ہے پھر سنجیدگی چہرے پر طاری ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ باتوں کا سلسلہ ہو جاتا ہے چہرہ پھر سے کھلکھلا اٹھتا ہے۔ مگر آرٹ کے کام میں مصروف دیگر نووارد اس پوری منظرنامے سے بے خبر اپنے کام میں جٹے ہوئے ہیں۔ اچھا

Read more

موہنجودڑو میں بنی ڈاکٹر ادیب رضوی لائبریری

”ہم صرف اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں ہم انہیں اسی مقصد کے تحت باہر بھجواتے ہیں تاکہ وہ پڑھ لکھ کر بڑا بنیں۔ باہر رہ کر وہ بچے واپس نہیں آتے ان کے صرف تحائف آتے ہیں۔ ہم اگر سب بچوں کو اپنا بچہ سمجھ کر انہیں تعلیم دینا شروع کریں تو معاشرے کا حلیہ ہی بدل جائے“۔ یہ الفاظ تھے محسنِ انسانیت ڈاکٹر ادیب رضوی صاحب کے، جب وہ ایک لائبریری کا افتتاح کرنے لاڑکانہ کے ایک چھوٹے

Read more

گورکھ ہل کے بچے کس طرح تعلیم حاصل کر رہے ہیں؟

سطح سمندر سے 5688 فٹ کی بلندی پر واقع گورک ہل جسے بلوچی زبان میں گرک کوہ کہا جاتا ہے۔ سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لاتا ہے۔ بکھری ہوئی آبادی پر مشتمل یہ علاقہ بلوچستان اور سندھ کے سنگم پر واقع ہے مگر یہ علاقہ دور جدید میں بھی سکول کی سہولت سے محروم ہے۔ سکول سے محروم علاقے کے بچوں کو تعلیم کی زیور سے آراستہ کرنے کے لیے گل محمد بلوچ رضاکارانہ بنیادوں پر بطور استاد خدمات کی

Read more

ہم تعلیمی مہم چلانے پر مجبور کیوں ہوئے؟

میں جب بھی گاؤں چلا جاتا ہوں تو میرے سامنے گاؤں کی وہی تصویر آویزاں ہوتی ہے جو میرے بچپن میں ہوا کرتی تھی۔ سوالات میرے گرد ڈیرہ ڈالتے ہیں۔ میرے گاؤں کے بچے اور بچیاں تعلیم سے محروم کیوں؟ کھوج لگانے کی کوشش کرتا ہوں مگر جواب تلاش نہیں کرپاتا ہوں۔ نہ ہی گاؤں کے مرد پڑھے لکھے اور نہ ہی خواتین۔ ایک دن ایک خاتون سے سامنا ہوا۔ بغل میں بیمار بچہ مسلسل روتا چلا جا رہا تھا۔

Read more

کیا بی بی سی اردو سروس کا پروگرام سیربین بند ہونے جا رہا ہے؟

گزشتہ روز ایک محفل میں باتوں باتوں میں ایک دوست یہ کہہ گئے کہ بی بی سی اردو سروس کا پروگرام سیربین بند ہونے جا رہا ہے۔ شاید یہ خبر دوستوں کے لیے انہونی نہیں تھی مگر یہ خبر سن کر ذہن کو دھچکا سا لگا۔ بے اختیار زبان سے نکل آیا ”کیا؟ “ دوست میری طرف متوجہ ہوئے ”کیا ہوا بھائی! انتقال کی خبر تھوڑی سنا دی کہ اس پر ملال ہوا جائے۔ “ میرے لیے یہ ملال کی

Read more

ایک بلوچ بیوروکریٹ کے انمٹ نقوش

سورج ڈھل چکا تھا، اور ہم بیلہ سے آواران کے لیے رخت سفر باندھ چکے تھے۔ سڑک بھی خستہ حال۔ یہ احساس تنگ کرنے لگا کہ اقتدار کے ایوانوں میں براجمان علاقائی نمائندوں کو یہ تکلیف کا یہ منظر کیوں دکھائی نہیں دیتا۔ جوں جوں آگے بڑھے تو ہم نے بیلہ آواران روڈ کو بارونق پایا۔ ہوٹل کھلے ہوئے ملے۔ یہ سب زامیاد گاڑیوں کی آمدورفت اور تیل کے کاروبار کی وجہ سے ممکن ہو پایا ہے۔ وہ روٹ جس

Read more

انسانی حقوق کا عالمی دن اور بلوچستان کے بچے

انسانی حقوق کا عالمی دن ہمیشہ شہروں کی سطح پر منایا جاتا ہے اس دن کی مناسبت سے مختلف تقریبات کا انعقاد کرکے اس میں اکثر و بیشتر وہی چہرے، وہی بولیاں اور وہی قصے کہانیاں ہوتی ہیں جنہیں ماضی میں دیکھتے، سنتے اور دہراتے چلے آ رہے ہیں۔ منتظر نگاہیں جن کی راہیں تک رہی ہیں ہمیشہ سے نظرانداز ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ وہی نگاہیں جن سے ان کے خواب چھینے جا چکے ہیں ان خوابوں کو دوبارہ

Read more

بلوچستان ایجوکیشن پروجیکٹ کے اساتذہ گزشتہ پانچ ماہ سے تنخواہوں کے حصول سے محروم

اس وقت بلوچستان کے 829 سکولوں کے 1489 اساتذہ گزشتہ 5 ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے سکولوں کے اساتذہ مشکلات جھیل رہی ہیں۔ بلوچستان ایجوکیشن پراجیکٹ کے اساتذہ جو اس وقت تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور کنٹریکٹ آرڈرز کے جاری نہ ہونے سے مشکلات سے دوچار ہیں ان کی مشکلات پر ذمہ داران توجہ نہیں دے پا رہے۔ بلوچستان ایجوکیشن پراجیکٹ کے تحت سکولوں کے اس منصوبے کا آغاز جولائی 2015 کو ہوا

Read more

بلوچستان میں اساتذہ کی مشکلات کیا ہیں؟

ہم نے اب تک کی سروے میں بلوچستان کا جو تعلیمی خاکہ پیش کیا ہے اس میں نہ صرف طلبا و طالبات کو مشکلات سے دوچار پایا بلکہ حاضر باش اساتذہ کو بھی مشکلات میں گھرا ہوا پایا۔ مگر نہ ہی طلبہ کے مسائل کو زیر غور لایا جاتا ہے اور نہ ہی اساتذہ کے۔ بلکہ ان مسائل کو ہمیشہ سے نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ ہم نے تعلیمی مہم سے متعلق جو ڈیمانڈ ذمہ داران کے سامنے پیش کیے

Read more

آواران میں سکولوں کی صورت حال پر رپورٹ ڈپٹی کمشنر کے سپرد

محکمہ تعلیم آواران پر ہونے والی اب تک کی تحقیق، بند سکول اور سکولوں کی بندربانٹ کی فہرست ڈپٹی کمشنر آواران کو پیش، دورانِ ملاقات ڈپٹی کمشنر آواران نے محکمہ تعلیم آواران کا ڈیٹا طلب کرکے کارروائی کی یقین دہانی کروائی۔ اب تک 30 بند سکولوں کو فعال کرنے میں کامیاب ہوئے۔ انٹر کالج آواران کو بس کی فراہمی کے علاوہ، 45 یتیم بچوں کو ڈپٹی کمشنر بجٹ سے تعلیم دلوا رہے ہیں اور سپورٹس سرگرمیوں سے غیر نصابی سرگرمیوں

Read more

سیکرٹری سیکنڈری ایجوکیشن بلوچستان کے نام کھلا خط

ہر ذی شعور انسان اس بات پر کامل یقین رکھتا ہے کہ تعلیم ہی وہ واحد ہتھیار ہے جو تبدیلی لا سکتی ہے۔ مگر جس خطے میں تعلیم کا نظام بیٹھ گیا ہو۔ وہاں تبدیلی کے بجائے معاشرتی بحران جنم لینے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے اور ہم سب بچپن سے اس بحران کا سامنا کرتے چلے آرہے ہیں۔ ماضی میں ایک پالیسی کے تحت آواران کو تعلیمی حوالے سے پسماندہ رکھا گیا اور حال میں جان بوجھ کرتعلیمی نظام

Read more

بلوچستان کے ضلع آواران کی تحصیل جھاؤ کے87 سکول بند

(آواران (پ ر تحصیل جھاؤ آواران میں 87سکول بند۔ ناقص تعلیمی منصوبہ بندی اور علاقائی نمائندگان کی لاتعلقی نے تعلیمی نظام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ مستقبل کے معماروں کی زندگی داؤ پر۔ بلوچستان ایجوکیشن سسٹم نامی مہم کو ملنے والی اعداد و شمار کے مطابق تحصیل جھاؤکی ٹوٹل 132 سکولوں میں سے اس وقت 87 سکول بندش کا شکار ہیں۔ جن کی تفصیلات کچھ اس طرح سے ہے۔بوائز سکولوں کی کل تعداد 94 ہے۔56 سکول مکمل طور

Read more

می ٹو مہم ! کیا نتیجہ برآمد ہوگا؟

می ٹو مہم کا آغاز ہندوستان سے ہوا۔ اس کے اثرات پاکستانی معاشرے پہ مرتب ہوئے۔ دلیلیں وضاحتیں، انکار و اقرار تمام صورتیں ہمارے سامنے آرہی ہیں۔ کس نے کیا کیا۔ کون اس پہ بات کرنا چاہ رہا ہے کیوں چاہ رہا ہے۔ ایک طویل بحث جاری ہے ہمارے ہاں محض مباحثوں پہ زور دیا جاتا ہے لیکن حتمی نتیجے پہ پہنچ نہیں پاتے۔ ہمارے ہاں اکثر عورتیں ہی زیر موضوع رہتی ہیں حیرانگی اس بات کی ہوتی ہے۔ عورتوں

Read more

نفسیاتی مسائل، منشیات اور خودکشی

10جون 1997۔ نانی کے انتقال کو چار دن گزر چکے تھے۔ گھر میں تعزیت کا سلسلہ جاری تھا۔ تعزیت گاہ میں موجود خواتین کے پورشن میں ایک لڑکا آکر اطلاع دیتا ہے۔ ‘ فاتو نہر میں ڈوب گئی ہے‘۔ بوڑھی اماں حاجرہ بے معنی تعزیت گاہ سے اٹھ جاتی ہے لڑکھڑاتی ہے اپنے آپ کو لعنت و ملامت کرتی ہوئی اُس مقام پر پہنچتی ہے جہاں فاتو نہیں اس کی اپنی لاش رکھی ہوتی ہے۔ یہ منظر میں اپنی آنکھوں

Read more

حال حوال: خاموشی کا دسواں دن

مجھے نہیں معلوم خاموشی کا کوئی دن منایا جاتا ہے یا نہیں۔ اگر منایا بھی جاتا ہو تو اس دن کے منانے کا کیا مقصد ہو سکتا ہے۔ یہ سوچ کر کہ انسان کبھی خاموش رہ نہیں سکتا۔۔۔ ورنہ نیند میں بھی خوابوں سے مکالمہ کرکے یہاں تک کہ صبح ہو جائے۔ مجھے اتنا بھی نہیں معلوم کہ خاموشی کی کوئی زبان ہوتی ہے۔ جسے سننے والے سمجھ جاتے ہیں۔ اسے معنی دیتے ہیں۔ وہ زبان ترتیب پاتی ہے۔ لیکن

Read more

عورت، طلاق اور مردانہ معاشرہ

ہماری سوسائٹی میں شاید عورت ہونا گناہ ہے۔ یا یہ ایک الگ مخلوق ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کہیں کسی راہ گزر پر کوئی عورت گزر رہی ہوتی ہے تو مردانہ آنکھیں اسے گھور گھور کر دیکھ رہی ہوتی ہیں۔ میں نے ایک مرتبہ ایک خاتون سے پوچھ لیا کہ پردہ کیوں کرتی ہیں۔ تو وہ کہنے لگیں کہ پردہ وہ اس لیے کرتی ہیں تا کہ وہ مردانہ نگاہوں سے محفوظ رہیں۔ یعنی موجودہ سماج میں مردانہ آنکھیں

Read more