برابری ثابت کرنے کے لئے عورتوں کو ریپ کرنے پڑیں گے؟

رونا اس بات کا نہیں کہ یہ بات کہی گئی بلکہ ماتم اس کا ہے یہ کہنے والا وہ ہے جس کی پہچان قلم کار کے طور پر ہے۔ پاکستان کے اسکرپٹ رائٹر خلیل الرحمان قمر فرماتے ہیں کہ عورتوں کو مردوں کی برابری کرنی ہے تو پہلےکسی مرد کا گینگ ریپ کرکے دکھائیں۔ انہوں…

Read more

ضرورت ہے! بھارتی مسلمانوں کے لئے ایک حسن نثار کی

پاکستان کی جو چیزیں بھارت والوں کو بہت پسند ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں: یکم: خواتین کے لباس کا اسٹائل دوم: یہ گلیاں یہ چوبارہ ٹائپ سیریئل سوم: فواد خان اور ماہرہ خان ٹائپ فلمی ستارے چہارم: حسن نثار چونکہ شروع کی تین چیزوں کی ہمیں کچھ زیادہ سمجھ بوجھ نہیں اس لئے چوتھی چیز…

Read more

کیا عزاداری کر کے کربلا کا حق ادا ہو گیا؟

ہر سال محرم کا چاند نظر آتے ہی دنیا بھر میں فرش عزا بچھا دی جاتی ہے۔ مرثیہ، نوحہ، سلام، مجلس اور ماتم کی صدائیں فضاؤں میں گونجنے لگتی ہیں اور لوگ امام حسین اور ان کے ساتھیوں کی قربانی کی یاد میں کاروبار دنیا کو بھلا دیتے ہیں۔ یہ وہ عمل ہے جو پچھلی کئی صدیوں سے ہر سال ہوتا چلا آ رہا ہے لیکن لوگوں کے دلوں میں اس غم کی شدت جیسے کم ہی نہیں ہو رہی۔ کیسی حیرتناک بات ہے کہ خطیب منبر سے جو مصائب بیان کرتا ہے اس کی ایک ایک تفصیل ہمیں پہلے سے معلوم ہوتے ہوئے بھی جیسے جیسے ذکر مصیبت آگے بڑھتا ہے سننے والوں کی کیفیت بدلتی جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے سامعین اس واقعہ کو پہلی بار سن رہے ہوں۔ یہی وجہہ ہے کہ ہزار برس سے زیادہ بیت جانے کے باوجود یہ سانحہ پچھلے سال وقوع پذیر ہوا معلوم ہوتا ہے۔

Read more

عزاداری پر مسلکی رنگ کیوں چڑھ گیا؟

میرا تعلق جس بستی سے ہے وہاں ایک صاحب ہوا کرتے تھے۔ دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے اور سنی اکثریتی محلے نئی بستی کی سرگرم شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ ہر چند کہ بستی کے اہل تشیع سے ان کی سلام دعا تھی لیکن شیعہ طبقہ میں عام تاثر یہی تھا کہ یہ صاحب دل ہی دل میں شیعوں سے چڑتے ہیں۔ ہم نے بھی کئی ایک سے یہی کچھ سنا اور ان کے بارے میں مخصوص تاثر قائم کر لیا۔ ایک بار محرم میں بستی میں جو تعزیتی بینر لگے ان پر کربلا سے متعلق اشعار درج کیے گئے۔ ایسے ہی ایک بینر پر میں نے یہ قطعہ پڑھا

Read more

فرحت ہاشمی پر اعتراض اور دین کے نام پر غنڈہ گردی

اتفاق دیکھئے کہ اپنے پچھلے مضمون میں میں نے مذہبی طبقہ کی سوالوں پر بپھر جانے کی جس عادت کا تذکرہ کیا تھا اس کا عملی اظہار ہم سب کے قارئین نے جلد ہی دیکھ لیا۔ ڈاکٹر فرحت ہاشمی کے سلسلہ میں شائع مضمون پر جس قسم کے تبصرے ہوئے اسے دیکھ کر میری یہ رائے مزید پختہ ہو گئی کہ ہمارے یہاں دیندار کہلانے والے افراد کی ایک جماعت کو ہر اس ذہن سے نفرت ہے جس میں سوال پیدا ہوتے ہوں۔

مذکورہ مضمون میں اٹھائے گئے سوالوں کا جواب دینے کے بجائے سیدھے گالم گلوچ پر اتر آنا بتاتا ہے کہ دیندار طبقہ کی ایک جماعت کو تحمل اور اخلاق کا سبق سیکھنے کی شدید ضرورت ہے۔

Read more

مولوی صاحبان سوال سے کیوں چڑتے ہیں؟

چلئے اس کو بدل کر یوں کہہ دیتے ہیں کہ مذہبی طبقہ سوالوں پر کیوں جھنجلاتا ہے؟ اس سوال سے نمٹنے سے پہلے ذرا میری آپ بیتی سن لیجیے۔ ہم سب کے لئے مضامین لکھتے ہوئے یہ گنہ گار بہت سے تجربوں سے گزرا ہے۔ میری زیادہ تر تحریروں کا موضوع مسلمانوں کے سماجی معاملات ہوا کرتے ہیں اور ان میں اکثر ایسے حوالے شامل ہوتے ہیں جن کا تعلق پاکستان سے ہوتا ہے۔ اس بات پر بہت سوں کو شکوہ رہتا ہے کہ یہ بندہ بھارتی ہوکر ہمارے معاملات میں ٹانگ کیوں اڑاتا ہے؟

