عورتوں ‌ کے خلاف خواتین کون ہیں؟

ویک اینڈ پر میں اور میری فرانسس لوکل الیکشن میں ‌ حصہ بٹا رہے تھے۔ ہماری خوش نصیبی ہے کہ یہ 2019 ہے۔ 1921 تک خواتین کو امریکہ میں ‌ ووٹ ڈالنے کا حق حاصل نہیں تھا۔ یہ حق ان خواتین نے باہر سڑکوں ‌ پر نکل کر تمام خواتین کے لیے حاصل کیا جن…

Read more

مائیکل جیکسن، بچوں کا جنسی استحصال اور لیونگ نیورلینڈ

میں ‌ نے کام پر جانے کے لیے جب اپنی گاڑی اسٹارٹ کی تو ریڈیو بجنا شروع ہوگیا۔ مائیکل جیکسن کا پاپولر گانا تھرلر چل رہا تھا۔ یہ گانا تو بچپن سے سنتے آئے ہیں۔ مائیکل جیکسن سے میری نسل کے لوگ تمام زندگی سے واقف ہیں۔ اس وقت سے جب ٹیپ ریکارڈر کی ایک کیسٹ بیس روپے میں ‌ ملتی تھی۔ لیکن اس دن میرے احساسات مختلف تھے۔ اس گانے کی دھن پر سر ہلانے کے بجائے میں ‌ نے ہاتھ بڑھا کر چینل تبدیل کردیا۔ اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ صرف میں ‌ ہی نہیں اور بھی بہت سارے لوگوں ‌ نے لیونگ نیورلینڈ دیکھنے کے بعد مائیکل جیکسن کی موسیقی سننا چھوڑ دی ہے۔

ہفتے کے دن میں ‌ نے پورے پانچ گھنٹے صرف کرکے ایچ بی او ڈاکیومینٹری لیونگ نیور لینڈ کے دونوں ‌ حصے دیکھے اور اس کے بعد ایک گھنٹے کا 34 سالہ ویڈ رابسن اور 40 سالہ جیمز سیف چک کا اوپرا کے ساتھ انٹرویو بھی دیکھا۔ اس ڈاکیومینٹری کو دیکھنے کے لیے، اس کو سمجھنے اور محسوس کرنے کے لیے جگر گردے کی ضرورت ہے۔ یہ کہانی مائیکل جیکسن کے بارے میں ‌ نہیں ہے۔ یہ معصوم بچوں ‌ کے بارے میں ‌ اور ان دو بہادر جوان آدمیوں کے بارے میں ‌ ہے جہنوں نے سامنے آکر اپنے ساتھ ہوئے بچپن میں جنسی استحصال پر تفصیل سے بات کی۔ اس کہانی میں ‌ ہم سب کے لیے سبق ہے۔

Read more

پاکستان – بھارت: ناگزیر ہمسائیگی اور اعتماد کا بحران

آج صبح ڈرتے ڈرتے کمپیوٹر آن کیا کہ کوئی بری خبر سننے کو ملے گی۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک بڑی جنگ کی پیش گوئی کافی عرصہ سے چل رہی ہے کیونکہ 1947 سے جس راستے پر یہ خطہ رواں دواں ‌ ہے اس کا یہی منطقی نتیجہ ہوسکتا ہے۔ ہم دنیا کی تاریخ…

Read more

کیا ساری غلطی صرف داعش کی دلہن شمیمہ بیگم کی ہے؟

کچھ سال پہلے جب میں ‌ نے یہ خبریں ‌ پڑھیں ‌ کہ اور تصویریں ‌ دیکھیں ‌ تو مجھے شدید افسوس ہوا تھا کہ یہ چودہ پندرہ سال کی لڑکیاں ‌ برطانیہ اور امریکہ سے فرار ہوکر آئسس میں ‌ شامل ہونے چلی گئی ہیں۔ ساری دنیا مل کر ان پر لعن طعن کرنے میں ‌ مصروف ہے۔ خاص طور پر مغرب میں ‌ موجود مسلمان تنظیمیں ‌ ان کو برا بھلا کہنے میں ‌ اور خود کو ان سے الگ دکھانے میں ‌ پیش پیش ہیں۔ میرا نقطہء نظر ان سے مختلف ہے۔ میرے خیال میں ‌ یہ لڑکیاں ‌ اس نظام کی پیداوار ہیں جو ہمارے اردگرد پھیلا ہوا ہے اور ہم اس کو اس لیے دیکھنے سے قاصر ہیں کیونکہ منافقت اس طرح‌ ہماری زندگیوں ‌ کا گہرا حصہ ہے کہ وہ ہمارے بلائنڈ اسپاٹ میں ‌ ہے یعنی ہم اس کو دیکھ نہیں سکتے۔ کون سا پاکستانی بچہ ہے جس نے امریکہ کے لیے موت، اسرائیل کے لیے موت اور ہندوستان کے لیے موت کے نعرے اپنی دیواروں ‌ پر لکھے ہوئے نہیں ‌ دیکھے ہوں؟ ساتھ میں ‌ ہر کوئی یہ بھی چاہتا ہے کہ خود امریکہ منتقل ہوجائے۔

