ان خراب حالات سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے

اسٹوڈنٹ لائف میں پروفیسرز اور اپنے کلاس فیلوز کے ساتھ مریض‌ دیکھتے تھے۔ لیکن وہاں باقاعدہ نوکری نہیں ‌ کی اس لیے شہروں ‌ میں ‌ کام کرنے کا یا ان مریضوں کو جاننے کا موقع نہیں ‌ ملا۔ لاڑکانہ میں ‌ 99 فیصد مریض سندھی، بلوچی یا سرائیکی بولتے تھے اور میں ‌ سن کر سمجھ لیتی تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں لیکن جواب میں ‌ اردو میں ‌ ہی بات کرتی تھی۔

زیادہ تر مریض اردو سمجھ لیتے تھے، کچھ کی بات میری کلاس فیلوز ترجمہ کرکے بتا دیتی تھیں، کلاس میں ‌ ڈسکشن انگلش میں ‌ چلتی تھی اور امتحان بھی انگلش میں ‌ ہوتے تھے اس طرح‌ اپنی میڈیکل کی تعلیم مکمل کی۔ ٹیچنگ ہسپتال میں ‌ آنے والے زیادہ تر مریض نہایت غریب ہوتے تھے اور کچھ کو ان کے گاؤں سے چارپائی میں ‌ لایا جاتا تھا، ہسپتال کے باہر ان کے گھر والے درختوں کے نیچے سو جاتے تھے۔ کچھ خواتین پتھر جوڑ کر لکڑیاں جلا کر اس پر توا رکھ کر روٹیاں پکا رہی ہوتی تھیں۔ کافی مریض میلوں ‌ پیدل چل کر ہسپتال پہنچتے تھے کیونکہ وہ رکشے وغیرہ کا کرایہ برداشت نہیں ‌ کرسکتے تھے۔

Read more

عورتوں میں جنسی خواہش کم ہونے کی وجوہات

نارمل انسان یہ سوچیں‌ گے کہ ان کی بیوی کو کیا پرابلم ہے؟ جنسی تعلقات میں‌ دلچسپی نہ ہونا ایک عام کنڈیشن ہے جو کہ کسی بھی انسان کو ہو سکتی ہے۔ یہ بیماری بھی ہو سکتی ہے اور نارمل بھی۔ اس کنڈیشن کو “لیک آف لیبیڈو” کہتے ہیں۔ کوئی 5 فیصد افراد دنیا میں‌ اے سیکچؤل ہیں یعنی کہ ان کو جنسی تعلقات میں‌ کوئی دلچسپی نہیں۔ قریب 5 فیصد ہم جنس پسند ہیں۔ بلاوجہ ہر کسی کی شادی کرانا بند کرنا ہوگا۔ لیک آف لیبیڈو کی وجوہات خاص طور پر خواتین میں‌ کافی ساری ہیں اور اس پر زیادہ تحقیق نہیں کی گئی۔

Read more

غربت کا خاتمہ اور رٹگر بریگمین کی کتاب ”یوٹوپیا فار ریالسٹس“

یوٹوپیا فارریلسٹس میں ‌ رٹگر بریگمین نے غریبی سے لڑائی پر پچھلے 150 سال سے جاری کافی ساری ریسرچ اسٹڈیز اور ان کے نتائج پیش کیے ہیں جو کہ کافی حیرت انگیز ہیں۔ لکھاری کہتے ہیں کہ ہر کسی کو مفت پیسے ملنے چاہئیں۔ لندن میں ‌ 2009 میں ‌ ایک تجربہ کیا گیا جس میں ‌ 13 بے گھر افراد جو کہ اسکوائر مل میں ‌ باہر سردی میں ‌ زمین پر سوتے تھے، ان کے تمام جرمانے اور فیسیں معاف کردی گئیں اور ان سب کو تین ہزار پاؤنڈ مفت دیے گئے جن کے لیے ان سے کچھ کرنے کا تقاضا نہیں ‌ کیا گیا۔

ایک سوشل ورکر نے کہا کہ مجھے ان لوگوں سے کچھ زیادہ توقعات نہیں تھیں۔ لیکن ان افراد کی خواہشات کافی سادہ سی تھیں۔ جیسا کہ ٹیلیفون، ڈکشنری، آلہ سماعت وغیرہ۔ ایک سال گزر جانے کے بعد انہوں ‌ نے صرف 800 پاؤنڈ خرچ کیے تھے۔ سائمن کی مثال لیں جو بیس سال سے ہیرؤنچی تھا۔ پیسوں سے اس کی کایا پلٹ گئی۔ سائمن نے نشہ چھوڑدیا اور باغبانی کی کلاسیں لینا شروع کیں۔ وہ اپنا خیال رکھنے لگا، نہاتا دھوتا، شیو کرتا اور اب اپنے گھر واپس جانے کے لیے سوچنے لگا۔

