اس تجربے سے ہم نے بہت جلدی سیکھ لیا تھا کہ آدمیوں کو اصلی یا نقلی خدا نہ سمجھیں، بلکہ اپنی طرح کا انسان ہی سمجھیں تو بہتر ہے۔ ہم سب کی ویب سائٹ پر رائٹ ونگ تبصرے دیکھتی رہتی ہوں۔ یہ شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دبانے والے افراد ہیں۔ ان کے خیالات کو پڑھنا کہ خواتین کا کیا کردار ہونا چاہیے یا ان کو زندگی میں کیا کرنے کا اختیار ہونا چاہیے وہ بالکل غیر ضروری اور وقت کا زیاں ہیں۔ ان میں سے کئی وہ تمام کام خود کرچکے ہیں جن پر تنقید ہو رہی ہے اسی لیے وہ اس کے ذکر سے بھڑک اٹھتے ہیں۔ اس لیے میرا گولڈن گرلز کے لیے یہی مشورہ ہے کہ آپ ان سے انفرادی مباحثے پر وقت برباد کرنے کے بجائے اپنے راستے پر چلتی رہیں۔ ان کو چھوڑ کر آگے نکل جائیں۔
جب فارغ آدمی خواتین اور بچیوں کی زندگی مشکل بناتے ہیں تو ان تمام کاموں میں رکاوٹ کھڑی ہوتی ہے جو یہ خواتین نہیں کر پائیں گی۔ اس سے یہ خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مارتے ہیں۔ ایک دن ان کو ہارٹ اٹیک ہوتا ہے اور ان کے گرد کسی میں اتنی تعلیم نہیں ہوتی کہ مدد کرسکے۔ جہاں خواتین خوف و ہراس میں زندگی گزاریں تو وہ اپنی تعلیم میں اضافہ کرنے اور اپنی پروفیشنل زندگی میں ترقی کرنے کے بجائے واقعی ایک سبزی بن جاتی ہیں جس کو اپنی اور اپنے بچوں کی بقا کے لیے چڑیل کی طرح سوتیلی ماں بننا پڑتا ہے۔
Read more