Read more

بے اولاد اور تنہا عورت: خطرے کی گھنٹی یا ایک نئی زندگی کا سنہری موقع

حال ہی میں ‌ ایک مضمون نظر سے گزرا جس کو بنت جمیلہ نے لکھا ہے۔ اس مضمون میں ‌ انہوں ‌ نے ان خواتین کی زندگی کی طرف توجہ دلائی ہے جن کو ہم سب جانتے ہیں۔ ہم میں ‌ سے کون نہیں ہوگا جس کے ساتھ پڑھنے والی اسٹوڈنٹس، پڑوسی یا رشتہ داروں ‌ میں ‌ ایسی خواتین نہ ہوں جن کی شادی نہیں ‌ ہوئی، بچے نہیں ‌ ہوئے یا ان کی شادی ہوکر طلاق ہوگئی اور وہ ادھیڑ عمر میں ‌ بچوں ‌ کی طرح‌ اپنے بھائیوں ‌ کے گھروں میں ‌، اپنے ماں باپ کے گھروں ‌ میں ‌ ڈر سہم کر زندگی گذارنے پر مجبور ہیں جہاں ‌ ان کے اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے، لوگوں ‌ سے ملنے جلنے یا باہر آنے جانے پر کڑی پابندیاں ‌ ہیں۔ یہ زندگیاں ‌ واقعی افسوس کے لائق ہیں۔ آج ہم ان کے تاریخی اسباب پر غور کریں ‌ گے، حالیہ واقعات کا ذکر ہوگا اور کچھ مستقبل میں ‌ تبدیلی لانے پر بات بھی ہوگی۔

ہم جانتے ہیں کہ پدرسری معاشرے میں ‌ خواتین خود ایک مکمل انسان نہیں ‌ سمجھی جاتیں ‌ بلکہ وہ ہر عمر اور زندگی کے دور میں ‌ بچوں ‌ کی حیثیت رکھتی ہیں جن کی دیکھ بھال کے لیے ایک آدمی کی ضرورت ہو۔ کیا یہ ایک سچائی ہے؟ نہیں! سماجی لحاظ سے کچھ ممالک میں ‌ ایسا ہے لیکن سائنسی اور انسانی حقوق کے لحاظ سے ایک نارمل زندگی گذارنے کے لیے کچھ بھی ایسا نہیں ‌ ہے جس کے لیے ایک خاتون کو ایک آدمی کی گارڈین شپ کی ضرورت ہو۔

Read more

گلے آج تو مل لے ظالم!

پچھلے ہفتے کیلیفورنیا میں‌ مٹاپے کی ایک نئی دوا کی ریسرچ کانفرنس تھی۔ اس کے بارے میں‌ ابھی کچھ زیادہ نہیں‌ بتا سکتے ہیں کیونکہ وہ فیز ٹو کلینکل ٹرائل میں‌ ہے۔ جب میں‌ ویک اینڈ پر گھر پہنچی تو اتوار کی صبح‌، بہت سویرے، ہسپتال سے کال آئی کہ آئی سی یو میں‌ آکر…

Read more

وہ تین وجوہات جب محبت کافی نہیں ہوتی

محبت کائنات کا سب سے عظیم اور طاقت ور جذبہ ہے۔ 14 فروری پر اس سال پھر محبت کا عالمی دن منایا جائے گا۔ اس ویلنٹائن ڈے پر ہم اس بات پر غور کریں ‌ گے کہ کیا محبت سب کچھ ہے؟ کیا کسی بھی رشتے یا تعلق کی کامیابی اور سالمیت کا دارومدار صرف محبت پر ہوسکتا ہے؟ وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر محبت ہوتے ہوئے بھی محبوب سے قطع تعلق ضروری ہوجاتا ہے؟

پہلی وجہ: جب آپ اپنی زندگیوں ‌ میں ‌ مختلف چیزیں چاہتے ہیں۔ ہم میں ‌ سے ہر شخص دنیا کے پیچیدہ تانے بانے کا حصہ ہے۔ ہم سب اپنے اردگرد افراد اور علاقوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہر رشتے اور تعلق میں ‌ دونوں ‌ فریق کچھ دیتے ہیں اور کچھ لیتے ہیں۔ تالی دو ہاتھوں ‌ سے بجتی ہے اور ٹینگو کرنے کے لیے دو افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ دنیا میں ‌ کچھ بھی مستقل نہیں۔ تجربات انسانوں ‌ کو وقت کے ساتھ بدلتے جاتے ہیں۔ اپنے ماحول کے مطابق بدلنا انفرادی سرواؤل کے لیے اہم بھی ہے۔ بلی جول کے گانے ڈونٹ گو چینجنگ! یہاں ‌ مجھے یاد آگیا جس کا ترجمہ کچھ یوں ‌ ہے۔

