فرحت ہاشمی پر اعتراض اور دین کے نام پر غنڈہ گردی

اتفاق دیکھئے کہ اپنے پچھلے مضمون میں میں نے مذہبی طبقہ کی سوالوں پر بپھر جانے کی جس عادت کا تذکرہ کیا تھا اس کا عملی اظہار ہم سب کے قارئین نے جلد ہی دیکھ لیا۔ ڈاکٹر فرحت ہاشمی کے سلسلہ میں شائع مضمون پر جس قسم کے تبصرے ہوئے اسے دیکھ کر میری یہ رائے مزید پختہ ہو گئی کہ ہمارے یہاں دیندار کہلانے والے افراد کی ایک جماعت کو ہر اس ذہن سے نفرت ہے جس میں سوال پیدا ہوتے ہوں۔

مذکورہ مضمون میں اٹھائے گئے سوالوں کا جواب دینے کے بجائے سیدھے گالم گلوچ پر اتر آنا بتاتا ہے کہ دیندار طبقہ کی ایک جماعت کو تحمل اور اخلاق کا سبق سیکھنے کی شدید ضرورت ہے۔

Read more

مولوی صاحبان سوال سے کیوں چڑتے ہیں؟

چلئے اس کو بدل کر یوں کہہ دیتے ہیں کہ مذہبی طبقہ سوالوں پر کیوں جھنجلاتا ہے؟ اس سوال سے نمٹنے سے پہلے ذرا میری آپ بیتی سن لیجیے۔ ہم سب کے لئے مضامین لکھتے ہوئے یہ گنہ گار بہت سے تجربوں سے گزرا ہے۔ میری زیادہ تر تحریروں کا موضوع مسلمانوں کے سماجی معاملات ہوا کرتے ہیں اور ان میں اکثر ایسے حوالے شامل ہوتے ہیں جن کا تعلق پاکستان سے ہوتا ہے۔ اس بات پر بہت سوں کو شکوہ رہتا ہے کہ یہ بندہ بھارتی ہوکر ہمارے معاملات میں ٹانگ کیوں اڑاتا ہے؟

بیوی کے ساتھ زبردستی جنسی تعلق قائم کرنے جیسے معاملات پر مذہبی رہنماؤں کی آرائی پر تنقید کی تو فرمایا گیا کہ یہ شخص لبرل اور بے دین ہے۔ یونیورسٹی کا فزکس کا شعبہ ڈاکٹر عبد السلام سے منسوب کرنے کی مخالفت کرنے والوں کو گھیرا تو کہا گیا کہ یہ شخص قادیانی معلوم ہوتا ہے۔ بہرحال اس گالم گلوچ کے باوجود ہم سب کے بے شمار سنجیدہ اور روشن فکر قارئین تک پہنچنے کی خواہش ہمیشہ قلم اٹھانے پر مجبور کر دیتی ہے۔

Read more

مفتی منیب: ہزاروں سال نرگس اپنی۔ ۔ ۔

فواد چودھری صاحب فرماتے ہیں کہ سائنس کی مدد سے رویت ہلال کا پیشگی اور درست پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ مفتی منیب ہیں کہ چودھری صاحب کی بات پر بچے سا مچل گئے۔ کہتے ہیں باقی سب تو ٹھیک ہے لیکن علماء کی قلمرو میں دراندازی نہ کیجئے۔ سچ کہئے تو اس جملے پر قربان جانے کو جی چاہتا ہے۔ مطلب یہ کہ کسی بھی معاملے میں کچھ بھی کرو جب تک ہماری روحانی امارت سلامت ہے تب تک نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے والا معاملہ رہے گا۔

Read more

مدارس کے مہتمم، ناظم اور امیر تاعمر عہدے پر کیوں رہتے ہیں؟

مولانا سلمان حسینی ندوی مشہور عالم دین ہیں۔ لکھنؤ میں واقع درسگار دارالعلوم ندوۃ العلماء میں ایک مدت سے تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بعض معاملات میں روایتی بیانیہ سے الگ رائے رکھنے کی وجہہ سے تنازعات میں بھی گھرتے رہے ہیں۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک خط وائرل ہوا جو مولانا…

