میری کہانی، میرے پاپا کی زبانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 کمزور ہونے کی وجہ سے میرے لیے کسی بھی بیماری کا شکار ہونا بہت آسان ہے۔ عام لوگوں کی نسبت میرا علاج معالجہ کافی مشکل اور تکلیف دہ ہوتا ہے۔ کیوں کہ سپیشل بچوں کے دماغی امراض کے سپیشلسٹ ڈاکٹر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے اگر کوئی خوش قسمتی سے خاص معالج مل جائے تو جس بچے کے والدین افورڈ کر سکتے ہیں، صرف وہی اس ڈاکٹر سے علاج کر ا سکتے ہیں۔ سرکاری سطح پر ایسی سہولت بالکل ناپید ہی سمجھیں۔ میرے پاپا نے بتایا کہ گیارہ کروڑ کے صوبہ میں بچوں کے دو یا تین خصوصی ہسپتال ہیں۔ جہاں نارمل بچوں کا علاج کرانا بھی کسی پل صراط عبور کرنے سے کم نہیں۔ جب تک کہ آپ کے پاس عملے کو دینے کے لیے رشوت کے پیسے نہ ہوں یا کوئی تگڑی سفارش نہ ہو۔ ان دو چیزوں کے بغیر آپ سرکاری ہسپتال میں علاج کرانے کا سوچیں بھی نا۔ جب عام لوگوں کے ساتھ ایسا ہوگا تو ہم معذور کس کھیت کی مولی ہیں۔ ہمیں تو اپنا منہ بند ہی رکھنا چاہیے۔ مزید ظلم یہ ہے کہ انہی سرکاری ہسپتالوں کے بڑے ڈاکٹر شام کو اپنے پرائیویٹ کلینکس میں بھاری فیسوں کے عوض آپ کو انتہائی عزت و احترام کے ساتھ ڈیل کرتے ہیں۔ ہمارے علاج کی سہولتیں کم ہونے کی وجہ سے مہنگی بھی بہت ہیں، جس میں ایک ڈاکٹر کی فیس سے لے کر مہنگے ٹیسٹ (MRI, ECG) وغیرہ جو بار بار ڈاکٹر کرواتے ہیں جو سرکاری لیبارٹریوں میں رش کی وجہ سے متعلقہ ڈاکٹر کی تجویز کردہ پرائیویٹ لیبارٹری سے ہی کروانے پڑتے ہیں۔ میرے ملک میں بہت ہی کم تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو یہ سب بآسانی افورڈ کر سکتے ہیں۔

آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میرے جیسے جن معذور بچوں کے والدین یہ سب کچھ افورڈ نہیں کر سکتے، وہ اپنے معذور بچوں کو قسمت کا لکھا سمجھ کر اپنے آپ کو جھوٹی تسلیاں دیتے رہتے ہیں۔ عملی طور پر کچھ نہیں کر سکتے۔ اس سارے مقدمے میں میری ریاست اور اس کا معاشرہ کہاں کھڑا ہے، اس کا جواب میں آپ کو دے چکا ہوں۔ یہاں تو مجھے باہر مارکیٹ یا کسی سرکاری دفتر میں جانا پڑ جائے اور وہاں اتفاق سے رش کی وجہ سے قطار بھی لگی ہو (جس کا رواج ہمارے معاشرے میں خال خال ہی ہے) تو مجھے بھی اپنے والدین کے ساتھ آخر میں (وہیل چیئر) کے ساتھ کھڑاہونا پڑتا ہے۔ کوئی آگے جانے کے لیے راستہ نہیں دیتا۔ پہلے مجھے یہ عام بات محسوس ہوتی تھی لیکن جب سے میں اپنے والدین کے ساتھ اپنے ملک سے باہر دو چار ترقی یافتہ اور مہذب ممالک میں گھوم پھر کر آیا ہوں، تب سے پتہ چلا ہے کہ دُوسری دُنیا میں ہماری کیا اہمیت ہوتی ہے۔ اپنے ملک کے معاشرے میں جیتے ہوئے مجھے میرے پاپا نے ایک بات بتائی جو میرے لیے ابھی لطیفہ سے کم نہیں ہے کہ کچھ مہذب ملکوں میں میرے جیسے بچوں کو(Adopt)کیا جاتا ہے تاکہ لوگ ان کی خدمت کر کے خوشی اور سکون حاصل کریں۔ ہمارے لئے بس ایک بات شکر اور حوصلہ کا باعث بن جاتی ہے جب میرے والدین مجھے کسی اسکول یا کلینک میں لے جاتے ہیں تو وہاں ہمیں بہت سے ایسے بچے بھی نظر آجاتے ہیں جن کی حالت مجھ سے زیادہ دگرگوں ہوتی ہے۔ ان میں تو بعض بچے حرکت کرنے سے بھی قاصر ہوتے ہیں اور بعض اوقات ایک ہی گھر میں دو یا تین بچے بھی ایسے ہوتے ہیں۔

