سازشوں کے جال میں پھنسی ’’معصوم قوم

خوش قسمتی سے ہم ہوش سنبھالنے سے قبل ہی اس اہم قومی مسئلے سے مکمل طور پر بہرہ ور ہو چکے ہوتے ہیں کہ ’’اس وقت ہماری ریاست ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہی ہے، اس لیے ہمیں پوری دنیا میں چار سو پھیلے اپنے دشمنوں کی سازشوں کے خلاف ایک سیسہ پلائی دیوار بننا ہو گا۔‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں اس عظیم سازش کے اسم اعظم کے تعویذ کو صبح وشام بغیر پانی کے زبردستی نگلنا پڑتا

Read more

حرم ِپاک ہی میں خودکشی کیوں؟

پچھلے دس دنوں کے دوران بیت اللہ شریف میں دو افراد نے حرم شریف کی بالائی منزل سے چھلانگ لگا کر خود کشی کرلی۔ ان خود کشیوں سے قریباً ایک سال قبل ایک شخص نے خانہ کعبہ کے قریب خود کو آگ لگا کر خود سوزی کی کوشش بھی کی تھی۔ مذہبی طبقے نے ایسے واقعات کی پرزور مذمت کی ہے کہ یہ کتنے بدنصیب افراد ہیں جنھوں نے خودکشی جیسے حرام کام کے لئے بیت اللہ شریف کا انتخاب

Read more

میری عید کہانی، میرے پاپا کی زبانی

میرا نام عبد اللہ شاہد ہے، تاہم میں اپنا مکمل تعارف اپنی کہانی کی پہلی قسط ’’میری کہانی، میرے پاپا کی زبانی‘‘ میں کروا چکا ہوں، اس لئے اس کو دہرانے کی ضرورت نہیں کیوں کہ بار بار تعارف میرے لئے اذیت کا باعث بنتا ہے۔ آج میں اپنے شب و روز کے چند مزید معمولاتِ زندگی آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ میری کہانی پڑھتے ہوئے یہ بات ذہن میں ضرور رکھئے کہ یہ صرف میری کتھا نہیں

Read more

ظالم یورپ والے ہمیں ویزہ کیوں نہیں دیتے؟

میرے چند قریبی احباب اس غلط فہمی میں مبتلا ہو چکے ہیں کہ دوچار ممالک کی سیاحت کے بعد اب میرے لیے کسی ملک کا ویزہ حاصل کرنا کوئی مسئلہ نہیں رہا جبکہ درحقیقت میں خود بھی برطانیہ کا ایک دفعہ ویزہ حاصل کرنے کے بعد دوسری دفعہ ناکام رہ چکا ہوں۔ میرے دوست اکثر مجھ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ ایسی کون سی ’خفیہ‘ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے حصول ویزہ کی مکمل دستاویزات ہونے کے

Read more

رمضان کے یہ روح پرور نظارے

  کسی بھی معاشرے میں معاشی عدم مساوات ہی سرمایہ دار کے سرمائے میں بے انتہا اضافے کی ضامن ہوتی ہے اس لیے غریب عوام کی معاشی آزادی کسی صورت میں بھی سرمایہ دار کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ سرمایہ ہر طرح کی اخلاقیات، مذہب یا سرحدوں کی قید سے ماورا ہوتے ہوئے کسی بھی معاشرے میں پانی کی طرح تیزی کے ساتھ اپنا راستہ خود بناتا چلا جاتا ہے۔ اس کے آگے بند باندھنا کسی طرح جوئے

Read more

کچھ تو رحم کریں!

اگر ریاست عوام کے تحفظ کی بنیادی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتی تو پھر عوام کو باقی بنیادی سہولتوں سے کیا سروکار رہ جائے گا۔ حکمرانوں کے ظالمانہ طرز حکومت کے تسلسل نے عوام کو اس چیز پر مجبور کر دیا ہے کہ عوام کو اپنا کسی بھی قسم کا بنیادی حق دھرنا دیئے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا اور اب تو حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ دھرنا جب تک تشدد کا رخ اختیار نہیں کرے گا،

Read more

ایک مزدور باپ کا اپنے بچے سے مکالمہ

ابا تم آج کام پر کیوں نہیں گئے؟ مجھے بہت زور کی بھوک لگی ہے، مجھے فوراً کھانا چاہیے، اماں نے کہا ہے کہ گھر پر کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ بیٹا آج یکم مئی ہے اور اس دن تمام دفاتر اور مارکیٹیں بند ہوتی ہیں میں آج مزدوری کے لیے کہاں جاتا۔ ابا بہانے نہ بناؤ باہر پنکچر کی دُکان کھلی ہوئی ہے اور میں خود ابھی سائیکل کو پنکچر لگوا کر آیا ہوں اور میرا دوست جو

Read more

اوئے خبردار! روٹ لگا ہوا ہے

ہوش سنبھالتے ہی تم یہ سنہرے خواب دیکھنا شروع کردیتے ہو کہ تمہاری ریاست فوری طور پر ایک جدید فلاحی ریاست میں بدل جائے جہاں مفت رہائش، تعلیم، علاج اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد آسودہ زندگی تمہارا مقدر ہو۔ ساتھ ہی ساتھ تمہارے بچوں کے روشن مستقبل کی حقیقی ذمہ داری بھی ریاست پر ہو بلکہ کم آمدنی کی وجہ سے تمہارے یو ٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی بھی ریاست ہی کے ذمہ ہو یعنی زندگی گزارنے کے لئے ایسی محفوظ

Read more

کتاب کی آپ بیتی

23 اپریل کو اقوام متحدہ نے کتاب کا دن مقرر کیا ہے۔ اس کے حوالے آج میں کتاب کی آپ بیتی آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ میں ایک کتاب ہوں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پہلی دفعہ مجھے تقریباً تین ہزار سال قبل بنایا گیا تھا۔ پہلے میں کئی ہزار سال تک جیتی تھی لیکن اب میری عمر سمٹتے سمٹتے چند ماہ سے لے کر (درسی کتابوں کی صورت میں) چند سالوں تک محدود ہو چکی ہے بلکہ

Read more

میری کہانی، میرے پاپا کی زبانی

میرا نام عبداللہ شاہد ہے۔ جسمانی لحاظ سے میری عمر گیارہ سال ہے لیکن ذہنی اعتبار سے میرا دماغ تین سے پانچ سال کی درمیانی عمر کا ہے اور شاید تمام عمر ایسا ہی رہے گا۔ میں پیدائشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو سکتا، چل نہیں سکتا اور بول بھی نہیں سکتا اور مزید یہ کہ اگر میں وقت پر دوائی نہ کھاؤں تو مجھے جھٹکے (Fits) لگنے شروع ہو جاتے ہیں اور بڑی مشکل سے پھر

Read more