امریکہ میں بچوں کی میڈیکل تعلیم کے بارے میں کچھ نکات
پاکستان میں میڈیکل کالج میں تیسرے سال سے پانچویں سال تک روزانہ تقریباً دو گھنٹے کی ہسپتال میں کلاس ہوتی ہے جس میں مریض کی ہسٹری اور اس کا طبی امتحان اور تشخیص اور علاج سکھایا جاتا ہے۔ وہاں پانچویں سال تک اسٹوڈنٹس میڈیسن، سرجری، گائنی اور پیڈیاٹرکس پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ امریکہ میں میڈیکل کالج کے دو سال میں یہ سب کچھ ختم کیا جاچکا ہے بلکہ اس سے زیادہ پڑھ لیا گیا ہے۔ ایسے سبجیکٹس بھی جو پاکستان میں سرے سے موجود ہی نہیں تھے آج سے دس پندرہ سال تک جیسے کہ بایو اسٹیٹ، ایپی ڈیمیالوجی، بنیادی میڈیکل ریسرچ جو کہ کلینیکل ریسرچ سے مختلف ہےاور جینیٹکس کی تعلیم جوکہ پاکستان میں بلکل بنیادی سطح پر ہے۔ تیسرے اور چوتھے سال میں امریکی اسٹوڈنٹس میڈیکل کی مختلف فیلڈز میں کام کرتے ہیں۔ ہر روٹیشن 4 ہفتے کی ہوتی ہے۔ کچھ لازمی اور کچھ وہ اپنی پسند کی چن سکتے ہیں۔ ان چار ہفتوں میں یہ اسٹوڈنٹس دن میں دو گھنٹے نہیں بلکہ دن رات صرف کرتے ہیں۔ کم از کم 40 گھنٹے فی ہفتہ اور زیادہ سے زیادہ 80 گھنٹے فی ہفتہ۔ کچھ رات کی کالز بھی۔ جس دن یہ لوگ اپنی ریزیڈنسی شروع کرتے ہیں، اس وقت وہ گنتی زیرو سے نہیں بلکہ سو سے شروع کرتے ہیں۔ تمام طرح کے کلینک، ہسپتال، مشینیں، پروسیجر وہ سب دیکھ چکے ہوتے ہیں اور اب ان کی پریکٹس کرنے کا مرحلہ ہوتا ہے۔ جب وہ یو ایس ایم ایل ای کا امتحان دیتے ہیں تو پڑھائی کے لئیے دو ہفتے ہی کافی ہوتے ہیں کیونکہ ان کی معلومات اتنی ہیں کہ امتحان زیادہ تر پہلی دفعہ میں پاس کرلیتے ہیں۔ کچھ انٹرنیشنل میڈیکل گریجوئیٹ کافی محنت کرکے جلدی جلدی اپنے امتحان دے دیتے ہیں لیکن عموماً زیادہ تر انٹرنیشنل میڈیکل گریجوئیٹ ایک ٹیسٹ لینے میں کم ازکم چھ مہینے کی تیاری کرتے ہیں کیونکہ وہ ان کے کالج کی پڑھائی سے نہ صرف مختلف طریقے کا ہوتا ہے، بلکہ کچھ مضامین تو انہوں نے پڑھے تک نہیں ہوتے۔ کافی ساری چیزیں ہیں جو انہوں نے سوالات کی پریکٹس سے یاد کی ہوتی ہیں اور ان کا مطلب یا ان کے پیچھے کا بیک گراؤنڈ وہ نہیں جانتے ہیں۔ بہت سارے لوگ یہ امتحان پاس نہیں کرپاتے۔
جن لوگوں کو بھی میں جانتی ہوں جو نہیں کر پائے وہ ہمیشہ اس بات کا افسوس کرتے ہیں اور یہ حسرت ہمیشہ ان کے دل میں ہوتی ہے کہ کاش اگر؟ اگر اے اور بی دونوں ایک ٹیسٹ پاس کربھی لیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ان دونوں کی نالج اور سمجھ ایک جیسی ہے۔ کافی سارے لوگ امتحان پاس کر کے ریزیڈنسی کے لیے اپلائی تو کرتے ہیں لیکن مقابلہ اتنا سخت ہوگیا ہے کہ ہزار ایپلی کیشنوں میں سے ایک بندے کو انٹرویو کی کال ملتی ہے۔ ہمیں خود سیکریٹیریز نے بتایا کہ ہم ساری درخواستوں کو پڑھ تک نہیں سکتے وہ اتنی زیادہ ہیں۔ ہر کوئی 100 سے زیادہ جگہ اپلائی کرتا ہے اور مشکل سے کہیں سے انٹرویو کی کال آتی ہے۔ ایک انٹرنیشنل میڈیکل گریجویٹ جب اپنی ریزیڈنسی اسٹارٹ کرتا ہے تو وہ ایسے ہی ہے جیسے آپ ایک ریس میں ہوں اور جب سارے لوگ شروع کرچکے ہوں اور فنش لائن پر پہنچنے والے ہوں تو ہم بھاگنا شروع کریں۔