Read more

امریکہ اور ایران کی جنگ میں کس کا مفاد ہے

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کی باتیں ‌ ہورہی ہیں۔ آج کے دن میری اور آپ کی طرح‌ کے مختلف شعبوں ‌ سے تعلق رکھنے والے عام شہریوں ‌ کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ اور ہم اس بارے میں ‌ کیا کرسکتے ہیں؟ دنیا کے تمام ممالک ایک دوسرے سے پیچیدہ تعلق میں ‌ منسلک ہیں۔ اگر ایک جگہ جنگ ہو تو اس سے پورے خطے پر ہی نہیں بلکہ ساری دنیا پر منفی اثر پڑتا ہے۔ جنگ سے فرار ہونے والے افراد سرحدیں ‌ عبور کرکے دوسرے ممالک میں ‌ پناہ لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ پڑوسی ممالک کے رہنماؤں کو اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس سے ان کی عوام پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات بہتر بنانے پر کئی سالوں ‌ سے دونوں ‌ طرف سے کافی لوگ کام کررہے تھے اور صدر اوبامہ کے دور میں ‌ ان ممالک کے درمیان معاہدہ بھی طے پایا۔ ایران نے نیوکلیئر ہتھیار بنانے روک دیے اور آئی اے ای اے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے تفصیلی جائزے کے مطابق ایران اپنے معاہدے پر قائم رہا ہے۔

Read more

آئیے جسم کے مختلف غدودوں اور ہارمونز کے بارے میں جانیں

جب ہم نارمن شفٹ ہوئے تو عائشہ نو سال کی تھی۔ ایک رات کو اس نے مجھے ٹیکسٹ کرکے کہا کہ امی جلدی سو جائیں ‌ تاکہ آپ لمبی چوڑی اور مضبوط ہوجائیں۔ یہ پڑھ کر میں ‌ بہت ہنسی تھی کہ یہ بات تو اینڈوکرنالوجسٹ کے بچے کو ہی پتا ہوسکتی ہے کہ گروتھ ہارمون سوتے میں ‌ نکلتا ہے۔اب وہ ہائی اسکول میں ‌ ہے۔ پچھلے ہفتے اس کا اینڈوکرائن سسٹم کا ٹیسٹ تھا۔ اس امتحان سے ایک دن پہلے ہماری گفتگو کچھ یوں ‌ تھی۔عائشہ؛ امی میرے خیال میں ‌ اینڈوکرائن اور نیورالوجی دونوں ‌ بہت اہم میدان ہیں۔ اب مجھے وہ کافی بہتر سمجھ میں ‌ آنے لگے ہیں۔ میں ‌ نے ان کو جتنا بھی پڑھا تو ایسا ہی لگتا ہے کہ ہر چیز کے ٹھیک سے کام کرنے کے لیے سب سے زیادہ ان دونوں ‌ نظاموں ‌ کا درست رہنا بہت اہم ہے۔

Read more

پودے اگانا اور پھر زیرزمین امیدوں کو پانی دینا

مہینے میں ‌ ایک دن میں ‌ شفا کلینک میں ‌ والنٹیر کام کرتی ہوں ‌ جہاں ‌ پر ہم وہ مریض‌ دیکھتے ہیں جن کے پاس ہیلتھ انشورنس نہ ہو یا وہ ڈاکٹر کو دیکھنا افورڈ نہ کرسکتے ہوں۔ شفا کلینک اوکلاہوما کی اسلامک سوسائٹی کا حصہ ہے لیکن اس میں ‌ کسی بھی…

Read more

اینتھریکس اور بایو دہشت گردی

ریڈ لابسٹر میرا پسندیدہ ریسٹورانٹ! ویٹر نے کریڈٹ کارڈ کی شکل کا گفٹ کارڈ چارج کرنے کے بعد کہا کہ اس میں‌ پیسے ختم ہوگئے ہیں، اس کو ٹاس کردوں یعنی کہ پھینک دوں۔ نہیں نہیں، یہ ری چارج ایبل کارڈ ہے اس کو مت پھینکو! میں‌ نے ہاتھ بڑھا کر واپس لے لیا۔ یہ…

Read more

نوٹر ڈیم کتھیڈرل کے بارے میں ‌ کچھ دلچسپ حقائق

آج 2019 کی پندرہ اپریل ہے۔ آج صبح کام پر آتے ہوئے مجھے یہ اندازہ بالکل نہیں تھا کہ نوٹر ڈیم کتھیڈرل پر مضمون لکھوں ‌ گی۔ صبح مریضوں کے آنے سے پہلے بیک کیے ہوئے آلو کے ٹکڑے کرکے اس پر مکھن ڈال کر جلدی جلدی کھا رہی تھی تو ایک صاحب نے ڈاکٹر فیم کو دیکھنے کے بعد ہال میں ‌ سے گزرتے ہوئے میرے آفس میں ‌ سر داخل کرکے کہا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں ‌ نے ابھی تک ناشتہ نہیں کیا ہے؟ میری میز پر ایک کیلا رکھا تھا تو میں ‌ نے ان سے کہا کہ آپ چاہیں ‌ تو یہ کھا سکتے ہیں۔