Read more

عبادت گذار مشرق، فحش مغرب سے کیا سیکھے؟

کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں نمازیوں کے قتل عام کی خبر آنے کے بعد سوال ہوا ”کیا اب دہشت گردی کو عیسائیت سے ویسے ہی جوڑا جائے گا جیسے اسلام سے جوڑا جاتا ہے؟ “ اس سوال کا جواب دیا جائے گا لیکن اس سے پہلے ذرا نیوزی لینڈ کا ایک پھیرا مار آئیے۔مساجد میں قتل عام جمعہ کو ہوا تھا، ہفتہ بھر بعد اگلے جمعہ کو ہزاروں لوگ مارے گئے لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے متاثرہ النور مسجد کے بغل میں واقع ہیگلے پارک میں اکٹھا ہو گئے۔ خود وزیراعظم سیاہ پوش ہوکر نماز جمعہ میں پہنچیں۔ جس شہر کی آبادی ہی چار لاکھ سے کم ہے وہاں کے ہزاروں شہری کام دھندہ چھوڑ کر آ گئے۔ کسی کے ہاتھوں میں اظہار یکجہتی کی تختیاں تھیں تو کوئی مارے گئے لوگوں کی تصاویر پر پھول چڑھا رہا تھا۔ ٹی وی اور ریڈیو پر جمعہ کی نماز کی اذان براہ راست نشر کی گئی۔ مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی علامت کے طور پر وزیراعظم سمیت بہت سی خواتین اپنے سروں پر اسکارف اور اوڑھنیاں ڈالے ہوئے تھیں۔ اذان ختم ہوئی تو سوگوار چہروں نے دو منٹ خاموش رہ کر متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا۔

Read more

ایک دوست کے نام بے حد نجی خط

کیسی تعجب کی بات ہے کہ تمہاری اور میری رہائش گاہ شہر کی ایک ہی بستی میں ہے لیکن ملاقات کو کئی برس ہو گئے۔ تمہارا ایس ایم ایس ذہن میں نہ جانے کتنی یادوں کی جھانکیاں لے آیا۔ سردیوں کے دن ہیں، شام بڑی تیزی سے اتر رہی ہے۔ تم اور میں جامعہ کے ہائیجینک کیفے کے سامنے پارک میں بیٹھے ہیں۔ تمہارے ہاتھوں میں میرزا ادیب کی مٹی کا دیا ہے اور تم پڑھ کر سنا رہے ہو۔ کتاب کا وہ حصہ آ پہنچا جس میں درج ہے کہ:

”ابا جی مجھے مارتے تھے تو امی بچا لیتی تھیں ایک دن میں نے سوچا اگر امی پٹائی کریں گی تو ابا جی کیا کریں گے۔ یہ دیکھنے کے لئے کیا ہوتا ہے میں نے امی کا کہنا نہ مانا، انہوں نے کہا بازار سے دہی لادو میں نہ لایا انہوں نے سالن کم دیا تو میں نے زیادہ پر اصرار کیا انہوں نے کہا پیڑھی پر بیٹھ کر روٹی کھاؤ میں نے دری بچھا لی اور اس پر بیٹھ گیا، کپڑے میلے کر لئے میرا لہجہ بھی گستاخانہ تھا مجھے ے پورا یقین تھا امی مجھے ماریں گی مگر انہوں نے یہ کیا مجھے سینے سے لگا کر کہا“ کیوں دلاور پُترا میں صدقے توں بیمار تے نئیں ”اس وقت میرے آنسو تھے کہ رکتے نہیں تھے۔ “

