نسل پرستی اور انتہا پسندی ایک مائنڈسیٹ

نظریہ نسل پرستی اور انتہا پسندی کی جڑیں ہزاروں سال پرانی اور مضبوط ہیں جس کو سمجھنے کے لئے تھوڑی سی تاریخ تو پڑھنی ہوگی۔تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ قدیم دور میں یونانی اور رومی خود کو ایرانی، مصری، لیکٹوں اور جرمن قوموں سے افضل سمجھتے تھے اور ان کی اس نسل پرستانہ سوچ کو پھیلانے کے لئے اُس وقت کے کچھ دانشور بھی ان کی مدد کیا کرتے تھے مثال کے طور پر ”کچھ لو گ فطرت کی جانب سے غلام پیدا کیے جاتے ہیں تاکہ وہ یونانیوں کی خدمت کرسکیں“ نظریہ ارسطو نے دیا جونسل پرستی کی معاونت کا عکاس ہے۔

Read more

بے حس معاشرہ کی بھینٹ: رمشا وسان

اکیسویں صدی میں داخل ہونے کے باوجود معاشرہ قرونِ وسطی کی جاگیرداری اورسرداری معاشرتی روایات کے تابع دکھائی دیتا ہے۔ ان روایات میں سے ایک انتہائی سفاک اور غیر انسانی روایت آج بھی جاری اور توانا ہے جو پاکستان کے صوبوں میں مختلف ناموں خیبر پختونخواہ میں طور طورہ، بلوچستان میں سیاہ کاری، پنجاب میں کالا کالی اور سندھ میں کارو کاری سے نمایاں ہیں جس کا زیادہ تر شکار خواتین ہی بنتی چلی آرہی ہیں اور قانون کی بالادستی نہ ہونے اور معاشرہ کی بے حسی، بزدلی کے سبب یہ جرم پورے ملک میں تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے۔

سندھ میں وڈیرے اور اس کے گماشتے اپنے مفادات مثلاً جائیداد پر قبضہ کرنے کے لئے، رشتے سے انکارکرنے پر، لڑکی کی پسند کی شادی کرنے پر، لڑکی کے ناجائز تعلقات قائم کرنے سے انکار پر وغیرہ یا کسی مرد سے دشمنی نکالنے وغیرہ کی خاطر ماں، بیٹی، بہن، بیوی یا کسی اور عورت یا مرد پر کاروکاری کے جھوٹے الزامات لگا کر انہیں قتل کر دیتے ہیں اور لاشوں کو غسل اور نمازِجنازہ پڑھائے بغیر گڑھے میں ڈال کر مٹی سے گڑھے بھردیے جاتے ہیں۔

یہ وڈیرے اور ان کے غلام اتنے ظالم ہوتے ہیں کہ بے قصوروں کو مارنے کے بعد بھی نہیں بخشتے تاکہ عوام پر ان کی ظالمانہ حاکمیت مزید مضبوط رہے جس کا ایک ثبوت میڈیا رپورٹ کے مطابق سندھ کے ضلع گھوٹکی کی تحصیل ڈہرکی کے ایک نواحی علاقے میں ”فتو شاہ“ قبرستا ن ہے جس کو کاریوں کا قبرستان بھی کہا جاتا ہے جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام نہاد زندہ معاشرے کو مردہ ثابت کرتا ہے۔

Read more

سانحہ ساہیوال: پولیس دہشت گردی

پولیس دہشت گردی پاکستانی نام نہاد مُہذب معاشرے میں نئی بات نہیں ہے۔ محکمہ پولیس میں اب تک ایسے افراد ہیں جن کے گھناؤنے اعمال کے سبب پولیس سے وابستہ اچھے سپاہیوں و افسران کی قربانیاں اورنیک کارنامے بھی بدنامی کی گہری سیاہ دھند میں چھپ جاتے ہیں۔ کراچی میں چوہدری اسلم، ذیشان کاظمی، بہادر علی، سرور کمانڈو اور راؤ انواروغیرہ کے ہاتھوں 1992 ء کے ریاستی آپریشن میں ایم کیو ایم کے ہزاروں کارکنان و دیگر کا ماورائے عدالت قَتال اور سینکڑوں افراد کو لاپتہ کر دینا پاکستانی تاریخ میں پولیس دہشت گردی کی سیاہ ترین مثال ہے۔

میر مرتضی بھٹو اور نقیب اللہ محسود ماورائے عدالت قتل کیس بھی پولیس افسر راؤ انوار و چند دیگر پولیس والوں کے سیاہ کارنامے ہیں۔ اسی طرح بلوچستان، پنجاب اورخیبر پختونخواہ میں بھی پولیس کے چند افرادکے ماورائے قانون قَتال و دیگر مظالم کی داستانیں میڈیاپر دیکھ اور پڑھ کریہ اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا کہ انسان کو دو پاؤں والا جانور اسی لئے کہا جاتا ہے کہ طاقت کے زُعم میں اپنے مفادات حاصل کرنے کی ہوس اسے انسان سے حیوان اور حیوان سے شیطان بنا دیتی ہے۔ سانحہ ساہیوال میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے اہلکاروں نے جس سفاکی سے خلیل، اس کی زوجہ نبیلہ، تیرہ سالہ بیٹی اریبہ اور ڈرائیور ذیشان کو پولیس گردی کا نشانہ بنا کر شہید کیا اُس پر ہر درد مند دل انسان افسردہ اور غصے کی کیفیت میں مبتلا ہے۔