انہوں ‌ نے کہا نہیں نہیں میں ‌ ایسے ہی مذاق کررہا ہوں۔ پھر کہنے لگے کہ مجھے شکریہ کہنے کا اس سے پہلے موقع نہیں ملا لیکن آج سے سات سال پہلے میں ہسپتال میں ‌ داخل تھا اور آپ مجھے دیکھنے آئی تھیں۔ آپ ”کائنڈ“ اور ”نائس“ تھیں، آپ نے میرا اچھا علاج کیا اور میں بہتر ہوگیا تھا۔ میں ‌ نے ان سے کہا کہ سات سال گزر گئے اور آپ ٹھیک ٹھاک ہیں، یہ دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی۔ پھر وہ چلے گئے۔ میں ‌ نے سوچا کہ خوش مریض‌ آپ کے سامنے بتا دیتے ہیں ‌ کہ وہ خوش ہیں اور جو ناخوش ہوتے ہیں وہ انٹرنیٹ پر جاکر ساری دنیا کو بتاتے ہیں کہ وہ کتنے ناخوش ہیں۔ اس لیے ہمیں ‌ خود ہی انٹرنیٹ پر یہ بتانا ہوگا کہ ہمارے سارے مریض ناخوش نہیں ہوتے۔ اس لیے آج کے مضمون میں ‌ لکھ رہی ہوں ‌ کہ ہمارے کچھ مریض خوش بھی ہیں۔

لنچ بریک سے پہلے مریضوں ‌ کے درمیان میں نے بی بی سی پر خبر دیکھی کہ نوٹر ڈیم کتھیڈرل میں ‌ آگ لگی ہوئی ہے۔ میں ‌ نے فوراً یہ خبر اپنے بچوں ‌ کو بھیجی۔ ہم دو سال پہلے پیرس گئے تھے اور نوٹر ڈیم میں ‌ بھی گھوم پھر کر آئے تھے۔ وہاں ‌ میں ‌ نے کچھ تصویریں ‌ کھینچی تھیں جو اس مضمون کے ساتھ شامل ہیں۔ میں امید کرتی ہوں کہ اس آگ پر جلدی سے قابو پالیا جائے گا۔ امید ہے کہ اس آگ میں ‌ کسی کی جان نہیں جائے گی اور اس شاندار اور خوبصورت تاریخی عمارت کی دوبارہ مرمت ہوسکے گی۔

Read more

بچوں اور بڑوں میں ٹائپ ون ذیابیطس کی پیچیدگیاں

مجھے کچھ ہفتے پہلے یہ بات معلوم ہوئی کہ پاکستان کے بڑے شہروں ‌ میں ‌ بھی ابھی تک پیڈیاٹرک اینڈوکرنالوجسٹ نہیں ہیں۔ 2019 میں ‌ پیڈیاٹرک اینڈوکرنالوجی جرنل میں ‌ چھپنے والے جاوید اے ایٹ ایل کے آرٹیکل کے مطابق کراچی میں ‌ ذیابیطس کیٹو ایسیڈوسس کے مریضوں ‌ میں ‌ موت کی شرح‌ 5 سے لے کر 24 فیصد تک دیکھی گئی ہے یعنی کہ سو میں ‌ سے 5 سے لے کر 24 بچے تک مرجاتے ہیں۔ حالانکہ ترقی یافتہ ممالک میں ‌ یہ شرح‌ صفر اعشاریہ ایک ہے۔

یعنی کہ ایک ہزار افراد میں ‌ سے ایک کی موت ہوتی ہے۔ یہ اعداد وشمار نہایت تشویش ناک ہیں۔ ذیابیطس کے میدان میں ‌ مزید ڈاکٹرز کی ٹریننگ کی ضرورت ہے۔ خواتین ڈاکٹرز کو اس طرح‌ کام کا ماحول فراہم ہونا چاہیے جس میں ‌ وہ بغیر خوف و ہراس اپنی قوم کے لوگوں ‌ کی صحت بہتر بنانے پر کام کرسکیں۔ اس کے علاوہ ماؤں کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے تاکہ وہ اپنے معصوم بچوں ‌ کی اس پیچیدہ بیماری کو سمجھ سکیں ‌ اور اس کے علاج میں ‌ ہاتھ بٹا سکیں۔ اپنے سامنے اپنے بچوں ‌ کو مرتے دیکھنا کوئی آسان کام نہیں ‌ ہے۔

Read more

عورتوں ‌ کے خلاف خواتین کون ہیں؟

ویک اینڈ پر میں اور میری فرانسس لوکل الیکشن میں ‌ حصہ بٹا رہے تھے۔ ہماری خوش نصیبی ہے کہ یہ 2019 ہے۔ 1921 تک خواتین کو امریکہ میں ‌ ووٹ ڈالنے کا حق حاصل نہیں تھا۔ یہ حق ان خواتین نے باہر سڑکوں ‌ پر نکل کر تمام خواتین کے لیے حاصل کیا جن…

Read more
––>