کیا مسلمان اخلاقیات میں مغرب سے آگے ہیں؟

مسلمانوں کی تعلیمی بدحالی پر گفتگو ہو رہی ہو تو میری طرح آپ نے بھی بہت سے دوستوں کی زبانی یہ دلیل سنی ہوگی کہ مغرب بھلے ہی مسلم قوم کے مقابلے سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت آگے ہو لیکن مسلمان اخلاقیات میں اس سے کہیں زیادہ آگے ہیں۔ اس دلیل سے میرے دو اختلاف ہیں۔ اول تو یہ کہ سائنس اور تکنیک میں ترقی اور اخلاقیات کی بائینری بنانا غلط ہے۔ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ دو الگ الگ کمالات ہیں۔

سائنسی ترقی اور اخلاقیات کو ایک دوسرے کی ضد کے طور پر پیش کرنے سے یہ تاثر جاتا ہے کہ جدید سائنسی علوم میں پسماندگی کی تلافی اخلاقی اقدار سے ہو سکتی ہے۔ اس لئے پہلی مہربانی تو یہ کیجئے کہ جدید سائنس اور اخلاقیات کو ایک دوسرے کی ضد یا متبادل بناکر مت پیش کیجئے۔ دوسری گذارش یہ ہے کہ ہم سب کو اس بات پر پھر سے غور کرنا چاہیے کہ کیا واقعی مسلم معاشروں میں اخلاقی قدریں اپنی اعلیٰ سطح پر ہیں؟

Read more

کیا جناح 1938 کے شیعہ سنی ٹکراؤ پر خاموش تماشائی تھے؟

مسلکی انتشار کے باب میں بھارت میں شیعہ سنی ٹکراؤ کی تاریخ بہت دلچسپ اور قابل توجہ ہے۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب محرم کے دوران لکھنؤ میں شیعہ سنی کشیدگی کی خبریں آتی تھیں۔ لکھنؤ کے اس شیعہ سنی ٹکراؤ کی تاریخ تقریبا 80 برس سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ 1938 اور 1939 کا وہ دور یاد کیجئے جب لکھنؤ میں شیعہ اور سنی ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے تھے۔ یہ محض ایک شہر کے مسلمانوں کا مسلکی جھگڑا نہیں تھا بلکہ اس کے اثرات پورے ریاستہائے متحدہ میں دیکھے گئے اور بڑھتے بڑھتے بات شمالی بھارت کے زیادہ تر حصوں تک پھیل گئی۔

ایمون مرفی نے اپنی کتاب اسلام اینڈ سیکٹیرین وائلنس ان پاکستان:دی ٹیرر ود ان میں اس دور کے مسلکی ٹکراؤ کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ اس روداد کو پڑھ کر دو باتیں حیران کرتی ہیں۔ پہلی بات مسلمانوں کا آپس میں دست و گریباں ہو جانا وہ بھی ایسی بات پر صرف تنازعہ پیدا کرنے کے لئے ہی کھڑی کی گئی۔ دوسری حیران کن بات مسلمانوں کی قیادت کا دعویٰ کرنے والے کچھ افراد کا عجیب رویہ تھی۔ ان دونوں باتوں کا تجزیہ کریں تو بہت سی چیزیں واضح ہوتی ہیں۔

Read more

عزاداری کرنے والوں سے دو (تلخ) باتیں

دو ایک گزارشات تھیں۔ پہلے سوچا محرم کے شروع میں عرض کروں گا لیکن مصروفیت کے قلعے کا قیدی ہونے کی وجہ سے اس کی اجازت نہ مل سکی۔ اب جو بات کہنے کی فرصت ہوئی تو محرم کا پہلا (اور کلیدی) عشرہ ختم ہو چکا ہے۔ البتہ عزاداری کے ایام ابھی چلیں گے اس لئے وہ گزارشات کر دینا کچھ ایسا بے معنی بھی نہیں ہوگا۔ عرض یہ تھی کہ محرم کا چاند دکھائی دیتے ہی یہاں سے وہاں

Read more

اسے صرف جہیز نے نہیں مارا

25 فروری تاریخ تھی اور دن جمعرات کا تھا۔ احمد آباد کے لئے ایک عام سی صبح رہی ہو گی لیکن اس کے لئے وہ زندگی کا سب سے نازک دن تھا۔ 23 سال کی عائشہ گھر سے نکلی اور سابرمتی ریور فرنٹ پر جا کر بیٹھ گئی۔ اپنا ایک مختصر ویڈیو بنایا، ماں باپ کو فون کیا اور پھر دریا میں چھلانگ لگا دی۔ چار دن سے سوشل میڈیا پر اس کی موت کا ماتم ہے۔ کوئی جہیز کی

Read more

معرکۂ سائنس و مذہب اور غامدی صاحب کا سرسری جواب

نوجوان مذہبی عالم حسن الیاس نے اپنے استاد جاوید احمد غامدی کے سامنے یہی سوال رکھا۔ سوال کی بنیاد یہ مفروضہ تھا کہ اگر سائنس اس قدر ترقی کر لے کہ انسانی زندگی سے موت کا تصور ہی ختم ہو جائے تو کیا اس سے مذہب کی بنیاد ہی ختم نہیں ہو جائے گی؟ جواب میں غامدی صاحب نے جو کچھ فرمایا ، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر سائنس خدائی کاموں میں اس قدر مداخلت کرے گی تو

Read more

سالگرہ مبارک ہو بابا!

بابا کی نگاہیں طویل مگر ویران پلیٹ فارم پر نہ جانے کیا تلاش کر رہی ہیں۔ پھر جس چیز کی کھوج میں تھے ، وہ انہیں مل گئی۔ ایک چھوٹی سی مقفل کوٹھری کے پاس دیوار کی وجہ سے سایہ تھا لیکن بمشکل ایک آدمی لائق۔ بابا نے سامان کھولا اور کوئی پرانا اخبار نکال کر وہاں لے جا بچھایا۔ پھر مجھے حکم ہوا کہ ’جاؤ وہاں سائے میں بیٹھ جاؤ‘ ۔ میں نے ان سے کہا کہ وہ بیٹھ جائیں لیکن نہیں مانے اور پھر مجھے بٹھانے کے لئے ذرا سختی سے حکم دیا۔ میں جا کر بیٹھ گیا اور وہ خود دھوپ میں سامان کے ساتھ کھڑے رہے۔ میں سائے میں ہونے کے باوجود ان پر پڑ رہے سورج کی تپش خود میں محسوس کرتا رہا۔

Read more

شیعہ عالم کی موت اور دعائے مغفرت کا جھگڑا

مولانا کلب صادق کے انتقال کے بعد فیس بک کی دیواروں پر جو کچھ چسپاں نظر آیا اس نے بیک وقت اطمینان اور مایوسی کا احساس دے دیا۔ ادھر کچھ برسوں میں شاید پہلی مرتبہ ہوا ہوگا جب کسی عالم دین کے مرنے پر زیادہ تر لوگوں نے تعزیتی کلمات لکھنے سے پہلے یہ نہیں دیکھا کہ مرحوم کس مسلک سے تھے؟ ورنہ اپنے یہاں عالم یہ ہے کہ اگر آپ ہمارے مکتب فکر سے نہیں ہیں تو آپ کی ہر علمی ریاضت اور خدمت ہماری نظروں میں خاک ہے۔ کسی بھی مسلمان کو روک کر پوچھئے ’ذرا کچھ بڑے علمائے دین کے نام تو بتاؤ‘ تو شاید ہی کوئی ایسا دیوانہ ملے جس کے جواب میں غیر مسلک کا کوئی عالم شامل ہو۔

Read more

اگر پروین شاکر زندہ ہوتی!

پروین شاکر اگر زندہ ہوتی تو آج اپنی سالگرہ منا رہی ہوتی۔ اس کی عمر اڑسٹھ برس ہو چکی ہوتی اور شاید اس کے بالوں کا پیشتر حصہ چاندی جیسا ہو گیا ہوتا۔ وہ ایک باوقار اور بہت خوبصورت خاتون ہوتی جسے دیکھ کر اس کے مجھ ایسے ’نوجوان‘ پروانے جل جل اٹھا کرتے۔ شاید اس کا فیس بک پر کوئی اکاؤنٹ ہوتا جس میں آئے روز اس کے شائقین کی فرینڈ ریکویسٹ آیا کرتیں اور وہ ان میں سے چند ایک کو ایڈ کر لیتی اور باقی سارے قبولیت کے دن کا انتظار کیا کرتے۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ اس کا کوئی فیس بک پیج ہوتا جس پر لاکھوں لوگ اسے فالو کرتے۔ وہ سیول سرونٹ تھی لیکن اب تک کسی اعلی عہدے سے سبکدوش ہو چکی ہوتی۔

Read more

نفرت پسند کرتے ہیں شیعہ اور سنی؟

مقرر شعلہ بیاں آصف اشرف جلالی نے اپنی ایک تقریر کے دوران کہا ”جب حضرت فاطمہ حضرت ابوبکر سے فدک مانگ رہی تھیں تو خطا پر تھیں لیکن جب ان کے سامنے حدیث آ گئی تو انہوں نے سر تسلیم خم کر دیا۔“ اس تقریر کے سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی تلاطم مچ گیا۔ شیعہ سنی ہر ایک مکتب فکر کے لوگوں نے ان جملوں کو حضرت فاطمہ کی شان میں گستاخی قرار دیا اور کارروائی کے مطالبے ہونے

Read more

یادوں کی کہانی کے کچھ ورق

( ’جنوں میں کیا کیا کچھ‘ عنوان سے مضامین کا مجموعہ ترتیب دیا تو احباب کی فرمائش ہوئی کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں گزارے طالب علمی کے شب و روز کی بھی کچھ روداد سپرد قلم ہو۔ اتنی بہت سی باتوں میں سے کیا لکھوں اور کس کو چھپا لو؟ اس سوال نے خوب ستایا۔ خیر جو کچھ لکھا اس میں سے کچھ حصے ہم سب کے قارئین کی نذر ہیں )

اجنبی کیمپس:

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بطور طالب علم میں نے پانچ برس گزارے۔ پہلے ماس میڈیا میں آنرس کیا اور پھر ماس کمیونی کیشن میں ماسٹرز۔ نیا نیا داخل ہوا تو ایک جھجک تھی۔ قصبہ کے سینئر سیکنڈری اسکول سے نکل کر سیدھا یونیورسٹی کیمپس آیا تھا، اس لئے سب کچھ خواب سا لگتا تھا۔ یہاں سے وہاں تک پھیلا ہوا کیمپس اور اس میں پڑھنے والے ہزاروں نوجوانوں کی چہل پہل میرے لئے اجنبی دنیا تھی۔ شعبہ کے اساتذہ میں پروفیسر رحمان مصور صاحب بھی شامل تھے۔ جامعہ کے اجنبی ماحول میں وہ پہلی شخصیت تھی جس نے میرے اجنبیت کے احساس کو کم کیا۔ کچھ تو ان کی شفقت اور کچھ میری جسارت کہئے کہ میں لیکچر کے علاوہ بھی ان کے چیمبر میں پہنچ جاتا۔ اس طرح ان کی علمی گفتگو سے زیادہ فیض اٹھانے کی راہ نکل آئی۔

Read more

آیا صوفیہ: میں ایسا کیوں ہوں؟

دیکھو، ویسے تو میں سب لوگوں جیسا ہی ہوں لیکن بس مزاج تھوڑا الگ سا ہے۔ کیا الگ ہے؟ اب کیسے بتاؤ کیا الگ ہے۔۔۔ چلو مثال دے کر سمجھاتا ہوں۔ جیسے کہ جب تک آپ میرے موقف کی تائید کرتے رہیں گے تب تک آپ ایماندار بھی ہیں اور حق گو بھی۔ جیسے ہی آپ وہ موقف اختیار کریں گے جو مجھے ناپسند ہے، تو مجھے یہ حق حاصل ہوگا کہ میں آپ کو جیسے چاہے القابات سے نواز

Read more

مغرب، مذہبی آزادی اور مفتی صاحبان

الزبتھ دوم برطانیہ کی ملکہ ہیں۔ تاجدار برطانیہ ہونے کی حیثیت ان کو جو القاب و اختیارات حاصل ہیں ان میں سے ایک ڈفینڈر آف فیتھ بھی ہے۔ اردو میں اس کا ترجمہ ’مدافع ایمان‘ کے آس پاس بنتا ہے۔ یہ لقب دراصل چرچ آف انگلینڈ کا منتظم اعلی ہونے کا اظہار ہے۔ گویا جس طرح سعودی بادشاہ حرمین الشریفین کے خادم ہوتے ہیں ویسے ہی برطانوی تاجدار چرچ آف انگلینڈ کا متولی ہوتا ہے۔ وہی برطانیہ جس کی ملکہ

Read more

کوئی اپنی جان کیوں لے لیتا ہے؟

وشال بھاردواج کی فلم ’سات خون معاف‘ کا ایک ڈائیلاگ تھا، ”دنیا کی ہر بیوی نے کبھی نہ کبھی تو یہ ضرور سوچا ہوگا کہ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے شوہر سے چھٹکارا کیسے پاؤں؟“ یہ تو خیر فلمی ڈائیلاگ تھا اس لئے اس کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں لیکن یہ ضرور سنجیدگی سے لئے جانے لائق بات ہے کہ دنیا کا ہر پانچواں آدمی زندگی میں ایک نہ ایک بار آتم خودکشی کے متبادل پر غور ضرور کرتا ہے۔ ایک کامیاب نوجوان فلم اداکار کی خودکشی نے یہ بھی ظاہر کر دیا کہ بظاہر نارمل لگنے والے لوگ بھی یہ انتہائی قدم اٹھا سکتے ہیں۔

