دنیا کے خشک ترین صحرا میں پانی کے بغیر 400 برس سے زندہ رہنے والادرخت؛ سائنسدان حیران
صحرا کی خشک ریت پر اول تو کہیں ہریالی نظر نہیں آتی اور اگر کہیں کچھ نظر آ بھی جائے تو ایسا بے رونق سا صحرائی پودا جس پر ڈھنگ کا پتہ نا ٹہنی، مگر یہ کیا؟ بحرین کے لق و دق صحرا کے بیچوں پیچ درخت، اور وہ بھی ایسا گھنا اور ہرا بھرا کہ زرخیز میدانوں میں بھی ایسی مثال کم ہی نظر آئے۔
مقامی لوگ اسے ’شجر الحیات‘ یعنی ’زندگی کا درخت‘ کہتے ہیں اور یہ گزشتہ چار صدیوں سے اس خشک صحرا میں یونہی سرسبزوشادات نظر آ رہا ہے۔ اس جگہ پانی کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آتا، جس کا ثبوت آس پاس کا علاقہ ہے جہاں تاحد نگاہ کوئی پودا تو کیا گھاس کا تنکا بھی نظر نہیں آتا، مگر یہ درخت ایسا گھنا اور بلند و بالا ہے کہ دیکھ کر عقل حیران رہ جاتی ہے۔ اس کی بلندی تقریباً 32 فٹ ہے اور پھیلاؤ کئی درختوں کے برابر ۔
شجر الحیات واقعی ایک عجوبہ ہے، صرف عام لوگوں کے لئے ہی نہیں بلکہ نباتات پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کے لئے بھی۔ اس ہرے بھرے اور گھنے درخت کی خشک صحرا میں صدیوں سے موجودگی کی کوئی سائنسی وضاحت نہ ہونے کے سبب مقامی لوگوں میں اس کے متعلق کئی داستانیں مشہور ہو چکی ہیں۔ خیر، ماہرین کی آراء اور عام لوگوں کی داستانیں جو بھی کہیں لیکن ایک بات واضح ہے کہ یہ قدیم درخت قدرت کی کرشمہ سازی کی حیرتناک مثال ہے۔


