مردم شماری، حلقہ بندیاں، سندھ اور پیپلز پارٹی
عوام بالعموم سندھ اور خصوصاً کراچی، حیدرآباد میں کی جانے والی نا انصافیوں پرتوقع کر رہے تھے کہ” مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں ‘‘کا نعرہ لگانے والی دس سال سے زائد سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی شدید واویلا مچائے گی لیکن صورتحال اس کے برعکس رہی اور پی پی پی نے صرف میڈیا میں ڈھیلے ڈھالے بیانات دینے پر اکتفا کیا ہے اور دکھاوے کے آنسو بہا رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی ایسا کیوں کر رہی ہے؟ اس کی دو وجوہات ہیں۔
(1 ) سندھ میں وڈیروں کے 27 خاندان ہیں۔ ان 27 خاندانوں میں سے پہلے باپ اور پھر بیٹے، بیٹیاں، داماد الیکشن میں بڑے طاقتور ثابت ہوتے چلے آرہے ہیں کیونکہ اندرونِ سندھ میں خصوصاً غریب ہاری ان وڈیروں کا غلام ہوتا ہے اس لئے یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ ان وڈیروں کی زمینوں پر اناج کم اور سینیٹرز، قومی و صوبائی اراکین اسمبلی اور بلدیاتی نمائندگان کی نشستیں زیادہ اُگتی ہیں اس لئے سندھ پر وڈیروں کا راج عرصے سے چلا آرہا ہے جس کی وجہ سے سندھ اور اس کے عوام تباہ حال ہوچکے ہیں اور ان وڈیروں کی اکثریت پیپلز پارٹی میں شامل ہے اس لئے پیپلز پارٹی کو کوئی خوف نہیں رہتا کہ اگر مردم شماری میں اندرونِ سندھ کی آبادی کم بھی ظاہر کی گئی ہے اور حلقہ بندیوں میں علاقے کٹ بھی جائیں تو مظلوم ہاری و دیگر عوام جو وڈیرے کے شکنجے میں ہوتے ہیں ان سب کے ووٹ لازمی وڈیروں کو ملیں گے اور وہ الیکشن میں جیت کر اسمبلیوں میں آجائیں گے۔ یاد رہے کہ ایک ممبر قومی اسمبلی کی نشست کے علاقے میں دو صوبائی اسمبلی کے اراکین کی نشستیں بھی شامل ہوتی ہیں اس لئے پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں بھی اچھی خاصی تعداد میں نشستیں حاصل کر لیتی ہے اور اگر اس کا وزیر اعظم نہ بھی آسکے تو اپوزیشن لیڈر آجاتا ہے جبکہ صوبائی سطح پرا ندرون سندھ سے جیتی زیادہ تر نشستوں کی بدولت پیپلز پارٹی کا وزیرِ اعلی لازمی منتخب ہوتا ہے جو کہ پیپلز پارٹی کا اصل ہدف بھی ہوتا ہے۔
ستم یہ بھی ہے کہ اگر جمہوری دور ہو تو وڈیرے اقتدار میں اور مارشل لاء ہو تو بھی یہ اقتدار میں ہوتے ہیں۔ وڈیروں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے کئی جماعتیں اقتدار حاصل کرنے کے لئے انہیں اپنے ساتھ شامل کر لیتی ہیں جس کی ایک مثال سندھ کے دو سابق وزرائے اعلی ممتاز بھٹو اور لیاقت جتوئی کا تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کر نا ہے۔
یہ 27 وڈیرے خاندان اسمبلیوں میں پہنچ کر اپنی اکثریت کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سندھ اور اس کے عوام کی فلاح و بہبود کے حوالے سے قانون سازی نہیں ہونے دیتے اور بادل ناخواستہ بڑی مشکل سے اگر اُونٹ کے منہ میں زیرے کی مترادف قانون سازی ہو بھی جائے تو اس پر عمل درآمد نہیں ہونے دیتے۔ یہ اپنے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز کے نام پر رشوت دیتے ہیں تاکہ وہ اس میں مشغول رہیں اور ان کے سامنے کبھی سچ بات نہ کرسکیں۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ سندھ حکومت نے تو ترقیاتی فنڈز کے ساتھ بلدیاتی فنڈز بھی اپنے ارکان اسمبلی کو دے دیے ہیں جو ان ارکان ِ صوبائی اسمبلی کا حق نہیں ہے۔
(2) پیپلز پارٹی بخوبی جانتی ہے کہ مردم شماری میں شہری علاقوں کی آبادی خصوصاً کراچی، حیدرآباد کی آبادی کم ظاہر کی جاتی ہے تو اس کا زیادہ تر نقصان اُردو بولنے والوں / مہاجروں کو ہوگا کیونکہ اس طرح اُردو بولنے والے/ مہاجر اقلیت میں آجائیں گے اور شدید مسائل میں گھرے اس طبقے کی نشستیں مزید کم ہوجائیں گی اس کے ساتھ مزید نقصان ان کو دھڑے بندیوں سے پہنچے گا اور ایم کیو ایم جس کا خصوصاً کراچی اور حیدرآباد پر عوامی راج ہے کو بھی شدید نقصان پہنچے گا اور یوں پیپلز پارٹی اپنے دیرینہ مقاصدحاصل کرلے گی۔ مذکورہ بالا دو ٹھوس وجوہات جن کے سچ ہونے کا معاشرے میں موجود باشعور عوام کو بخوبی علم ہے ثابت کرتی ہیں کہ پیپلز پارٹی مردم شماری، حلقہ بندیوں کے معاملے پر صرف مگر مچھ کے آنسو بہا رہی ہے۔
جاری حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ مردم شماری اور حلقہ بندیوں کے نتائج اگر اب بھی درست نہیں آتے تو کراچی اورحیدرآباد سندھ اور سندھ کراچی اور حیدرآباد کے ساتھ متحدہوکر مثبت جدوجہد سندھ، اس کے عوام اور پاکستان کو مضبوط بنانے کے لئے کرے۔ پاکستان اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے اس نازک صورتحال میں اسے سب سے زیادہ قومی یکجہتی کی ضرورت ہے جو معاشرہ میں موجود نا انصافیوں کو بروقت ختم کرنے کے عملی اقدامات ہی سے مضبوط ہو سکتی ہے۔