خودکشی کرنے والوں کے بارے میں ایک غلط فہمی یہ ہوتی ہے کہ چونکہ یہ لوگ جینا نہیں چاہتے اس لئے اپنی جان لے لیتے ہیں۔ ماہرین کی رائے اس سے الٹ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خودکشی کرنے والے زیادہ تر لوگ زندہ رہنا چاہتے ہیں لیکن اس زندگی سے نجات چاہتے ہیں جو وہ گزار رہے ہوتے ہیں۔ خودکشی کرنے والوں میں اگر یہ آس پیدا ہو جائے کہ ان کی اذیت کا حل موت کے علاوہ بھی کہیں موجود ہے تو شاید وہ اپنی جان لینے کی طرف نہ جائیں۔

Read more

وبا کے موسم میں عرفان خان، رشی کپور، آصف فرخی اور گلزار دہلوی کا ماتم

وبا کے خمار میں ڈوبی موت کا رقص اپنے جوبن پر ہے۔ یہاں سے وہاں تک خوف کی چھتری تنی ہوئی ہے۔ جو زندہ ہیں وہ اس خوف میں مرے جا رہے ہیں کہ کہیں اجل ان کو نہ آ پکڑے اور جو اس وبا سے ملک عدم کے راہی ہوئے وہ شاید اس آس میں پھر سے زندگی کی تمنا کرتے ہوں گے کہ اب کے ایسے حالات میں مریں گے جن میں کم از کم اتنا تو ہو کہ لحد کی دہلیز تک رخصت کرنے کے لئے سارے احباب آ سکیں۔

جب زندگی کے چراغ کی لو بے یقینی کے جھکڑ میں بار بار جھک کر زمین سے لگی جا رہی ہو تو فیصلہ مشکل ہو جاتا ہے کہ جانے والوں کا ماتم کریں یا خود کی خیر منانے میں لگ جائیں؟ کیسے کیسے فنکار اس نفسانفسی میں ہی قریب سے اٹھ کر چلے گئے لیکن کس کا زور تھا جو ہاتھ پکڑ کر روک لیتا؟ ان سب کی موت وبا سے نہ ہوئی ہو لیکن حالات نے ان کے جانے کا زخم کچھ اور گہرا ضرور کر دیا۔ عرفان خان نے آنکھیں بند کیں تو کتنی ہی آنکھیں ویران ہو گئیں۔

Read more

ارطغرل سے عقیدت اور عثمانی سلطنت کا دوسرا چہرہ

برصغیر میں ترک ڈرامے ارطغرل کی مقبولیت دیکھ کر یاد آیا کہ عثمانی سلطنت سے ہماری محبت کوئی نئی بات تھوڑی ہے۔ اس سلطنت (جسے خلافت بھی کہا جاتا ہے ) کو بچائے رکھنے کی کوشش میں اپنے کئی بزرگوں نے خوب جان کھپائی ہے۔ جس وقت ہم پر انگریزوں کا قبضہ تھا اور عوام میں آزادی کے لئے زبردست اضطراب تھا اس وقت مسلمانوں کی قیادت کا ایک حصہ اسی سلطنت عثمانیہ کی فکر میں گھلا جا رہا تھا۔

Read more

یوم مادر: امی کی کچھ باتیں

وہ آج سے 14 برس پہلے کی ایک گرم دوپہر تھی جب میں تعلیم کی غرض سے گاؤں چھوڑ کر دہلی کے لئے روانہ ہوا۔ بابا مجھے چھوڑنے کے لئے ساتھ آ رہے تھے۔ دو بھائیوں میں سے ایک بیرون ملک تھے اور دوسرے دہلی میں ہی ملازم تھے اس لئے مجھے رخصت کرنے کا ذمہ امی اور دو بہنوں پر تھا۔ صبح سے ہی دونوں بہنیں اور امی میرے سفر کی تیاریوں میں لگ گئے۔ بابا میرے لئے ضرورت کی چیزیں خرید لائے تھے جنہیں امی میرے لئے تیار کیے گئے بڑے سے بیگ میں رکھ رہی تھیں۔

Read more

جواد نقوی کا اعتدال اور شیعی جذبات کا ابال

آپ میں سے بہتوں کی طرح میں نے بھی یہ شعر کئی بار سنا تھا:
زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلمان ہوں میں

مذہبی حلقوں میں یہ شعر علامہ جواد نقوی پر ایک دم فٹ بیٹھتا ہے۔ ان کی شیعی وضع قطع کے سبب دیگر مکاتب فکر میں ان کی شناخت شیعہ عالم کے طور پر ہی ہے لیکن شیعوں کا ایک حصہ ہے کہ انہیں اپنا ماننا تو دور غیروں کی صفوں کا ایجنٹ سمجھتا ہے۔ تو آخر جواد نقوی نے کیا کیا ہے؟

Read more

مذہبی معاملات میں جذباتی باتیں کیوں ہوتی ہیں؟

مان لیجیے کہ میں اور آپ کسی بات پر بحث کر رہے ہیں۔ آپ کا موقف ہے کہ ہرن زمین پر چلتا ہے اور میرا کہنا ہے کہ وہ ہوا میں پرواز کرتا ہے۔ اب اس بحث کو کرنے کی تین صورتیں ہیں۔ پہلی یہ کہ ہم دونوں کے دلائل کی بنیاد منطقی ہو۔ دوسری یہ کہ ہم دونوں میں سے کسی ایک کے دلائل منطقی اور دوسرے کے جذباتی ہوں اور تیسری ممکنہ صورت یہ ہے کہ ہم دونوں

Read more

عرفان خان: بندہ خدا بننا چاہتا ہے

اپنے کسی پچھلے مضمون میں اس طالب علم نے سوال اٹھایا تھا کہ ہم لوگ اللہ کو آزمانے پر کیوں تلے ہوئے ہیں؟ اس وقت یہ بات اس پس منظر میں عرض کی گئی تھی کہ بہت سے دیندار کورونا وائرس کے خطرے کے باوجود مساجد میں نماز ادا کرنے کی ضد فرما رہے تھے۔ وقت گزرا اور کورونا سے دنیا بھر میں لاکھوں جنازے اٹھے تو زیادہ تر دینداروں کو عقل آ گئی۔ البتہ جن کا جذبہ ایمانی ذرا

Read more

کورونا انسانوں کو سلام کرتا ہے

اس کرہ ارض پر انسان کی تاریخ دائمی جد و جہد کی رہی ہے۔ یہ عالم رنگ و بو جس نے نہ جانے کتنے جانداروں کو صفحہ ہستی سے فنا ہو جاتے دیکھا، اس بات پر حیران ہے کہ پانچ۔ سات فٹ کا یہ انسان نامی دوپایہ اپنے وجود کو درپیش کتنے ہی خطرات سے ٹکراتا ہوا آج تک فنا سے محفوظ ہے۔ کیسی حیرت ہے کہ بقائے وجود کی جو جنگ ڈائنوسار جیسے عظیم الجثہ جاندار تک نہ جیت پائے اس میں حضرت انسان ہمیشہ کامیاب ٹھہرا۔ کبھی غور فرمایا کیسے؟

Read more

کورونا عذاب، آزمائش یا خدائی تنبیہ کیوں نہیں ہے؟

بھائی لوگ اصرار کر رہے تھے کہ کورونا کو اللہ کا عذاب مان لو۔ میں نے عرض کیا کہ یہ طبی بحران ہے۔ فرمانے لگے چلو اللہ کی طرف سے اپنے بندوں کو تنبیہ ہی مان لو۔ میں نے پھر وہی عرض کیا کہ یہ ایک طبی بحران ہے۔ پھر اصرار ہوا کہ چلو یہ تو مان ہی لو کہ یہ اللہ کی طرف سے اپنے بندوں کی آزمائش ہے۔ میں نے پھر وہی بات دہرا دی کہ یہ ایک

Read more

ہم اللہ کو کیوں آزمانا چاہتے ہیں؟

روایات میں آیا ہے کہ ایک بار شیطان نے حضرت عیسی سے کہا کہ ‘تمہیں تو اپنے اللہ پر اتنا بھروسہ ہے تو پھر تم وہ سامنے جو اونچا سا پہاڑ ہے اس پر سے چھلانگ کیوں نہیں لگا دیتے؟ اللہ تمہیں بچا لے گا۔’ حضرت عیسی نے شیطان کو جواب دیا کہ ‘دور ہو مردود، یہ میرا کام نہیں ہے کہ میں اپنے خدا کو آزماؤں بلکہ یہ اس کا کام ہے کہ وہ اپنے بندوں کو آزمائے۔’ جاوید

Read more

کورونا وائرس: مشہور مسلمان علما کے ارشادات

2018 کا آخری دن تھا اور دنیا 2019 کا سورج نکلنے کی مشتاق تھی۔ مولانا طارق جمیل کنیڈا کے تبلیغی سفر سے پلٹے ہی تھے کہ سینے میں تکلیف محسوس ہوئی۔ احباب فوری طور پر لاہور کے جوہر ٹاؤن میں واقع ایک نجی اسپتال میں لے کر بھاگے۔ ڈاکٹروں نے تشخیص کی کہ دل کو خون فراہم کرنے والے شریان میں رکاوٹ آ گئی ہے۔ یہ صورت جان لیوا ہو سکتی تھی اس لئے اس رکاوٹ کو کھولنے کے لئے

Read more

کیا کورونا وائرس اللہ کا عذاب ہے؟

دارالعلوم دیوبند سے شائع ہونے والے رسالے ماہنامہ دارالعلوم کے ستمبر 2016 کے شمارے میں مولانا محمد شفیق الرحمان علوی صاحب کا مضمون ’گناہ۔ پریشانیوں کا سبب‘ عنوان سے شائع ہوا ہے۔ مضمون کا ایک پیراگراف ملاحظہ ہو:

”ہر آدمی جانتا ہے کہ ہراچھے یا بُرے عمل کا رد عمل ضرور ہوتاہے، دنیا میں پیش آنے والے حالات پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی چیز انسان کے اچھے یا بُرے اعمال ہیں جن کا براہِ راست تعلق اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور ناراضی سے ہے۔ کسی واقعہ اور حادثہ کے طبعی اسباب جنہیں ہم دیکھتے، سُنتے اور محسوس کرتے ہیں، وہ کسی اچھے یا برے واقعہ کے لیے محض ظاہری سبب کے درجہ میں ہیں۔ سادہ لوح لوگ حوادث وآفات کو صرف طبعی اورظاہری اسباب سے جوڑتے اورپھراِسی اعتبار سے اُن حوادث سے بچاؤ کی تدابیر کرتے ہیں۔

Read more

یوتھینیزیا: مردہ جسم پر زندہ سر

یہ 23 اگست 1968 کی بات ہے۔ بحری جہازوں پر کام کرنے والے 25 سالہ نوجوان رامون سمپدرو نے شمالی اسپین میں واقع اپنے ساحلی گاؤں میں ایک چٹان سے سمندر میں چھلانگ لگائی۔ پانی کی گہرائی سمجھنے میں غلطی ہوئی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کا سر سمندر کے فرش سے ٹکرایا۔ چوٹ ایسی تھی کہ اس کا پورا کا پورا دھڑ مفلوج ہو کر رہ گیا۔ اس حادثہ کے بعد سمپدرو 29 برس اس حالت

Read more

زبانیں مر رہی ہیں

اکثر صبح کو میرا اسمارٹ فون مجھے یاد دلاتا ہے کہ آج کس چیز کا عالمی دن ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مجھ جیسے کم علم کو بھی کچھ تاریخیں اس طرح یاد ہو گئی ہیں کہ ان میں کون سا دن منایا جاتا ہے۔ فروری کے تیسرے ہفتے کا آغاز ایسے ہی ایک دن سے ہوتا ہے جسے مادری زبان کا عالمی دن کہتے ہیں۔ میرے جیسے نہ جانے کتنے کم علم ہوں گے جنہیں اس دن

Read more

ہم اتنے منافق کیوں ہیں؟

ایک ہی دن میں دو ایسے حادثے ہوئے کہ دماغ جھنجھنا اٹھا۔ صبح میں میرے دوست حافظ صاحب باتوں باتوں میں فرمانے لگے کہ ان کے سنی اکثریتی محلے میں شیعوں نے امام باڑہ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن سنیوں نے بروقت روک دیا۔ حافظ صاحب بظاہر مسلکی عصبیت میں مبتلا نہیں لگتے، البتہ بنام مذاق شیعوں کو چڑانا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ میں نے جو امام باڑہ نہ بننے دینے والی بات سنی تو جسم میں خون

Read more

نصرت جہاں کا سندور اور زائرہ وسیم کی دین داری

سماج کے مذہبی اور لبرل طبقوں کو اگر آپ دو فکری انتہائیں مان لیں اور اس بات کا موازنہ کریں کہ ان میں سے اپنے نظریات پر کون زیادہ ثابت قدم ہے تو یقین مانئے آپ کو یہ دونوں ہی کبھی نہ کبھی مایوس ضرور کریں گے۔ اپنے ہی طے شدہ اصولوں سے انحراف بھی آپ کو دکھائی دے جائے گا اور آپ یہ بھی پائیں گے کہ ایک معاملے میں جس بات کو دلیل بنایا گیا کسی اور معاملے

Read more

ٹی وی اور سی سی ٹی وی حرام ہونے کے فتوے

اسلامی فقہ کی جانکاری رکھنے والے افراد سد ذریعہ کے نظریے سے خوب واقف ہیں۔ اس نظریے کی تفصیل بہت طولانی ہے اس لئے نہ جاننے والے اسے جاوید احمد غامدی کے ان لفظوں سے آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ ”اگر کسی چیز میں اگر دوسری چیز تک لے جانے کی کوئی طاقت موجود ہے تو آپ اس کو پہلے مرحلے میں روک دیں، یعنی اس کا راستہ بند کر دیں۔ “ فقہا نے اس اصول پر بہت سی

Read more

پروفیسر عبید صدیقی: منہ پھٹ، باغی یا آزاد منش؟

تقریبا پانچ ماہ پہلے پروفیسر عبید صدیقی نے سوشل میڈیا پر فرحت احساس کا ایک شعر شیئر کیا۔ میں رونا چاہتا ہوں، خوب رونا چاہتا ہوں میں پھر اس کے بعد گہری نیند سونا چاہتا ہوں میں 9جنوری کی ایک سرد اور دھندلی صبح وہ ابدی نیند سو گئے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ، جہاں انہوں نے بطور استاد لمبا عرصہ گزارا، اسی کے قبرستان میں انہیں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ایک عجیب سی سیمابیت اور تیزی عبید صاحب کی شخصیت

Read more

برابری ثابت کرنے کے لئے عورتوں کو ریپ کرنے پڑیں گے؟

رونا اس بات کا نہیں کہ یہ بات کہی گئی بلکہ ماتم اس کا ہے یہ کہنے والا وہ ہے جس کی پہچان قلم کار کے طور پر ہے۔ پاکستان کے اسکرپٹ رائٹر خلیل الرحمان قمر فرماتے ہیں کہ عورتوں کو مردوں کی برابری کرنی ہے تو پہلےکسی مرد کا گینگ ریپ کرکے دکھائیں۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ "(عورتیں) کسی بس کو لوٹیں، کسی شخص کو اغوا کریں، اس کے ساتھ گینگ ریپ کریں، تب مجھے معلوم ہو سکے

Read more

ضرورت ہے! بھارتی مسلمانوں کے لئے ایک حسن نثار کی

پاکستان کی جو چیزیں بھارت والوں کو بہت پسند ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں: یکم: خواتین کے لباس کا اسٹائل دوم: یہ گلیاں یہ چوبارہ ٹائپ سیریئل سوم: فواد خان اور ماہرہ خان ٹائپ فلمی ستارے چہارم: حسن نثار چونکہ شروع کی تین چیزوں کی ہمیں کچھ زیادہ سمجھ بوجھ نہیں اس لئے چوتھی چیز پر بات کئے لیتے ہیں۔ کبھی فرصت ہو تو دیکھئے گا کہ یو ٹیوپ پر حسن نثار کے ویڈیو لائک کرنے والوں میں کتنے بھارت

Read more

کیا عزاداری کر کے کربلا کا حق ادا ہو گیا؟

ہر سال محرم کا چاند نظر آتے ہی دنیا بھر میں فرش عزا بچھا دی جاتی ہے۔ مرثیہ، نوحہ، سلام، مجلس اور ماتم کی صدائیں فضاؤں میں گونجنے لگتی ہیں اور لوگ امام حسین اور ان کے ساتھیوں کی قربانی کی یاد میں کاروبار دنیا کو بھلا دیتے ہیں۔ یہ وہ عمل ہے جو پچھلی کئی صدیوں سے ہر سال ہوتا چلا آ رہا ہے لیکن لوگوں کے دلوں میں اس غم کی شدت جیسے کم ہی نہیں ہو رہی۔ کیسی حیرتناک بات ہے کہ خطیب منبر سے جو مصائب بیان کرتا ہے اس کی ایک ایک تفصیل ہمیں پہلے سے معلوم ہوتے ہوئے بھی جیسے جیسے ذکر مصیبت آگے بڑھتا ہے سننے والوں کی کیفیت بدلتی جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے سامعین اس واقعہ کو پہلی بار سن رہے ہوں۔ یہی وجہہ ہے کہ ہزار برس سے زیادہ بیت جانے کے باوجود یہ سانحہ پچھلے سال وقوع پذیر ہوا معلوم ہوتا ہے۔

Read more

عزاداری پر مسلکی رنگ کیوں چڑھ گیا؟

میرا تعلق جس بستی سے ہے وہاں ایک صاحب ہوا کرتے تھے۔ دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے اور سنی اکثریتی محلے نئی بستی کی سرگرم شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ ہر چند کہ بستی کے اہل تشیع سے ان کی سلام دعا تھی لیکن شیعہ طبقہ میں عام تاثر یہی تھا کہ یہ صاحب دل ہی دل میں شیعوں سے چڑتے ہیں۔ ہم نے بھی کئی ایک سے یہی کچھ سنا اور ان کے بارے میں مخصوص تاثر قائم کر لیا۔ ایک بار محرم میں بستی میں جو تعزیتی بینر لگے ان پر کربلا سے متعلق اشعار درج کیے گئے۔ ایسے ہی ایک بینر پر میں نے یہ قطعہ پڑھا

Read more

فرحت ہاشمی پر اعتراض اور دین کے نام پر غنڈہ گردی

اتفاق دیکھئے کہ اپنے پچھلے مضمون میں میں نے مذہبی طبقہ کی سوالوں پر بپھر جانے کی جس عادت کا تذکرہ کیا تھا اس کا عملی اظہار ہم سب کے قارئین نے جلد ہی دیکھ لیا۔ ڈاکٹر فرحت ہاشمی کے سلسلہ میں شائع مضمون پر جس قسم کے تبصرے ہوئے اسے دیکھ کر میری یہ رائے مزید پختہ ہو گئی کہ ہمارے یہاں دیندار کہلانے والے افراد کی ایک جماعت کو ہر اس ذہن سے نفرت ہے جس میں سوال پیدا ہوتے ہوں۔

مذکورہ مضمون میں اٹھائے گئے سوالوں کا جواب دینے کے بجائے سیدھے گالم گلوچ پر اتر آنا بتاتا ہے کہ دیندار طبقہ کی ایک جماعت کو تحمل اور اخلاق کا سبق سیکھنے کی شدید ضرورت ہے۔

Read more

مولوی صاحبان سوال سے کیوں چڑتے ہیں؟

چلئے اس کو بدل کر یوں کہہ دیتے ہیں کہ مذہبی طبقہ سوالوں پر کیوں جھنجلاتا ہے؟ اس سوال سے نمٹنے سے پہلے ذرا میری آپ بیتی سن لیجیے۔ ہم سب کے لئے مضامین لکھتے ہوئے یہ گنہ گار بہت سے تجربوں سے گزرا ہے۔ میری زیادہ تر تحریروں کا موضوع مسلمانوں کے سماجی معاملات ہوا کرتے ہیں اور ان میں اکثر ایسے حوالے شامل ہوتے ہیں جن کا تعلق پاکستان سے ہوتا ہے۔ اس بات پر بہت سوں کو شکوہ رہتا ہے کہ یہ بندہ بھارتی ہوکر ہمارے معاملات میں ٹانگ کیوں اڑاتا ہے؟