Read more

آدھے سر کے درد کی نئی دوا اور ٹیلی ویژن ڈراموں میں رونا دھونا

میرے نانا کہتے تھے کہ بادام کھانے سے دماغ تیز ہو جاتا ہے۔ یہ بیان کسی سائنسی ریسرچ پر مبنی نہیں تھا، صرف نسل در نسل منتقل ہوتا ایک خیال تھا۔ گزرے لوگوں کی تمام باتیں غلط نہیں ہیں۔ انسان مشاہدے سے بھی کافی سیکھ لیتے ہیں۔ کچھ تکے میں بھی صحیح‌ نکل آتا ہے۔…

Read more

اگر اللہ میاں ہمیں کالا کلوٹا بنادیتے تو ہم کیا کرتے؟

فروری بلیک ہسٹری مہینہ ہے جس میں ‌ امریکہ میں ‌ کالوں کی جدوجہد اور ان کی منفرد تہذیب پر روشنی ڈالی جائے گی اور ان کی کامیابیوں ‌ کا جشن منایا جائے گا۔ حال ہی میں ‌ ایک واقعہ سامنے آیا جس میں ‌ ایک پاکستانی کرکٹر نے ایک افریقی کھلاڑی کو کالا کہہ کر پکارا جس پر اس کی پکڑ ہوئی۔ اچھی بات ہے کہ اس قصے سے لوگوں ‌ کو یہ سمجھنے کا موقع ملے گا کہ آج کی گلوبلائزڈ دنیا میں ‌ نسل پرستی کے لیے جگہ نہیں اور نسل کی بنیاد پر اپنی بالادستی ثابت کرنے کا دور گزر چکا ہے۔

کچھ دن پہلے میرے بیٹے نوید نے مجھ سے کہا کہ آپ وہ نظم لکھ کر دے دیں ‌ جو آپ ہمیں ‌ بچپن میں ‌ صبح جگاتے ہوئے سناتی تھیں۔ میں ‌ نے کئی بار پوچھا کہ اس کا کیا مقصد ہے، امریکی بچے تو اردو نہیں پڑھ سکتے۔ آخر کار اس نے بتادیا کہ وہ اس نظم کا اپنے بازو پر ٹیٹو بنوانا چاہتا ہے۔ یہ نظم کچھ یوں ‌ ہے،

Read more

نوید کی گرل فرینڈ

اوکلاہوما ایک قدامت پرست ری پبلکن سرخ ریاست ہے جہاں ‌ ہر سڑک پر دقیانوسی عیسائی چرچ ہیں۔ یہ بائبل بیلٹ کا حصہ ہے۔ یہاں ‌ اسکولوں ‌ میں ‌ بچوں ‌ کو مناسب جنسی تعلیم دینا منع ہے جس کی وجہ سے یہاں ‌ ٹین ایج حمل سارے امریکہ کے مقابلے میں زیادہ ہوتے ہیں۔ چونکہ میں بائیولوجی جانتی تھی، میں ‌ نے خود اپنے بچوں ‌ کو یہ تعلیم دی کہ خود کو کس طرح بچانا ہے۔ جو بھی گئی گزری تھوڑی بہت جنسی تعلیم اوکلاہوما کے پبلک اسکول فراہم کرتے ہیں، اس میں ‌ بھی میرے بچے شامل تھے۔ ہم نے دیگر مہاجرین کی طرح‌ اپنے بچوں ‌ کو اس تعلیم سے محروم رکھنے کی کوشش نہیں ‌ کی۔ جب لوگ کسی بات کو نہیں ‌ جانتے ہیں تو پھر وہ اس سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ والدین کو بھی تعلیم یافتہ کرنا ضروری ہے۔

17 سال کی عمر میں ‌ نوید نے ایک ویت نامی لڑکی این اپنی گرل فرینڈ بنالی۔ وہ بہت پیاری لڑکی تھی جس کے والدین ویت نام سے اوکلاہوما یونیورسٹی میں ‌ پڑھانے آئے ہوئے تھے۔ وہ پڑھنے میں ‌ بھی بہت اچھی تھی اور ہر سبجیکٹ میں ‌ اس کے اے گریڈ آتے تھے۔ ایک مرتبہ نوید ان کے گھر گیا تو اس کے ابو نے چار گھنٹے بٹھا کر ان دونوں ‌ کو کالج ایڈمیشن کا میتھ کا ٹیسٹ کروایا۔ مجھے این بہت پسند تھی۔ وہ اور نوید ایک ساتھ بہت خوبصورت لگتے تھے۔

Read more