میرے پاپا نے برطانیہ کے دورے کے دوران مجھے بتایا تھا کہ غیر مسلموں کے اس ملک میں ایسے بچوں کے لئے ریاست اتنی سہولتیں فراہم کرتی ہے جس کا پاکستان جیسے ملک میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ محض ایک معذور بچے کی وجہ سے اسے ہی نہیں بلکہ اس کے والدین کو بھی ریاست خصوصی سہولتوں اور ہر مقام پر غیر معمولی آسانیوں سے نوازتی ہے۔ اپنے ہی بچے کی نگہداشت کرنے کے لئے والدین کو باقاعدہ معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔ اس کی تمام دوائیاں مفت اور علاج معالجہ میں خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ اس کے لئے ہر پارکنگ ایریا میں خصوصی جگہ ہوتی ہے۔ اسے کسی قطار میں کھڑا نہیں ہونا پڑتا۔ اس کے والدین بھی اپنے معذور بچے یا بچی کے خصوصی ڈِس ایبل کارڈ کی وجہ سے ہر جگہ ترجیحی سلوک کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ عام لوگ کسی معذور کو مشکوک نظروں سے نہیں دیکھتے۔ کوئی اسے اپنی نظروں میں ٹٹولنے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ ان کے لئے خصوصی تعلیمی ادارے اور دیگر فلاحی مراکز ہوتے ہیں جہاں انسانیت کا حقیقی درد رکھنے والے اساتذہ اور ماہرین موجود ہوتے ہیں اور اس کے تمام تر اخراجات ریاست ادا کرتی ہے۔ والدین پر اس کا کوئی بوجھ نہیں پڑتا۔

میں تو اپنی زبان سے ان کا اظہار کرنے سے قاصر ہوں لیکن میرے ذہن میں کچھ سوالات گردش کر رہے ہیں۔ اگر کافروں کے ملک میں ایک معذور انسان کے لئے ریاست ترجیحی بنیادوں پر ہر طرح کی سہولتیں مفت فراہم کرسکتی ہے، اسے ایک نارمل انسان سے زیادہ ہمدردی اور توجہ کا مستحق سمجھ سکتی ہے تو کیا پاکستان جیسے اسلامی ملک میں میری طرح بے بس بچوں اور بچیوں کے لئے ہمارےحکمران ایسے معیاری ادارے نہیں بناسکتے جہاں ہماری تعلیم و تربیت اور نگہداشت تربیت یافتہ لوگوں کی نگرانی میں ہو۔ جہاں ہماری بے بسی کو مذاق کا ہدف نہ بنایا جائے اور ہماری عزت نفس کاخیال رکھا جائے۔ اگر حکمران صدقِ دل سے اس طرح کے تعلیمی اداروں اور فلاحی مراکز بنانے کا آغاز کریں تو انھیں مالی وسائل کی کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، وہ اپنے کچھ غیرملکی دوروں اور دیگر غیر ضروری اخراجات میں کمی لاکر اس کے لئے وسائل نکال سکتے ہیں اور انھیں ان بے بس بچوں کی دعاؤں کا تحفہ بھی ملتا رہے گا جو ان کے دلوں کو سکون اور راحت سے سرشار کرے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •