قطبی ستارہ: کامریڈ ظفر محی الدین

ظفر محی الدین 3، جنوری، 1948 ء کو حیدرآباد دکن (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ہجرت کے بعد ان کے والدین نے حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد میں سکونت اختیار کی۔ ان کے والد غوث محی الدین جو جامعہ عثمانیہ کے گریجویٹ اور معروف رسالہ ماہ نامہ ”سویرا“ حیدرآباد، دکن کے مدیر اعلی تھے ان کے فکری اور علمی حوالے سے استاد تھے جن کی خصوصی تربیت نے انہیں مطالعے، مشاہدے اور قلم و قرطاس کی اہمیت سے روشناس کرایا۔ 1960

Read more

زندگی اے زندگی:ایک جائزہ

دانش ور ظفر محی الدین کی پانچ تصانیف تمثیل آزادی (سیاسی و سماجی مضامین کا مجموعہ) ، سرورق کی لڑکی (افسانوں کا مجموعہ) ، سب اچھا ہے (فکاہیہ مضامین کا مجموعہ) ، سندھ کی عدالت، حیدرآباد (دکن) کی فلاحی خدمات سمیت ان کے گزشتہ چالیس سال سے ملک کے ایک معروف اخبار میں لکھے جانے والے سیاسی، سماجی، بین الاقوامی تعلقات اور ماحولیات کے موضوعات پر مبنی مضامین، ان کی ادبی تنظیم دائرہ ادب و ثقافت کی معیاری تقریبات کی

Read more

  پروفیسر مسکین احمد منصور: ایک استاد، ایک ادارہ

استاذی پروفیسر مسکین احمد منصور کا شمار پتلون قمیض پہن کر صرف تنخواہ وصول کرنے والے اساتذہ میں نہیں ہوتا بل کہ ان کی شخصیت درس و تدریس اور علم و ادب کے ذریعے انسانیت کی بلا امتیاز اور بے لوث خدمت کے سبب ایک ادارے کی حیثیت رکھنے کے ساتھ انگریزی کے اس محاورے ”Respect Is Commanded Not Demanded“ کی بھی خوب صورت عملی تصویر ہے جو عصر حاضر میں عنقا ہیں۔ وہ 8، نومبر، 1938 ء کو فیصل

Read more

8 جولائی، 2021ء:  عبدالستار ایدھی صاحب کی پانچویں برسی 

رہنما وہ ہوتا ہے جو اپنی زندگی مخلصی سے عملاً انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دے۔ پاکستان میں اس کی سنہری مثال عبدالستار ایدھی تھے جن کے پائے کی انسان دوست شخصیت ملک میں پیدا ہی نہیں ہوئی ہے۔ آپ کی زندگی اس محاورے کی خوب صورت عملی عکاسی ہے ”نیت صاف۔ منزل آسان“ ۔ انسانیت کو تکالیف میں دیکھ کر کراچی کے علاقے میٹھادر میں واقع ایک چھوٹے سے کمرے میں جب انہوں نے خدمت خلق کا

Read more

گل مہر آباد: ایک جائزہ

ادب زندگی اور سماج کی ترجمانی کرتاہے اسی لیے دنیائے ادب میں وہ تخلیق بہترین شمار ہوتی ہے جس میں معاشرتی خوبیوں کے ساتھ ساتھ خامیوں کو بھی اجاگر کیا گیا ہو۔

اس تناظر میں یاد داشت، مشاہدات و تجربات عزخ پر مبنی کتاب ”گل مہر آباد“ کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے اپنی اس تخلیق میں زندگی و سماجی ترجمانی کے فرائض نیک نیتی سے انجام دیے ہیں جس کی بدولت کتاب کی بنیاد مضبوط ہے۔

Read more

سال 2020 ء میں اہم ممالک کے سیاسی مد و جزر

سال 2020 ء کئی حوالوں سے پوری دنیا کے لیے مشکلات اور مصائب کا سال ثابت ہوا۔ اس سال سب سے بڑا عالمی مسئلہ کووڈ 19 کا وبائی مرض تھا جس میں لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں اور کھربوں ڈالرز کے نقصانات سمیت سیاسی اور معاشرتی حوالوں سے بھی دنیا میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اس حوالے سے قارئین کے مطالعے کے لیے چند اہم ممالک کا ذیل میں مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ چین سال 2020 ء میں

Read more

صارفین کے حقوق اور پاکستان

ہر وہ شخص جو روپے خرچ کر کے اشیاء خریدے اور کوئی بھی خدمات حاصل کرے وہ صارف ہے۔ مثلاً ً کسی دکان سے روپیوں کے بدلے راشن، سبزیاں، کپڑے، دوائیں، کتابیں، کمپیوٹروغیرہ حاصل کرنا خریداری ہے اور بجلی، گیس، پانی و دیگر سہولتیں اداروں سے حاصل کرنا خدمات ہیں۔ واضح رہے کہ 15، مارچ، 1962 ء کوسابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے کانگریس کے اجلاس میں صارف کو چار بنیادی حقوق فراہم کیے تھے۔ بعد ازاں غیر سرکاری