بیوی کے ساتھ زبردستی جنسی تعلق قائم کرنے جیسے معاملات پر مذہبی رہنماؤں کی آرائی پر تنقید کی تو فرمایا گیا کہ یہ شخص لبرل اور بے دین ہے۔ یونیورسٹی کا فزکس کا شعبہ ڈاکٹر عبد السلام سے منسوب کرنے کی مخالفت کرنے والوں کو گھیرا تو کہا گیا کہ یہ شخص قادیانی معلوم ہوتا ہے۔ بہرحال اس گالم گلوچ کے باوجود ہم سب کے بے شمار سنجیدہ اور روشن فکر قارئین تک پہنچنے کی خواہش ہمیشہ قلم اٹھانے پر مجبور کر دیتی ہے۔

Read more

مفتی منیب: ہزاروں سال نرگس اپنی۔ ۔ ۔

فواد چودھری صاحب فرماتے ہیں کہ سائنس کی مدد سے رویت ہلال کا پیشگی اور درست پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ مفتی منیب ہیں کہ چودھری صاحب کی بات پر بچے سا مچل گئے۔ کہتے ہیں باقی سب تو ٹھیک ہے لیکن علماء کی قلمرو میں دراندازی نہ کیجئے۔ سچ کہئے تو اس جملے پر قربان جانے کو جی چاہتا ہے۔ مطلب یہ کہ کسی بھی معاملے میں کچھ بھی کرو جب تک ہماری روحانی امارت سلامت ہے تب تک نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے والا معاملہ رہے گا۔

Read more

مدارس کے مہتمم، ناظم اور امیر تاعمر عہدے پر کیوں رہتے ہیں؟

مولانا سلمان حسینی ندوی مشہور عالم دین ہیں۔ لکھنؤ میں واقع درسگار دارالعلوم ندوۃ العلماء میں ایک مدت سے تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بعض معاملات میں روایتی بیانیہ سے الگ رائے رکھنے کی وجہہ سے تنازعات میں بھی گھرتے رہے ہیں۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک خط وائرل ہوا جو مولانا…

Read more

عبادت گذار مشرق، فحش مغرب سے کیا سیکھے؟

کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں نمازیوں کے قتل عام کی خبر آنے کے بعد سوال ہوا ”کیا اب دہشت گردی کو عیسائیت سے ویسے ہی جوڑا جائے گا جیسے اسلام سے جوڑا جاتا ہے؟ “ اس سوال کا جواب دیا جائے گا لیکن اس سے پہلے ذرا نیوزی لینڈ کا ایک پھیرا مار آئیے۔مساجد میں قتل عام جمعہ کو ہوا تھا، ہفتہ بھر بعد اگلے جمعہ کو ہزاروں لوگ مارے گئے لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے متاثرہ النور مسجد کے بغل میں واقع ہیگلے پارک میں اکٹھا ہو گئے۔ خود وزیراعظم سیاہ پوش ہوکر نماز جمعہ میں پہنچیں۔ جس شہر کی آبادی ہی چار لاکھ سے کم ہے وہاں کے ہزاروں شہری کام دھندہ چھوڑ کر آ گئے۔ کسی کے ہاتھوں میں اظہار یکجہتی کی تختیاں تھیں تو کوئی مارے گئے لوگوں کی تصاویر پر پھول چڑھا رہا تھا۔ ٹی وی اور ریڈیو پر جمعہ کی نماز کی اذان براہ راست نشر کی گئی۔ مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی علامت کے طور پر وزیراعظم سمیت بہت سی خواتین اپنے سروں پر اسکارف اور اوڑھنیاں ڈالے ہوئے تھیں۔ اذان ختم ہوئی تو سوگوار چہروں نے دو منٹ خاموش رہ کر متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا۔

Read more

ایک دوست کے نام بے حد نجی خط

کیسی تعجب کی بات ہے کہ تمہاری اور میری رہائش گاہ شہر کی ایک ہی بستی میں ہے لیکن ملاقات کو کئی برس ہو گئے۔ تمہارا ایس ایم ایس ذہن میں نہ جانے کتنی یادوں کی جھانکیاں لے آیا۔ سردیوں کے دن ہیں، شام بڑی تیزی سے اتر رہی ہے۔ تم اور میں جامعہ کے ہائیجینک کیفے کے سامنے پارک میں بیٹھے ہیں۔ تمہارے ہاتھوں میں میرزا ادیب کی مٹی کا دیا ہے اور تم پڑھ کر سنا رہے ہو۔ کتاب کا وہ حصہ آ پہنچا جس میں درج ہے کہ:

”ابا جی مجھے مارتے تھے تو امی بچا لیتی تھیں ایک دن میں نے سوچا اگر امی پٹائی کریں گی تو ابا جی کیا کریں گے۔ یہ دیکھنے کے لئے کیا ہوتا ہے میں نے امی کا کہنا نہ مانا، انہوں نے کہا بازار سے دہی لادو میں نہ لایا انہوں نے سالن کم دیا تو میں نے زیادہ پر اصرار کیا انہوں نے کہا پیڑھی پر بیٹھ کر روٹی کھاؤ میں نے دری بچھا لی اور اس پر بیٹھ گیا، کپڑے میلے کر لئے میرا لہجہ بھی گستاخانہ تھا مجھے ے پورا یقین تھا امی مجھے ماریں گی مگر انہوں نے یہ کیا مجھے سینے سے لگا کر کہا“ کیوں دلاور پُترا میں صدقے توں بیمار تے نئیں ”اس وقت میرے آنسو تھے کہ رکتے نہیں تھے۔ “

Read more