Read more

جمہوریت کی بنیاد: بلدیاتی نظام

جس طرح عمارت کی مضبوطی اور پائیداری کا تعلق اُس کی بنیادوں سے ہوتا ہے ٹھیک اسی طرح دنیا بھر کے ترقی یافتہ معاشروں میں رائج جمہوری نظام کی بنیاد وہاں کا فعال ، مستحکم اور بااختیار بلدیاتی نظام ہوتا ہے جس کا تسلسل وہاں کے پارلیمانی یا صدارتی نظام کو مضبوط تر بنا کر…

Read more

کراچی کا امن خطرے میں

شہرِ قائد کراچی میں، کچھ عرصے سے خراب طرزِ حکمرانی کے باعث عوام شدید احساسِ بے گانگی، عدم تحفظ اور خوف ہراس کا شکار ہیں؛ جس کی ذمہ داری بالخصوص وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ اپنی آواز ایوانوں تک پہنچانے کے لئے احتجاج کرنا عوام کا جمہوری حق ہے، جو مارٹن کوراٹرز…

Read more

آباد ی میں اضافہ ایک سنگین مسئلہ

تقسیمِ ہندوستان کے وقت پاکستان کی آبادی لگ بھگ 3 کروڑ 17 لاکھ تھی۔ 1951 ء میں کرائی گئی پہلی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی کُل آبادی 3 کروڑ 75 لاکھ تھی۔ 1961 ء میں ایوب خان کے دور میں کرائی گئی دوسری مر دم شماری کے مطابق آبادی کی کُل تعداد 4 کروڑ…

Read more

حقیقی حق سے محروم قومی شناخت اُردو

ماہ نومبر، 2018 ء میں آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی کے زیرِ اہتمام گیارہویں عالمی اُردو کانفرنس میں محترم شمیم حنفی، انور مقصود، مستنصر حسین تارڑ، ضیاء محی الدین، مسلم شمیم، رضاعلی عابدی، حسینہ معین، زاہدہ حنا، افتخار عارف، ڈاکٹر آصف فرخی، طلعت حسین، پروفیسرنجمہ رحمانی، تنویر انجم، ضیاء الحسن، شاداب احسانی، یاسمین حمید، امداد…

Read more

جمیل الدین عالی ہمہ جہت شخصیت

جمیل الدین عالی دہلی اور مشرقی پنجاب سے ملحقہ ریاست نواب موہارو خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ بچپن سے جوانی تک انہوں نے نواب زادوں کی زندگی بسر کی۔ جوانی میں ہجرت کر کے کراچی آگئے۔ تقسیم ہند کے وقت ہندوستان کے بڑے علاقوں جیسے اُتر پردیش، بہار، دہلی اور بعض دیگر اہم ریاستوں کے مسلم خاندان کراچی ہی میں آباد ہو رہے تھے اس لئے کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کے سو شہر اُجڑے تو کراچی آباد ہوا۔ یہ بڑی حد تک سچ ہے کہ ہندوستان کی مسلم اشرافیہ کا ایک بڑا طبقہ کراچی چلا آیا تھا جس میں جمیل الدین عالی کا خاندان بھی شامل تھا۔

عالی جی نے زمانہ دہلی ہی سے شاعری کا آغاز کر دیا تھا اور ان کے دوہے رفتہ رفتہ توجہ حاصل کرتے جا رہے تھے۔ کراچی میں انہوں نے سرکاری ملازمت کے لئے اعلی امتحان پاس کیا اور مالیات کے شعبہ سے وابستہ ہوگئے۔ ایوب خان کے مارشل لاء کے بعد ایوب خان صدر بن گئے تب انہیں بھی ایوانِ صدر میں اہم ذمہ داریاں پوری کرنے کے لئے طلب کر لیا گیا اور ایک عرصے تک عالی جی ایوانِ صدر میں فرائض سر انجام دیتے رہے۔ اس کے بعد وہاں سے سبک دوش ہو کر وہ نیشنل بینک آف پاکستان میں اہم تعلیمی اور ثقافتی ذمہ داریاں نبھاتے رہے جس کے ساتھ یونیسکو نے بھی انہیں اہم ذمہ داریاں سونپ دیں۔

Read more

جناب بلاول بھٹو زرداری کے نام کھلا خط

چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی جناب بلاول بھٹو زرداری میں بصد خلوص و احترام ایک حقیقی جمہوریت پسند پاکستانی ہونے کی حیثیت سے صوبہ سندھ کو در پیش چند اہم ترین مسائل آپ کے علم میں لا رہا ہوں جوآئین و قانون، حقیقی جمہوریت، قومی یکجہتی اور جمہور کی ترقی و خوشحالی میں دہائیوں سے رکاوٹ…

Read more

بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ؒ کی علمی کاوشیں

16، اگست، 2018ء بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ؒ کی 57 ویں برسی کے موقع پر خصوصی تحریر بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ؒ کا مقام پاک و ہند میں اُردو سے بے پناہ محبت کرنے والے اور اُردو تحریک کو بامِ عروج تک پہنچانے والوں میں سب سے زیادہ نمایاں ہے اس کے علاوہ…

Read more