Read more

عورت اور پاکستانی معاشرہ

عورت کو ازل سے مرد استحصال کا شکار بنا رہا ہے۔ اس تاریخ پر باریک بینی سے غور کیا جائے تو کہیں مرد عورت پر حاوی دکھائی دیتا ہے تو کہیں عورت مرد پر جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل وجہ طاقت اور کمزوری ہے اور اس آفاقی حقیقت سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا کہ طاقتور کمزور پر ہمیشہ سبقت رکھتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں عورتیں ہر سطح پر خود کو مردوں سے برتر ثابت

Read more

26، فروری، 2020ء ڈاکٹر محمد احسن فاروقی کی برسی کی مناسبت سے خصوصی تحریر

کردار انسان کا وہ حُسن ہے جسے زوال نہیں۔ بے لوثی سے علم و ادب کے ذریعے نوزائیدہ پاکستانی معاشرے کو مضبوط بنانے کی جدوجہدکرنے والے اُستاذالاساتذہ، نقاد، افسانہ نگار، مترجم، ناول نگار، دانشور، انگریزی، اُردو، فارسی، عربی، جرمن، فرانسیسی، لاطینی اور یونانی یعنی آٹھ زبانیں جاننے والے پروفیسر، ڈاکٹر محمد احسن فاروقی اپنے روشن کردار کی بدولت آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ آپ نے 22، نومبر، 1912 ء کو 21، قیصر باغ بلہرہ ہاؤس، لکھنو میں

Read more

نسل پرستی اور انتہا پسندی ایک مائنڈسیٹ

نظریہ نسل پرستی اور انتہا پسندی کی جڑیں ہزاروں سال پرانی اور مضبوط ہیں جس کو سمجھنے کے لئے تھوڑی سی تاریخ تو پڑھنی ہوگی۔تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ قدیم دور میں یونانی اور رومی خود کو ایرانی، مصری، لیکٹوں اور جرمن قوموں سے افضل سمجھتے تھے اور ان کی اس نسل پرستانہ سوچ کو پھیلانے کے لئے اُس وقت کے کچھ دانشور بھی ان کی مدد کیا کرتے تھے مثال کے طور پر ”کچھ لو گ فطرت کی جانب سے غلام پیدا کیے جاتے ہیں تاکہ وہ یونانیوں کی خدمت کرسکیں“ نظریہ ارسطو نے دیا جونسل پرستی کی معاونت کا عکاس ہے۔

Read more

بے حس معاشرہ کی بھینٹ: رمشا وسان

اکیسویں صدی میں داخل ہونے کے باوجود معاشرہ قرونِ وسطی کی جاگیرداری اورسرداری معاشرتی روایات کے تابع دکھائی دیتا ہے۔ ان روایات میں سے ایک انتہائی سفاک اور غیر انسانی روایت آج بھی جاری اور توانا ہے جو پاکستان کے صوبوں میں مختلف ناموں خیبر پختونخواہ میں طور طورہ، بلوچستان میں سیاہ کاری، پنجاب میں کالا کالی اور سندھ میں کارو کاری سے نمایاں ہیں جس کا زیادہ تر شکار خواتین ہی بنتی چلی آرہی ہیں اور قانون کی بالادستی نہ ہونے اور معاشرہ کی بے حسی، بزدلی کے سبب یہ جرم پورے ملک میں تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے۔

سندھ میں وڈیرے اور اس کے گماشتے اپنے مفادات مثلاً جائیداد پر قبضہ کرنے کے لئے، رشتے سے انکارکرنے پر، لڑکی کی پسند کی شادی کرنے پر، لڑکی کے ناجائز تعلقات قائم کرنے سے انکار پر وغیرہ یا کسی مرد سے دشمنی نکالنے وغیرہ کی خاطر ماں، بیٹی، بہن، بیوی یا کسی اور عورت یا مرد پر کاروکاری کے جھوٹے الزامات لگا کر انہیں قتل کر دیتے ہیں اور لاشوں کو غسل اور نمازِجنازہ پڑھائے بغیر گڑھے میں ڈال کر مٹی سے گڑھے بھردیے جاتے ہیں۔

یہ وڈیرے اور ان کے غلام اتنے ظالم ہوتے ہیں کہ بے قصوروں کو مارنے کے بعد بھی نہیں بخشتے تاکہ عوام پر ان کی ظالمانہ حاکمیت مزید مضبوط رہے جس کا ایک ثبوت میڈیا رپورٹ کے مطابق سندھ کے ضلع گھوٹکی کی تحصیل ڈہرکی کے ایک نواحی علاقے میں ”فتو شاہ“ قبرستا ن ہے جس کو کاریوں کا قبرستان بھی کہا جاتا ہے جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام نہاد زندہ معاشرے کو مردہ ثابت کرتا ہے۔

Read more

سانحہ ساہیوال: پولیس دہشت گردی

پولیس دہشت گردی پاکستانی نام نہاد مُہذب معاشرے میں نئی بات نہیں ہے۔ محکمہ پولیس میں اب تک ایسے افراد ہیں جن کے گھناؤنے اعمال کے سبب پولیس سے وابستہ اچھے سپاہیوں و افسران کی قربانیاں اورنیک کارنامے بھی بدنامی کی گہری سیاہ دھند میں چھپ جاتے ہیں۔ کراچی میں چوہدری اسلم، ذیشان کاظمی، بہادر علی، سرور کمانڈو اور راؤ انواروغیرہ کے ہاتھوں 1992 ء کے ریاستی آپریشن میں ایم کیو ایم کے ہزاروں کارکنان و دیگر کا ماورائے عدالت قَتال اور سینکڑوں افراد کو لاپتہ کر دینا پاکستانی تاریخ میں پولیس دہشت گردی کی سیاہ ترین مثال ہے۔

میر مرتضی بھٹو اور نقیب اللہ محسود ماورائے عدالت قتل کیس بھی پولیس افسر راؤ انوار و چند دیگر پولیس والوں کے سیاہ کارنامے ہیں۔ اسی طرح بلوچستان، پنجاب اورخیبر پختونخواہ میں بھی پولیس کے چند افرادکے ماورائے قانون قَتال و دیگر مظالم کی داستانیں میڈیاپر دیکھ اور پڑھ کریہ اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا کہ انسان کو دو پاؤں والا جانور اسی لئے کہا جاتا ہے کہ طاقت کے زُعم میں اپنے مفادات حاصل کرنے کی ہوس اسے انسان سے حیوان اور حیوان سے شیطان بنا دیتی ہے۔ سانحہ ساہیوال میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے اہلکاروں نے جس سفاکی سے خلیل، اس کی زوجہ نبیلہ، تیرہ سالہ بیٹی اریبہ اور ڈرائیور ذیشان کو پولیس گردی کا نشانہ بنا کر شہید کیا اُس پر ہر درد مند دل انسان افسردہ اور غصے کی کیفیت میں مبتلا ہے۔

Read more

جمہوریت کی بنیاد: بلدیاتی نظام

جس طرح عمارت کی مضبوطی اور پائیداری کا تعلق اُس کی بنیادوں سے ہوتا ہے ٹھیک اسی طرح دنیا بھر کے ترقی یافتہ معاشروں میں رائج جمہوری نظام کی بنیاد وہاں کا فعال ، مستحکم اور بااختیار بلدیاتی نظام ہوتا ہے جس کا تسلسل وہاں کے پارلیمانی یا صدارتی نظام کو مضبوط تر بنا کر معاشرے کو خوشحال بناتا ہے۔ مقامی حکومتوں کے زیرِ انتظام بلدیاتی نظام کی ایک کتاب میں درج تعریف کے مطابق ’’مقامی حکومت سے مراد ایسا

Read more

کراچی کا امن خطرے میں

شہرِ قائد کراچی میں، کچھ عرصے سے خراب طرزِ حکمرانی کے باعث عوام شدید احساسِ بے گانگی، عدم تحفظ اور خوف ہراس کا شکار ہیں؛ جس کی ذمہ داری بالخصوص وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ اپنی آواز ایوانوں تک پہنچانے کے لئے احتجاج کرنا عوام کا جمہوری حق ہے، جو مارٹن کوراٹرز کے مکین کر رہے تھے، لیکن سپریم کورٹ کے حکم کی آڑ میں اپنے مفادات کی غرض سے جس طرح نہتے بزرگوں، عورتوں، بچوں تک

Read more

آباد ی میں اضافہ ایک سنگین مسئلہ

تقسیمِ ہندوستان کے وقت پاکستان کی آبادی لگ بھگ 3 کروڑ 17 لاکھ تھی۔ 1951 ء میں کرائی گئی پہلی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی کُل آبادی 3 کروڑ 75 لاکھ تھی۔ 1961 ء میں ایوب خان کے دور میں کرائی گئی دوسری مر دم شماری کے مطابق آبادی کی کُل تعداد 4 کروڑ 28 لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔ موجودہ پاکستان (مغربی پاکستان) میں 1972 ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں تیسری مردم شماری کرائی گئی

Read more

حقیقی حق سے محروم قومی شناخت اُردو

ماہ نومبر، 2018 ء میں آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی کے زیرِ اہتمام گیارہویں عالمی اُردو کانفرنس میں محترم شمیم حنفی، انور مقصود، مستنصر حسین تارڑ، ضیاء محی الدین، مسلم شمیم، رضاعلی عابدی، حسینہ معین، زاہدہ حنا، افتخار عارف، ڈاکٹر آصف فرخی، طلعت حسین، پروفیسرنجمہ رحمانی، تنویر انجم، ضیاء الحسن، شاداب احسانی، یاسمین حمید، امداد حسینی، جاذب قریشی، افضال احمد سید، باصر کاظمی، وجاہت مسعود، حارث خلیق، مظہر عباس، اویس توحید، ناصر عباس نیر، نورظہیر، نادرہ ظہیرببر، عارف نقوی، ڈاکٹر

Read more

جمیل الدین عالی ہمہ جہت شخصیت

جمیل الدین عالی دہلی اور مشرقی پنجاب سے ملحقہ ریاست نواب موہارو خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ بچپن سے جوانی تک انہوں نے نواب زادوں کی زندگی بسر کی۔ جوانی میں ہجرت کر کے کراچی آگئے۔ تقسیم ہند کے وقت ہندوستان کے بڑے علاقوں جیسے اُتر پردیش، بہار، دہلی اور بعض دیگر اہم ریاستوں کے مسلم خاندان کراچی ہی میں آباد ہو رہے تھے اس لئے کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کے سو شہر اُجڑے تو کراچی آباد ہوا۔ یہ بڑی حد تک سچ ہے کہ ہندوستان کی مسلم اشرافیہ کا ایک بڑا طبقہ کراچی چلا آیا تھا جس میں جمیل الدین عالی کا خاندان بھی شامل تھا۔

عالی جی نے زمانہ دہلی ہی سے شاعری کا آغاز کر دیا تھا اور ان کے دوہے رفتہ رفتہ توجہ حاصل کرتے جا رہے تھے۔ کراچی میں انہوں نے سرکاری ملازمت کے لئے اعلی امتحان پاس کیا اور مالیات کے شعبہ سے وابستہ ہوگئے۔ ایوب خان کے مارشل لاء کے بعد ایوب خان صدر بن گئے تب انہیں بھی ایوانِ صدر میں اہم ذمہ داریاں پوری کرنے کے لئے طلب کر لیا گیا اور ایک عرصے تک عالی جی ایوانِ صدر میں فرائض سر انجام دیتے رہے۔ اس کے بعد وہاں سے سبک دوش ہو کر وہ نیشنل بینک آف پاکستان میں اہم تعلیمی اور ثقافتی ذمہ داریاں نبھاتے رہے جس کے ساتھ یونیسکو نے بھی انہیں اہم ذمہ داریاں سونپ دیں۔

Read more

جناب بلاول بھٹو زرداری کے نام کھلا خط

چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی جناب بلاول بھٹو زرداری میں بصد خلوص و احترام ایک حقیقی جمہوریت پسند پاکستانی ہونے کی حیثیت سے صوبہ سندھ کو در پیش چند اہم ترین مسائل آپ کے علم میں لا رہا ہوں جوآئین و قانون، حقیقی جمہوریت، قومی یکجہتی اور جمہور کی ترقی و خوشحالی میں دہائیوں سے رکاوٹ بنے چلے آرہے ہیں۔ یہ محض میری رائے نہیں بلکہ سندھ میں بسنے والے اُن کروڑوں عوام کے دلوں کی آواز ہے جو دہائیوں سے

Read more

بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ؒ کی علمی کاوشیں

16، اگست، 2018ء بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ؒ کی 57 ویں برسی کے موقع پر خصوصی تحریر بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ؒ کا مقام پاک و ہند میں اُردو سے بے پناہ محبت کرنے والے اور اُردو تحریک کو بامِ عروج تک پہنچانے والوں میں سب سے زیادہ نمایاں ہے اس کے علاوہ دنیا میں کسی بھی زبان میں اس زبان سے اس قدر محبت کرنے اور اس کے فروغ کے لئے آخری سانسوں تک جدوجہد کرنے والی

Read more

مردم شماری، حلقہ بندیاں، سندھ اور پیپلز پارٹی

بدقسمتی سے پاکستان میں مردم شماری اور حلقہ بندیوں کا عمل ہمیشہ ہی سے دو فیصد امیر طبقے کی سازشوں کی زد میں رہا ہے۔ 19 سال کی طویل ترین مدت کے بعد سپریم کورٹ کے حکم پر 15، مارچ، 2017ء سے شروع ہونے والی مردم شماری پر عوام نے سکھ کا سانس لیا تھا کہ اس دفعہ درست نتائج ضرور آئیں گے لیکن مردم شماری کے عبوری نتائج آتے ہی عوام کی ساری خوش فہمی غبارے میں سے ہوا

Read more