ایسے شعبے جو زیادہ پاپولر ہوں جیسے کہ گائنی، ریڈیالوجی یا کارڈیالوجی تو ان شعبوں میں ریزیڈنسی ملنا ناممکن تو نہیں لیکن امریکی میڈیکل گریجوئیٹس کے نسبتاً مشکل ضرور ہے۔ تمام شعبوں کی تنخواہ مختلف ہے۔ کچھ کی سو ہزار تو کچھ کی ملین فی سال۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگلے 25 سے 35 سال کی پریکٹس میں کتنا فرق ہوگا۔ انٹرنیٹ کے زمانے میں ڈاکٹر ہونا کافی مختلف ہے۔ ہم سے پہلی نسل کے امریکی ڈاکٹر زیادہ تر سفید فام لمبے آدمی ہوتے تھے جن کی گھر میں رہنے والی بیویاں ہوتی تھیں جو ان کے بچے پالتی تھیں اور ان کی چھٹیاں پلان کرتی تھیں۔ اب وقت کافی بدل گیا ہے۔ ہم اپنے مریضوں سے ایسے بات نہیں کرسکتے کہ جیسے خدا آسمان پر سے بیٹھ کر کہے کہ ایسے کرو اور اس لئیے کیونکہ میں نے کہہ دیا۔ ہماری اب برابر کی گفتگو ہوتی ہے۔ ہمارے مریض ہر بیک گراؤنڈ کے ہوتے ہیں اور ان کو آسان کر کے انفارمیشن دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ ایک مشکل کام ہے کیونکہ اگر آپ کسی فیلڈ کے بارے میں نہیں جانتے تو اس کی پیچیدگی سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔ فائدہ یہ کہ ان کے مطالعے سے آپ کے علم میں وہ چیزیں بھی آسکتی ہیں جو آپ کی نظر سے نہ گذری ہوں۔
ایک مرتبہ ایک خاتون نے آکر مجھے کہا کہ نائٹروگلسرین سے ہڈیوں کے بھربھرے ہونے والی بیماری کا علاج ہوسکتا ہے۔ میں نے پب میڈ میں جا کر دیکھا تو واقعی اس موضوع پر ریسرچ ہوچکی تھی اور یہ ایک سچ بات تھی۔ ان کی وجہ سے مجھے خود نیا کچھ سیکھنے کا موقع مل گیا جس کے لئیے میں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ پچھلے ہفتے ایک مریضہ آئیں۔ ان کو پیراتھائرائڈ کی بیماری کی وجہ سے بھیجا گیا تھا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ اس اپوائنٹمنٹ کا انتظار کرنے کے دوران انہوں نے اس موضوع پر چار کتابیں پڑھیں۔ اچھا مجھے بھی کچھ بتائیں کہ آپ نے کیا پڑھا۔ دو لائنوں کے بعد مجھے پتا چل گیا کہ انہوں نے صرف جملے یاد کئیے ہیں، ٹاپک کی گہرائی اور پیچیدگی کو نہیں سمجھا ہے۔ کاش ہمارے بھی ایسے استاد ہوتے جنہوںنے یہ جاننے کی کوشش کی ہوتی کہ ہم نے صرف لائنیں یاد کی ہیں یا موضوع کو سمجھا بھی ہے لیکن افسوس کہ ہمارے زیادہ تر ٹیچرز پاکستانی میڈیکل کالج میں ایسے نہیں تھے۔ معلوم نہیں ایسا کیوں تھا حالانکہ ٹیچر ہونا ایک موقع ہے زندگی میں جس سے فائدہ اٹھا کر آپ اپنی تعلیم اس مستقل بدلتی دنیا میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ کرسکتے ہیں۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے



