ہیگل، کانٹ اور اب… چوہدری شجاعت کا فلسفہ "مٹی پاؤ، ڈنگ ٹپاؤ”


بی بی شہید کی پہلی حکومت چھ اگست انیس سو نوے کو ختم کر دی گئی۔ عارف نظامی صاحب کی ایکسکلوزیو خبر تھی کہ اسمبلیاں کسی وقت بھی توڑی جا سکتی ہیں۔ لیکن بی بی شہید آئی ایس آئی چیف شمس الرحمان کی موجودگی میں سرکاری سرگرمیوں میں مگن رہیں۔ امریکی سفیر صبح صدر اسحاق خان سے ملے، واپس آکر بے نظیر شہید کو اطلاع دی کہ صدر نے حکومت برطرف کرنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔ بی بی کی تشفی ہو گئی۔ لیکن شام پونے پانچ بجے غلام اسحاق خان نے بی بی شہید کو فون کر کے حکومت برطرف کرنے کے فیصلے سے مطلع کیا تو بے نظیر بھٹو بری طرح بوکھلا گئیں اور کہا کہ اگر آپ نے یہی فیصلہ کر رکھا تھا آج صبح آپ نے اسکی تردید کیوں کی؟ اس پر صدر اسحاق خان نے مختصر سا جواب دیا کہ یہ فیصلہ میں نے آج بعد دوپہر کیا ہے۔

نوے میں اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت بنی تو وزارت عظمی کا حلف لینے سے پہلے ایک میٹنگ میں چوہدری شجاعت نے نواز شریف کو تین نصحیتیں کیں۔ ۱۔ چاپلسوں کی باتوں میں نہ آئیں۔ ۲۔ منافقوں سے دور رہیں۔ ۳۔ آپ میں ‘میں’ نہیں آنی چاہیے۔ چوہدری صاحب کہتے ہیں کہ انہیں افسوس ہے کہ نواز شریف نے ہمیشہ تینوں باتوں پر الٹ ہی عمل کیا۔

بانوے میں سندھ میں فوجی آپریشن شروع ہوا تو اس کا بنیادی مقصد سندھ کو چوروں ، ڈاکووں اور رسہ گیروں سے نجات دلانا تھا۔ فوج نے کچے کے علاقے میں ایک بریفنگ رکھی، وزیر اعظم نواز شریف ، چوہدری شجاعت حسین اور غوث علی شاہ بھی موجود تھے۔ فوجی افسر سلائیڈ کی مدد سے بریفنگ دے رہا تھا۔ اچانک ایک سلائیڈ پر سند ھ میں پتھارےداروں کی فہرست نمودار ہوئی جسے دیکھتے ہی وہاں موجود تمام لوگ حیرت سے ایک دوسرے کا منہ دیکھتے لگے کیونکہ پتھاریداروں کی اس فہرست میں سب سے اوپر جو نام تھا وہ غوث علی شاہ کا تھا۔ نواز شریف کو بھی موقع پر خفت کا سامنا کرنا پڑا لیکن پھر بات مذاق میں ٹال دی گئی۔

چورانوے میں پیپلز پارٹی حکومت کی ایماپر رحمان ملک نے چوہدری برادران کو گرفتار کروا کر اڈیالہ جیل تک پہنچایا۔ چوہدری صاحب کہتے ہیں کہ یہ وہی رحمان ملک ہیں جنہیں میرے والد نے بطور وزیر محنت اور سمندر پار پاکستانیوں ، اپنی وزرات میں نوکری دی تھی۔ اڈیالہ میں اپنے پیسوں سے پانی کی ٹینکی اور دیگر سہولیات کو یقینی بنوایا۔ بعد میں انہی سہولیات سے نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی بھی دوران قید مستفید ہوتے رہے۔ حمزہ شہباز بھی ان دنوں اڈیالہ میں تھے، تین وقت کا کھانا ہمارے گھر سے آتا ، حمزہ شہباز اپنی پسند کی ڈش ایک چٹ پر لکھ کر سیٹھ اشرف (سیکرٹری چوہدری فیملی) کو دے دیتے اور یوں وہ جیل میں بھی اپنا من پسند کھانا کھاتے رہے۔ جیل سپرنٹنڈنٹ ایوب نامی سینئر افسر سے مختلف سیاستدانوں کی جیل کے واقعات سنتے رہتے۔ اس سے پوچھا کونسا سیاست دان جیل کا اچھا تھا؟ اس نے کہا، خان عبدالولی خان۔ وہ کسی چھوٹے سے چھوٹے شخص سے بھی نہیں الجھتے تھے، پرسکون طریقے سے قید گزارتے، خاموش رہتے اور سوچ بچار میں دکھائی دیتے۔ ایک رات شدید طوفان آیا، موسلادھار بارش سے ان کی کوٹھڑی کی چھت گر گئی ، پانی ٹپکنے لگا۔ خان صاحب ساری رات ایک کونے میں کمبل اوڑھے بیٹھے رہے، صبح اہلکاروں نے کہا کہ آپ رات کو ہمیں بتا دیتے ہم کسی دوسری کوٹھری میں آپ کو منتقل کر دیتے۔ خان صاحب نے کہا کہ میں نے رات گئے آپ لوگوں کو پریشان کرنا مناسب نہیں سمجھا۔