بیوی کے ساتھ زبردستی جنسی تعلق قائم کرنے جیسے معاملات پر مذہبی رہنماؤں کی آرائی پر تنقید کی تو فرمایا گیا کہ یہ شخص لبرل اور بے دین ہے۔ یونیورسٹی کا فزکس کا شعبہ ڈاکٹر عبد السلام سے منسوب کرنے کی مخالفت کرنے والوں کو گھیرا تو کہا گیا کہ یہ شخص قادیانی معلوم ہوتا ہے۔ بہرحال اس گالم گلوچ کے باوجود ہم سب کے بے شمار سنجیدہ اور روشن فکر قارئین تک پہنچنے کی خواہش ہمیشہ قلم اٹھانے پر مجبور کر دیتی ہے۔

Read more

مفتی منیب: ہزاروں سال نرگس اپنی۔ ۔ ۔

فواد چودھری صاحب فرماتے ہیں کہ سائنس کی مدد سے رویت ہلال کا پیشگی اور درست پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ مفتی منیب ہیں کہ چودھری صاحب کی بات پر بچے سا مچل گئے۔ کہتے ہیں باقی سب تو ٹھیک ہے لیکن علماء کی قلمرو میں دراندازی نہ کیجئے۔ سچ کہئے تو اس جملے پر قربان جانے کو جی چاہتا ہے۔ مطلب یہ کہ کسی بھی معاملے میں کچھ بھی کرو جب تک ہماری روحانی امارت سلامت ہے تب تک نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے والا معاملہ رہے گا۔

Read more

مدارس کے مہتمم، ناظم اور امیر تاعمر عہدے پر کیوں رہتے ہیں؟

مولانا سلمان حسینی ندوی مشہور عالم دین ہیں۔ لکھنؤ میں واقع درسگار دارالعلوم ندوۃ العلماء میں ایک مدت سے تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بعض معاملات میں روایتی بیانیہ سے الگ رائے رکھنے کی وجہہ سے تنازعات میں بھی گھرتے رہے ہیں۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک خط وائرل ہوا جو مولانا سلمان حسینی کی طرف سے ہے اور ندوۃ العلماء کے ناظم مولانا رابع حسنی ندوی کو لکھا گیا ہے۔ خط میں مولانا رابع حسنی سے

Read more

عبادت گذار مشرق، فحش مغرب سے کیا سیکھے؟

کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں نمازیوں کے قتل عام کی خبر آنے کے بعد سوال ہوا ”کیا اب دہشت گردی کو عیسائیت سے ویسے ہی جوڑا جائے گا جیسے اسلام سے جوڑا جاتا ہے؟ “ اس سوال کا جواب دیا جائے گا لیکن اس سے پہلے ذرا نیوزی لینڈ کا ایک پھیرا مار آئیے۔مساجد میں قتل عام جمعہ کو ہوا تھا، ہفتہ بھر بعد اگلے جمعہ کو ہزاروں لوگ مارے گئے لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے متاثرہ النور مسجد کے بغل میں واقع ہیگلے پارک میں اکٹھا ہو گئے۔ خود وزیراعظم سیاہ پوش ہوکر نماز جمعہ میں پہنچیں۔ جس شہر کی آبادی ہی چار لاکھ سے کم ہے وہاں کے ہزاروں شہری کام دھندہ چھوڑ کر آ گئے۔ کسی کے ہاتھوں میں اظہار یکجہتی کی تختیاں تھیں تو کوئی مارے گئے لوگوں کی تصاویر پر پھول چڑھا رہا تھا۔ ٹی وی اور ریڈیو پر جمعہ کی نماز کی اذان براہ راست نشر کی گئی۔ مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی علامت کے طور پر وزیراعظم سمیت بہت سی خواتین اپنے سروں پر اسکارف اور اوڑھنیاں ڈالے ہوئے تھیں۔ اذان ختم ہوئی تو سوگوار چہروں نے دو منٹ خاموش رہ کر متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا۔

Read more

ایک دوست کے نام بے حد نجی خط

کیسی تعجب کی بات ہے کہ تمہاری اور میری رہائش گاہ شہر کی ایک ہی بستی میں ہے لیکن ملاقات کو کئی برس ہو گئے۔ تمہارا ایس ایم ایس ذہن میں نہ جانے کتنی یادوں کی جھانکیاں لے آیا۔ سردیوں کے دن ہیں، شام بڑی تیزی سے اتر رہی ہے۔ تم اور میں جامعہ کے ہائیجینک کیفے کے سامنے پارک میں بیٹھے ہیں۔ تمہارے ہاتھوں میں میرزا ادیب کی مٹی کا دیا ہے اور تم پڑھ کر سنا رہے ہو۔ کتاب کا وہ حصہ آ پہنچا جس میں درج ہے کہ:

”ابا جی مجھے مارتے تھے تو امی بچا لیتی تھیں ایک دن میں نے سوچا اگر امی پٹائی کریں گی تو ابا جی کیا کریں گے۔ یہ دیکھنے کے لئے کیا ہوتا ہے میں نے امی کا کہنا نہ مانا، انہوں نے کہا بازار سے دہی لادو میں نہ لایا انہوں نے سالن کم دیا تو میں نے زیادہ پر اصرار کیا انہوں نے کہا پیڑھی پر بیٹھ کر روٹی کھاؤ میں نے دری بچھا لی اور اس پر بیٹھ گیا، کپڑے میلے کر لئے میرا لہجہ بھی گستاخانہ تھا مجھے ے پورا یقین تھا امی مجھے ماریں گی مگر انہوں نے یہ کیا مجھے سینے سے لگا کر کہا“ کیوں دلاور پُترا میں صدقے توں بیمار تے نئیں ”اس وقت میرے آنسو تھے کہ رکتے نہیں تھے۔ “

Read more

کیا یورپ اور منگول مسلمانوں کے زوال کے ذمہ دار ہیں؟

ڈاکٹر محمد عمر چاپرا ماہر اقتصادیات ہیں۔ سعودی عر ب کے جدہ کی اسلامی ڈیولپمینٹ بینک کے اسلامی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ مسلمانوں کے زوال پر انہوں نے ایک کتاب مسلم تمدن:زوال کے اسباب اور اصلاح کی ضرورت لکھی ہے۔ کتاب میں ان وجوہات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو مسلمانوں کے زوال کا سبب بنے۔ اس کتاب میں کئی اہم سوالات کی جانب اشارہ کیا گیا ہے

Read more

مولوی صاحبان سر سید کو کیوں واجب القتل مانتے تھے؟

برصغیر میں گذشتہ تین صدیوں میں مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے لئے جو کارآمد اقدام ہوئے ان میں سر سید احمد خان کی کاوشیں سرفہرست ہیں۔ سر سید نے مسلمانوں کی سماجی اصلاح اور تعلیمی ترقی کے لئے کچھ بہت مفید کام کیے۔ انہوں نے تین اہم قدم اٹھائے، پہلا سائنٹفک سوسائٹی قائم کرنا، دوسرا تہذیب الاخلاق نامی رسالے کا اجرا اور تیسرا مدرسۃ العلوم بنانا جو آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ سر سید

Read more

مسلمان کس خوش فہمی میں ہیں؟

کوئی زمانہ ہوا کرتا ہوگا جب انسانی معاشرے میں قوت بازو، اچھا نشانہ اور جنگی چالیں زندگی کی گاڑی کو آگے بڑھانے اور ترقی کی بنیاد ہوا کرتے ہوں گے۔انسانی زندگی کا مسکن گپھائیں ہوا کرتی تھیں اور کاروبار زندگی کے نام پر دو وقت کی غذا کا سامان مہیا کرنا ہی سب کچھ تھا لیکن جیسے جیسے انسان نے تمدن کے زینے چڑھنا شروع کئے اور انسان کہلانے والا یہ دوپایہ عقل کا استعمال کرکے دریاؤں کا سینہ چیرنے،

Read more

بیوی کے ریپ کا شرعی جواز اور معصوم مفتی۔۔۔ایک وضاحت

اسلام کی جو تھوڑی بہت سمجھ مجھے ہے اس کے مطابق یہ مذہب جن فکری بنیادوں پر کھڑا ہے ان میں تدبر اور استدلال سب سے اہم ہیں۔ نہ یہ اپنے ماننے والوں سے یہ تقاضہ کرتا ہے کہ عقل کے دروازے پر تالے ڈال دیے جائیں اور نہ ہی اس کا مقصود ایک ایسی جماعت تیار کرنا ہے جس کا بیانیہ مدلل بنیادوں پر نہ کھڑا ہو۔ قرآن مجید کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ ایک نہیں درجنوں

Read more

مسلمان صرف آخرت کے لئے بنے ہیں؟

میرا دوست زید اسمارٹ ہے، پڑھا لکھا ہے، میڈیا سے متعلق ایک شعبے میں اپنے کام میں مہارت رکھتا ہے۔چونکہ محنتی اور سنجیدہ واقع ہوا ہے اس لئے اپنی لگن سے بہت جلد اپنے شعبہ میں کامیاب بھی ہوگیا۔ شریف ہونے کے ساتھ ساتھ نماز روزے کا پابند بھی ہمیشہ سے رہا اور گھر کے ماحول کا اثر رہا کہ دوسروں کے ساتھ ہمیشہ شرافت و انکساری سے پیش آتا رہا ہے۔ ماں باپ کی خدمت، اولاد کی معیاری تعلیم

Read more

بھارتی مسلمانوں میں تعلیم: ہم مر گئے ہیں اور ہمیں اس کی خبر نہیں

اچھا ایسا کرتے ہیں کہ کچھ ذمہ دار مسلمانوں کو ایک ایک سادہ ورق دے کر کہتے ہیں کہ بھارتی مسلمانوں کے کچھ اہم مسائل کی فہرست بناؤ۔ اس فہرست میں کون کیا لکھے گا پتہ نہیں لیکن اگر آپ نے غلطی سے مجھے بھی پرچہ تھما کر لکھوانا چاہا تو میں صرف ایک ہی چیز لکھوں گا اور وہ ہے تعلیمی پسماندگی۔ بہت سے مسائل ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہمارے سامنے موجود ہوتے ہیں لیکن ان کی سنگینی

Read more

رقومات شرعیہ سے بنے مدارس موروثی کیسے؟

ذرا دیر کو فرض کر لیجیے کہ زید روزانہ شام کو گاؤں سے باہر واقع مسجد میں نماز پڑھنے جاتا ہے۔ واپس آتے آتے اندھیرا پھیل جاتا ہے اس لئے اس نے بازار سے پچاس روپئے کی ایک ٹارچ خریدی۔ اب وہ ایک ٹارچ کا مالک ہے جسے وہ چاہے تو خود استعمال کرے یا پھر چاہے تو کسی اور کو دے دے۔ اگر زید ٹارچ کسی کو دینے لگے تو یقینی طور پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا۔ اب

Read more

علما آپس میں طے کر لیں کہ جمہوریت اور سیکولرازم اسلامی ہیں یا غیر اسلامی

مسلمان جن ممالک میں بستے ہیں وہاں وہ کیسا نظام حکومت چاہتے ہیں؟ انہیں مذہبی رجحانات رکھنے والی حکومت پسند ہے یا پھر وہ سیکولر جمہوری ریاست کو عزیز جانتے ہیں؟ بادشاہت انہیں بھاتی ہے یا مذہب اور جمہوریت کی کھچڑی کو اپنے لئے بہتر مانتے ہیں؟ یہ سوال ذہن میں اس لئے آیا کہ اس سلسلہ میں مسلمانوں کا کوئی واضح اور متفقہ موقف نظر نہیں آتا۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے عرض کر دوں کہ یہاں مسلمانوں کے

Read more

بھارتی مسلمان تعلیم کے میدان میں کیوں پیچھے ہیں؟

بھارت میں مسلمانوں کی تعلیمی صورتحال کے حوالے سے سنہ 2006 کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہی وہ سال ہے جس میں سچر کمیٹی کی رپورٹ آئی جس نے مسلمانوں کی تعلیمی صورتحال کا تفصیل اور باریکی سے جائزہ لیا۔ اس سے پہلے تک مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کی باتیں کہی تو جاتی تھیں لیکن کسی سائنٹفک طریقے سے جمع کیے گئے ایسے اعداد و شمار دستیاب نہ تھے جو صورتحال کی صحیح صحیح نشاندہی کرتے ہوں۔ سچر کمیٹی

Read more

روزہ، حیض، پیڈز اور ہم سب

برصغیر میں خواتین کے سلسلہ میں معاشرے کے رویوں کے تین عکس ہم سب پر شائع تین مضامین میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ تحریم عظیم کی تحریر خواتین، حیض اور ماہِ رمضان، طیبہ مصطفیٰ کی تحریر بات پیڈز یا پیریڈز کی نہیں حیا کی ہے اور حفی مصطفیٰ کی زبانی کسی شریک کار کے تجربے پر مبنی تحریر میں، میرے ابو اور پیڈز پڑھ کر اتنا تو واضح ہے کہ ہمیں اپنے سماج میں پائے جانے والے بعض بنیادی سوالات

Read more

کیا مدارس اور مولوی کی کوئی ضرورت ہے؟

مسلم معاشرے میں مولوی اور مدارس کے کردار پر بہت کچھ لکھا بولا گیا ہے۔ اس سلسلہ کے تمام مباحث اکثر دو انتہاؤں کے درمیان جھولتے ہیں۔ ایک طرف وہ طبقہ ہے جس کی رائے میں مولوی مسلم قوم کے اصل اور اکلوتے قائد ہیں اور مدارس اسلام کے قلعے ہیں۔ دوسرا طبقہ ایسے افراد پر مشتمل ہے جس کی نظر میں مولوی کا وجود کلی طور پر بے فائدہ بلکہ نقصان دہ رہا ہے اور مدارس سے جو افراد

Read more

آپ کو بھی سچائی سے چڑ ہے تارڑ صاحب؟

مستنصر حسین تارڑ فرماتے ہیں کہ وہ سیاسی کالم لکھنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ تارڑ صاحب نے اپنا یہ پرہیز توڑتے ہوئے نواز شریف کے حالیہ بیان پر کالم تحریر فرما دیا ہے۔ قابل تحریر الفاظ کے دائرے میں میاں صاحب کو جتنا سخت و سست کہا جا سکتا ہے تارڑ صاحب کہہ گئے۔ آگے بڑھنے سے پہلے آئیے ذرا ایک بار پھر وہ بیان پڑھ لیں جس پر تارڑ صاحب اتنے نالاں ہیں۔ ڈان کی ویب سائٹ پر شائع

Read more

نوجوان صحافی علم اللہ کے سفرنامے پر ان سے خصوصی مکالمہ

اردو میں سفرناموں کی روایت گرچہ نئی نہیں ہے، لیکن معیاری سفرناموں کی کمی ہمیشہ محسوس ہوئی ہے۔ ہمیں حسرت ہی رہی کہ ہمارے یہاں چند درجن اس پائے کے سفرنامے ہوتے، مثلا؛ شبلی، مستنصر حسین تارڑ، ابن انشا، اے حمید وغیرہم نے لکھا۔ ہندی کا بھی معاملہ کچھ ایسا ہی رہا۔ ایک راہل سانکرتیاین ضرور ہیں، انھوں نے اس صنف کو نئی جلا بخشی۔ موجودہ دور میں جب کہ نئے لکھاریوں پر فکشن نگاری بلکہ منٹو بننے کا بھوت سوار

Read more

کیا مسلمانوں میں صرف جرنیل ہی پیدا ہوئے اہل علم نہیں؟

ذرا سا ذہن پر زور ڈالئے اور یاد کیجئے کہ آپ نے مسلمانوں کے عروج سے متعلق اب تک کیا کیا پڑھا ہے؟۔ مجھے یقین ہے کہ اگر آپ کو مطالعہ سے تھوڑا بہت بھی شغف ہے تو نسیم حجازی سے لے کر صادق حسین صدیقی تک اور اسلم راہی سے لے کر عارف محمود تک نہ جانے کتنے نام آپ کے ذہن میں دوڑ جائیں گے۔ ان بزرگوں کے خون کو گرما دینے والے ناولوں کی یاد سے ذہن

Read more

قادیانی عبدالسلام، گمراہ سسر اور مومن داماد

سب سے پہلے تو پاکستان کی قومی اسمبلی کے غیور ارکان کو خراج تحسین جن کی حرارت ایمانی نے گوارا نہیں کیا کہ قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کا نام ڈاکٹر عبد السلام جیسے کسی احمدی بلکہ یوں کہئے کہ قادیانی پر ہو۔ اس کے بعد سلام اور اظہار ممنونیت حضرت کیپٹن صفدر کیلئے جو ایک بہتر نام ڈھونڈ لائے اور اتفاق رائے سے فیصلہ ہوا کہ اس شعبہ کا نام ابو الفتح عبد الرحمان منصور الخازنی کے نام

Read more

سعودی ولی عہد خودکشی پر آمادہ؟

ایسا کرتے ہیں، تھوڑی دیر کو مان لیتے ہیں کہ جو کچھ کہا گیا وہی صحیح ہے۔ اس رات سعودی عرب کی راجدھانی ریاض میں شاہی محل کے آس پاس ایک چھوٹا سا ڈرون ہی پرواز کر رہا تھا جس کو مار گرانے کے لئے توپ خانے میں ہلچل مچی۔ پھر بھی وہ رات سعودی عرب کے مستقبل کے حوالے سے بہت سے سوالات کھڑےکرکے رخصت ہوئی۔ وہاں واقعی کوئی ڈرون پرواز کر رہا تھا یا پھر کوئی اور ہی

Read more

جب تک میشا شفیع جیسی عورتیں ہیں، جنسی ہراسانی ہوتی رہے گی

اس سے پہلے کہ آپ عنوان پڑھ کر برانگیختہ ہوں ٹھنڈے دل سے چند گذارشات سن لیجیے۔ میں خواتین کے ساتھ کسی بھی نوعیت کی ہراسانی کو حد درجہ کمینگی مانتا ہوں۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں خواتین کو کمزور سمجھ کر ان کا ناشائستہ رویہ پورے معاشرے کے منہ پر الٹے ہاتھ کو زناٹے دار تھپڑ ہے۔ میں اس منطق کو بھی فضول مانتا ہوں کہ خواتین کے الزامات کو بنا ثبوت سچ کیوں مان لیا جاتا ہے جبکہ

Read more

جدید سائنسی علوم فالتو ہیں

برصغیر کے ایک معروف مدرسہ کے دارالافتا سے کسی نے دریافت کیا کہ کیا زکات کسی ایسے مسلمان اسکول کو دی جا سکتی ہے جہاں غریب بچوں کو جدید تعلیم دی جاتی ہو؟ جواب وارد ہوا کہ ایسے اسکول کو زکات دینا جائز نہیں۔ میں نے جب یہ فتویٰ پڑھا تو ذہن میں وہ درجنوں اشتہار دوڑ گئے جو میں نے محلے کی دیواروں اور اردو اخباروں میں دیکھے تھے۔ مدارس کی طرف سے جاری ان اشتہارات میں لوگوں سے

Read more

کاش سعودی عرب شیعہ اور بشار الاسد سنی ہوتا!

شام میں انسانی حقوق کی پائمالی اور انسانی جانوں کے اتلاف کے خلاف جس وقت امت مسلمہ کے دردمند افراد احتجاج کر رہے تھے، اردو صحافیوں کا قلم شام کے بحران پر خون کے آنسو رو رہا تھا اور ملت کے جیالے شامی صدر بشار الاسد کے مظالم کے خلاف نعرے بازی میں مصروف تھے، اس شور میں ایک آواز دب گئی۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے کہا کہ یمن کی جنگ دنیا کا بدترین انسانی بحران ہے۔ اس

Read more

بیوی کے ریپ کا شرعی جواز اور معصوم مفتی

​ایک کام کیجئے، اپنے آس پاس کسی مدرسہ میں جاکر کسی مولوی صاحب یا محلہ کی مسجد کے امام صاحب سے معلوم کیجئے کہ مسلمان عورت کے کتنے حقوق ہیں؟ میں نجومی تو نہیں لیکن بتا سکتا ہوں کہ آپ کو کیا جواب ملے گا۔ مولوی یا امام صاحب کے جواب کا نچوڑ یہ ہوگا کہ مسلمان خواتین کو برابری کا درجہ حاصل ہے اور اس کو مردوں کے مساوی حقوق ملے ہوئے ہیں۔ اب اس بات کو ذہن میں

Read more