Read more

کیا جناح 1938 کے شیعہ سنی ٹکراؤ پر خاموش تماشائی تھے؟

مسلکی انتشار کے باب میں بھارت میں شیعہ سنی ٹکراؤ کی تاریخ بہت دلچسپ اور قابل توجہ ہے۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب محرم کے دوران لکھنؤ میں شیعہ سنی کشیدگی کی خبریں آتی تھیں۔ لکھنؤ کے اس شیعہ سنی ٹکراؤ کی تاریخ تقریبا 80 برس سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ 1938 اور 1939 کا وہ دور یاد کیجئے جب لکھنؤ میں شیعہ اور سنی ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے تھے۔ یہ محض ایک شہر کے مسلمانوں کا مسلکی جھگڑا نہیں تھا بلکہ اس کے اثرات پورے ریاستہائے متحدہ میں دیکھے گئے اور بڑھتے بڑھتے بات شمالی بھارت کے زیادہ تر حصوں تک پھیل گئی۔

ایمون مرفی نے اپنی کتاب اسلام اینڈ سیکٹیرین وائلنس ان پاکستان:دی ٹیرر ود ان میں اس دور کے مسلکی ٹکراؤ کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ اس روداد کو پڑھ کر دو باتیں حیران کرتی ہیں۔ پہلی بات مسلمانوں کا آپس میں دست و گریباں ہو جانا وہ بھی ایسی بات پر صرف تنازعہ پیدا کرنے کے لئے ہی کھڑی کی گئی۔ دوسری حیران کن بات مسلمانوں کی قیادت کا دعویٰ کرنے والے کچھ افراد کا عجیب رویہ تھی۔ ان دونوں باتوں کا تجزیہ کریں تو بہت سی چیزیں واضح ہوتی ہیں۔

Read more

کیا مسلمان اخلاقیات میں مغرب سے آگے ہیں؟

مسلمانوں کی تعلیمی بدحالی پر گفتگو ہو رہی ہو تو میری طرح آپ نے بھی بہت سے دوستوں کی زبانی یہ دلیل سنی ہوگی کہ مغرب بھلے ہی مسلم قوم کے مقابلے سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت آگے ہو لیکن مسلمان اخلاقیات میں اس سے کہیں زیادہ آگے ہیں۔ اس دلیل سے میرے دو اختلاف ہیں۔ اول تو یہ کہ سائنس اور تکنیک میں ترقی اور اخلاقیات کی بائینری بنانا غلط ہے۔ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ دو الگ الگ کمالات ہیں۔

سائنسی ترقی اور اخلاقیات کو ایک دوسرے کی ضد کے طور پر پیش کرنے سے یہ تاثر جاتا ہے کہ جدید سائنسی علوم میں پسماندگی کی تلافی اخلاقی اقدار سے ہو سکتی ہے۔ اس لئے پہلی مہربانی تو یہ کیجئے کہ جدید سائنس اور اخلاقیات کو ایک دوسرے کی ضد یا متبادل بناکر مت پیش کیجئے۔ دوسری گذارش یہ ہے کہ ہم سب کو اس بات پر پھر سے غور کرنا چاہیے کہ کیا واقعی مسلم معاشروں میں اخلاقی قدریں اپنی اعلیٰ سطح پر ہیں؟

Read more

کیا یورپ اور منگول مسلمانوں کے زوال کے ذمہ دار ہیں؟

ڈاکٹر محمد عمر چاپرا ماہر اقتصادیات ہیں۔ سعودی عر ب کے جدہ کی اسلامی ڈیولپمینٹ بینک کے اسلامی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ مسلمانوں کے زوال پر انہوں نے ایک کتاب مسلم تمدن:زوال کے اسباب اور اصلاح کی ضرورت لکھی ہے۔ کتاب میں ان وجوہات کا احاطہ…

Read more

مولوی صاحبان سر سید کو کیوں واجب القتل مانتے تھے؟

برصغیر میں گذشتہ تین صدیوں میں مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے لئے جو کارآمد اقدام ہوئے ان میں سر سید احمد خان کی کاوشیں سرفہرست ہیں۔ سر سید نے مسلمانوں کی سماجی اصلاح اور تعلیمی ترقی کے لئے کچھ بہت مفید کام کیے۔ انہوں نے تین اہم قدم اٹھائے، پہلا سائنٹفک سوسائٹی قائم کرنا، دوسرا…

Read more