سعودی ولی عہد خودکشی پر آمادہ؟


ولی عہد اگر اتنے پر ہی چپ ہو جاتے تو نباہ کی صورت نکالی جا سکتی تھی لیکن انہوں نے ایک اور بیان میں کہہ دیا کہ ہم نے مغرب کے کہنے پر دنیا میں متشدد اسلام پھیلایا۔ سلفی مسلک، جس کے لئے سعودی عرب مرجع عقیدت کی حیثیت رکھتا ہے، اس مسلک کے پیروکاروں پر یہ بیان پڑھ کر کیا گزر گئی ہوگی اس کا اظہار لفظوں میں ممکن نہیں۔ شہزادے نے سیدھے سیدھے پورے مسلک کو ہی مغرب کی سازش قرار دے دیا۔ ان جارحانہ بیانات کے بعد مذہبی قیادت اورسعودی حکومت کے درمیان کتنا تعلق باقی رہ سکتا ہے، آپ اندازہ لگا لیجیے۔ یوں بھی محمد بن سلمان کے خوابوں کی سلطنت میں مذہبی قیادت کا بہت زیادہ رول ممکن نہیں۔ جس ملک میں مذہبی پولیس زبردستی نماز پڑھواتی رہی ہو وہاں سنیما ہال، میوزک کنسرٹ، فیشن شو، خواتین کی میراتھن جیسے معاملات میں ان افراد کی کوئی خاص ضرورت محسوس ہوتی بھی نہیں۔

سیانے کہہ گئے ہیں کہ جب کسی تنازعہ میں گھر جاؤ تو کوشش کرو کہ لڑائی کا کوئی اور محاذ نہ کھلے۔ ایک محاذ پر پوری قوت سے ڈٹ جانے والے کو جب دو محاذوں پر جوجھنا پڑتا ہے تو طاقت آدھی آدھی بٹ جاتی ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان یمن میں سعودی عرب کی عسکری مہم کو تین برس سے کمانڈ کر رہے ہیں۔ حوثیوں کو یمن کے آسمان پر چکر لگاتے بمبار طیاروں میں محمد بن سلمان کا ہی چہرہ دکھائی دیتا ہے اس لئے ریاض پر میزائل داغنے کی کوشش ہوتی رہتی ہے۔ ولی عہد کے لئے یہ جھمیلا کچھ کم نہ تھا کہ انہوں نے معتدل اسلام کی طرف مراجعت اور متشدد اسلام پھیلانے کا الزام سعودی عرب کی گردن پر لے کر سخت گیر مذہبی عناصر کو بھی دشمن بنا لیا۔ شہزادوں کی گرفتاری، اعلیٰ عہدوں پر تبدیلی، کرپشن کے نام پر سعودی کھرب پتیوں کی جامہ تلاشی نے سیکڑوں سعودی شہزادوں کی بھیڑ میں ناگ چھوڑنے کا کام کیا۔

جب حالات ایسے ہوں تو پھر ایسی خبریں بھی آنا شروع ہو ہی جاتی ہیں کہ سعودی حکومت نے شاہی پالیسیوں پر تنقید کی پاداش میں امام کعبہ کاٹویٹر اکاؤنٹ بند کر دیا۔ حیرانی چاک گریباں ہے کہ وقت کیا دن دکھا رہا ہے۔ جہاں کہا جاتا تھا کہ حرم شریف میں دیا جانے والا جمعہ کا خطبہ شاہی محل میں سنسر ہوتا ہے وہاں مذہبی قیادت اور قصر شاہی کے درمیان ایسی خلیج سوچی تک نہیں گئی ہوگی۔ اب جبکہ ولی عہد کئی محاذ کھول بیٹھے ہیں، ہر ہر محاذ پر مخالف کے حوصلے یہ سوچ کر بلند ہیں کہ یہ بندہ تو بہت جگہ پھنسا ہوا ہے۔ یہ محض اتفاق تو نہیں ہو سکتا کہ اب یمن سے حوثیوں کی میزائلیں سعودی عرب پر کچھ زیادہ گرنے لگی ہیں۔

ولی عہد محمد بن سلمان جوان ہیں، خون میں گرمی ہے، کچھ کرنے کا جوش ہے لیکن وہ جس دبنگ انداز سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں اس کے بعد مسائل پیدا ہونے طے ہیں۔ مخالفتوں کے اتنے محاذ کھولنے کے بعد اب مسئلہ یہ ہے کہ وہ کس محاذ پر زیادہ توجہ دیں؟ یہ میرا اندیشہ دور دراز ہو سکتا ہے لیکن اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ جس تیزی سے یہ تاثر قائم ہو رہا ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان سعودی عرب کو برہنگی، لادینیت اور دنیاوی کھیل تماشے کی جانب لے جانا چاہتے ہیں، اس صورتحال کے درمیان عجب نہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرائے اور کسی دل جلے شہزادے کو محمد بن عبد الوہاب جیسے کسی رجعت پسند مذہبی رہنما کا ساتھ مل جائے۔ ایسے میں وہی حالات بن سکتے ہیں جیسے سعود خاندان اور محمد بن عبدالوہاب کے درمیان مفاہمت کے وقت بنے تھے جس میں طے ہوا تھا کہ اقتدار آل سعود کو ملے گا جس کے بدلے میں شاہی حکومت عبد الوہاب کے مذہبی نظریات کی تبلیغ کرے گی۔ شاید ولی عہد محمد بن سلمان کا کوئی رقیب شہزادہ کسی محمد بن عبد الوہاب کی تلاش میں ہو۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 117 posts and counting.See all posts by malik-ashter