رفیق تارڑ کو نوازشریف نے فون کیا، انہیں بطور صدر چننے کے فیصلے سے آگاہ کیا۔ رفیق تارڑ صاحب یہی واقعہ چوہدری شجاعت کو پنجابی زبان میں سناتے ہوئے کہنے لگے کہ : میں سمجھیا کسے نے میرے نال مخول کیتا اے، مینوں خیال آیا کہ کدھرے میں خواب تے نئیں ویکھ ریا، ایس گل دی تصدیق لئی میں اپنی ران تے چونڈی (چٹکی) وی وڈی۔”

ایٹمی دھماکوں کے بعد بطور وزیر داخلہ چوہدری شجاعت نے چار ملکوں کو دورہ کیا۔ مصر پہنچے تو حسنی مبارک نے خوب مہمان نوازی کی، پاکستان وفد کی تفریح طبع کیلئے معروف بیلے ڈانسر کو نائیٹ وژن ہیلی کاپٹر کے ذریعے الیگزنڈریا سے بلوایا گیا ۔ شام کے صدر حافظ الاسد سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو جا کر میری طرف سے کہیں کہ وہ بہت موٹے ہور ہے ہیں، کھانا کچھ کم کریں۔ کارگل آپریشن کے بعد جب نواز شریف معاملات سدھارنے کیلئے امریکہ روانہ ہونے لگے، توجنرل مشرف نے انہیں بریفنگ دی۔ نواز شریف نے کہا کہ جنرل صاحب آپ نے مجھے اس سارے معاملے بارے پہلے کیوں نہ بتایا؟ اس پر مشرف نے ڈائری نکالی اور اس کے مختلف صفحات الٹ کر وہ تاریخیں پڑھیں جن میں نواز شریف کو کارگل آپریشن کے متعلق بریفنگ دی گئی تھی۔ اس پر نوازشریف خاموش ہو گئے۔ بہرحال چوہدری صاحب اپنی کتاب میں لال مسجد آپریشن اور اکبر بگٹی کی ہلاکت پر بھی خاصے رنجیدہ دکھائی دیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ ان واقعات سے بچا جا سکتا تھا۔

لیکن بصد احترام کیا کبھی چوہدری شجاعت حسین ‘سچ تو یہ ہے ‘ کے بعد ‘مکمل سچ یہ ہے’ بھی منظر عام پر لائیں گے؟ کیا کبھی وہ یہ بھی بتائیں گے کہ انہوں نے بھٹوصاحب کی پھانسی پراپنا مافی ضمیر کیوں نہ بیان کیا؟ کتاب اس معاملے پر سرسری ذکر تک ہی کیوں محدود رہی؟ نواز شریف اور شہباز شریف کی بار بار عہد شکنی کے باوجود وہ کونسی مقناطیسی طاقت یا ذاتی مفاد کارفرما تھا جو بار بار چوہدری برادران کو شریف فیملی سے ہاتھ ملانے پر مجبور کرتا۔؟ مشرف کے ٹیک اور کے بعد پرویز الہٰی ہفتہ بھر نظر بند رہے، پھر ق لیگ کن حالات میں ظہور پذیر ہوئی؟ کیا چوہدری صاحب یہ بھی بتائیں گے کہ ق لیگ میں کون کیسے کن حالات میں شامل ہوا۔؟ اور آخر میں یہ کہ ‘سچ تو یہ ہے’ کے کچھ ابواب کیوں حذف ہوئے؟

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

اجمل جامی

اجمل جامی پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں، آج کل دنیا ٹی وی کے لئے لائیو ٹالک شو کرتے ہیں، خود کو پارٹ ٹائم لکھاری اور لیکچرار کے علاوہ فل ٹائم ملنگ مانتے ہیں، دوسری بار ملا جائے تو زیادہ پسند آسکتے ہیں۔ دل میں اترنے کے لئے ٹویٹر کا پتہ @ajmaljami ہے۔

ajmal-jami has 60 posts and counting.See all posts by ajmal-jami