سیکولر حضرات کے دس معروف مغالطے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"saadi\"

چند عرصہ قبل جو بحث وطن عزیز کے صرف انگریزی اخبارات اور مخصوص طبقے تک محدود تھی، کہ ملک کی ’اسلامی شناخت‘ کو کسی طرح سے ’سیکولر شناخت‘ میں تبدیل کیا جائے۔ آج وہی فکر اور وہی نعرہ عوامی سطح پر منتقل ہوچکا ہے۔ سوشل میڈیا کی بدولت تو یہ بحث گھر گھر پہنچ گئی ہے۔ اس بحث میں سیکولرز حضرات کی جانب سے اگرچہ مغالطوں کا ایک انبار لگ چکا ہے، لیکن بار بار دہرائے جانے والے چند معروف مغالطے ملاحظہ ہوں :

۔1۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں مسلم دنیا میں سیاست، ریاست اور حکومت کے مباحث زوروں پر تھے، اس کی کھوکھ سے مسلم سیاسی فکر میں کئی نئے مکتبہ فکر وجود میں آئے، برصغیر میں خاص طور پر مولانا مودودی نے اسلام کے سیاسی نظام کو ایک مربوط ضابطہ کی شکل میں پیش کیا، جس کی مخالفت و حمایت میں ایک مکتبہ تیار ہوچکا ہے۔ سیکولرز حضرات جب اسلامی سیاسی نظام کی بحث کرتے ہیں تو عمومی طور پر مودودی صاحب کے نئے ضابطہ کو اسلام کی ’کل سیاسی فکر‘ سمجھ کر اس کی خامیوں، نقائص اور اس پر رد و کد سے سیکولر ازم کا ’مقدمہ‘ ثابت کرتے ہیں، جو نہایت ہی مغالطہ انگیز اسلوب ہے۔ سیکولر ازم کی بحث میں مسلم سیاسی افکار میں سے ایک فکر پر تنقید یا اس کے نقائص کی نشاندہی سے سیکولر ازم کا اثبات بالکل ایسا ہے کہ حنفی فقہ پر تنقید سے ’الحاد‘ ثابت کیا جائے۔ اس لیے خوب سمجھنا چاہیے مودودی صاحب کی سیاسی فکر بے شمار مسلم سیاسی مفکرین میں سے ایک مفکر کی تعبیر ہے، اسے ’اسلامی سیاسی فکر‘ کے مترادف سمجھنا پہلا مغالطہ ہے۔

۔2۔ ’خارجی سیاسی فکر‘ کو ’اسلامی سیاسی فکر‘ سمجھنا دوسرا مغالطہ ہے، سیکولرز حضرات اپنا مقدمہ لڑتے ہوئے ایک کنفیوژن یہ بھی پیدا کرتے ہیں کہ مسلم دنیا میں حالیہ اٹھتے خارجیت زدہ فکر کے نقائص سے سیکولر ازم کا جواز ثابت کرتے ہیں، حالانکہ اس فکر کو خود مسلم دنیا کے چوٹی کے فقہاء و مفکرین رد کر چکے ہیں۔ خارجی سیاسی اسکول کوئی نیا مکتب فکر نہیں ہے۔ یہ دور صحابہ میں ہی وجود میں آگیا تھا پھر وقتا فوقتا مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا رہا۔ مین سٹریم اسلامی مکاتب اسے صدیوں سے رد کر چکے ہیں۔

۔3۔ ’تھیوکریسی‘ اور ’اسلامی سیاسی فکر‘ کو مترادف سمجھنا تیسرا مغالطہ ہے۔ مذہبی پاپائیت کے نقائص، خامیوں اور اس کے ہولناک نتائج سے سیکولر ازم کا مقدمہ ثابت کرنا مبنی بر مغالطہ ہے۔ اسلام کی ٹھیٹھ سیاسی فکر اور مذہبی پاپائیت میں اتنا ہی بعد ہے جتنا کہ خود سیکولر ازم اور اسلام میں ہے۔

۔4۔ مسلم سیاسی فقہ میں ذمی اور جزیہ کے تصور کو ’دوسرے درجے کی شہریت‘ کے مترادف سمجھنا چوتھا مغالطہ ہے۔ پہلے درجے کا شہری، دوسرے درجے کا شہری وغیرہ جیسی اصطلاحات کو ٹھیٹھ اسلامی سیاسی اصطلاحات کے قالب میں ڈھالنا مسلم سیاسی فقہ کی بنیادوں سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔

۔5۔ سیکولر ازم کو ’عدم محض‘ سمجھنا پانچواں مغالطہ ہے،سیکولر ازم خود ایک مذہب، ایک فکر اور ایک ضابطہ ہے، لہٰذا اس کا مقدمہ لڑتے ہوئے اسے محض ’عدم مذہبیت‘ کے روپ میں پیش کرنا مغالطہ انگیزی ہے، اس دنیا میں عدم محض کا وجود نہیں ہے۔ مذہب اگر ایک فکر، رویہ، شناخت اور ایک نظام ہے تو سیکولر ازم بھی ایک متعین اقداری فکر کا نام ہے۔ سیکولز حضرات اپنے آپ کو ’فری تھنکر‘ کے روپ میں پیش کرتے ہیں جو یا تو سیکولر ازم سے ناواقفیت پر مبنی ہے یا خلط مبحث کا شاخسانہ ہے۔

۔6۔ اسلام اور سیکولر ازم کے اجتماع کو ممکن سمجھنا چھٹا مغالطہ ہے۔ بات واضح اور دو ٹوک ہے کہ ریاست میں اسلام کے عمل دخل کا قائل نہ ہونا خواہ کسی بھی شکل کسی بھی صورت میں ہو سیکولر ازم ہے۔ دور صحابہ سے لے کر آج تک جتنے بھی مسلم سیاسی مکتبہ فکر وجود میں آئے ہیں، غامدی صاحب کے بیانیے سمیت کسی میں بھی سیکولر ازم کا نظریہ نہیں سما سکتا۔ اس لیے بھٹو صاحب کی طرح ’اسلام ہمارا دین ہے اور سوشلزم ہماری معیشت ہے‘ کا مغالطہ دوبارہ نہ دہرایا جائے۔

۔7۔ مسلم سیاسی فقہ کے بعض مسائل کی جدید جمہوری ریاستوں میں تطبیقی مشکلات سے ’اسلامی ریاست‘ کے عدم امکان کا نتیجہ نکالنا ساتواں مغالطہ ہے۔ جدید دور میں ایک مکمل اسلامی ریاست کا قیام اتنا ہی ممکن الوقوع ہے جتنا کہ قرون اولیٰ میں تھا۔ اسلامی سیاسی فقہ کے اصول و کلیات اور مسائل و جزئیات میں اسلام کے تمام شعبوں میں سے سب سے زیادہ لچک ہے۔

۔8۔ مذہبی شخصیات، ادارے اور جماعتوں کے طرز عمل اور طریقہ کار میں نقائص سے اسلامی ریاست کی خامیوں پر استدلال آٹھواں مغالطہ ہے۔ مذہبی شخصیات کو اسلام کے ترازو میں تولا جائے گا۔ اسلام کو مذہبی شخصیات کے طرز میں تولنا مبنی بر مغالطہ ہے۔

۔9۔ خلافت کے ادارے کے ٹوٹ پھوٹ اور شکست و ریخت سے ’اسلامی ریاست‘ کی ناکامی پر استدلال نواں مغالطہ ہے۔ عالمگیر خلافت اسلامی ریاست کی ایک گزشتہ شکل تھی۔ ضروری نہیں کہ آج کے دور میں بھی اسلامی ریاست اسی شکل میں ہی قائم ہو بلکہ ریاست کا اسلامی بنیادی اصولوں کے مطابق ہونا ضروری ہے چاہے اس کی شکل جو بھی ہو اور اس کا جو بھی نام رکھا جائے۔

۔10۔ اسلامی سیاسی فقہ کے اٹل اور منصوص احکام، کلیات اور قواعد کلیہ کو جزئی مسائل، عارضی احکام، عرف پر مبنی فیصلے اور فقہاء کے مستنبط اجتہادی مسائل کے ساتھ خلط کرنا دسواں مغالطہ ہے۔ اسلامی ریاست کے نقائص، خامیوں یا اس کی کمزوریوں پر اگر بحث کرنی ہے تو ان اٹل اصولوں اور کلیات پر بحث کرنی چاہیے جو اسلامی ریاست کے بنیادی ستون ہیں۔ انہی اصولوں و کلیات کا تقابل سیکولر ریاست کے ساتھ تقابل کرنا چاہیے نا کہ اس ریاست کی جزئی تفصیلات، عارضی و عرفی مسائل اور فقہاء کے حالات و زمانے کے مطابق مستنبط کردہ اجتہادی مسائل کے ساتھ تقابل ہو۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سمیع اللہ سعدی کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
28 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments